جوانی کا عشق
تحریر: فرزانہ خان
بڑی مشکل سے یہ کہانی لکھ رہی ہوں لیکن لوگوں سے درخواست ہے مجھے برے کمنٹس نا دیں
یہ سچ ایسا سچ ہے جس میں میں ابھی تک جلس رہی ہوں ابھی تک معافی نہیں مل سکی ۔
مجھے میری ماں کی بدعائیں آج بھی یاد ہیں۔
مینے کالج اسٹارٹ کیا تو اکیڈیمی میں ایک لڑکے سے محبت ہوگئ جب اس لڑکے یا میرے گھر والوں کو پتہ چلا تو دونوں کی فیملیز نے اپنے اپنے خاندان میں ہماری شادی کروادی
تب تو موبائلز فون نہیں ہوتے تھے پی ٹی سی ایل ہوتا تھا لیکن نمبر نہیں تھے رابطہ کرنا مشکل تھا پھر شادی کے 2 سال بعد ایک جگہ پر اچانک ملاقات ہوئی تو لڑکے نے بتایا اس کی شادی پھوپھو کی بیٹی سے ہوئی ہے
2 سال ہوگے پر اولاد نہیں ہوئی
میری بھی شادی کو 2 سال ہوگے تھے تو اولاد نہیں ہوئی تھی اسنے تب نیا نیا موبائل لیا تھا اسنے مجھے اپنا نمبر دیا مینے بڑی مشکل سے موبائل لیا اور اس سے رابطہ ہو
پھر میرے دوبارہ اس لڑکے سے بات ہونا شروع ہوگئے لڑکے کی گورنمنٹ جاب اسٹارٹ ہوگئ تھی اور بہت اچھی جاب تھی
ہم دونوں میں محبت دوبارہ سے اسٹارٹ ہوگئ
اور ایک دن مینے گھر سے بھاگنے کا پلان کیا میں کوشش کر کے گھر سے بھاگ گئ
پھر بڑی مشکل سے عدالت سے خلع لی میرے والدین نے بھی مجھ سے ملنا چھوڑ دیا تھا عدت کا وقت گزرا تو مینے اپنی محبت سے نکاح کر لیا
یہ بات زیادہ دیر چھپی نہیں رہی جیسے ہی یہ بات لڑکے کی فیملی کو پتہ چلی تو میرے شوہر کے پہلی بیوی نے بھی میرے شوہر سے طلاق ہو گئ
اور اب میں بہت خوش تھی کے مجھے محبت مل گئ مینے اور میرے شوہر نے کراچی جانے کا پلان کیا تو راستے میں ہمارایکسیڈینٹ ہو ا تو شوہر کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئ
میرے شوہر کی فیملی نے جیسے تیسے مجھے قبول کر لیا تھا
لیکن میری فیملی نے مجھے قبول نہیں کیا تھا
شوہر کی ٹانگیں نہیں رہیں تو جاب بھی نہیں رہی
شادی کے 10 سال شوہر کے ساتھ اسی محتاجی میں گزرے پھر میری نند کے ہاں جڑواں بیٹیاں ہوئیں تو انہوں نے ایک بیٹی ہمیں دے دی ہمارا دل لگا رہا اور ہماری تکلیف میں کوئی کمی آئی
مجھے ایک بزرگ ملے انہوں نے کہا تمہارا گناہ بہت بڑا ہے اور تمہاری سزا ختم نہیں ہونی
یہ بات مجھے تکلیف دیتی رہی
مینے پوار سال روزے رکھے جس میں گرمیوں کی سخت دوپہرے بھی شامل تھیں
لیکن معافی مل نہیں پائی
وقت سزا دیتا رہا میاں مزید بیمار ہوئے تو فالج ہوگیا اب وہ بول بھی نہیں سکتے تھے 4 سال اسی اذیت میں گزر گے اور پھر ایک دن میاں بھی اللہ کو پیارے ہوگے
اور وہ بیٹی میرے پاس رہی مینے پھر ہمت کر کے اس کے لیے جینا شروع کیا ورنہ میں بھی شاید مر جاتی
وہ بچی میری اپنی بیٹی نہییں لیکن مینے اپنی اولاد سمجھ کے پالا ہے اسے تھوڑی سی تکلیف بھی ہو تو برداشت نہیں ہوتو مجھے پھر اپنی والدہ کا خیال آتا ہے ہے
مینے اپنی والدہ کو کتنے دکھ دیے ہونگے آج میرے والدین حیات نہیں
اتنے سالوں سے کبھی سکون نہیں پایا
محبت پا کر محبت نہیں ملی
مینے بہت سزا پائی ہے
تمام بچیوں سے کہتی ہوں والدین کا دل نا دکھائیں
ورنہ قبروں تک یہ سزائیں پیچھا نہیں چھوڑیں گی
یہ ایک کہانی نہیں یہ وہ واقع ہے جسے پچھلے 25 سال سے بگھت رہی ہوں
میرے لیے دعا کریں میرا اللہ مجھے معاف کردے ۔
فالو ضرور کریں شکری

