آج کی کہانی کوئی فلمی قصہ نہیں،
یہ اُن لوگوں کی سچی کہانی ہے جو خواب جیب میں نہیں، دل میں لے کر چلتے ہیں۔
یہ کہانی ہے قربانی، بھروسے اور اُس رشتے کی جو مشکل میں پہچانا جاتا ہے۔
آخر تک ضرور سنیے گا، شاید آپ خود کو اس میں کہیں نہ کہیں پا لیں!?
شادی کی پہلی رات ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑی دیر ہنستے رہے کہ یہ ہم نے کیا کر دیا ہے،
لیکن ان قہقہوں کے پیچھے کی فکریں ہم دونوں کے چہروں سے عیاں تھیں۔
شادی چونکہ جلد بازی اور خاندان والوں کی ناراضگی میں ہوئی تھی، سو مونہہ دکھائی کے پیسے میرے پاس نہیں تھے۔
ایک دوست سے ادھار پکڑ کر سونے کی ایک ہلکی سی انگوٹھی اسے دی، جسے اس نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ
"میں تمہارے حالات سے واقف ہوں، جن حالات میں شادی ہوئی ہے اس سے بھی واقف ہوں،
سو جب خود دلا سکو گے تب لوں گی۔!!"
میں نے تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھا کہ
"اچھا بتاؤ!
تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟؟؟
میں کسی دن وہ ضرور پوری کروں گا۔"
اس نے کچھ تامل کے بعد کہا کہ
"زندگی میں دو ہی خواہشات کے لیے خدا کے سامنے گڑگڑائی ہوں۔۔۔
ایک، اپنا گھر ہو، چاہے بہت چھوٹا سا ہو لیکن اپنا ہو،
اور دوسرا۔۔۔"
"دوسرا؟"
"دوسرا، میرے سامنے ہے۔"
ہم دونوں نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا اور مسکرانے لگے۔!!
پسند کی شادی پر عورت پہلے اپنے گھر والوں سے سنتی ہے، بعد میں سسرال سے۔
وہ ساری کشتیاں جلا کر آئی تھی، سو اس نے زبان سی لی۔
اب اگلی ذمہ داری میری تھی۔
ایک دوست کے توسط سے لاہور ایک کال سنٹر میں جاب مل گئی،
لیکن میں کبھی اپنے شہر سے نکلا نہیں تھا،
سو ایک انجان شہر میں جانے کے لیے مجھے تھوڑا سرمایہ درکار تھا۔
ابو سے مجھے دس ہزار ملے، اگلے ہفتے کی ٹکٹ تھی۔
رات کو میں حسابوں میں مصروف تھا تو وہ میرے پاس آئی۔
اس نے اپنی زور سے بند مٹھی کھولی اور میرے سامنے کر دی۔
میں نے کہا،
"تم فکر نہ کرو، میرے پاس پیسے ہیں، یہ تم اپنے پاس۔۔۔"
"یار، مجھ سے جھوٹ نہ بولا کرو، مجھے پتہ ہے نہیں ہیں۔"
میں خاموش ہو گیا، کیونکہ پیسوں کی ضرورت مجھے تھی۔
وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور کسی ماسٹر پلانر کی طرح مجھے سمجھانے لگی۔!!
"میں نے ایک پلان سوچا ہے۔"
"کیا؟"
"تمہاری گندم گاؤں سے آتی ہے نا؟"
"ہاں۔"
"تم ایسا کرو، ان پیسوں کی گندم لے لو۔ گھر کے لیے بھی لینی ہے،
گاؤں سے تمہیں سستی مل جائے گی۔
میری ایک دوست ہے، اس سے بات کی ہے میں نے، اسے ضرورت ہے۔
تم یہاں سے اٹھا کر وہاں دے دینا، کچھ پیسے بچ جائیں گے۔"
وہ بڑی ایکسائٹمنٹ سے مجھے بزنس پلان سمجھا رہی تھی۔
میں اس کی معصومیت پر مسکرایا، لیکن پلان برا نہیں تھا۔
پلان کامیاب رہا۔
یہ پلان ہم نے گھر والوں سے مخفی رکھا۔
پیسے لے کر جب میں گھر آیا تو رات کو ہم چھوٹے بچوں کی طرح پیسے گن رہے تھے،
جیسے بچے غلہ توڑنے کے بعد گنتے ہیں، حتیٰ کہ ان کو پورا حساب ہو جاتا ہے۔
ہمیں فی من ساڑھے تین سو کے حساب سے چھ ہزار تین سو (6,300) منافع ہوا۔!!
یہ ہمارا پہلا کامیاب بزنس تھا۔
دو ہزار میں نے اس کے منع کرنے کے باوجود اس کے ہاتھ پر رکھے،
کیونکہ اصولی طور پر یہ اسی کی کمائی تھی۔!!
اگلے ہفتے میں اسے چھوڑ کر لاہور نکل گیا۔
لاہور میرے لیے انجان تھا۔
کچھ دن دوست کے گھر رہا، بعد میں جب اپنی رہائش ڈھونڈنی پڑی تو دال روٹی کا بھاؤ پتا چلنے لگا۔
رہائش اور ماہانہ خرچوں کا حساب لگایا تو یہ میری سوچ سے تھوڑا زیادہ تھا۔
پیچھے میری ایک منتظر بیوی بھی تھی،
اور ایک تنخواہ میں مجھے میرا گزارا مشکل نظر آ رہا تھا۔
پتہ نہیں یہ اس کی محبت تھی یا احساسِ ذمہ داری،
میں نے بھی تہیہ کیا کہ کچھ نہ کچھ تو کروں گا ہی۔
اس نے اگر میرے بھروسے سب چھوڑا ہے تو اس کا بھروسہ نہیں ٹوٹنے دے سکتا۔!!
میں نے اپنے کال سنٹر کے قریب کام ڈھونڈنا شروع کیا۔
اتفاق سے وہاں ایک ریستوران میں مجھے نوکری مل گئی۔!!
ہوتا اب یہ تھا کہ
صبح سات سے شام پانچ تک کال سنٹر میں ہوتا،
وہاں سے آ کر سو جاتا،
اور رات بارہ سے صبح چھ تک ریستوران میں نائٹ شفٹ۔!!
وہاں سے مجھے دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا، جس سے میرا کافی خرچہ بچ جاتا تھا۔
کال سنٹر کی تنخواہ پندرہ ہزار تھی، جو کمیشن ملا کر پچیس، چھبیس ہو جاتی تھی، اور ریستوران والے مجھے آٹھ ہزار دیتے تھے۔
اس اضافی کام کا میں نے گھر نہیں بتایا تھا، ورنہ ___ (میری بیوی) مجھے کبھی یہ نہ کرنے دیتی۔!!
مہینے بعد گھر گیا تو بارہ ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔
اس نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ تین دفعہ گنتی کی، پھر انہیں دو دفعہ چوما، اور نمناک آنکھوں کے ساتھ اپنے اٹیچی کیس میں اپنا حق سمجھ کر رکھ لیے۔!!
اس کی وہ خوشی میرے لیے کائنات کی سب سے محبوب شے تھی۔۔۔
میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا، لیکن میرے وہاں کے حالات اس چیز کی اجازت نہیں دیتے تھے۔
اس نے بھی بردباری کی انتہا کرتے ہوئے خود ہی منع کر دیا۔!!
اس کی دعائیں تھیں یا اس کا رزق، دو ماہ میں مجھے ایک فرم میں نوکری مل گئی۔
یہاں میری تنخواہ چالیس ہزار تھی، جو میری سوچ اور ضروریات کے حساب سے کافی زیادہ تھی۔!!
محنت کی عادت تو مجھے پہلے ہی تھی، سو فارغ وقت میں میں نے ایک پیکنگ کمپنی میں نائٹ شفٹ پر نوکری کر لی۔
یہ کام ریستوران سے کافی بہتر اور صاف ستھرا تھا، اور تنخواہ بھی مناسب تھی۔
اس نوکری کا میں نے اسے نہیں بتایا، کہ اس کو سرپرائز دوں گا۔
اس دفعہ میں دو ماہ بعد گھر گیا، اس کی سالگرہ تھی۔!!
اور گھر والوں کے سامنے ہم انتہا کے میسنے تھے، ان کو کچھ نہیں بتاتے تھے۔
سالگرہ پر ایک چھوٹا سا کیک ہم سات لوگوں میں تقسیم ہوا۔
رات کو جب ہم کمرے میں اکیلے ہوئے تو میں نے اسے ایک ڈبہ پکڑا دیا۔
اس نے خوشی اور حیرت سے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور پوچھا،
"کیا ہے اس میں؟"
"خود ہی دیکھ لو۔"
"اوہ! اچھا، میرے پاس بھی کچھ ہے۔"
میں نے حیرت سے پوچھا،
"واقعی؟ کیا؟"
اس نے اپنے اٹیچی کیس سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکال کر مجھے دے دیا۔!!
پہلے اس نے اپنا ڈبہ کھولا تو خوشی کے مارے اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
یہ ایک اینڈرائیڈ اسمارٹ فون تھا۔
اس کو فوٹوگرافی اور برانڈز سرچ کرنے کا خبط تھا، جسے وہ دوستوں کے موبائل سے کبھی کبھار پورا کر لیتی تھی۔
اس نے جلدی جلدی اسے نکالا، آن کیا اور کہا،
"lets_take_a_selfie"
اور یہ ہماری اک ساتھ پہلی باقاعدہ فوٹو تھی۔!!
اب میری باری تھی۔
میں نے گفٹ کھولنا شروع کیا۔
یہ G-Shock کی ایک اسپورٹس واچ تھی۔
اسے میری خواہشات کا بخوبی علم تھا۔
یہ کافی مہنگی تھی، جس کی میں نے زندگی میں ہمیشہ بس خواہش ہی کی تھی۔
اس کے پیسے اس نے اپنے خرچے میں سے کیسے بچائے تھے، وہ میری سمجھ سے باہر تھا۔
اس کے تحفے کے آگے میرا تحفہ شرمندہ ہو رہا تھا۔!!
اس رات ہم نے اپنے "تحائف" کو خوب انجوائے کیا۔!!
عورتیں گھر داری کے معاملے میں بہت دور اندیش ہوتی ہیں۔
وہ اپنے ہمسفر کے ساتھ بچوں کے نام، حتیٰ کہ ہونے والے گھر کے پردوں اور چادروں کے ڈیزائن تک شادی سے پہلے سوچ لیتی ہیں۔
ہم نے شادی کی پہلی رات یہ وعدہ کیا تھا کہ اولاد کی طرف تب جائیں گے، جب ان کو خود سے بہتر زندگی دے سکیں۔!!
ہماری اگلی کوشش اپنے گھر کے لیے تھی، جس کے لیے ہم دونوں ایک دوسرے سے چھپ کر کوشش کر رہے تھے۔
اس نے بھی ایک پرائیویٹ اسکول آکسفورڈ میں ٹیچنگ شروع کر دی تھی، اور گھر میں بھی کچھ بچے پڑھنے آ جاتے تھے۔
گھر میں اس معاملے کو لے کر کبھی کبھی گرما گرمی بھی ہو جاتی کہ بہنیں جوان ہو رہی ہیں، ان کا تمہیں خیال نہیں۔
گو کہ میں گھر میں تھوڑا خرچہ دے دیتا تھا، لیکن ساس بہو کی وہی ازلی لڑائی کہ سارا خرچہ ہمارے ہاتھ میں ہو۔
___ نے اس حوالے سے کبھی گھر میں بحث نہیں کی۔
وہ اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ خود ہی امی کو دے دیتی تھی۔
اس کا بھی حل ہم نے ایسے نکالا تھا کہ ایک دن میں گھر آیا ہوا تھا، میں نے پلان کے مطابق جان بوجھ کر اس بات پر خوب لڑائی کی کہ ___ خرچہ گھر نہیں دے گی۔!!
وہ جوان ہے، نئی بیاہی ہے، سو اس کی اپنی بھی ضروریات ہیں۔
والدہ گرج برس کر چپ ہو گئیں۔
جب ___ کی تنخواہ آئی تو اس نے خود ہی والدہ کو تھوڑے پیسے دے دیے کہ وہ تو کہتے رہتے ہیں۔
ماں زیر ہو گئیں کہ کیسی "فرمانبردار بہو" ہے، جب کہ یہ پلان بھی بہو کا ہی تھا۔!!
دو سال بعد آخر وہ دن آ گیا، جس کے لیے اس نے ساری زندگی خواہش کی اور میں نے محنت۔
یہ بھی اس کا "برتھ ڈے سرپرائز" تھا۔
شہر کے ایک پوش علاقے میں ساڑھے چار مرلے کا ایک پلاٹ۔!!
جب میں نے اسے بتایا کہ یہ تمہارا ہے تو زندگی میں پہلی دفعہ وہ میرے سامنے دھاڑیں مار مار کر روئی،
جیسے یہ سب آنسو اس نے اسی دن کے لیے بچا رکھے تھے۔
ہم کافی دیر خالی پلاٹ میں مٹی پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بیٹھے رہے۔
وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی زمین پر گھسیٹتی، اور کسی بچے کی طرح لکھ کر دہراتی،
"میری ملکیت"
زندگی اب ٹریک پر آ چکی تھی۔
جس دن مجھے اس کی پریگنینسی کا پتا چلا، اس دن میں پاگلوں کی طرح خوش تھا۔
ہم نے گھر کا کام، بچوں کے کپڑے، اور پتہ نہیں کیا کیا پلان کرنا شروع کر دیا۔
ایک رات اس کی طبیعت معمول سے زیادہ خراب ہوئی۔
میں اپنی زندگی میں ___ کو لے کر کبھی نہیں ڈرا، اس وقت بھی نہیں جب پورے خاندان کے سامنے اکیلا کھڑا تھا۔
لیکن زندگی میں پہلی دفعہ اس کی اس حالت نے میری روح نچوڑ کر رکھ دی۔!!
میں اسے لے کر ہسپتال بھاگا۔
میری حالت یہ تھی کہ شرٹ پہنی تھی جس کے بٹن بند نہیں تھے، اور میں ننگے پاؤں ہسپتال میں اسے اٹھا کر بھاگ رہا تھا۔
اس کی حالت خراب تھی۔
ڈاکٹروں نے ایک زندگی بچانے کا آپشن دیا، جس کا جواب واضح تھا۔
میں وارڈ کے باہر فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھا اللہ تعالیٰ سے اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔!!
لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا۔
اس نے ___ کے لیے بہتر گھر چن رکھا تھا۔
وہ ایک بیٹی کا تحفہ دے کر مجھے دغا دے گئی۔
اس کا تحفہ ہمیشہ کی طرح میرے سارے تحائف پر بھاری تھا۔
میں نے اسی کے نام پر ہماری بیٹی کا نام ___ رکھا۔!!
آج بھی جب میں اپنی بیٹی کو اس پوش علاقے میں ایک خوبصورت پلاٹ کے پاس اس کی ماں سے ملوانے لے جاتا ہوں،
تو وہ مجھ سے اکثر پوچھتی ہے،
"بابا!
ماما یہاں سب سے الگ کیوں رہتی ہیں ___؟"
میں اسے ہمیشہ ٹال دیتا ہوں۔۔۔
میں اسے کس طرح بتاؤں کہ یہ اسی کا گھر ہے،
یہ اسی کی "ملکیت" ہے،
جس پر اس کے علاوہ کسی کا حق نہیں۔!?
اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہو،
تو اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں۔
آپ کی ایک لائن بھی ہمارے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔
اور اگر آپ بھی اپنی زندگی کی کوئی سچی، درد بھری یا سبق آموز کہانی ہمیں بھیجنا چاہتے ہیں،
تو اسکرین پر جو نمبر شو ہو رہا ہے،
واٹس ایپ پر اپنی کہانی وہاں بھیج دیں۔
ممکن ہے اگلی کہانی آپ ہی کی ہو۔
ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں،
اللہ آپ کو اور آپ کے پیاروں کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
جزاکم اللہ
