سردیوں کی کالی رات ماموں کا پرانا گھر
یہ ان دنوں کی بات ہے جب سردی معمول سے کہیں زیادہ سخت تھی۔
میرا نام فہد ہے۔ میں لاہور میں پلا بڑھا، وہیں تعلیم حاصل کی، اور وہیں نوکری کرتا ہوں۔ عام سا آدمی ہوں، نہ کوئی بہادری کے دعوے، نہ روحانی قصے سنانے کا شوق۔ میں ہمیشہ ایسی باتوں سے دور ہی رہا ہوں جنہیں لوگ وہم یا ڈر کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ مگر جو کچھ میرے ساتھ اُس سردی کی کالی رات میں ہوا، اُس کے بعد میں آج بھی پوری یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ دنیا صرف وہی ہے جو ہمیں دن کی روشنی میں دکھائی دیتی ہے۔
وہ دسمبر کی آخری تاریخیں تھیں۔ لاہور میں سردی ویسے ہی نمی والی ہوتی ہے، مگر اُس سال ہوا میں ایک عجیب سی کاٹ تھی۔ دن کے وقت بھی سورج میں وہ جان نہیں رہی تھی۔ رات تو جیسے ہڈیوں کے اندر تک اتر جاتی تھی۔ میں اُس وقت چونتیس سال کا تھا۔ میری شادی کو تین سال ہو چکے تھے، مگر اللہ نے ابھی اولاد نہیں دی تھی۔ میں اپنی بیوی مریم کے ساتھ جوہر ٹاؤن میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا تھا۔
مریم نرم دل، جلد گھبرا جانے والی لڑکی تھی۔ اسے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا، خاص طور پر سردیوں کی راتوں میں۔ میں اکثر اُس کا مذاق اُڑاتا تھا، مگر دل ہی دل میں جانتا تھا کہ ہر ڈر بے وجہ نہیں ہوتا۔ بس کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو انسان کو نظر نہیں آتیں، مگر محسوس ضرور ہوتی ہیں۔
اس کہانی کی اصل شروعات اُس فون کال سے ہوئی جو مجھے ایک پیر کی شام ملی۔
میرا ماموں زاد بھائی، عمران، گوجرانوالہ کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا تھا، نام تھا قادر پور۔ ہمارے خاندان کی پرانی زمینیں وہیں تھیں۔ عمران کا باپ، یعنی میرے ماموں، کچھ عرصہ پہلے وفات پا گئے تھے، اور زمین کے کاغذات کے سلسلے میں کچھ مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔ عمران نے مجھے فون کر کے کہا،
“فہد بھائی، آپ کو خود آنا پڑے گا۔ یہ معاملہ فون پر حل ہونے والا نہیں۔”
میں نے تاریخ پوچھی۔ اُس نے کہا،
“کل آ جائیں تو بہتر ہے، لیکن رات ہو جائے گی، کیونکہ تحصیل آفس کا کام دن میں ہی نمٹ سکتا ہے۔”
میں نے فون بند کر کے مریم کو بتایا۔ اُس کا چہرہ فوراً اُتر گیا۔
“سردیوں میں، وہ بھی اتنی دور؟ اور رات کو واپسی؟”
میں نے ہنستے ہوئے کہا،
“ارے، کوئی جنگل نہیں ہے۔ قصبہ ہی تو ہے۔ عمران بھی ہوگا، اکیلا نہیں ہوں گا۔”
مریم نے کچھ نہ کہا، مگر اُس کی آنکھوں میں تشویش صاف نظر آ رہی تھی۔ اُس نے جاتے جاتے بس اتنا کہا،
“رات کو احتیاط سے گاڑی چلانا… اور اگر دیر ہو جائے تو وہیں رک جانا۔”
اگلے دن میں صبح ہی نکل گیا۔ راستہ صاف تھا، مگر سرد ہوا شیشوں سے ٹکرا کر عجیب سی سیٹی بجاتی تھی۔ میں دوپہر تک قادر پور پہنچ گیا۔ قصبہ چھوٹا سا تھا، مگر پرانا۔ تنگ گلیاں، اینٹوں کے گھر، اور ہر طرف ایک سا سناٹا۔
عمران نے مجھے گلے لگا کر خوش آمدید کہا۔ اُس کے ساتھ اُس کا دوست ساجد بھی تھا، جو وہیں رہتا تھا۔ ساجد دبلا پتلا، ہمیشہ ہنستا رہنے والا لڑکا تھا، مگر اُس دن اُس کی ہنسی میں بھی ایک کھنچاؤ سا تھا۔
تحصیل آفس کا کام شام تک کھنچ گیا۔ جب ہم واپس نکلے تو سورج ڈھل چکا تھا۔ سردی بڑھ چکی تھی۔ میں نے عمران سے کہا،
“اب تو رات ہو جائے گی، لاہور واپسی مشکل لگ رہی ہے۔”
عمران نے ذرا توقف کے بعد کہا،
“فہد بھائی، ایک بات کہوں؟”
میں نے گاڑی روکتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا۔
“ہاں، کہو۔”
وہ بولا،
“یہاں قریب ہی ماموں جان کا پرانا گھر ہے… گاؤں سے باہر۔ اگر آپ چاہیں تو وہیں رات گزار لیں۔ صبح نکل جائیں گے۔”
میں نے حیرانی سے پوچھا،
“پر تم تو یہاں قصبے میں رہتے ہو، وہ گھر خالی کیوں ہے؟”
عمران نے نظریں چرا لیں۔ ساجد نے بات سنبھالتے ہوئے کہا،
“بس… پرانا گھر ہے، لوگ کم ہی جاتے ہیں۔”
اُس کے لہجے میں وہ روانی نہیں تھی جو عام باتوں میں ہوتی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ شاید گھر کی حالت ٹھیک نہ ہو۔ مگر سردی، تھکن، اور لمبے سفر کا خیال آتے ہی میں نے ہاں کر دی۔
ہم قصبے سے نکلے۔ سڑک کچی ہو گئی۔ دونوں طرف کھیت پھیلے ہوئے تھے، جن پر کہر بیٹھ چکی تھی۔ گاڑی کی ہیڈلائٹس کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہوا میں عجیب سی نمی تھی، جیسے زمین خود سانس لے رہی ہو۔
کچھ دیر بعد عمران نے کہا،
“بس آگیا۔”
سامنے ایک پرانا سا گھر نظر آیا۔ دو منزلہ، مگر وقت کے ہاتھوں تھکا ہوا۔ دیواروں پر جگہ جگہ سیلن، لکڑی کا پرانا دروازہ، اور چاروں طرف اونچے درخت۔ اُن درختوں کی شاخیں ہوا میں ہل کر عجیب سی آواز پیدا کر رہی تھیں، جیسے کوئی آہستہ آہستہ سرگوشی کر رہا ہو۔
میں گاڑی سے اترا تو سردی نے فوراً جسم کو جکڑ لیا۔ میں نے کوٹ کا کالر اوپر کیا اور گھر کو غور سے دیکھا۔
“یہ گھر تو کافی پرانا لگ رہا ہے…”
عمران نے جلدی سے کہا،
“ہاں، ماموں جان کا بچپن یہی گزرا تھا۔ بعد میں شہر میں شفٹ ہو گئے تھے۔”
ہم اندر داخل ہوئے۔ اندر اندھیرا تھا۔ ساجد نے موبائل کی لائٹ آن کی۔ کمروں میں پرانا فرنیچر پڑا تھا، جس پر چادریں ڈلی ہوئی تھیں۔ فرش پر دھول جمی تھی، جیسے یہاں برسوں سے کوئی ٹھہرا ہی نہ ہو۔
میں نے پوچھا،
“یہاں بجلی نہیں ہے؟”
عمران نے کہا،
“ہے، بس کبھی کبھی آتی جاتی رہتی ہے۔”
اُس نے مین سوئچ آن کیا۔ بلب ٹمٹمائے، پھر جل گئے۔ زرد سی روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ مگر اُس روشنی میں بھی ایک اداسی سی تھی۔
ہم نے سامان رکھا۔ ساجد نے چولہا جلانے کی کوشش کی۔ کچھ دیر بعد چائے بن گئی۔ گرم کپ ہاتھ میں آتے ہی جان میں جان آئی۔ مگر دل کے کسی کونے میں ایک بےچینی تھی جس کی وجہ میں خود نہیں سمجھ پا رہا تھا۔
میں نے مذاقاً کہا،
“یار، تم لوگوں نے تو مجھے کسی بھوت بنگلے میں لا کر چھوڑ دیا ہے۔”
ساجد ہنس دیا، مگر عمران کی ہنسی دیر سے نکلی۔
“ایسا کچھ نہیں ہے، بس پرانا گھر ہے۔”
رات گہری ہو چکی تھی۔ باہر کہر اتنی بڑھ گئی تھی کہ دروازے سے باہر کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہوا کبھی تیز ہو جاتی، کبھی بالکل رک جاتی۔ جب رکتی تو خاموشی اتنی گہری ہوتی کہ اپنے دل کی دھڑکن سنائی دیتی۔
کھانا سادہ سا تھا۔ دال اور روٹی۔ ہم تینوں بیٹھ کر کھا رہے تھے۔ باتیں بھی عام سی تھیں، مگر عمران بار بار باہر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے ٹوک دیا،
“کیا بات ہے؟ بار بار دروازے کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟”
اُس نے چونک کر کہا،
“نہیں… کچھ نہیں۔ بس عادت ہے۔”
ساجد نے بات بدل دی،
“فہد بھائی، آپ لاہور میں رہتے ہو، وہاں کی راتیں تو روشن ہوتی ہوں گی۔ یہاں تو اندھیرا ذرا زیادہ ہے۔”
میں نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“اندھیرا تو ہر جگہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے، بس ہم شہر میں اُس کا عادی ہو جاتے ہیں۔”
کھانے کے بعد ہم نے بستر لگائے۔ نیچے والے کمرے میں۔ میں نے موبائل دیکھا۔ نیٹ ورک کمزور تھا۔ مریم کو بس ایک مختصر سا میسج بھیج پایا،
“یہیں رک گیا ہوں، صبح نکلوں گا۔”
جواب آیا،
“اللہ خیر کرے۔”
وہ دو لفظ عجیب سا بوجھ ڈال گئے دل پر۔
رات کے شاید ایک بج رہے ہوں گے جب مجھے نیند ٹوٹ گئی۔ کمرے میں سردی اور بڑھ چکی تھی۔ سانس سے بھاپ نکل رہی تھی۔ میں نے کمبل ٹھیک کیا اور کروٹ بدلنے ہی والا تھا کہ مجھے لگا جیسے کسی نے آہستہ سے دروازے کے باہر قدم رکھا ہو۔
میں نے کان لگا کر سنا۔ سب خاموش تھا۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ میرا وہم ہے۔ مگر پھر وہی آواز آئی۔ جیسے کوئی ننگے پاؤں زمین پر چل رہا ہو۔
میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ کمرے میں عمران اور ساجد گہری نیند سو رہے تھے۔ میں نے دھیمی آواز میں کہا،
“عمران؟”
کوئی جواب نہیں آیا۔
میں نے دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازہ بند تھا، مگر اُس کے نیچے سے ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی تھی۔ اُس ہوا کے ساتھ ایک عجیب سی بو بھی تھی، جیسے گیلی مٹی کی۔
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ شاید کوئی جانور ہوگا، یا ہوا کا شور۔ مگر پھر اچانک، دروازے کے باہر کسی نے آہستہ سے کھانسا۔
وہ انسانی کھانسی تھی۔
میں نے سانس روک لی۔ ایک لمحے کو لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ پھر وہی کھانسی دوبارہ سنائی دی، اس بار ذرا قریب سے۔
میں نے آہستہ سے عمران کو جگانے کی کوشش کی۔
“عمران… اٹھو…”
اُس نے کروٹ بدلی، مگر آنکھ نہ کھولی۔ ساجد بھی بے خبر سو رہا تھا۔
دروازے کے باہر اب قدموں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ آہستہ، بہت آہستہ، جیسے کوئی جان بوجھ کر آواز نہ کرنا چاہ رہا ہو۔
میری ہمت جواب دے رہی تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کی کنڈی کو چھوا۔ وہ برف کی طرح ٹھنڈی تھی۔
اور اسی لمحے، دروازے کے دوسری طرف سے کسی نے بہت دھیمی آواز میں میرا نام پکارا:
“فہد…”
میرا خون جیسے جم گیا۔
یہ آواز کسی اجنبی کی نہیں تھی۔
یہ آواز… میرے ماموں کی تھی، جو دو سال پہلے قبر میں جا چکے تھے۔
اور اُس لمحے مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ سردی کی کالی رات ابھی ختم نہیں ہوئی… یہ تو بس شروع ہوئی ہے۔
میں نے جب دروازے کے باہر ماموں کی آواز سنی تو میرا پورا جسم سن ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے میرے اندر کی ساری حرارت ایک لمحے میں نچوڑ لی ہو۔ دل چاہا چیخوں، مگر آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی۔ ہاتھ اب بھی کنڈی پر تھا، مگر انگلیاں کانپ رہی تھیں۔
میں نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ممکن نہیں۔ ماموں دو سال پہلے فوت ہو چکے تھے۔ میں خود اُن کے جنازے میں موجود تھا، خود مٹی ڈالی تھی۔ پھر یہ آواز کیسے…؟
“فہد…”
آواز پھر آئی۔ اس بار ذرا صاف، ذرا قریب۔
میں نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور کمبل اوڑھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ دل اس زور سے دھڑک رہا تھا کہ مجھے لگا عمران اور ساجد جاگ جائیں گے۔ مگر وہ دونوں ایسے سوئے ہوئے تھے جیسے کمرے میں میں اکیلا ہوں۔
میں نے کان لگا کر سنا۔ قدموں کی آواز اب رک چکی تھی۔ باہر مکمل خاموشی تھی۔ وہی بھاری، دبا ہوا سناٹا، جو کانوں پر بوجھ بن جائے۔
کچھ دیر بعد میں نے ہمت جمع کی اور عمران کو زور سے ہلایا۔
“عمران! اٹھو… ابھی!”
وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
“کیا ہوا فہد بھائی؟ خیریت تو ہے؟”
میں نے آہستہ آواز میں کہا،
“دروازے کے باہر کوئی تھا… اور… اس نے میرا نام لیا۔”
عمران کا چہرہ ایک دم زرد پڑ گیا۔ اُس نے بےساختہ دروازے کی طرف دیکھا، پھر میری طرف۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟ اس وقت کون آئے گا؟”
ساجد بھی جاگ چکا تھا۔
“کیا ہوا؟ کیوں شور مچا رہے ہو؟”
میں نے دونوں کو ساری بات بتائی۔ ماموں کی آواز، کھانسی، قدموں کی آہٹ۔ ساجد نے ہنسنے کی کوشش کی، مگر اُس کی ہنسی کھوکھلی تھی۔
“یار، فہد بھائی، آپ نے کوئی خواب دیکھا ہوگا۔ یہاں ایسی باتیں نہ کیا کریں۔”
میں نے تیز لہجے میں کہا،
“میں سو نہیں رہا تھا۔ میں پورے ہوش میں تھا۔”
عمران خاموش بیٹھا رہا۔ اُس کی نظریں زمین پر جمی تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے۔
“عمران، سچ سچ بتاؤ، اس گھر کے بارے میں کچھ ہے نا؟”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر ہوا کے ساتھ درختوں کی شاخیں ٹکرائیں، جیسے کسی نے جان بوجھ کر آواز نکالی ہو۔
آخرکار عمران نے آہستہ سے کہا،
“فہد بھائی… ماموں جان کی موت یہاں ہی ہوئی تھی۔”
میرے پیٹ میں جیسے مروڑ اٹھا۔
“کیا مطلب؟ تم نے کہا تھا وہ شہر میں تھے۔”
عمران نے گہرا سانس لیا۔
“شہر میں تھے، مگر آخری دن وہ یہاں آئے تھے۔ اکیلے۔ سردیوں کی ایسی ہی رات تھی۔ صبح ہم آئے تو… وہ زندہ نہیں تھے۔”
ساجد نے فوراً بات کاٹ دی۔
“بس دل کا دورہ پڑا تھا، اور کچھ نہیں۔”
میں نے ساجد کی طرف دیکھا۔
“پھر یہ سب کیا ہے؟ آوازیں، میرا نام…؟”
عمران نے نظریں چرا لیں۔
“ہم نے کبھی کسی کو یہ بات نہیں بتائی… لیکن ماموں جان مرتے وقت بہت پریشان تھے۔ بار بار کہتے تھے کہ کوئی اُنہیں بلا رہا ہے۔”
میرا دماغ سن ہو چکا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ صبح ہوتے ہی یہاں سے نکلنا ہے۔
“ہم ابھی جا رہے ہیں۔ میں یہاں ایک لمحہ اور نہیں رکوں گا۔”
ساجد نے گھڑی دیکھی۔
“ابھی رات بہت ہے، کہر بھی ہے۔ سڑک نظر نہیں آئے گی۔”
میں نے غصے میں کہا،
“میں یہاں مرنے نہیں آیا۔”
ہم نے جلدی جلدی سامان سمیٹا۔ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا، ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اندر آیا۔ اُس ہوا کے ساتھ وہی گیلی مٹی کی بو۔ مگر باہر کوئی نہیں تھا۔ بس اندھیرا، کہر، اور خاموش کھیت۔
ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں خود ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر میں نے انجن اسٹارٹ کر دیا۔ ہیڈلائٹس جلیں، مگر روشنی کہر میں گم ہو گئی۔
گاڑی آہستہ آہستہ کچے راستے پر چلنے لگی۔ پیچھے وہ گھر دھند میں ڈوبتا جا رہا تھا، مگر مجھے ایسا لگا جیسے اُس کی کھڑکی سے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہو۔
ساجد نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
“یار… تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے؟”
میں نے آئینے میں دیکھا۔ ایک لمحے کو مجھے لگا جیسے سڑک کے کنارے کوئی کھڑا ہے۔ ایک لمبا سا سایہ۔ میں نے پلک جھپکی، تو وہاں کچھ نہیں تھا۔
ہم ابھی چند سو میٹر ہی گئے تھے کہ اچانک گاڑی بند ہو گئی۔ انجن نے جیسے جان چھوڑ دی ہو۔
“یہ کیا ہوا؟” ساجد چلایا۔
میں نے دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی۔ کچھ نہیں۔ خاموشی۔ ایسی خاموشی جس میں دل کی دھڑکن گونجنے لگے۔
اسی خاموشی میں، ہمیں پیچھے سے کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ آہستہ… بہت آہستہ۔
عمران کی آواز کانپ رہی تھی۔
“فہد بھائی… براہِ مہربانی پیچھے مت دیکھنا۔”
مگر انسان کی فطرت ہے، میں نے دیکھ لیا۔
ہیڈلائٹس کی مدھم روشنی میں، سڑک کے بیچوں بیچ، ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ سفید کپڑے، جھکی ہوئی کمر، اور چہرہ… وہی چہرہ جو میں نے ماموں کی میت میں دیکھا تھا۔
وہ مسکرا رہا تھا۔
“فہد…” اُس نے کہا، “تم تو چلے جا رہے ہو۔”
ساجد نے چیخ ماری۔ عمران نے آنکھیں بند کر لیں۔ میرے ہاتھ سٹیئرنگ پر جَم گئے۔
میں نے ہمت کر کے کہا،
“آپ… آپ یہاں نہیں ہو سکتے۔”
وہ آہستہ آہستہ ہماری طرف بڑھا۔ اُس کے قدم زمین کو چھو رہے تھے، مگر آواز نہیں آ رہی تھی۔
“میں نے تمہیں بلایا تھا… تم آئے، مگر تم نے سنا نہیں۔”
میرا دماغ چیخ رہا تھا کہ گاڑی سے باہر بھاگو، مگر جسم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
اچانک، اُس نے اپنا ہاتھ اٹھایا۔ وہ ہاتھ… انسانی نہیں لگ رہا تھا۔ انگلیاں غیر فطری حد تک لمبی تھیں۔
اسی لمحے، گاڑی خود بخود اسٹارٹ ہو گئی۔
میں نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر ایکسیلیریٹر دبا دیا۔ گاڑی جھٹکے سے آگے بڑھی۔ ہم اُس سائے کے بیچ سے گزر گئے۔ مجھے لگا جیسے کسی نے گاڑی کے اندر سے ٹھنڈی ہوا پھونک دی ہو۔
پیچھے دیکھا تو سڑک خالی تھی۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ہم نے بغیر رکے قصبے کی طرف گاڑی دوڑا دی۔ جب روشنیوں والا علاقہ آیا، تب جا کر سانس میں سانس آئی۔ ساجد رونے کے قریب تھا۔ عمران کا چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔
قصبے میں ایک پرانے ہوٹل پر ہم رُکے۔ فجر کا وقت قریب تھا۔ میں نے فوراً مریم کو فون کیا۔ آواز سنتے ہی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“میں ٹھیک ہوں… بس صبح آ رہا ہوں۔”
سورج نکلا، مگر اُس کی روشنی میں بھی رات کا خوف تحلیل نہیں ہوا تھا۔
ہم لاہور کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں کسی نے بات نہیں کی۔ مگر میرے دماغ میں ایک سوال بار بار گونج رہا تھا:
ماموں نے کہا تھا، “میں نے تمہیں بلایا تھا…”
آخر وہ مجھے کیوں بلانا چاہتے تھے؟
میں آج بھی سردیوں کی رات میں جاگ جاتا ہوں۔ کبھی کبھی، ہوا کے شور میں، مجھے وہی آواز سنائی دیتی ہے:
“فہد…”
اور تب میں سمجھ جاتا ہوں، کچھ دروازے بند کر دینے سے بند نہیں ہوتے۔ کچھ سردی کی کالی راتیں
انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی ہیں۔
اگر اپ اسی طرح کی خوفناک کہانیاں سننا پسند کریں تو ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کریں
👇👇
@KarimVoice

