السلام علیکم دوستو،
میں ہوں فرزانہ خان، اور آج کی کہانی ہمیں رحمٰنہ جعفر نے بھیجی ہے۔
تو آئیے، اس سچی اور دل دہلا دینے والی کہانی کو شروع کرتے ہیں۔
نیلی آنکھیں، لمبا قد، گورا رنگ، بھورے بال، بے حد دلکش ناک و نقش و نگار، اور جاذبِ نظر شخصیت تھی میرے بھائی محمد علی کی۔ جو بھی اسے دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا تھا۔ میرا نام رحمٰنہ جعفر ہے اور میں کراچی سے آپ کو اپنے بھائی کی سچی کہانی سنا رہی ہوں۔
میرے ابو کراچی میں ایک گورنمنٹ افسر تھے۔ ہم اپر مڈل کلاس فیملی سے تھے۔ امی گھر سنبھالتی تھیں۔ ہم دو بہن بھائی تھے، اور میں اپنے بھائی سے سات سال چھوٹی تھی۔ ہمارے ساتھ دادا اور دادی بھی رہتے تھے۔
یہ واقعہ دراصل 2010 سے شروع ہوا، جب میرا بھائی 27 سال کا تھا۔ مگر اس سے پہلے بھائی کے بچپن کے بارے میں تھوڑا سا بتا دوں۔ جس دن میرا بھائی پیدا ہوا، امی بتاتی ہیں کہ وہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ جیسے ہی امی گھر آئیں تو سب مبارکباد دے رہے تھے۔ بھائی کے کان میں دادا ابو نے اذان دی۔ ساتویں دن بھائی کا عقیقہ کیا گیا اور ان کا پورا نام محمد علی مصطفیٰ رکھا گیا۔
عقیقے کی دعوت گھر میں رکھی گئی۔ سب رشتہ دار آئے ہوئے تھے۔ اُس شام کچھ خواجہ سرا ہمارے گھر آئے۔ میرا بھائی شادی کے دس سال بعد پیدا ہوا تھا، بہت سی دعاؤں کے بعد ملا تھا۔ میری دادی نے بے حد خوشی منائی۔ دادی کی سات بہنیں تھیں، دادا کے نو بھائی تھے۔ پھر امی ابو کے سب کزنز بھی تھے، ماشاءاللہ ہمارا خاندان بہت وسیع تھا۔
گھر میں دعوت جاری تھی۔ کھانے کے بعد تین خواجہ سرا وہاں سے فارغ ہو کر آئے۔ دادا ابو کو مبارکباد دینے لگے۔ دادا ابو نے انہیں نہ صرف پیسے دیے بلکہ کھلا کر ساتھ باندھ کر بھی دیا۔ مگر پیسے لینے کے بعد جب ان خواجہ سراؤں نے بھائی کو دیکھا تو سب بولے:
“واہ، اللہ کی حسین کاریگری!”
ان چار میں سے ایک خواجہ سراء کے چہرے کے تاثرات بھائی کو دیکھ کر یکدم بدل گئے، اور وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کچھ جملے کہنے لگا:
“اللہ اس بچے کی قسمت اس کے چہرے جیسی حسین کرے، اور تیرے کاموں کی حکمت تو ہی جانتا ہے۔”
اس کے بعد وہ امی سے کہنے لگا:
“تونے اللہ سے اولاد لی ہے، اب اس کی قسمت بھی مانگتی جا اور اس کا صدقہ بھی دیتی جا۔”
یہ کہتے ہوئے نہ جانے کیوں وہ رو پڑا۔ اس خواجہ سراء کی اُس وقت عمر تقریباً ستر سال تھی۔ سب کچھ ٹھیک تھا، مگر گھر والوں کو اس کے رونے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
پھر جب سب مہمان چلے گئے تو اسی رات بھائی علی اتنا رویا کہ امی کہتی ہیں رات میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی چین نہ آیا، اور امی بھی رو پڑیں۔ جب دادا دادی فجر کی نماز کے لیے اٹھے اور انہوں نے دم کیا تو بھائی سو گئے۔ صبح ان کے چہرے پر دانے نکل آئے۔ سب فکر مند ہو گئے۔ دادا ابو کے بھائی نے کہا کہ اس کو نظر لگی ہے۔ پھر بھائی پر دم کیا گیا، روز ان کا حصار کرنے لگے۔
کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ خواجہ سراء آیا تھا، اس کی نگاہ لگ گئی ہے۔ اس کے بعد جیسے جیسے بھائی علی بڑے ہوئے، ان کے ساتھ غیر معمولی واقعات ہوتے چلے گئے۔ بھائی کو اسکول داخل کروایا گیا۔ ان کے جسم پر بہت چوٹیں آتی رہیں۔ انہیں کوئی مارتا نہیں تھا، نہ وہ گرتے تھے۔ اگر کوئی بازو پکڑ لیتا تو وہاں نیلا پن پڑ جاتا تھا۔ جو کوئی بھی دیکھتا، حیران رہ جاتا۔
گھر آ کر شدید بخار ہو جاتا تھا، کبھی سر درد ہوتا۔ ہم بہانے بناتے رہے، مگر یہ سب تب ہی ہوتا جب بھی ہم ان کی شکل کی تعریف کسی سے سن لیتے۔ یوں وقت گزرا اور بھائی علی میٹرک میں آ گئے۔ یہ وہ دور تھا جب جوانی عروج پر ہوتی ہے، اور اگر حسن ہو تو دنیا دیکھتی رہ جاتی ہے۔
بھائی علی کو ان کی ایک اردو کی ٹیچر پسند ہونے لگی۔ وہ عمر میں ان سے دگنی تھیں۔ ان کا نام ہلا تھا۔ وہ ٹیچر عجیب مزاج کی تھیں۔ پہلے انہوں نے انہیں مجبور کیا کہ:
“میں تمہیں پاس کروا دوں گی، تم میرے گھر آتے رہو۔”
جب ان کے گھر پڑھانے بھیجنا شروع کیا تو بھائی علی کا مزاج بدلنے لگا۔ سب بچے چلے جاتے اور ہلا ٹیچر انہیں گھر روک کر کچھ پڑھا کر پھونک مارا کرتیں۔ میں اُس وقت بہت چھوٹی تھی، میں بھی ان کے گھر جاتی تھی۔ میری یادداشت میں کچھ باتیں ابھی تک تازہ ہیں۔
ان کے گھر میں صرف ماں تھیں۔ ان کی پانچ بڑی بہنیں تھیں اور سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ ان کے گھر میں دو کالی بلیاں بھی تھیں۔ کبھی وہ بھائی کو پاؤں میں اسٹیل کا کڑا پہنوا دیتی، کبھی کہتیں کہ سارے گھر کے کونوں میں اپنے ہاتھوں سے مغرب سے ٹھیک پہلے اگربتیاں جلا دو۔
بھائی علی نے پہلی بار گھر میں اونچی آواز میں ابو سے بات کی، اور بات کرکے خود ہی بے ہوش ہو کر نیچے گر گئے۔ گھر والوں کو سمجھ نہ آیا۔ امی کو شبہ ہوا کہ جب سے یہ ہلا ٹیچر کے گھر جانا شروع ہوا ہے تب سے بدمزاج ہو رہا ہے۔
امی نے مجھے کہا کہ جب سب بچے چلے جائیں تو تم مجھے سب کچھ بتانا جو بھائی کرتا ہے اور جو ٹیچر کرتی ہیں۔ وہ منگل کا دن تھا۔ اُس دن بہت بارش ہوئی تھی۔ ہم سب بچوں کو چھٹی ہوئی تو ہلا ٹیچر کا گھر خالی تھا۔ میں ان کے گھر کی چھت کو جانے والی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ گئی۔ بھائی میرے بالکل سامنے صوفے پر بیٹھے تھے، اور ہلا ٹیچر نے ہاتھ کے اشارے سے بھائی کو بلایا۔
ان کا گھر لمبائی میں بنا ہوا تھا۔ سب سے پیچھے ایک اسٹور تھا جہاں فضول اشیاء اور صندوق پڑے تھے۔ وہاں میں بھی چھپ کر چلی گئی۔ بھائی علی اسٹور میں تھے، اور ہلا ٹیچر ان کے اردگرد چاک سے کوئی گول دائرہ بنا رہی تھیں…
---
ان کے پاس ایک لوٹا پڑا تھا۔ اس میں سے کچھ نکال کر وہ پڑھ رہی تھیں۔ باہر تیز بارش شروع ہو گئی۔ ٹیچر کی امی فوراً اسٹور میں آئیں، بیٹی کے ہاتھ سے پرچی پکڑی اور مٹھی سے آگ لگا دی۔ انہوں نے بھائی علی سے کہا:
“آج کے بعد ہمارے گھر مت آنا۔”
اسی وقت زور دار بجلی کڑکی اور ایک دم پورے گھر کی بجلی چلی گئی۔ ٹیچر زور زور سے رونے لگی۔ ان کی امی بولیں:
“وہ بچہ ہے، یہ غلط ہے، وہ معصوم ہے۔ جادو نے کبھی کسی کو آباد نہیں کیا۔”
ٹیچر کی ماں کا یہ جملہ میرے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ گیا۔ اس کے بعد میں نے کچھ نہیں سنا۔ بھائی علی اور میں اس رات بارش میں بھیگتے ہوئے دوڑتے ہوئے اندھیری گلیوں میں گھر پہنچے۔ پوری رات امی نے بھائی کا پٹہ باندھا رکھا۔ دادا ابو چھتری لے کر کسی حکیم کو لے گئے۔ ان پر دم بھی ہوا۔ امی نے کسی کو یہ بات بتائی یا نہیں، یہ معلوم نہیں۔
پوری رات تیز بارش ہوتی رہی۔ بھائی علی بخار میں جلتے رہے، اور میں انہیں دیکھ کر اور جو کچھ ٹیچر کے گھر ہوا تھا وہ یاد کر کے رو رہی تھی۔ میں وہ خوفناک بارش والی رات کبھی نہیں بھول سکی۔
صبح ہوئی تو محلے میں خبر پھیلی کہ ٹیچر ہلا کی موت ہو گئی ہے۔ میری امی ان کے گھر گئی تھیں۔ واپس آ کر دادی کو بتا رہی تھیں کہ جوان بیٹی مر گئی ہے، اور اس کی ماں کی آنکھ میں ایک آنسو تک نہیں تھا۔ اس ٹیچر کے ساتھ اس کی دو کالی بلیاں بھی مر گئی تھیں۔ کسی کو اچانک موت کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ اُس وقت سب نے سمجھا کہ ہلا ٹیچر کی قدرتی موت ہوئی۔ گھر میں کیا ہوا، ماں بیٹی کا معاملہ کیا تھا، یہ کبھی معلوم نہ ہو سکا۔
سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ان کی دو بہنیں ایک ہی گھر میں تھیں اور دونوں کٹر تھیں۔ ایک بہن سیالکوٹ شادی کر کے گئی تھی، باقی دو بہنیں امریکہ میں تھیں۔ جنازے پر ایک بہن بھی موجود نہیں تھی۔ یوں ہلا ٹیچر کا قصہ ختم ہوا۔
پھر کالج میں بھائی علی کا داخلہ ہوا۔ خاندانی رشتہ داروں کی طرف سے ان کے لیے رشتے آنا شروع ہو گئے۔ مامی، خالہ، تایا، ابّو—سب کی طرف سے اتنی کم عمر میں ان کے لیے نکاح کے پیغام آنے لگے۔ ابّو نے کہا:
“ابھی تو یہ بہت چھوٹا ہے، اسے اس کے پاؤں پر کھڑا ہونے دو۔ جس کی قسمت میں ہے، وہ ہو جائے گا۔”
وہ سترہ سال کے ہو چکے تھے۔
ایک بار ہمارے گاؤں میں کسی بزرگ کا انتقال ہو گیا، جو غالباً ابّو کے رشتے میں چچا لگتے تھے۔ وہاں ابّو، امی اور بھائی علی گئے تھے۔ گاؤں کے قریب ایک پرانا اور مشہور قبرستان تھا جسے لوگ چوکھنڈی کہتے تھے۔ وہاں پتھر کی بنی ہوئی اونچی قبریں تھیں۔ شاید بھائی علی کا پاؤں ان قبروں پر لگ گیا تھا، یا جو جگہ ہم کھڑے تھے دفنانے کے دوران وہاں ایک بہت بڑا درخت تھا۔ وہاں سے کچھ چیز ان کے ساتھ واپس آ گئی۔
کیونکہ دفنانے کے بعد جب سب گھر آئے تو بھائی علی نے اپنے منہ پر تھپڑ مارنا شروع کر دیا۔ میت والوں کے گھر میں وہ دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھ ایسے جھکے ہوئے چل رہے تھے جیسے کوئی حیوان چلتا ہو۔ گھر میں انہوں نے برتن میں میٹھے چاول رکھے تھے۔ بھائی علی نے سب کے سامنے محض تین سے چار منٹ میں وہ ساری زردی بھری پرات کھا کر خالی کر دی، اور وہ عجیب نفسیاتی حالت میں نظر آ رہے تھے۔
جنہوں نے بزرگ چچا کا جنازہ پڑھایا تھا، انہوں نے فوراً بھائی علی کو کمرے میں لے جا کر ان پر دم کیا، انہیں غسل دیا، وضو کروایا اور ابّو سے کہا کہ اس لڑکے کو شام ہونے سے پہلے کراچی واپس لے جائیں۔
“قبرستان سے اس کے ساتھ کوئی غیبی مخلوق لگ گئی ہے۔ اس کی شکل پر عاشق ہو گئی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہوا ہے تو ہم نے اسے فوراً واپس بھیج دیا ہے۔ اگر یہ لڑکا رات سے پہلے گاؤں سے نہ نکلا تو کام خراب ہو جائے گا، پھر ہم آپ کی مدد نہیں کر پائیں گے۔”
ابّو اور امی نے یہ سنا تو وہ اسے شام سے پہلے ہی گھر لے آئے۔ پہنچتے ہی بھائی کو ایک بہت شدید الٹی ہوئی۔ اس کے بعد وہ بہت دیر تک گہری نیند میں سو گیا۔ اگلی صبح وہ بارہ بجے اٹھے۔ دادا اور دادی کو سب بتا دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ گاؤں میں فوراً کھل گیا۔
اس کے بعد بھائی علی کی عمر اٹھارہ سال ہو گئی۔ ان کی منگنی خالہ کی بیٹی سے کر دی گئی۔ خالہ کی بیٹی سولہ سال کی تھی۔ میری بھابھی کا نام نگینہ تھا۔ منگنی کے دوران دو ایسے واقعات ہوئے جن کی آج تک ہمیں کوئی وضاحت نہیں مل سکی۔
---
بھائی علی کالج جانے لگے اور شام کو کسی کے گھر تین بچوں کو پڑھانے جاتے تھے۔ جس گھر وہ جاتے تھے وہاں ایک آنٹی، انکل اور اُن کے تین بچے رہتے تھے۔ گھر کافی پرانا اور بڑا تھا، اور اس کا نصف حصہ ایک بڑے درخت کی شاخوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
ایک دن بھائی بتاتے ہیں کہ کوئی دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ سردی کی شام تھی۔ وہ بیس منٹ سے دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے مگر کسی نے نہ کھولا۔ آخرکار جب وہ آدھے گھنٹے بعد بائیک پر واپس جانے لگے تو اچانک دروازے کا کنڈا کھلنے کی آواز آئی۔ اس وقت بھائی کے پاس موبائل فون نہیں تھا۔ ہمارے گھر میں لینڈ لائن فون تھا اور جہاں وہ پڑھاتے تھے وہاں بھی لینڈ لائن تھا، رابطہ یہی سے ہوتا تھا۔ بھائی نے شکر ادا کیا اور گھر میں داخل ہو گئے۔
وہ عام طور پر نگاہ نیچے رکھ کر سیدھا پچھلے کمرے میں جا پہنچتے تھے جو بچوں کا کمرہ تھا۔ اس بار راستے میں کچن آتا تھا جہاں آنٹی شام کو کھانا بنا رہی ہوتیں اور عموماً پریشر ککر کی آواز آتی تھی، مگر اس شام وہاں کوئی آواز نہ تھی۔ انکل اس وقت گھر پر نہیں تھے۔ دروازہ کھولا تو کوئی بچہ نظر نہ آیا۔ بھائی نے پورا گھر دیکھا تو پتا چلا کہ گھر خالی ہے۔ انہوں نے آواز دی مگر کوئی جواب نہ آیا۔
پیچھے برآمدہ، پھر بچوں کا کمرہ، انکل آنٹی کا کمرہ، باہر بڑا ٹی وی لاؤنج، سامنے کچن اور ایک تنگ راہداری تھی جس کے ایک طرف بڑا ڈرائنگ روم اور سامنے باغ تھا، وہی درخت اور مین گیٹ۔ راہداری میں کچن کے دروازے کے ساتھ ایک اور دروازہ تھا جو چھت کو جانے والی سیڑھیوں تک جاتا تھا—وہ بند تھا۔
جب بھائی نے تیسری بار پکارا تو ایک لڑکی کی آواز آئی جو انہیں “علی” پکار رہی تھی۔ انہیں سمجھ نہ آیا کہ یہ آواز کون سی تھی، اجنبی سی اور دھیمی سی لگ رہی تھی۔ جب وہ خاموش ہوئے تو بند دروازے سے مسلسل وہی لڑکی کی آواز آتی رہی جو انہیں نام سے پکار رہی تھی۔ پھر جب وہ باہر مین گیٹ کی طرف آئے تو آواز بالکل بند ہو گئی۔ بھائی کو بے چینی محسوس ہوئی۔ رات ہو گئی تھی اور ڈر تھا کہ کہیں محلے والوں نے دیکھ لیا تو الزام لگے کہ وہ خالی گھر میں کیا کر رہا ہے۔ وہیں ٹھیک محسوس نہ کر کے فوراً بائیک پر گھر واپس آ گئے۔
واپسی پر انہیں زبردست بخار ہو گیا اور طبیعت خراب ہو گئی۔ تین دن اسی بخار میں تڑپتے رہے۔ انہوں نے گھر والوں کو سب کچھ بتا دیا۔ ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب نے دم کیا تو انہوں نے کہا کہ اس خالی گھر سے کسی ہوائی چیز کا گزر ہوا تھا جس کی خوشبو نے بھائی کو متاثر کیا۔ وہ چیز تو چلی گئی مگر خواب میں آ کر تنگ کر رہی ہے۔
پھر بھائی کا روحانی علاج ہوا اور بتایا گیا کہ وہ چیز کہتی تھی:
“مجھے اس کی شکل پسند آ گئی ہے۔”
ایک ماہ تک مسلسل علاج کیا گیا اور آخرکار وہ ہوائی چیز چلی گئی۔ بعد ازاں دادا دادی نے بھائی علی کو اس گھر جانے سے منع کر دیا۔
آنٹی شاہدہ کا فون آیا جن کے بچوں کو بھائی پڑھاتے تھے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ دروازہ کسی نے کھولا تھا اور بھائی اندر گئے تھے تو وہ بولیں:
“یہ ممکن نہیں، آپ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔”
پھر انہوں نے کہا کہ ان کی ایک رشتہ دار نواب شاہ اچانک اپنی ماں کے انتقال پر چلی گئی تھی۔ انہیں آئی ڈی دینا یاد نہیں رہا تھا، اور گھر کے مین گیٹ پر دس دن سے تالا لگا ہوا تھا۔
جب ہم جا کر دیکھنے گئے تو واقعی وہاں تالا ہی لگا ہوا تھا۔ محلے والوں نے بھی کہا:
“یہ گھر تو دس دن سے بند ہے۔”
بھائی علی نے کہا:
“یہ ممکن ہی نہیں کہ وہاں تالا لگا ہو۔ میں اندر گیا تھا۔ کسی نے لوہے کی کنڈی کھولی ہوئی تھی، لابی کا دروازہ بھی کھلا تھا۔ ہم پورے گھر کا چکر لگا کر آئے تھے۔”
جس پی ٹی سی ایل نمبر سے آنٹی شاہدہ نے کال کی تھی، وہ ان کے گھر کا نمبر نہیں تھا۔ وہ اپنے بھائی کے گھر سے ہمیں کال کر رہی تھیں۔ مطلب وہ ابھی تک گھر واپس ہی نہیں آئی تھیں۔ یہ بھائی علی کے ساتھ ایک بہت عجیب واقعہ پیش آیا تھا۔ بعد میں انہیں وہ نوکری چھوڑنی پڑی۔
بھائی علی انیس سال کے ہو گئے تھے۔ وہ بی اے کے پہلے سال میں تھے۔ ایک بار ہم کسی کے نکاح کی تقریب میں گئے۔ دادا، دادی، امی، ابو اور میں، ہم سب بھائی علی کے ساتھ شادی والے گھر گئے۔ وہاں کافی رونق تھی۔ یہ شادی حیدرآباد میں تھی۔ ہم شادی میں شریک ہو کر تین دن بعد گھر واپس آ گئے۔ بھائی علی وہاں ایک دن اور رک گئے۔
اس کے بعد جب وہ گھر کے لیے نکلے تو حیدرآباد سے ان کی موٹر سائیکل اولڈ نیشنل ہائی وے پر جا رہی تھی۔ نوری آباد کے قریب سڑک کے بالکل پاس ایک چھوٹا سا قبرستان اور ویران زمینیں تھیں۔ وہیں قبرستان کے سامنے بھائی علی کی بائیک خراب ہو گئی۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ انہیں راستہ بھی بھول گیا تھا کہ کس طرف جانا ہے۔ وہ سڑک کے بیچ کھڑے تھے۔ آس پاس کوئی بھی نہیں تھا…
---
کچھ لمحوں بعد انہوں نے دو آدمی دیکھے جنہوں نے کالے سوٹ پہنے ہوئے تھے۔ وہ سیدھا بھائی علی کے پاس آئے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے، حالانکہ اس سنسان سڑک پر پہلے کہیں بھی نظر نہیں آئے تھے۔ وہ دونوں آدمی بائیک کے پاس آئے اور کہنے لگے:
“آنکھ چاہیے۔”
بھائی علی انہیں دیکھ کر ڈر گئے۔ یہ کیا بول رہے ہیں؟ عجیب سے لگ رہے تھے۔ اتنے میں ایک بہت بوڑھا آدمی آ گیا جس کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا۔ اس نے زور سے زمین پر دو مرتبہ ڈنڈا مارا۔ رات کے سناٹے میں اس سنسان سڑک پر وہ آواز بہت تیز تھی۔ بھائی علی بتاتے ہیں کہ اس بوڑھے آدمی نے مجھے سلام کیا اور کہا:
“اللہ تیرے حسن کو سلامت رکھے، ہر بری نظر سے بچائے۔ بیٹا، تجھے اکیلے نہیں نکلنا چاہیے۔”
یہ کہتے ہوئے بھائی علی اور وہ بوڑھا آدمی پیدل چلنے لگے۔ بائیک کی چین شاید ٹوٹ گئی تھی۔ بھائی علی نے کہا کہ ہم چلتے جا رہے تھے۔ اس قبرستان کے بعد ویران سروس روڈ اور کھلے میدان آتے جا رہے تھے۔ راستے میں بند فیکٹریاں بھی تھیں۔
میں نے بابا جی سے پوچھا:
“آپ کا نام کیا ہے؟”
وہ بولے:
“نور محمد۔”
پھر میں نے پوچھا:
“وہ لوگ کون تھے؟”
وہ خاموش رہے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ جب وہ بابا جی ملے تھے تو وہ دونوں آدمی انہیں دیکھ کر آگے نکل گئے تھے۔ مگر جیسے ہی میں نے دو سے تین سیکنڈ بعد پیچھے مڑ کر اس خالی سڑک کو دیکھا تو وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ وہ لوگ اتنی جلدی کہاں گئے؟ کون تھے؟ کچھ معلوم نہیں۔
اس کے بعد بابا جی نے ایسی باتوں میں لگا لیا کہ پتہ ہی نہیں چلا کب ہم اسٹیل ٹاؤن بن قاسم کے انڈسٹریل ایریا کو بھی کراس کر گئے۔ وہاں سے انہوں نے نیشنل ہائی وے کی طرف ٹرن لیا۔ یہاں بابا جی رک گئے اور کہنے لگے:
“جاؤ۔”
بھائی علی جلدی سے بائیک پر بیٹھ گئے، ان کا شکریہ ادا کیا۔ جاتے ہوئے بابا جی بولے:
“خوشبو مت لگایا کرو۔”
بھائی علی نے “اچھا” کہا، اور جیسے ہی بائیک اسٹارٹ کی تو بابا جی کہیں دور تک نظر نہیں آئے۔ وہ بھی غائب ہو چکے تھے۔ اب انہیں کچھ ہوش آیا۔ وہ کہتے ہیں کہ میری حالت بہت خراب تھی، دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے ابھی قابو سے باہر ہو کر سینے سے نکل آئے گا۔
وہ بہت تیز رفتار سے چلے اور کچھ دیر بعد گلشنِ حدید میں داخل ہو چکے تھے۔ بھائی علی نے گھر آ کر بائیک روکی۔ دادا اور ابو دونوں پہلے سے جاگ رہے تھے۔ وہ گھر میں داخل ہوتے ہی نیچے فرش پر گر گئے اور بے ہوش ہو گئے۔ جب دم کیا گیا تو صبح ہوش آیا، تو انہوں نے رات کا سارا واقعہ سنا دیا۔ ابو اور دادا نے بہت ڈانٹا کہ اتنی رات کو وہاں سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا صبح نہیں ہو سکتی تھی؟
آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ وہ تین لوگ کون تھے۔ حیران کر دینے والی باتیں یہ تھیں کہ جب وہ گھر پہنچے تو موٹر سائیکل کی چین بالکل ٹھیک تھی، حالانکہ وہ تو ٹوٹی ہوئی تھی، اسی لیے بائیک بند ہوئی تھی۔ دوسری بات یہ تھی کہ پیٹرول تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا، تو وہ اتنے کم پیٹرول میں اتنا لمبا سفر کیسے کر کے آئے؟ تیسری بات یہ تھی کہ بابا جی کے ساتھ چلتے ہوئے انہیں نہ راستے کی تھکن محسوس ہوئی اور نہ ہی راستوں کا صحیح اندازہ ہو رہا تھا۔ وہ نوّے سے پچانوے سال کا بوڑھا آدمی کیسے ان کے ساتھ چلتا رہا، وہ بھی سردی کی رات میں ننگے پاؤں؟ یہ کچھ ایسے سوال تھے جن کی آج تک سمجھ نہیں آ سکی۔
جب بھائی علی بیس سال کے ہوئے تو ان کی شادی نگینہ سے کر دی گئی۔ سب بہت خوش تھے۔ نگینہ بھابھی بھی بہت اچھی تھیں، مگر شادی کے بعد بھائی علی کی زندگی جیسے بدل گئی۔ شادی کے بعد بھائی علی کے ساتھ خوابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کا آدھا منہ جلا ہوا ہے، وہ دور کھڑی انہیں دیکھ رہی ہے اور ہمارے گھر کے صحن میں کھڑی تھی۔ جس گھر میں ہم رہتے تھے اس کا صحن کافی بڑا تھا۔ وہ عورت انہیں بلاتی ہے اور منہ میں کچھ پڑھ رہی ہوتی ہے۔ بھائی علی نہیں جاتے اور ڈر جاتے ہیں۔
شادی کے بعد نگینہ نے میٹھے میں گاجر کا حلوہ بنایا۔ شادی کو ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ سب نے کھایا، اور جب بھائی علی کو حلوہ دیا تو وہ باورچی خانے میں جا کر برتن سے ہی کھانے لگے اور انہوں نے سارا حلوہ کھا لیا۔ جتنا ہم بھائی علی کو جانتے تھے، وہ میٹھے کے شوقین نہیں تھے، اور اچانک اتنا زیادہ میٹھا کھا لیا۔ اس رات وہ بالکل خاموش رہے۔ صبح اٹھے تو ان کے دونوں بازوؤں پر چھوٹے چھوٹے دھبے بن گئے۔
ابو بولٹن مارکیٹ میں ہول سیل کا کام کرتے تھے اور بھائی علی نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا تھا، مگر اس صبح ان کی طبیعت بہت خراب تھی۔ انہوں نے کہا:
“مجھے بہت جلن ہو رہی ہے۔”
جیسے ہی نگینہ کریم لے کر ان کے پاس آئی، انہوں نے زور سے نگینہ کو دھکا دے دیا اور وہ سیدھا باہر کے دروازے سے جا ٹکرائی۔ آواز سن کر سب کمرے میں آ گئے۔ دیکھا تو بھائی علی چیخ رہے تھے:
“اس کو کمرے سے باہر نکالو!”
اسی رات انہیں خواب آیا کہ وہی جلی ہوئی عورت ان کے کمرے کے اندر آ گئی ہے اور کہہ رہی ہے:
“میں تمہیں لے کر جاؤں گی۔”
وہ کہتے ہیں:
“تم کون ہو؟”
مگر وہ جواب نہیں دیتی اور غائب ہو جاتی ہے۔ بھائی علی اپنے خواب کا ذکر کسی سے نہیں کرتے تھے۔
نگینہ نے شکایت کرنا شروع کر دی کہ جب بھی میں کمرے میں داخل ہوتی ہوں تو میرے دونوں پاؤں جلنے لگتے ہیں، جیسے کسی نے انگارے بچھا دیے ہوں، اور جب میں کمرے سے باہر جاتی ہوں تو پاؤں بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ شادی کو کچھ مہینے ہو چکے تھے مگر ابھی تک دونوں کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں ہو پا رہا تھا۔ سب پوچھنے لگے کہ کوئی خوشخبری ہے؟ وقت گزرتا جا رہا تھا۔
پھر انہیں خواب آیا کہ وہی جلی ہوئی عورت ان کے کمرے میں آئی ہے اور نگینہ کے بال کاٹ رہی ہے۔ وہ آیت الکرسی پڑھتے ہیں تو وہ بھاگ جاتی ہے۔ جب وہ نیند سے جاگے تو نگینہ کے کچھ بال واقعی کٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے تب بھی نہ نگینہ کو بتایا اور نہ ہی گھر میں کسی سے ذکر کیا۔
ایک بار شادی کے بعد ماموں کے گھر دعوت پر گئے۔ وہاں انہوں نے کھانا کھایا اور جب واپس نکلے تو ماموں کے مین گیٹ کے باہر بہت بڑی قے کر دی۔ اس وقت میں بھی وہاں کھڑی تھی۔ وہ قے ایک دھار کی صورت میں منہ سے نکلی۔ سب حیران تھے کہ یہ تو بالکل ٹھیک گھر سے نکلے تھے، پھر انہیں کیا ہو گیا؟ گھر والوں نے اسے نارمل سمجھ لیا۔
کچھ دن بعد چچا کے گھر دعوت پر گئے۔ وہاں کھانے کے بعد انہوں نے منہ میں اندر تک انگلی ڈال کر دوبارہ قے کر دی۔ ہمیں بہت شرمندگی ہو رہی تھی۔ گھر آ کر بھائی علی نے کہا:
“مجھے یاد نہیں کہ میں نے سب کے سامنے منہ میں انگلی ڈال کر یہ حرکت کی۔”
پھر کچھ دن بعد آنٹی کے گھر گئے، وہاں بھی گلی میں قے کر دی۔ پھر تایا کے گھر گئے تو وہاں بھی یہی ہوا۔ ہر جگہ یہی بات دہرائی جا رہی تھی کہ بھائی علی قے کر رہے تھے۔ گھر آتے تو بالکل ٹھیک ہوتے تھے، اس لیے ہم انہیں ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر گئے۔
آخرکار وہ دن بھی آ گیا جس کا سب کو انتظار تھا۔ نگینہ امید سے تھی۔ اب بھائی علی نے ابو کو بتایا کہ مجھے مسلسل خواب آ رہا ہے، ایک جلی ہوئی عورت میرے پاس آتی ہے اور مجھے نقصان پہنچاتی ہے۔ اس وقت ابو نے دم کیا اور کہا کہ اس کا ذکر کسی سے مت کرنا۔ ہاں، اگر دوبارہ خواب میں نظر آئے تو بتانا۔
ایک دن علی بھائی گھر پر اکیلے تھے۔ نگینہ اپنے میکے گئی ہوئی تھی، ابو کام پر تھے، دادا دادی اور امی کسی رشتہ دار کے انتقال پر تعزیت کے لیے گئے ہوئے تھے، اور میں بھی ان کے ساتھ تھی۔ ہم نواب شاہ…
---
ہم گئے ہوئے تھے اور ہمیں واپس آنے میں دیر ہو گئی۔ بھائی علی کہتے ہیں کہ وہ گھر آئے، سیدھے اپنے کمرے میں گئے، مغرب کی نماز پڑھی اور صوفے سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر کے کمر سیدھی کرنے لگے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی تقریباً بارہ سے پندرہ منٹ بعد آنکھ کھولی تو وہی جلی ہوئی عورت ان کے کمرے میں موجود تھی اور وہ کچھ منہ میں پڑھ رہی تھی۔
وہ وضو میں تھے۔ جیسے ہی انہوں نے سورۃ بقرہ کی آخری آیات کی تلاوت شروع کی تو وہ عورت باقاعدہ چل کر سیڑھیوں کی طرف گئی۔ بھائی علی اس کے پیچھے گئے تو سیڑھیاں بالکل خالی تھیں اور اوپر والے دروازے پر تالا لگا ہوا تھا۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ جسے وہ مسلسل خواب میں دیکھ رہے تھے، وہ حقیقت میں موجود ہے اور کوئی باہر کی چیز ہے، یعنی کوئی غیر مرئی مخلوق۔
اتنے میں گھر کی گھنٹی بجی تو ہم سب گھر میں داخل ہو رہے تھے۔ اب انہوں نے ساری بات سب کو بتا دی۔ صبح دادا اور ابو اپنے بھائی کو لے آئے۔ انہوں نے دیکھا تو کہا کہ یہ بچپن سے ہی نظرِ بد کا شکار رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ بھائی علی پر سفلی علم بھی کروایا گیا ہے۔ اس کا مقصد بھائی علی کے چہرے کی خوبصورتی کو بگاڑنا ہے۔ طلاق اور موت بھی اس جادو کا مقصد ہے۔
ہم سب گھر والے بہت پریشان ہو گئے تھے۔ نگینہ گھر پر نہیں تھی۔ اب ایک بات تو معلوم ہو چکی تھی کہ جادو ہے، مگر کس نے کروایا، اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ اللہ جانے کن لوگوں کو جادو کروانے والوں کے نام معلوم ہو جاتے ہیں۔ ہم نے بہت لوگوں سے پوچھا مگر کسی نے کوئی نام نہیں بتایا۔
ہم سب گھر والے نماز کے بہت پابند تھے۔ یہ عادت ہمیں دادا نے بہت مضبوطی سے ڈلوائی تھی۔ دادا کے بھائی نے کہا کہ اللہ کا کلام ہی ہر پریشانی کا حل ہے۔ ایک اور ضروری بات میں بتانا بھول گئی تھی کہ یہ ایسا جادو تھا جس میں ہمیں کہیں سے بھی کوئی تعویذ نہیں ملا تھا، مگر تین تعویذ بھائی علی کے پیٹ سے نکلے تھے۔
ایک دن انہیں شدید درد ہوا۔ ڈاکٹروں کے پاس لے گئے تو آدھے آدھے انچ کے تین تعویذ نکلے۔ ڈاکٹروں کو تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ دادا کے بھائی وہ تعویذ گھر لے آئے، انہیں دھویا اور تب ہمیں پتا چلا۔
ایک صبح بھائی علی سو کر اٹھے تو ان کے منہ سے خون نکل رہا تھا۔ وہ باہر آئے تو ان کے سامنے کے پانچ دانت ٹوٹ کر ان کے ہاتھ میں آ گئے۔ یہ دیکھ کر امی اور دادی کی چیخیں نکل گئیں، میں بیان نہیں کر سکتی۔ اسی دن ہمیں ایک اور بری خبر ملی کہ نگینہ کا مس کیرج ہو گیا ہے۔ شادی کے اتنے مہینوں بعد خوشخبری ملی بھی تو وہ غم میں بدل گئی۔
ہم نے بھائی علی کا مکمل علاج شروع کر دیا۔ دادا کے بھائی نے کہا کہ گھر میں تلاوت کا ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ یقین کریں، جب وہ تلاوت لگانا شروع کرتے تھے تو بھائی علی بے قابو ہو جاتے تھے۔ کبھی منہ پر مارتے، کبھی تالیاں بجاتے، بالکل پاگلوں کی طرح، اور کبھی کہتے:
“اسے بند کرو۔”
وہ کہتے تھے کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میرے سر سے آگ نکل رہی ہے۔
اب انہیں مزید خواب آنے لگے۔ اس بار اس جلی ہوئی عورت کے ساتھ ایک بہت بڑا آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ وہ آگ کا گول دائرہ جلا کر بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا۔ بھائی علی نے خود کو اس آگ میں جلتے دیکھا۔ وہ چیخنا شروع کر دیتے تھے اور آنکھ کھل جاتی تھی۔
وقت اسی طرح گزرتا گیا اور بھائی علی کی شادی کو پانچ سال ہو گئے۔ ان سالوں میں نگینہ کے چار مس کیرج ہو چکے تھے۔ اب نگینہ اور بھائی علی کے درمیان بہت اختلافات شروع ہو گئے تھے۔ جب تک دونوں کمرے میں ہوتے، ایک دوسرے کے جان کے دشمن بن جاتے تھے، ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے۔ ان کی لڑائی صرف تب ختم ہوتی جب دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کیا جاتا۔
---
بھائی علی کے سر کے بال گرنے لگے تھے، سامنے کے پانچ دانت نقلی لگوائے گئے تھے۔ اسی دوران دادی کا انتقال ہو گیا۔
مرنا تو سب کو ہے، مگر دادی کی موت کی وجہ سمجھ نہیں آ سکی۔ وہ اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھیں، مگر ان کی لاش بھائی علی کے کمرے میں ملی تھی۔ وہ کبھی کسی کے کمرے تک نہیں جاتیں تھیں، ان کے تو گھٹنے ہی کام نہیں کرتے تھے۔ اب ہمارے گھر میں ہر وقت جلنے کی بو آتی رہتی تھی۔
بھائی علی کو اچانک جگر کا عارضہ ہو گیا۔ وہ اب چھبیس سال کے ہو چکے تھے۔ ہم نے بہت سے ڈاکٹروں کو دکھایا۔ سب نے کہا کہ جگر خون نہیں بنا رہا، مگر اس کے پیچھے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ دادا اور ابو نے کراچی میں بہت سے لوگوں سے اس سفلی جادو کا علاج کروایا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔
کوئی کہتا تھا کہ بچپن سے کوئی جن بھائی علی کے ساتھ ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ وہ کسی جگہ سے خوشبو لگا کر گزرا ہے تو کسی جنّی نے اس پر عاشق ہو کر یہ سب کیا ہے۔ کسی نے کہا کہ اس کے حسن کو جنّات کی نظر لگ گئی ہے۔ علاج سب کرتے تھے، کوئی کہتا تھا کہ انسانوں کی نظرِ بد اسے کھا گئی ہے۔ عارضی طور پر آرام بھی ملتا تھا، مگر پھر گھر میں بھائی علی کے ساتھ عجیب واقعات ہونے لگتے تھے۔
اب تو میں بھی جوان ہو چکی تھی۔ ابو کی صحت بہت گرتی چلی گئی۔ بھائی علی کو دیکھ کر انہیں شدید صدمہ ہوتا تھا۔ اسی دکھ میں ایک دن ابو بھی اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ بھائی علی پر بری نظر اور جادو دونوں کے اثرات تھے۔ ان سب نے ان کی صحت اور خوبصورتی دونوں کو بہت بری طرح متاثر کیا۔ ان کی یادداشت بھی جاتی رہی۔
ایک دن وہ آدھی رات کو گھر سے باہر نکل گئے، کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ ہم نے پولیس میں رپورٹ کی، مساجد میں اعلانات بھی کروائے، مگر ان کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ تین دن بعد جب وہ گھر واپس آئے تو ان کا آدھا منہ جلا ہوا تھا۔ ان کی زبان بند ہو چکی تھی، وہ بہت تکلیف میں تھے۔ اس کے بعد وہ سوتے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صبح دیکھا تو ان کے منہ سے تھوڑا سا جھاگ نکل رہا تھا۔ وہ پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ چہرے پر جھریاں، رنگ کالا اور پیلا پڑ چکا تھا، جسم سوجا ہوا تھا، گنجے ہو چکے تھے۔ ڈاکٹروں سے چیک کروایا تو انہوں نے کہا کہ ان کا جگر فیل ہو چکا تھا۔
نگینہ بھابھی نے عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر لیا، وہاں سے انہیں طلاق ہو گئی۔ پھر ان کا تیسرا نکاح بھی کروا دیا گیا، مگر وہ شادی بھی نہ چل سکی۔ اب وہ اپنے ماں باپ کے گھر ہیں اور بھابھیوں کی نوکر بنی ہوئی ہیں۔ ان کی شادیاں ناکام ہونے کی وجہ سامنے نہ آ سکی۔
دادا اور امی اکیلے گھر ہوتے ہیں۔ میری شادی ہو چکی ہے۔ یہ میرے حسین ترین بھائی کی سب سے خوفناک اور سچی کہانی ہے۔ کاتبِ تقدیر سے دعا کریں کہ اگر اس نے آپ کو اچھی شکل و صورت سے نوازا ہے تو آپ کی قسمت بھی اچھی کرے۔ آمین۔
---
اگر آپ کو یہ کہانی اچھی لگی ہو تو ویڈیو کو لازمی لائک کریں، چینل کو سبسکرائب کریں، اور بیل آئیکن ضرور دبائیں تاکہ ایسی حقیقی اور خوفناک کہانیاں آپ تک پہنچتی رہیں۔
اور اگر آپ کے ساتھ، یا آپ کے کسی دوست، رشتہ دار، یا قریبی شخص کے ساتھ بھی کوئی ایسا خوفناک، پراسرار، یا حیرت انگیز واقعہ پیش آیا ہو، تو وہ ہمیں ہمارے واٹس ایپ نمبر پر ضرور بھیجیں، جو ڈسکرپشن میں موجود ہے۔ آپ کی کہانی بھی اگلی ویڈیو میں سنائی جا سکتی ہے۔
میں ہوں فرزانہ خان۔ آپ سب مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ جزاکم اللہ۔
