السلام علیکم!
میں ہوں فرزانہ خان… اور آج میں آپ کے لیے ایک نہایت عجیب، پراسرار اور چونکا دینے والا واقعہ لے کر حاضر ہوئی ہوں۔
کہانی کا آغاز کرنے سے پہلے، میں آپ سب کے ساتھ ایک اہم بات شیئر کرنا چاہتی ہوں—ایک ایسا واقعہ جو حال ہی میں بھارت میں پیش آیا اور جس نے سننے والوں کو حیرت میں ڈال دیا۔
یہ واقعہ تین نابینا افراد سے متعلق ہے، جو ایک ہجوم والی جگہ پر لوگوں کے درمیان چلتے ہوئے بڑی مہارت سے خواتین کے بال کاٹ رہے تھے۔ وہ اپنے اندھے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاموشی سے عورتوں کے قریب آتے، اور جیسے ہی ان کے ہاتھ بالوں کو چھوتے، فوراً انہیں کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیتے۔
ابتدا میں کسی کو اس بات کا اندازہ نہ ہوا، مگر آہستہ آہستہ لوگوں نے اس عجیب حرکت کو محسوس کیا۔ شک ہونے پر جب انہیں پکڑا گیا اور ان کی تلاشی لی گئی تو سب دنگ رہ گئے۔ ان کے بیگ سے مختلف عورتوں اور بچیوں کے بال برآمد ہوئے۔
لوگ حیران تھے کہ نابینا ہونے کے باوجود وہ اتنی مہارت سے یہ سب کیسے کر رہے تھے—نہ صرف بال کاٹنا بلکہ انہیں چھپا کر اپنے ساتھ لے جانا، اور پھر بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ جانا۔
جب اس معاملے کی مزید تفتیش کی گئی تو ایک نہایت چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی۔ معلوم ہوا کہ وہ بال دراصل کالے جادو کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
یہ بات واقعی قابلِ غور ہے کہ خواتین کے بال کالے جادو میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اکثر ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، مگر بدقسمتی سے بہت سی خواتین اس حقیقت سے بے خبر ہوتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ آپ خود بھی محتاط رہیں اور اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔
یہ ایک چھوٹا سا مگر اہم پیغام تھا… اب آئیے، اصل کہانی کی طرف بڑھتے ہیں۔
…یہ ایک چھوٹا سا مگر نہایت اہم پیغام تھا۔
آج کے دور میں ضروری نہیں کہ جنّات خود ہمارے سامنے آ جائیں، مگر ان کے اثرات اور ان کے لیے کام کرنے والے—یعنی وہ انسان جو شیطانی راستے اختیار کر لیتے ہیں—ہمیں ہر جگہ مل سکتے ہیں۔ اسی لیے اپنے معصوم اور کم سن بچوں کا خاص خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔
خاص طور پر اس بات پر نظر رکھیں کہ آپ کی بیٹی جہاں بھی جاتی ہے—چاہے وہ اسکول ہو، ٹیوشن سینٹر ہو یا کوئی اور جگہ—کیا کوئی اسے آتے جاتے غور سے دیکھ تو نہیں رہا؟ یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے، چاہے ہم والدین ہوں یا بہن بھائی۔
یاد رکھیں… احتیاط ہمیشہ پچھتاوے سے بہتر ہوتی ہے۔
اب آئیے، آج کی پہلی کہانی کی طرف بڑھتے ہیں…
یہ واقعہ کراچی کے علاقے واٹر پمپ، عائشہ منزل کا ہے—ایک ایسا خوفناک واقعہ جو آج سے تقریباً پچیس سال پہلے پیش آیا تھا۔ یہ کہانی ایک رکشہ ڈرائیور کی ہے، جو ہمیں ہمارے ایک سامع ریاض حسین نے سنائی۔ مگر پہلے ہم منظور نامی رکشہ ڈرائیور کا واقعہ سنتے ہیں۔
منظور بھائی بیان کرتے ہیں:
"میرا تعلق رحیم یار خان سے ہے اور میں تقریباً تیس سال پہلے کراچی آیا تھا۔ ابتدا میں میں سبزی کا کاروبار کرتا تھا، مگر آہستہ آہستہ میں نے ایک رکشہ خرید لیا۔ اس میں آمدنی بہتر تھی، اور میری رہائش واٹر پمپ کے قریب ہی تھی۔
اسی لیے میں زیادہ تر واٹر پمپ، عائشہ منزل اور لیاقت آباد کے علاقوں میں سواریاں لیا کرتا تھا۔ اگر کبھی دور کی سواری مل جاتی تو صدر یا چوڑیا بازار تک چلا جاتا، مگر اس سے زیادہ دور نہیں جاتا تھا کیونکہ دن کے وقت مجھے سبزی کا کام بھی کرنا ہوتا تھا۔
یہ واقعہ تقریباً پچیس سال پرانا ہے۔ اُس وقت کراچی کے حالات کچھ خراب تھے، جس کی وجہ سے میں صبح کام پر نہ جا سکا اور سارا دن گھر پر ہی رہا۔ رات کو میں نے سوچا کہ شاید کچھ سواریاں مل جائیں، کیونکہ ٹرانسپورٹ کم ہونے کی وجہ سے لوگ کافی پریشان ہوتے تھے۔
آپ جانتے ہیں کہ اُس زمانے میں اسکیم 33 تقریباً ویران ہوا کرتی تھی، وہاں آبادی نہ ہونے کے برابر تھی، اور واٹر پمپ کا علاقہ بھی کچھ ایسا ہی سنسان تھا۔ اگرچہ چند لوگ وہاں رہتے ضرور تھے، مگر مجموعی طور پر ماحول خاصا خاموش تھا۔
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میں سہراب گوٹھ سے ایک سواری چھوڑ کر واٹر پمپ کی طرف آ رہا تھا۔ رات کا وقت تھا، تقریباً ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ سڑک سنسان تھی اور ہلکا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔
میں گھر جانے ہی والا تھا کہ اچانک ایک بوڑھی عورت بھاگتی ہوئی آئی اور میرے رکشے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ ہاتھ جوڑ کر رکشہ روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ منظر واقعی عجیب تھا—سردیوں کی خاموش رات، ویران سڑک، اور ایک بزرگ عورت اس طرح بے بسی سے کھڑی ہو… کسی کو بھی خوف محسوس ہو سکتا تھا۔
میں نے رکشہ روکا اور کہا، "اماں جی، خیریت تو ہے؟"
انہوں نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا، "بیٹا، کیا تم مجھے عائشہ منزل تک لے جا سکتے ہو؟ زیادہ دور نہیں ہے… میرے بچے بیمار ہیں، میں بہت پریشان ہوں۔ خدا کے لیے مجھے جلدی وہاں پہنچا دو۔"
میں نے فوراً کہا، "جی ضرور، آپ بیٹھ جائیں۔"
وہ جلدی سے رکشے میں بیٹھ گئیں… اور یوں اس رات کا وہ سفر شروع ہوا، جس نے میری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی…
…وہ جلدی سے رکشے میں بیٹھ گئیں، اور میں نے اسے ایک نیکی کا کام سمجھتے ہوئے کرایہ لینے کا خیال بھی دل سے نکال دیا۔ میں نے رکشہ تیز رفتاری سے عائشہ منزل کی طرف دوڑا دیا۔
راستے بھر ایک بات مسلسل میرے ذہن میں کھٹکتی رہی—اماں جی رکشے کے پچھلے حصے میں بیٹھی مسلسل رو رہی تھیں۔ میں بار بار انہیں تسلی دیتا، "اماں جی، سب ٹھیک ہو جائے گا… آپ پریشان نہ ہوں… آپ تو بزرگ ہیں، دعا کریں۔"
مگر وہ تھیں کہ رکے بغیر روتی ہی جا رہی تھیں۔
پھر اچانک انہوں نے کسی اور زبان میں کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ وہ دعا تھی یا کوئی اور کلام… مگر وہ زبان بالکل اجنبی تھی۔ کچھ کچھ روسی زبان سے ملتی جلتی محسوس ہوتی تھی، اور وہ مسلسل اسی میں کچھ پڑھتی جا رہی تھیں، جیسے کسی وظیفے میں مشغول ہوں۔
میں خاموشی سے رکشہ چلاتا رہا، مگر دل کے اندر ایک انجانا خوف جنم لینے لگا تھا۔
اماں جی مجھے عائشہ منزل کی تنگ اور سنسان گلیوں میں لے جاتی رہیں—"ادھر موڑو… اب اس گلی میں جاؤ…" اور میں ان کے کہنے پر چلتا گیا۔
آخرکار وہ مجھے ایک ایسی گلی میں لے آئیں جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔ وہاں کوئی آبادی نہیں تھی، نہ کوئی گھر آباد تھا۔ بس ایک سیدھی سنسان گلی، جس کے دونوں اطراف بادام کے درخت تھے، اور ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی تھی۔
سردی بھی اپنے عروج پر تھی۔ میں نے گلے میں مفلر لپیٹا ہوا تھا، مگر پھر بھی ٹھنڈ ہڈیوں تک اتر رہی تھی۔
میں نے کہا، "اماں جی، بہت سردی ہے… اگر آپ کو ضرورت ہو تو میرا مفلر لے لیں۔"
مگر اس بار بھی کوئی جواب نہ آیا۔
میں نے سمجھا شاید وہ پریشانی میں ہیں، اس لیے خاموش ہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا، "اب کہاں رکوں؟"
لیکن پھر بھی خاموشی…
اچانک انہوں نے ایک ایسا عمل کیا جس نے میرے ہوش اُڑا دیے۔
انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا—مگر وہ ہاتھ غیر معمولی حد تک لمبا تھا… اتنا لمبا کہ ایک عام انسان کا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اسی لمبے ہاتھ سے انہوں نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا، "اس جگہ روک دو…"
میں نے گھبرا کر رکشہ روکا اور جب مڑ کر ان کی طرف دیکھا… تو میرا خون خشک ہو گیا۔
ان کا چہرہ بالکل مردہ انسان جیسا تھا—زرد، بے جان، جیسے جسم میں خون ہی نہ ہو۔ آنکھیں اوپر کو چڑھی ہوئی تھیں… اور وہ اب بھی آہستہ آہستہ رو رہی تھیں۔
میں بری طرح خوفزدہ ہو گیا۔ دل ہی دل میں مجھے یقین ہونے لگا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں ہے۔
میں نے گھبراہٹ میں کہا، "اماں جی، آپ اتر جائیں… مجھے بھی جلدی ہے…"
میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے اردگرد کوئی ناپاک، خوفناک مخلوق موجود ہو… اور وہ مخلوق صرف یہی عورت ہو سکتی تھی۔
پھر ایک اور عجیب بات میری نظر میں آئی—جب وہ رکشے میں بیٹھی تھیں تو ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا، مگر جیسے ہی وہ نیچے اتریں… ان کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی۔
وہ چل بھی نہیں رہی تھیں… بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے زمین سے ذرا اوپر فضا میں معلق ہو کر آگے بڑھ رہی ہوں۔ ان کے قدم نظر نہیں آ رہے تھے، شاید اس لیے کہ انہوں نے ساڑی پہن رکھی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ اس پرانی، خستہ حال جھونپڑی نما جگہ کی طرف بڑھیں، جہاں چٹائیاں لٹکی ہوئی تھیں… اور پھر اندھیرے میں غائب ہو گئیں۔
اب مجھے پورا یقین ہو چکا تھا—وہ انسان نہیں تھی۔
میرا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ جیسے سینہ چیر کر باہر آ جائے گا۔ میں نے فوراً رکشہ موڑا اور پوری رفتار سے وہاں سے نکلنے لگا۔
جیسے ہی میں نے رکشہ موڑا، مجھے پیچھے کچھ گرنے کی آواز آئی۔
میں نے مڑ کر دیکھا… تو وہاں ایک ہڈی پڑی تھی۔
میں مزید خوفزدہ ہو گیا۔ دل میں خیال آیا کہ کہیں یہ کسی جادو یا آسیب کی نشانی نہ ہو۔ میں نے اسے ہاتھ لگانے کی ہمت نہ کی۔
میں تیزی سے رکشہ بھگاتا ہوا مین روڈ تک پہنچا۔ وہاں ایک پان کی دکان کے قریب رک کر میں نے ایک تھیلی کی مدد سے اس ہڈی کو اٹھایا اور فوراً دور پھینک دیا۔
خوف اور گھبراہٹ کی حالت یہ تھی کہ سردیوں کی اس رات میں بھی میرے جسم پر ٹھنڈے پسینے بہہ رہے تھے…
اور پھر میں سیدھا اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا…
…میں تیزی سے رکشہ چلاتا ہوا اپنے گھر کے قریب پہنچا، جہاں میں عموماً رکشہ کھڑا کیا کرتا تھا۔ مگر وہاں پہنچ کر جو منظر میں نے دیکھا، اس نے میرے ہوش اُڑا دیے۔
وہی سفید ہڈی… جو میں راستے میں پھینک آیا تھا… وہ پہلے سے ہی وہاں پڑی ہوئی تھی۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی انسان کے ہاتھ کی ہڈی ہو۔
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے فوراً رکشہ دوسری جگہ کھڑا کیا اور بغیر اس ہڈی کی طرف دوبارہ دیکھے وہاں سے بھاگ نکلا۔ اس رات میں نے گھر والوں سے کوئی بات نہیں کی اور سیدھا جا کر سو گیا۔
گھر والوں نے یہی سمجھا کہ شاید میری طبیعت ٹھیک نہیں، مگر حقیقت یہ تھی کہ میں خوف سے کانپ رہا تھا۔
آج اس واقعے کو پچیس سال گزر چکے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے کوئی نقصان نہیں ہوا… مگر ایک سوال آج بھی میرے ذہن میں گونجتا ہے—
وہ ہڈی میرے گھر تک کیسے پہنچی؟
اور وہ عورت… آخر تھی کون؟
یہ تھی منظور بھائی کی کہانی…
اب آئیے، اسی علاقے سے جڑا ایک اور واقعہ سنتے ہیں، جو ہمارے سامع ریاض حسین اور ان کے بھائی علی رحمان خان نے شیئر کیا۔
وہ بیان کرتے ہیں:
"یہ کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ ہماری خالہ جان عائشہ منزل کے علاقے میں ایک فلیٹ میں شفٹ ہوئی تھیں۔ ابھی انہیں وہاں آئے دو تین دن ہی گزرے تھے کہ ہماری والدہ نے کہا کہ ہمیں ان سے ملنے جانا چاہیے۔
چنانچہ ہم سب گھر والے خالہ کے گھر گئے۔ رات کا وقت تھا، تقریباً ایک بج رہا تھا، اور ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
اسی دوران میرے والد صاحب کی نظر گھر کے باہر ایک درخت کے نیچے کھڑی ایک عورت پر پڑی۔ وہ غالباً اپنی گود میں ایک بچہ لیے خاموش کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں ہلکی ہلکی چمک رہی تھیں۔
والد صاحب نے وقت دیکھا—رات کے ایک بجے—اور پھر خالہ سے پوچھا، "یہ عورت کون ہے؟"
خالہ نے حیرانی سے جواب دیا، "میں نہیں جانتی… آپ جا کر دیکھ لیں۔ ابھی تو میں خود یہاں نئی نئی آئی ہوں۔"
جب میرے والد صاحب باہر گئے تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔
وہ عورت، جو گود میں بچہ لیے کھڑی تھی، اچانک بھاگی… اور بھاگتے بھاگتے ان کی آنکھوں کے سامنے ہی غائب ہو گئی۔
یوں جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
تب ہمیں یقین ہو گیا کہ وہ کوئی عام انسان نہیں تھی… بلکہ کوئی جنّی مخلوق تھی۔
اللہ کا شکر ہے کہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، مگر اس واقعے نے سب کو خوفزدہ کر دیا۔ بعد میں ایک عامل کو بلایا گیا، جس نے اس جگہ پر دم درود کیا، اور اس کے بعد وہاں کبھی وہ عورت نظر نہیں آئی۔
اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کون تھی…
یہ تھا ریاض حسین کا بیان۔
اب ایک اور واقعہ سنتے ہیں، جو ہماری سامعہ تسبیحہ ایمان نے شیئر کیا۔
وہ کہتی ہیں:
"یہ واقعہ آج سے تقریباً نو سال پہلے حیدرآباد کے حالی روڈ پر پیش آیا۔ ہم ایک کرائے کے مکان میں رہتے تھے، جو تین منزلہ عمارت تھی۔
ایک دن میں، میری بہن اور کزن چھت پر کھیل رہے تھے—چھپن چھپائی کا کھیل۔
ہم تینوں چھپ رہے تھے کہ اچانک میری ٹکر کسی چیز سے ہوئی۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک سیاہ سایہ تھا… بالکل سیاہ، جیسے کوئی دس یا گیارہ سال کا لڑکا ہو۔
ہم تینوں نے ایک ساتھ اسے دیکھا… اور خوف کے مارے چیختے ہوئے نیچے بھاگ آئے۔
ہم نے اپنی والدہ کو بتایا، وہ فوراً اوپر گئیں… مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
وہ سایہ کہیں غائب ہو چکا تھا۔
یہ ایک نہایت عجیب اور خوفناک تجربہ تھا… جو آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے۔"
اور اب آخری واقعہ، جو ہماری ایک اور سامعہ ہادیہ نے شیئر کیا۔
وہ کہتی ہیں:
"یہ واقعہ میرے منگیتر کے ساتھ پیش آیا، جو ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ اس کمپنی کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا ایک واش روم آسیب زدہ ہے۔
مگر میرے منگیتر ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ وہ بے خوف ہو کر رات دیر تک کام کرتے تھے۔
اس جگہ کا اصول یہ تھا کہ کوئی بھی اکیلا اس واش روم میں نہیں جاتا تھا—ایک شخص باہر کھڑا رہتا اور دوسرا اندر جاتا۔
ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وہاں گئے۔ پہلے ان کا دوست اندر گیا، پھر واپس آ گیا…
اور اب باری میرے منگیتر کی تھی…
انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا، "تم لوگ یہیں کھڑے رہو… میں ابھی آتا ہوں…"
اور پھر وہ اکیلے اس اندھیرے واش روم کی طرف بڑھ گئے…
…اور پھر وہ اکیلے اس اندھیرے واش روم کی طرف بڑھ گئے۔
ان کے دوست باہر ہی کھڑے رہے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں اور خوف کم محسوس ہو۔
جیسے ہی وہ واش روم کے اندر داخل ہوئے، اچانک لائٹ جھلملانے لگی… اور چند لمحوں بعد مکمل طور پر بند ہو گئی۔
پہلے تو انہیں یہی لگا کہ شاید ان کے دوست مذاق کر رہے ہیں، کیونکہ اس طرح کی شرارتیں لڑکوں میں عام ہوتی ہیں۔ مگر اسی دوران انہیں ایک عجیب سا احساس ہوا…
ایسا لگا جیسے وہ اس واش روم میں اکیلے نہیں ہیں… جیسے کوئی ان کے بالکل قریب کھڑا انہیں دیکھ رہا ہو۔
یہ احساس اتنا شدید تھا کہ وہ بری طرح خوفزدہ ہو گئے۔ جلدی سے اپنا کام ختم کیا اور باہر نکل آئے۔
مگر جب باہر آئے تو وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا۔
وہ فوراً اپنے دوستوں کے پاس گئے اور غصے میں کہا، "تم لوگوں نے یہ کیا کیوں؟ لائٹ کیوں بند کی؟"
دوستوں نے حیران ہو کر جواب دیا، "ہم نے کچھ نہیں کیا… ہم تو وہاں سے جا چکے تھے…"
یہ سن کر وہ سناٹے میں آ گئے۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ یہ صرف وہم نہیں تھا… بلکہ واقعی اس جگہ کچھ غیر معمولی موجود ہے۔
لوگوں میں مشہور تھا کہ وہ واش روم آسیب زدہ ہے… اور اب یہ بات سچ محسوس ہونے لگی۔
ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ ایسے مقامات پر خبیث جنّات کا بسیرا ہوتا ہے، اسی لیے ہمیں ہدایت دی گئی ہے کہ واش روم میں داخل ہونے سے پہلے دعا ضرور پڑھیں، تاکہ ہمارے اور ان کے درمیان ایک پردہ قائم ہو جائے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں احتیاط کرنی چاہیے اور اپنی حفاظت کے لیے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اور صرف یہی نہیں…
بعض اوقات انسان کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اردگرد موجود لوگ—جو بظاہر اس کے اپنے ہوتے ہیں—وہی اس کے خلاف حسد یا جادو جیسے کاموں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک اور واقعہ سنیں…
ایک خاتون کو اس کی قریبی سہیلی نے شادی کے موقع پر تحفے میں ایک سینڈل دیا۔ ابتدا میں سب کچھ ٹھیک تھا، مگر کچھ ہی دنوں بعد اس خاتون کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی۔ اس کے حالات بگڑنے لگے، حالانکہ پہلے وہ بالکل صحت مند تھی۔
جب اس کا علاج شروع کروایا گیا تو شک پیدا ہوا کہ شاید اس پر جادو کیا گیا ہے۔
آخرکار جب اس سینڈل کو غور سے دیکھا گیا اور اس کی تہہ (سول) کو کھولا گیا… تو اندر سے کاغذ میں لپٹی ہوئی کچھ چیزیں برآمد ہوئیں—تعویذ اور منتر—جو واضح طور پر کالے جادو کے آثار تھے۔
یہ جان کر سب حیران رہ گئے کہ یہ سب اسی کی قریبی دوست نے حسد کی وجہ سے کیا تھا۔
اب آپ خود سوچیں… جب ایک قریبی دوست بھی ایسا کر سکتی ہے، تو انسان کس پر اندھا اعتماد کرے؟
اسی لیے ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ اپنی خوشیوں اور کامیابیوں کو ہر ایک کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ نظر لگتے دیر نہیں لگتی۔
احتیاط کریں… ہوشیار رہیں… اور اپنے آپ کو دعاؤں میں محفوظ رکھیں۔
اللہ آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔
اپنا بہت خیال رکھیں… خوش رہیں… آباد رہیں…
اور مجھے اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔
اگر زندگی رہی تو ان شاء اللہ پھر ملاقات ہوگی…
اللہ حافظ۔

