فارسٹ آفیسر کی ڈائری کا سچا خوفناک واقعہ
تھکن سے میرا برا حال تھا۔ پورے ڈھائی گھنٹے گروسری اسٹور میں گزار کر، سامان سے لدے ہوئے تھیلے اٹھائے جب میں گھر میں داخل ہوا تو میرے منہ میں جیسے کڑواہٹ گھل گئی۔
باہر سورج آگ برسا رہا تھا، مگر ٹھنڈے ٹھنڈے لاؤنج میں صوفے پر نیم دراز، انکل شہزاد انتہائی آرام اور انہماک سے اخبار کا مطالعہ فرما رہے تھے۔ میری آہٹ محسوس کر کے انہوں نے اخبار کے پیچھے سے اپنا چہرہ نمودار کیا، اور ایک گہری، وسیع مسکراہٹ چہرے پر سجا لی۔
میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے جواب دیا اور دوبارہ اخبار اپنے خوبرو چہرے کے آگے کر لیا۔
“ارے کاشف! آ گئے بیٹا؟”
زہرہ خالہ کچن سے چائے کا کپ لے کر برآمد ہوئیں اور انکل کے سامنے رکھ دیا۔
“ٹھہرو، میں تمہارے لیے بھی چائے لے آتی ہوں۔”
“ارے نہیں نہیں خالہ!”
میں اس سڑی ہوئی گرمی میں چائے کے نام سے ہی گھبرا گیا۔
“میں بس چلتا ہوں… آپ یہ سودا چیک کر لیں۔”
میں نے رسید ان کی طرف بڑھا دی۔
“اچھا…”
زہرہ خالہ نے رسید تھام لی۔
“میں تو کہہ رہی تھی، ایک کپ چائے ہی پی لیتے۔”
پھر وہ جیسے چونک کر بولیں،
“ارے کاشف بیٹا! صبح جب تم نکل گئے تھے تو مجھے خیال آیا، بجلی کا بل تو کب سے آیا رکھا ہے۔ اب گھر جاتے ہوئے جمع کروا دو گے؟”
وہ مجھے ملتجی نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“کوئی بات نہیں خالہ، آپ بل لے آئیں، میں ابھی جمع کروا دیتا ہوں۔”
جب تک خالہ اندر سے بل اور پیسے نکال کر لائیں، میں اخبار کے پیچھے پوشیدہ انکل شہزاد کو دیکھ کر خون کے گھونٹ پیتا رہا۔
اب تمام انجان لوگ مجھے یقیناً سخت بدلحاظ اور کام چور سمجھ رہے ہوں گے، کہ ذرا سی گروسری لانے پر میں آپے سے باہر ہو جاتا ہوں۔
مگر ایسا نہیں ہے…
اصل وجہ کچھ اور ہے۔
اور وہ وجہ سالہا سال پرانی ہے۔
وہ کہتے ہیں نا…
“ہوتا ہے میری جاں، ہوتا ہے…”
تو جناب، یہ گروسری، یہ بل، یہ پولٹری…
یہ کوئی آج کل یا چند مہینوں کی بات نہیں۔
یہ برسوں پرانی کہانی ہے۔
زہرہ خالہ میری امی کی کزن ہیں۔ ان میں اور میری امی میں بچپن سے گہری دوستی ہے۔ ان کی اور میری امی کی شادیاں بھی تقریباً آگے پیچھے ہی ہوئی تھیں۔
امی بتایا کرتی ہیں کہ زہرہ خالہ اپنی نوجوانی میں بھی بالکل عام سی خاتون ہوا کرتی تھیں۔ سانولی سلونی، دبلی پتلی۔ نہ جانے کیسے ان کا جیک پاٹ نکل آیا — کم از کم اس وقت تو انہیں ایسا ہی لگا ہوگا — کہ ان کے لیے انکل شہزاد کا رشتہ آ گیا۔
انکل شہزاد فاریسٹ آفیسر تھے،
اور بلا شک و شبہ بے حد ہینڈسم۔
کسی حسین عورت کی شادی اگر کسی گئے گزرے مرد سے ہو جائے تو نباہ ہو ہی جاتا ہے،
مگر اگر کوئی عام سی عورت کسی خوبصورت مرد کے پلے بندھ جائے تو بس جی…
ساری زندگی خطرے کی گھنٹی اس کے کانوں میں بجتی رہتی ہے۔
اور انکل شہزاد تو وجاہت کی سب سے اونچی سیڑھی پر کھڑے تھے۔ خاندانی، پڑھے لکھے، باوقار۔
زہرہ خالہ تو ان کی پجارن بن گئیں۔
جانے انکل شہزاد اس شادی پر raazi کیسے ہو گئے، حالانکہ اس وقت کئی لڑکیاں دل ہی دل میں ان کی طلبگار تھیں۔ بس ایک اشارے کی دیر تھی۔
مگر انکل شہزاد کی اماں جان تو سیدھا ان کا رشتہ zehra خالہ کے لیے لے گئی تھیں۔
میری امی کو تو ساری زندگی یہی شک رہا کہ شہزاد انکل کی اماں نے جان بوجھ کر ایک سے بڑھ کر ایک حور شمائل لڑکی چھوڑ کر زہرہ خالہ کا انتخاب اس لیے کیا، تاکہ وہ ان کے دل پر راج نہ کر سکیں اور بیٹا کبھی ان کے ہاتھوں سے نہ نکلے۔
اور تھوڑے سے فرق کے ساتھ، بالکل ایسا ہی ہوا۔
کون سا فرق؟
ٹھہریے… میں آپ کو شروع سے بتاتا ہوں۔
آج سے کوئی پچیس چھبیس سال پہلے انکل شہزاد کی شادی zehra خالہ سے طے پا گئی۔ جیسا کہ میں نے کہا، یہ ایک خاصی بے جوڑ شادی تھی۔
سانولی، بے حد دبلی پتلی، بالکل عام سی zehra خالہ — اور بے حد خوبرو، اسمارٹ انکل شہزاد۔
وہ فاریسٹ آفیسر تھے، مگر جب وہ اپنی اوپن جیپ میں جنگلات کے دوروں پر آتے جاتے تو بالکل ہیرو لگتے تھے… وہ بھی ہالی ووڈ کے۔
انکل شہزاد نے اپنی اس بے جوڑ شادی پر دل میلا نہیں کیا۔ ان کے پاس دل بہلانے کے لیے بہت سامان موجود تھا۔ ان کے کئی افیئرز پورے خاندان کے علم میں تھے۔
وہ ویسے بھی زیادہ تر گھر سے باہر ہی رہتے۔ رفتہ رفتہ دوروں میں اضافہ ہوتا گیا، اور یوں لگا جیسے انہوں نے گھر آنا چھوڑ ہی دیا ہو۔
چند سالوں میں ان کے ہاں دو بیٹیاں ہو گئیں — ایمن اور سمن۔
مگر بچیوں کی پیدائش نے بھی ان کے معمولات میں کوئی فرق نہ ڈالا۔
میں اور ان کی بڑی بیٹی ایمن تقریباً ہم عمر تھے۔ ہم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ میں اور امی اکثر zehra خالہ کے گھر چلے جایا کرتے تھے۔
انکل شہزاد شاذ و نادر ہی گھر میں ہوتے۔ ان کی اماں اس وقت حیات تھیں، اور اپنے ہاتھوں سے کرائی گئی اس شادی کا سارا الزام انتہائی ڈھٹائی سے zehra خالہ پر ڈالتی تھیں۔
انکل شہزاد کی بے رخی کی وجہ وہ zehra خالہ کی کم صورتی کو قرار دیتیں۔
کبھی کبھی الزامات کا رخ صرف ان دو بیٹیوں کی طرف مڑ جاتا،
جیسے بیٹا نہ ہونے کی واحد گناہگار zehra خالہ ہی ہوں۔
zehra خالہ بے چاری اپنے نا کردہ گناہوں پر شرمندہ رہا کرتیں، اور چپکے چپکے آنسو بہاتیں۔
کبھی کبھار جب انکل شہزاد شاید منہ کا ذائقہ بدلنے کو گھر آتے، تو zehra خالہ کو ایک کنیز سے زیادہ حیثیت نہ دیتے۔
ان کا کام بس کھانا لگانا، کپڑے دھونا اور استری کرنا رہ جاتا۔
مگر zehra خالہ اس پر بھی لاکھ شکر ادا کرتیں، کہ کم از کم ان کے “اپالو” ان کی نظروں کے سامنے تو ہیں۔
دیوتا کی تو پوجا کی جاتی ہے، شکایت نہیں۔
وقت آگے بڑھا، اور انکل شہزاد کی بے اعتنائی اب باقاعدہ ناپسندیدگی میں بدلنے لگی۔
zehra خالہ کی ساس ببانگِ دہل انکل شہزاد کی دوسری شادی کا اعلان کرنے لگیں۔
“اے میرا بچہ تو گھر کی شکل ہی بھول گیا ہے!”
وہ ہر آنے جانے والے کے سامنے دہراتیں۔
“آخر کرے بھی تو کیا… جب ایسی منحوس صورت عورت گھر میں موجود ہو۔ ہونہہ! میرے چاند جیسے بیٹے کی زندگی پر سیاہ رات بن کر چھا گئی ہے!”
نہ جانے ساسوں میں یہ کون سی حس پائی جاتی ہے۔
سارے زمانے سے چھان پھٹک کر جس دلہن کو لاتی ہیں، چند ہی دنوں میں اس میں سارے زمانے کی برائیاں نکال لیتی ہیں۔
خیر…
یہ تو انکل شہزاد کی اماں کے خیالات تھے۔
نہ جانے اپنی اس بے لگام زبان اور بہو کے دل کو چھلنی کرنے کا حساب انہوں نے خدا کے سامنے کیسے چکایا ہوگا۔
شکر ہے، وہ ایک اور بوجھ اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
یعنی انکل شہزاد کی دوسری شادی کروانے کا بوجھ…
حالانکہ انہوں نے کم ہاتھ پیر نہیں مارے تھے،
مگر…
انکل شہزاد کے نصیب میں کوئی “باضابطہ” دوسری شادی لکھی ہی نہیں گئی تھی۔
البتہ ان کے نصیب میں کچھ عجیب و غریب اتفاقات ضرور درج تھے۔
بے حد پراسرار…
اور حد درجہ ہولناک۔
ہوا کچھ یوں کہ جو شخص کبھی گھر کی شکل تک نہ دیکھتا تھا،
وہ ایک دن ایسے گھر لوٹا کہ پھر گھر سے قدم باہر نکالنا ہی چھوڑ دیا۔
کیسی آوارگی، کیسی تفریح…
حتیٰ کہ کیسی نوکری…
سب کچھ چھوڑ چھاڑ دیا۔
بس ہر وقت زہرہ خالہ کو آوازیں لگاتے رہتے۔
“بس تم… تم ہر وقت میرے پاس رہا کرو…”
وہ باقاعدہ التجا کرتے۔
یہ دیکھ کر زہرہ خالہ کی ساس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔
“ہونہہ! اس کلمونہی نے ضرور کوئی جادو ٹونا کروایا ہے!”
انہیں اس بات کا پکا یقین تھا۔
مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا۔
انکل شہزاد نے واقعی نوکری ووکری سب چھوڑ دی تھی۔
کہیں آنا جانا بالکل ترک کر دیا۔
گھر کے سب سے اندرونی کمرے میں، خوفزدہ ہو کر بیٹھے رہتے۔
صرف اس وقت ذرا مطمئن نظر آتے جب زہرہ خالہ ان کے پاس ہوتیں۔
یہ صورتحال پورے خاندان کے لیے تشویش کا باعث بن چکی تھی۔
بار بار پوچھنے پر، ایک دن انکل شہزاد نے وہ واقعہ سنایا…
جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
انہوں نے کہا:
“پچھلے دنوں جب میرا تبادلہ ایک دور دراز علاقے میں ہوا تھا،
تو وہیں سے میرے ساتھ ان بھیانک واقعات کا سلسلہ شروع ہو گیا…”
“ایک شام میں کسی سنسان جگہ سے گزر رہا تھا کہ اچانک میری جیپ ایک زور دار جھٹکے سے رک گئی۔
میں نے بار بار اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی،
مگر جیپ نے ساتھ نہیں دیا۔
میں گاڑی سے باہر نکلا اور کسی مدد کی تلاش میں پیدل چلنے لگا۔
شام کا اجالا آہستہ آہستہ رات کے اندھیرے میں بدل رہا تھا۔
اور میں جانے کہاں نکل آیا تھا۔
چلتے چلتے ایک عجیب احساس ہونے لگا…
جیسے میں اکیلا نہیں ہوں۔
کوئی ہے… جو میرے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔
میں نے غور کیا تو باقاعدہ کسی کے لباس کی سرسراہٹ سنائی دینے لگی۔
جب میں رک جاتا، آواز بھی رک جاتی۔
میں گھبرا کر مڑا،
اور تیز قدم اٹھاتے ہوئے واپس جیپ کی طرف لپکا۔
تیز چلنے سے میں خود ہانپنے لگا تھا،
مگر میرے پیچھے چلنے والی مخلوق بھی ایسی آوازیں نکال رہی تھی…
جیسے وہ بھی میرے پیچھے بھاگ کر تھک گئی ہو۔
شکر ہے، جیپ فوراً اسٹارٹ ہو گئی۔
میں آندھی طوفان کی طرح گاڑی دوڑاتا ہوا سیدھا گھر پہنچ گیا۔
مجھے رہنے کے لیے جو گھر دیا گیا تھا،
وہ بہت ہی پرانا تھا۔
کمرے تو بے شمار تھے،
مگر پوری عمارت خستہ حال تھی۔
میرا ملازم وہیں کا رہنے والا تھا۔
کھانا بناتا، صفائی کرتا،
اور میرے رہنے کے لیے اس نے دو کمرے صاف کر دیے تھے۔
باقی پورا گھر کاٹھ کباڑ سے بھرا پڑا تھا۔
گھر کے تین طرف ایک بہت بڑا لان تھا،
جو بالکل اجاڑ تھا۔
بس بے تحاشہ بڑھی ہوئی جھاڑیاں…
اور کئی قدیم درخت،
جنہیں دیکھ کر صاف اندازہ ہو جاتا تھا کہ یہ صدیوں پرانے ہیں۔
جب میں سونے لیٹا تو وہ شام والا واقعہ پھر ذہن میں آ گیا۔
ویسے تو ڈر اور خوف سے میرا کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا،
مگر اس رات ایک عجیب کیفیت مسلسل محسوس ہو رہی تھی…
جیسے کوئی انجانی چیز میرے آس پاس موجود ہو۔
میرا ملازم برابر والے کمرے میں سو رہا تھا۔
دل چاہا اسے آواز دے دوں کہ آ کر میرے کمرے میں نیچے بستر لگا لے،
مگر یہ سوچ کر رک گیا کہ وہ کیا سوچے گا…
کہ صاحب ڈر گئے ہیں۔
نہ جانے کب مجھے نیند آ گئی۔
اور نہ جانے کیوں…
آدھی رات کو اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
کمرے میں ایک عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی۔
انتہائی ناگوار۔
میں گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
اچانک میرے کانوں سے ایک آواز ٹکرانے لگی…
ایک چرچراہٹ…
جیسے…
جیسے کوئی جھولا جھول رہا ہو…
اور وہ جھولا بری طرح زنگ آلود ہو۔
آواز آہستہ آہستہ تیز ہوتی جا رہی تھی،
اتنی تیز کہ کمرے میں دھمک محسوس ہونے لگی۔
اور اسی کے ساتھ وہ بدبو بھی بڑھتی جا رہی تھی…
جیسے کچھ جل رہا ہو۔
تب مجھے یاد آیا…
یہی بدبو تو شام کے وقت بھی محسوس ہوئی تھی،
جب میری جیپ بند ہو گئی تھی۔
میں خوف سے کانپنے لگا،
کہ اچانک لائٹ بند ہو گئی۔
کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔
“شفیق…!”
میں نے ملازم کو آواز دینے کی کوشش کی،
مگر میری آواز کمرے میں ہی گونج کر رہ گئی۔
ہمت کر کے میں بستر سے اٹھا۔
ٹٹولتا ہوا کھڑکی تک پہنچا۔
ڈرتے ڈرتے پردہ سرکایا…
اور…
یا اللہ!
میرا دل خوف سے پھٹنے کو آ گیا۔
سامنے…
اجاڑ، بیابان لان میں…
اس آدھی رات کو…
اس پراسرار گھر کے مکمل اندھیرے میں…
چاند کی مدہم روشنی میں…
وہ جھولے پر بیٹھی ہوئی تھی۔
لمبا سفید لباس…
اور لمبے بال، جو اس کے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔
سر جھکائے،
وہ لمبے لمبے جھولے لے رہی تھی۔
میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔
مجھ میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ پردہ واپس کھینچ سکوں۔
اچانک جھولا رک گیا۔
مگر چرچراہٹ کی آواز اب بھی آ رہی تھی۔
پھر…
جھولے پر بیٹھی اس عورت نے آہستہ آہستہ اپنا سر اٹھانا شروع کیا…
جیسے کوئی سلو موشن سین چل رہا ہو۔
اور پھر…
اس کے بالوں کی اوٹ میں سے…
اس کی آنکھیں…
سرخ…
خوفناک آنکھیں…
سیدھی مجھ پر جم گئیں۔
اس کے سیاہ چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری…
وارننگ دیتی ہوئی مسکراہٹ…
چیلنج کرتی ہوئی مسکراہٹ…
شاید میں بے ہوش ہو گیا تھا۔
صبح آنکھ کھلتے ہی میں نے اپنا سامان الٹا سیدھا پیک کیا۔
شفیق میرے اس اچانک فیصلے پر بری طرح حیران رہ گیا۔
“آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی صاحب! ادھر کوئی آصیب واصیب نہیں ہے۔ میں نے تو کبھی ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔”
“وہ اس لیے کہ بھوت اور چڑیلیں رات کے ہم سفر ہوتے ہیں…”
میں نے تلخی سے کہا،
“…اور تم رات کو گدھے اور گھوڑے بیچ کر سو رہے ہوتے ہو۔ پوری رات ایک چڑیل لان میں پکنک مناتی رہی، جھولے جھولتی رہی، اور تمہیں خبر تک نہ ہوئی؟”
“چڑیل؟ جھولا؟”
شفیق گھبرا گیا۔
“کون سا جھولا صاحب؟ باہر تو کہیں کوئی جھولا نہیں ہے!”
“اچھا؟ کوئی جھولا نہیں ہے؟”
میں نے اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹا اور کھڑکی کے پاس لے آیا۔
پردہ سرکایا اور—
میری آنکھوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔
لان دور تک بالکل خالی پڑا تھا۔
وہاں کوئی جھولا نہیں تھا۔
“دیکھا صاحب!”
شفیق نے فاتحانہ انداز میں کہا،
“ضرور آپ نے کوئی خواب دیکھا ہوگا۔”
مگر مجھے سو فیصد یقین تھا کہ میرے ساتھ پیش آنے والے واقعات وہم نہیں تھے۔
میں نے شفیق کی ایک نہ سنی اور واپسی کے لیے نکل گیا۔
حالانکہ سورج کی تیز روشنی چاروں طرف پھیل چکی تھی،
مگر میرا ڈر کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
بار بار وہ سفید لباس والی مخلوق،
اور وہ جھولا،
میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔
اور خاص طور پر وہ لمحہ…
جب وہ عورت آہستہ آہستہ سر اٹھا رہی تھی۔
اف…
اس کا بھیانک چہرہ یاد آتے ہی—
جیپ ایک جھٹکے سے رک گئی۔
اوہ خدایا!
میں تو صبح کی جلدی میں ریڈی ایٹر میں پانی ڈالنا ہی بھول گیا تھا۔
مجھے یاد آیا،
میں نے تو ایک کپ چائے بھی نہیں پی تھی۔
میں جیپ سے باہر نکلا۔
“شاید کوئی مدد مل جائے…”
اور پھر یکدم یاد آیا—
“یہ تو وہی جگہ ہے…”
“…جہاں میں کل بھٹک گیا تھا!”
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
میں بھاگ کر واپس جیپ میں آ بیٹھا اور جلدی سے اسٹارٹ کیا۔
جیپ اسٹارٹ ہو گئی۔
مگر—
اچانک گاڑی کے اندر ایک تیز بو پھیل گئی۔
کچھ جلنے کی بدبو۔
اب میں اس بو کو پہچان چکا تھا۔
میری دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔
وہ…
میرے برابر بیٹھی ہوئی تھی۔
اسی لمبے سفید لباس میں…
بال چہرے پر ڈالے ہوئے۔
میں زندگی میں پہلی بار زور زور سے چیخنے لگا۔
“ڈرو نہیں…”
اس کی منمناتی ہوئی آواز گونجی،
“میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔
میں تم پر عاشق ہو گئی ہوں…
جب سے تمہیں دیکھا ہے۔”
میں کیسے نہ ڈرتا؟
اس کی آواز بھی اس کی صورت کی طرح خوفناک تھی۔
“دیکھو… میرا پیچھا چھوڑ دو…”
میں رونے والا ہو گیا۔
“میں تم سے ڈر کر ہی واپس جا رہا ہوں۔ خدا کے لیے یہاں سے چلی جاؤ!”
“پیچھا؟”
وہ ہنسی۔
“اب میں کبھی پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔”
اس کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی۔
آنکھیں غصے سے بھر گئیں۔
“میں تمہیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گی…
کہیں نہیں!”
نہ جانے کیسے میں نے گھر تک کا سفر طے کیا۔
وہ پورا وقت میرے برابر بیٹھی رہی۔
گھر پہنچتے ہی وہ یکدم غائب ہو گئی۔
مجھے کچھ سکون محسوس ہوا…
مگر وہ گئی نہیں تھی۔
وہ میرے ساتھ ہی تھی۔
بس کسی کو نظر نہیں آتی تھی۔
جیسے ہی میں اکیلا ہوتا،
وہ آ جاتی…
مسکراتے ہوئے…
بلا وجہ قہقہے لگاتے ہوئے۔
وہ ایک پل کے لیے بھی میرا پیچھا نہ چھوڑتی۔
میں واش روم جاتا تو باہر دروازے سے لگ کر کھڑی ہو جاتی۔
وہ مجھے دیکھتی رہتی…
اپنے بالوں کی اوٹ سے۔
کبھی کبھی تو رات کو میری آنکھ کھلتی…
اور وہ چھت سے الٹی لٹکی،
میرے بالکل اوپر جھکی ہوتی۔
اس خوف نے مجھے اندر سے توڑ دیا۔
میرا دل کمزور پڑ گیا۔
صرف اس وقت وہ غائب ہو جاتی
جب میری بیوی میرے پاس ہوتی۔
“رقابت کی آگ…”
“وہ برداشت نہیں کر پاتی تھی۔”
انکل شہزاد یہ سارا قصہ ڈرتے کانپتے ہوئے سنا رہے تھے۔
قسمت کے کھیل بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔
ساری زندگی حسین عورتوں سے دل لگی کرنے والے انکل شہزاد،
ایک سچی عاشق کے ہاتھوں دل کے مریض بن گئے۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ
وہ عاشق…
ایک چڑیل تھی۔
جس بیوی کے سائے سے برسوں بھاگتے رہے،
اچانک اسی کے آنچل میں پناہ ڈھونڈنے لگے۔
وقت گزرتا رہا۔
انکل نے نوکری چھوڑ دی۔
کہیں آنا جانا مکمل بند کر دیا۔
پیلا زرد چہرہ،
گھر کے کسی کونے میں اکڑوں بیٹھے،
تھر تھر کانپتے رہتے۔
نوکری چھوٹی تو چند دنوں میں گھر میں کھانے کے لالے پڑ گئے۔
آخرکار ان کی اماں نے اوپر کی منزل کرائے پر اٹھا دی۔
زہرہ خالہ نہ زیادہ پڑھی لکھی تھیں،
نہ اتنا اعتماد تھا کہ کہیں نوکری کر سکتیں۔
اوپر سے دونوں بچیاں بھی اس گھٹے ہوئے ماحول میں ایسی دبک گئیں
کہ ٹھیک سے بات تک نہیں کر پاتیں۔
سال گزرتے گئے۔
انکل کی اماں دنیا سے چلی گئیں۔
بچیاں بڑی ہو گئیں۔
اور وہ عاشق مخلوق بھی اب کبھی کبھار ہی آتی تھی۔
یہ سب میں بچپن سے سنتا آیا تھا۔
مگر سچ یہ ہے
مجھے نہ اس چڑیل پر یقین تھا،
نہ انکل شہزاد کے اس ڈرامے پر۔
میں نے انہیں ہمیشہ اخبار پڑھتے،
کتابیں دیکھتے،
ٹی وی کے سامنے بیٹھے دیکھا تھا۔
وہ بالکل صحت مند لگتے تھے۔
یہ کہنا کہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے…
میرے نزدیک محض ایک بہانہ تھا۔
ان کے گھر کا ہر کام
برسوں سے میری ذمہ داری بنا دیا گیا تھا۔
مجھے اعتراض نہیں تھا،
میں انہیں اپنے والد جیسا سمجھتا تھا۔
مگر ان کا یہ ڈراما…
مجھے کھٹکتا تھا۔
اسی دوران—
“ہیلو… کاشف بھائی؟”
سمن کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔
“امی بے ہوش ہو گئی ہیں…
ابو کہہ رہے ہیں آپ ڈاکٹر لے آئیں۔”
میں زہرہ خالہ کی طبیعت سن کر پریشان ہوا،
مگر “ابو” کا نام سن کر دل میں آگ لگ گئی۔
رات ڈیڑھ بجے
میں ڈاکٹر نعمان کو اٹھا کر لے آیا۔
شکر تھا، خطرے کی بات نہیں تھی۔
بلڈ پریشر بہت ہائی ہو گیا تھا۔
میں انکل کو دیکھ کر اندر ہی اندر جل رہا تھا۔
سمن نے روتے ہوئے کہا،
“کاشف بھائی… آپ آج یہیں رک جائیں۔”
میں رک گیا۔
رات تین بجے
میرا بستر انکل شہزاد کے کمرے میں لگا دیا گیا۔
تھکن سے میں فوراً سو گیا۔
مگر—
اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
ہوا کا تیز جھونکا،
جلنے کی بدبو،
اور پھر—
چر… چر…
جھولے کی آواز۔
میں اٹھنا چاہتا تھا،
مگر جسم پتھر بن چکا تھا۔
مدھم روشنی میں
کوئی سفید لباس میں اندر داخل ہوا۔
وہ آہستہ آہستہ
انکل شہزاد کے پاس گئی۔
ان کے قدموں میں بیٹھ کر
ان کے پیر سہلانے لگی۔
انکل نیند میں کراہنے لگے۔
اس نے بال ہٹائے—
اور میں نے جو چہرہ دیکھا
وہ انکل کی کہانیوں سے کہیں زیادہ بھیانک تھا۔
اچانک اس کی سرخ آنکھیں
مجھ سے جا ٹکرائیں۔
وہ مسکرائی…
پھر اس نے
اپنی کالی سیاہ زبان نکالی
اور انکل کے قدموں پر رکھ دی
میں نے زندگی میں کبھی ایسا ہولناک منظر نہیں دیکھا تھا۔ میرے حلق میں جیسے کسی نے گرم کوئلہ رکھ دیا ہو، آواز نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ مخلوق جس کی زبان انکل شہزاد کے پیروں کو چھو رہی تھی، اب دھیرے سے مڑی اور گھسٹتی ہوئی میری طرف بڑھنے لگی۔
کمرے میں جلنے کی بدبو اتنی شدید ہو گئی کہ میرا دم گھٹنے لگا۔ جب وہ میرے بستر کے بالکل قریب آئی، تو اس کے بکھرے ہوئے بالوں کے پیچھے سے وہی سرخ آنکھیں چمکیں۔ اس نے اپنا لمبا، سوکھا ہوا ہاتھ میری گردن کی طرف بڑھایا۔ میں نے آخری ہمت جمع کی اور پوری قوت سے چیخ مارنے کی کوشش کی، مگر میرے منہ سے صرف ایک گھٹی گھٹی سسکی نکلی۔
"رک جاؤ!"
ایک کڑک دار آواز گونجی۔
وہ مخلوق ٹھٹک گئی۔ میں نے دیکھا، دروازے پر زہرہ خالہ کھڑی تھیں۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے، آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ کمزور اور دبی دبی سی زہرہ خالہ اس وقت کسی آہنی دیوار کی طرح کھڑی تھیں۔
"میں نے کہا تھا نہ، جب تک میں زندہ ہوں، تم اس گھر کے کسی فرد کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی!" خالہ کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش اور طاقت تھی۔
وہ سفید لباس والی مخلوق ایک لمحے کے لیے غرائی، اس کا چہرہ غصے سے مزید بھیانک ہو گیا، مگر زہرہ خالہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح اس کی طرف لہرائی۔ ایک تیز روشنی کا جھماکا ہوا اور وہ مخلوق دھوئیں کی طرح اڑ کر کھڑکی سے باہر نکل گئی۔
کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ بدبو ختم ہو گئی اور انکل شہزاد کی کراہیں بھی تھم گئیں۔ زہرہ خالہ وہیں دیوار کے سہارے فرش پر ڈھیر ہو گئیں۔ میں ہانپتا ہوا بستر سے اٹھا اور ان کی طرف لپکا۔
"خالہ! یہ... یہ سب کیا تھا؟" میری آواز کانپ رہی تھی۔
زہرہ خالہ نے نحیف سی نظروں سے مجھے دیکھا اور ایک گہری آہ بھری۔ "کاشف بیٹا، یہ وہ قرض ہے جو شہزاد کی وجہ سے پورا خاندان چکا رہا ہے۔ وہ جس سائے کو لے کر آئے تھے، وہ ان سے نہیں، ان کی اس 'وجاہت' سے عشق کرتا ہے جس پر انہیں کبھی بڑا ناز تھا۔ میں نے برسوں اپنی عبادتوں اور صبر سے اسے روک کر رکھا ہے، مگر اب میری ہمت جواب دے رہی ہے۔"
اگلی صبح جب سورج نکلا، تو انکل شہزاد حسبِ معمول صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ زہرہ خالہ کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں، مگر ان کا چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ زرد تھا۔
میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور گھر سے باہر نکل گیا۔ مجھے اب سمجھ آ گیا تھا کہ انکل شہزاد کام چور نہیں تھے، وہ تو ایک قیدی تھے۔ ایک ایسے عشق کے قیدی جو جیتے جی ان کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔ اور زہرہ خالہ؟ وہ کوئی پجارن نہیں تھیں، وہ اس گھر کی محافظ تھیں جو ایک نادیدہ دشمن سے برسوں سے لڑ رہی تھیں۔
میں نے بجلی کا بل جیب میں ڈالا اور بائیک سٹارٹ کی۔ اب مجھے ان پر غصہ نہیں، ترس آ رہا تھا۔ وہ خوبصورت ہیرو، جس کی ایک جھلک کے لیے لڑکیاں ترستی تھیں، آج ایک چڑیل کے خوف سے اپنی ہی بیوی کے آنچل میں چھپا بیٹھا تھا، اور وہ "عام سی" عورت اس کی زندگی کی واحد ڈھال تھی۔
سچ تو یہ ہے کہ خوبصورتی کبھی کبھی ایک ایسی قید بن جاتی ہے جس کی چابی صرف بدصورتی کے پاس ہوتی ہے۔
سردی کی کالی رات — مامو کا پرانا گھر
