چار درویشوں کی کہانی
(بادشاہ اور درویشوں کی ملاقات)
قدیم زمانے کی بات ہے، شہرِ دہلی میں ایک عادل، دانا اور انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ رعایا اس سے خوش تھی اور دشمن اس کے نام سے لرزتے تھے۔ مگر بادشاہ کے دل میں ایک خلش تھی۔ وہ اکثر سوچتا:
“یہ دنیا آخر ہے کیا؟
کیا دولت، اقتدار اور شان و شوکت ہمیشہ باقی رہتی ہے؟”
ایک دن بادشاہ شکار کے ارادے سے چند خاص امیروں اور سپاہیوں کے ساتھ شہر سے باہر نکلا۔ شکار کھیلتے کھیلتے قافلہ بکھر گیا اور بادشاہ تنہا ایک سنسان راستے پر جا پہنچا۔ شام کا اندھیرا پھیلنے لگا، فضا میں عجیب سی خاموشی تھی۔
کچھ آگے چل کر اسے ایک پرانا باغ نظر آیا۔ باغ کے بیچوں بیچ ایک چبوترہ تھا، جس پر چار درویش خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے لباس بوسیدہ تھے، مگر چہروں پر نور، آنکھوں میں صبر اور پیشانیوں پر وقت کے زخم نمایاں تھے۔
بادشاہ نے گھوڑا روکا اور سلام کیا۔
چاروں درویشوں نے آہستہ سے جواب دیا۔
بادشاہ نے کہا:
“اے اللہ کے نیک بندو! تم کون ہو اور یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”
ایک درویش نے آگے بڑھ کر کہا:
“اے بادشاہ! ہم چاروں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی ایک داستانِ غم ہے۔ ہم نے دنیا کو آزما لیا، اب اس کے فریب سے دور بیٹھے ہیں۔”
بادشاہ نے ادب سے کہا:
“اگر تم مناسب سمجھو تو اپنی کہانیاں سناؤ۔ شاید مجھے دنیا کی حقیقت سمجھ میں آ جائے۔”
یہ سن کر چاروں درویش ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر سب سے پہلا درویش بولا:
“اے بادشاہ!
سب سے پہلے میں اپنی کہانی سناؤں گا۔ میری بپتا سن کر تم جان لو گے کہ عزت، دولت اور محبت بھی پل بھر میں چھن سکتی ہے۔”
(پہلے درویش کی داستانِ غم)
پہلا درویش آہستہ آہستہ بولنا شروع ہوا۔ اس کی آواز میں ایسا درد تھا کہ بادشاہ اور اس کے ساتھی بھی خاموش ہو گئے۔
“اے بادشاہِ وقت!
میرا تعلق ایک خوشحال شہر سے تھا۔ میرے والد وہاں کے مشہور تاجر تھے۔ اللہ نے ہمیں دولت، عزت اور سکون سب کچھ دیا تھا۔ میں اکلوتا بیٹا تھا، اس لیے ناز و نعم میں پلا۔”
وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا:
“جوان ہوا تو تجارت میرے سپرد ہوئی۔ اللہ کے فضل سے کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ کچھ ہی عرصے میں میری شادی ایک نہایت نیک، حسین اور وفادار عورت سے ہو گئی۔ میری زندگی کامل خوشی میں گزر رہی تھی۔”
بدقسمتی کا پہلا قدم
“ایک دن مجھے تجارت کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا پڑا۔ جاتے وقت میں نے اپنی بیوی کو اللہ کے سپرد کیا اور دل کو یہ اطمینان تھا کہ سب خیریت سے رہے گا۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ قسمت میرے لیے کیا لکھ چکی ہے۔”
“میری غیر موجودگی میں ایک بدباطن شخص، جو ہمارے گھر کا آنا جانا رکھتا تھا، میری بیوی پر بری نظر ڈالنے لگا۔ جب اس کی ناپاک خواہش پوری نہ ہوئی تو اس نے انتقام کی آگ میں جل کر شہر بھر میں جھوٹی باتیں پھیلانا شروع کر دیں۔”
عزت کا جنازہ
“جب میں واپس آیا تو شہر کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ جو کل تک عزت دیتے تھے، آج نظریں چرا رہے تھے۔ دوست اجنبی بن گئے، بازار میں سر جھکا کر چلنا پڑا۔”
“میں نے اپنی بیوی سے حقیقت پوچھی۔ وہ رو پڑی اور قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی ثابت کی۔ میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ پاک دامن ہے، مگر لوگ سچ ماننے کو تیار نہ تھے۔”
شہر چھوڑنے کا فیصلہ
“میں نے سوچا کہ جس شہر نے میری عزت نہ مانی، وہاں رہنا گناہ ہے۔ ایک رات ہم دونوں خاموشی سے شہر چھوڑ کر نکل پڑے۔”
“ابھی ہم زیادہ دور نہ گئے تھے کہ جنگل میں ڈاکوؤں نے ہمیں گھیر لیا۔ انہوں نے ہمارا سارا مال لوٹ لیا، مجھے بری طرح مارا پیٹا اور… میری بیوی کو زبردستی مجھ سے جدا کر دیا۔”
یہ کہتے ہوئے درویش کی آواز رندھ گئی۔
“میں بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ جب ہوش آیا تو نہ بیوی تھی، نہ دولت، نہ عزت۔ صرف تنہائی تھی اور درد۔”
درویشی کی ابتدا
“میں پاگلوں کی طرح جنگل میں اسے پکارتا رہا، مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔ تب میں نے دنیا کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے فقیری اختیار کی اور در بدر بھٹکنے لگا۔”
“اے بادشاہ!
آج میں جو کچھ ہوں، اسی دنیا کی بے وفائی کا نتیجہ ہوں۔”
پہلا درویش خاموش ہو گیا۔ باغ میں گہرا سناٹا چھا گیا۔ بادشاہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
(دوسرے درویش کی داستانِ عبرت)
جب پہلا درویش اپنی داستان سنا کر خاموش ہوا تو باغ میں گہری اداسی چھا گئی۔ بادشاہ کچھ دیر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“اے اللہ کے بندو! اب تم میں سے دوسرا درویش اپنی کہانی سنائے۔”
یہ سن کر دوسرا درویش آگے بڑھا۔ اس کا چہرہ وقار سے بھرا تھا، مگر آنکھوں میں زمانے کی ٹھوکروں کا اثر صاف جھلک رہا تھا۔
وہ بولا:
“اے بادشاہِ وقت!
میری کہانی اقتدار، حسد اور بے وفائی کی داستان ہے۔”
شاہزادگی کا زمانہ
“میرا وطن روم کا ایک عظیم شہر تھا۔ میرے والد اس ملک کے بادشاہ تھے۔ میں ان کا سب سے بڑا بیٹا اور ولی عہد تھا۔ بچپن سے مجھے شاہی آداب، علم، حکمت، تلوار بازی اور سیاست سکھائی گئی۔”
“دربار کے امرا اور رعایا مجھ سے محبت کرتے تھے۔ سب کہتے تھے کہ میں اپنے باپ کے بعد ایک عادل بادشاہ بنوں گا۔”
حسد کی چنگاری
“مگر میرے چچا زاد بھائی اس عزت سے جلنے لگے۔ ان کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ دن رات یہی سوچتے کہ کسی طرح مجھے تخت سے ہٹا دیا جائے۔”
“انہوں نے چند بدطینت درباریوں سے مل کر میرے خلاف سازش تیار کی۔ میرے والد کے کان بھرے گئے کہ میں بغاوت کا ارادہ رکھتا ہوں۔”
قید کا اندھیرا
“میرے باپ نے بغیر تحقیق کے حکم دیا کہ مجھے قید کر دیا جائے۔ ایک ہی رات میں ولی عہد سے قیدی بن گیا۔ شاہی محل کے روشن کمروں سے نکال کر مجھے قلعے کے اندھیرے تہہ خانے میں ڈال دیا گیا۔”
“چند دن بعد مجھے خاموشی سے قتل کرنے کا حکم ہوا۔ مگر اللہ نے رحم فرمایا۔ جلاد کے دل میں ترس آ گیا۔ اس نے مجھے قتل کرنے کے بجائے شہر سے باہر چھوڑ دیا اور کہا: ‘جان بچا کر بھاگو، دوبارہ اس ملک کا رخ نہ کرنا۔’”
جلاوطنی اور ذلت
“میں اجنبی لباس میں اجنبی سرزمینوں پر بھٹکتا رہا۔ کبھی مزدوری کی، کبھی بھیک مانگی۔ ایک شہر میں ایک تاجر نے مجھے نوکری دی، مگر وہاں بھی قسمت نے وفا نہ کی۔”
“اسی تاجر کی بیوی نے مجھ پر جھوٹا الزام لگا دیا۔ میں مارا پیٹا گیا اور شہر سے نکال دیا گیا۔”
قید و رسوائی
“آگے ایک اور شہر میں مجھے چور سمجھ کر پکڑ لیا گیا۔ کئی مہینے قید میں رہا۔ جب میری بے گناہی ثابت ہوئی تو رہائی ملی، مگر عزت اور جوانی سب لٹ چکی تھی۔”
دنیا سے کنارہ کشی
“تب میں نے جان لیا کہ تخت، تاج اور رشتے سب فانی ہیں۔ میں نے دنیا سے دل توڑ لیا، فقیری اختیار کی اور در بدر گھومتا ہوا یہاں آ پہنچا۔”
دوسرا درویش خاموش ہو گیا۔
بادشاہ نے آہ بھری اور کہا: “واقعی، اقتدار سب سے زیادہ بے وفا ہے۔”
(تیسرے درویش کی طلسمی داستان)
جب دوسرا درویش اپنی داستان سنا کر خاموش ہوا تو بادشاہ نے گہری سانس لی اور بولا:
“دنیا واقعی وفا نہیں کرتی۔ اب تیسرے درویش کو سننا چاہتا ہوں، شاید اس کی کہانی میں کوئی اور ہی رنگ ہو۔”
یہ سن کر تیسرا درویش آگے بڑھا۔ اس کے چہرے پر حیرت، آنکھوں میں خواب اور لہجے میں داستانوں جیسی گونج تھی۔
وہ بولا:
“اے بادشاہِ وقت!
میری کہانی عشق، طلسم اور تقدیر کے کھیل کی ہے۔”
شاہزادے کا آغاز
“میں ایک بڑے اور طاقتور بادشاہ کا بیٹا تھا۔ میرا بچپن ناز و نعمت میں گزرا، مگر دل میں ہمیشہ کسی انجانی تلاش کی آگ جلتی رہتی تھی۔”
“ایک دن شکار کے دوران میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا۔ گھوڑا دوڑتا ہوا ایک انجان جنگل میں جا پہنچا۔ وہاں ایک ایسی حسین تصویر نظر آئی جس جیسی خوب صورتی میں نے کبھی نہ دیکھی تھی۔”
پری زاد سے ملاقات
“وہ ایک پری زاد تھی۔ اس کی ایک جھلک نے میرا دل اسیر کر لیا۔ میں اس کے عشق میں ایسا گرفتار ہوا کہ ہوش و خرد کھو بیٹھا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی اور لمحے میں غائب ہو گئی۔”
“میں نے قسم کھا لی کہ جب تک اسے پا نہ لوں، چین سے نہ بیٹھوں گا۔”
تلاش کا کٹھن سفر
“میں نے تخت، تاج اور آرام چھوڑ دیا اور اس کی تلاش میں نکل پڑا۔ میں نے جنگل، پہاڑ، بیابان اور دریا چھان مارے۔ کئی برس اسی تلاش میں گزر گئے۔”
“آخرکار میں ایک طلسمی قلعے میں جا پہنچا۔ وہ قلعہ جادو اور حیرت سے بھرا ہوا تھا۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا، دروازے بند ہو گئے۔”
قید اور آزمائش
“میں برسوں اس قلعے میں قید رہا۔ نہ دن کا ہوش، نہ رات کا پتا۔ وہاں طرح طرح کے خوفناک مناظر تھے، مگر عشق نے مجھے ہمت دی۔”
“ایک دن ایک نیک سیرت بزرگ وہاں آ پہنچے۔ انہوں نے اللہ کا نام لیا تو طلسم ٹوٹ گیا۔ مجھے آزادی نصیب ہوئی۔”
واپسی اور زوال
“جب میں وطن لوٹا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ میرے والد دنیا سے جا چکے تھے، سلطنت بکھر چکی تھی اور میرا نام و نشان مٹ چکا تھا۔”
“میں نے جان لیا کہ عشق بھی امتحان ہے اور دنیا بھی۔ تب میں نے درویشی اختیار کر لی اور دنیا سے کنارہ کش ہو گیا۔”
تیسرا درویش خاموش ہو گیا۔ بادشاہ پر جیسے سحر طاری ہو گیا۔
(چوتھے درویش کی حیرت ناک داستان اور انجام)
جب تیسرا درویش اپنی داستان ختم کر چکا تو بادشاہ پر گہرا سکوت طاری تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے نگاہ اٹھائی اور کہا:
“اب چوتھے درویش کی بپتا سناؤ، تاکہ اس داستان کا انجام بھی سامنے آ جائے۔”
چوتھا درویش آگے بڑھا۔ اس کے چہرے پر سمندروں کی سختیاں اور غلامی کے دنوں کی تھکن صاف جھلکتی تھی۔ اس نے آہستہ مگر پُراثر آواز میں کہنا شروع کیا:
تجارت اور سمندر
“اے بادشاہِ وقت!
میرا تعلق چین کے ایک مالدار تاجر گھرانے سے تھا۔ تجارت ہمارا پیشہ تھا اور دولت کی کوئی کمی نہ تھی۔ میں نے جوانی میں سمندر پار تجارت کا ارادہ کیا اور ایک بڑے جہاز پر مال لاد کر روانہ ہوا۔”
“کچھ دن تک سفر خیر و عافیت سے گزرا، مگر اچانک سمندر میں خوفناک طوفان آ گیا۔ موجیں پہاڑوں کی طرح اٹھنے لگیں، جہاز چرچرانے لگا اور آخرکار ٹوٹ کر سمندر میں غرق ہو گیا۔”
آدم خور جزیرہ
“میں تختے کے سہارے بہتا ہوا ایک اجنبی جزیرے پر جا لگا۔ وہاں ایسے وحشی لوگ رہتے تھے جو انسانوں کو کھا جاتے تھے۔ انہوں نے مجھے قید کر لیا اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا۔”
“اللہ نے رحم کیا۔ ایک رات مجھے موقع ملا اور میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ کئی دن بھوکا پیاسا جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔”
غلامی کی زنجیریں
“آخر میں ایک اور ملک پہنچا، مگر وہاں بھی قسمت نے وفا نہ کی۔ مجھے پکڑ کر غلام بنا لیا گیا۔ برسوں غلامی کی زنجیروں میں جکڑا رہا، دن رات محنت کرتا اور مار کھاتا رہا۔”
“ایک دن میرا مالک کسی کام سے شہر گیا۔ میں نے موقع غنیمت جانا اور بھاگ نکلا۔ جان بچاتے بچاتے آخرکار اپنے وطن پہنچا۔”
دنیا سے بے رغبتی
“جب گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ سب مجھے مر چکا سمجھتے ہیں۔ مال بٹ چکا تھا، رشتے بکھر چکے تھے۔ میں اجنبی بن چکا تھا۔”
“تب میں نے جان لیا کہ یہ دنیا وفا کے لائق نہیں۔ میں نے سب کچھ چھوڑ کر فقیری اختیار کی اور در بدر گھومتا ہوا یہاں آن پہنچا۔”
چوتھا درویش خاموش ہو گیا۔
انجامِ داستان
چاروں درویشوں کی کہانیاں سن کر بادشاہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا:
“آج میں نے جان لیا کہ دولت، اقتدار، حسن اور طاقت — سب فانی ہیں۔ اصل دولت صبر، قناعت اور اللہ پر بھروسا ہے۔”
بادشاہ نے چاروں درویشوں کی خدمت کی، ان کے لیے کھانے اور قیام کا انتظام کیا اور عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔
چاروں درویش دعا دیتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے، اور بادشاہ دل میں ایک نیا شعور لے کر واپس لوٹا۔
چار درویشوں کی کہانی مکمل ہوئی
اخلاقی سبق
دنیا کی ہر نعمت عارضی ہے
لالچ، حسد اور بدگمانی تباہی لاتے ہیں
صبر، قناعت اور ایمان انسان کو سربلند کرتے ہیں
.اصل بادشاہی دل کی پاکیزگی ہے
➤ مزید پڑھیں: لکڑ ہارا اور کنویں کا جن
