دوسرا حصہ
👇👇
دوپہر کا تقریباً ایک بج رہا تھا جب شرلاک ہومز اپنی مختصر تحقیق مکمل کرکے واپس بیکر اسٹریٹ پہنچا۔ اس کے ہاتھ میں نیلے رنگ کا ایک کاغذ تھا، جس پر مختلف اعداد و شمار اور جلدی جلدی لکھی گئی چند تحریریں نظر آ رہی تھیں۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے وہ کاغذ میز پر رکھا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا، "میں ڈاکٹر رائلٹ کی مرحومہ بیوی کی وصیت دیکھ کر آ رہا ہوں۔ اس کی اصل حقیقت سمجھنے کے لیے مجھے ان تمام سرمایہ کاریوں کی موجودہ قیمتوں کا حساب لگانا پڑا جن کا ذکر وصیت میں کیا گیا تھا۔"
وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور کاغذ پر نظریں جماتے ہوئے بولا، "جب مسز اسٹونر کا انتقال ہوا تھا تو ان کی جائیداد سے سالانہ آمدنی تقریباً گیارہ سو پاؤنڈ تھی، لیکن زرعی زمینوں کی قیمتیں گرنے کے باعث اب یہ آمدنی کم ہو کر صرف سات سو پچاس پاؤنڈ رہ گئی ہے۔ وصیت کے مطابق، دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو شادی کی صورت میں سالانہ ڈھائی سو پاؤنڈ ملنے تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں لڑکیاں شادی کر لیتیں تو ڈاکٹر رائلٹ کے حصے میں نہایت معمولی رقم بچتی، اور اگر صرف ایک بیٹی بھی شادی کرتی تو بھی اس کی مالی حالت بری طرح متاثر ہوتی۔"
ہومز نے کاغذ تہہ کرکے جیب میں رکھا اور نہایت سنجیدہ لہجے میں بولا، "اس لیے میری آج صبح کی محنت ہرگز رائیگاں نہیں گئی۔ اب یہ بات تقریباً ثابت ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر رائلٹ کے پاس اپنی سوتیلی بیٹیوں کی شادی رکوانے کا نہایت مضبوط مالی محرک موجود تھا۔ اور اب، واٹسن، ہمارے پاس وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ وہ بوڑھا شخص جان چکا ہے کہ ہم اس کے معاملات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اگر تم تیار ہو تو فوراً ایک گھوڑا گاڑی منگواتے ہیں اور واٹرلو اسٹیشن روانہ ہوتے ہیں۔"
چند لمحے رک کر اس نے میری طرف معنی خیز نگاہ سے دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، "ایک گزارش ہے، اپنا ریوالور جیب میں ضرور رکھ لینا۔ ایلی نمبر ٹو ایسے حضرات کے ساتھ دلیل دینے کا بہترین ذریعہ ہے، جو ننگے ہاتھوں سے فولادی سلاخیں موڑ سکتے ہوں۔ اس کے علاوہ ایک دانت صاف کرنے کا برش... میرے خیال میں سفر کے لیے ہمیں اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوگی۔"
ہم فوراً واٹرلو اسٹیشن پہنچے، جہاں خوش قسمتی سے ہمیں لیدرہیڈ جانے والی ٹرین مل گئی۔ وہاں اتر کر اسٹیشن کے قریب موجود سرائے سے ایک گھوڑا گاڑی کرائے پر لی اور تقریباً چار یا پانچ میل کا سفر سرے کی دلکش دیہی شاہراہوں پر طے کرنے لگے۔ موسم اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔ آسمان پر سنہری دھوپ بکھری ہوئی تھی اور چند روئی جیسے سفید بادل آہستہ آہستہ تیر رہے تھے۔ درختوں اور سڑک کے کنارے لگی باڑوں پر بہار کی پہلی سبز کونپلیں پھوٹ رہی تھیں، جبکہ نم مٹی کی خوشبو پورے ماحول میں گھلی ہوئی تھی۔
میرے لیے اس منظر سے زیادہ عجیب شاید ہی کوئی اور تضاد ہو سکتا تھا۔ ایک طرف بہار اپنی تمام تر دلکشی، تازگی اور نئی زندگی کا پیغام دے رہی تھی، اور دوسری طرف ہم ایک ایسے پراسرار سفر پر روانہ تھے جس کی ہر منزل سے موت، خوف اور کسی ہولناک راز کی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔
شرلاک ہومز گھوڑا گاڑی کی اگلی نشست پر خاموشی سے بیٹھا تھا۔ اس کے بازو سینے پر بندھے ہوئے تھے، ٹوپی آنکھوں تک جھکی ہوئی تھی اور ٹھوڑی سینے سے لگی تھی۔ وہ اس قدر گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ پورے راستے اس کے لبوں سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ اچانک وہ چونک کر سیدھا بیٹھ گیا، میرے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی اور سامنے پھیلے ہوئے سرسبز میدانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، "واٹسن... ادھر دیکھیے!"
میں نے نگاہ اٹھائی تو ایک وسیع و عریض پارک دکھائی دیا، جس میں گھنے درخت نرم ڈھلوان کے ساتھ اوپر کی جانب پھیلتے چلے گئے تھے۔ بلند مقام پر یہ درخت ایک چھوٹے سے جنگل کی شکل اختیار کر چکے تھے، اور انہی شاخوں کے درمیان سے ایک نہایت قدیم حویلی کی سرمئی چھتیں اور نوکیلے محرابی حصے نمایاں ہو رہے تھے۔ ہومز نے آہستہ سے پوچھا، "کیا یہ اسٹوک موران ہے؟"
گاڑی بان نے فوراً جواب دیا، "جی حضور، یہی ڈاکٹر گرائمزبی رائلٹ کی حویلی ہے۔" ہومز نے غور سے دیکھا تو عمارت کے ایک حصے میں مرمت کا کام جاری تھا۔ "وہی تعمیراتی کام ہے جس کا ذکر مس اسٹونر نے کیا تھا،" اس نے کہا، "اور ہمارا رخ بھی وہیں ہے۔"
گاڑی بان نے بائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، "وہ سامنے گاؤں ہے، لیکن اگر آپ سیدھے حویلی جانا چاہتے ہیں تو اس باڑ کو پار کر کے کھیتوں کے درمیان سے گزرنے والا راستہ زیادہ مختصر ہے۔ دیکھیے، وہ خاتون بھی وہیں چلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔"
ہومز نے ہاتھ سے آنکھوں پر سایہ کیا اور غور سے دیکھتے ہوئے مسکرایا۔ "میرا خیال ہے وہ مس ہیلن اسٹونر ہیں۔ بہتر ہوگا ہم آپ کے مشورے پر عمل کریں۔" ہم دونوں گاڑی سے اترے، کرایہ ادا کیا، اور گھوڑا گاڑی لیدرہیڈ کی طرف واپس روانہ ہو گئی۔
باڑ پھلانگتے ہوئے ہومز نے دھیمے لہجے میں کہا، "میں نے جان بوجھ کر گاڑی بان پر یہ تاثر چھوڑا ہے کہ ہم یہاں کسی تعمیراتی معائنے یا پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں آئے ہیں۔ اس طرح وہ غیر ضروری چہ میگوئی سے باز رہے گا۔"
ابھی ہم چند قدم ہی آگے بڑھے تھے کہ ہیلن اسٹونر تیزی سے ہماری طرف بڑھتی دکھائی دیں۔ ان کے چہرے پر بےچینی کے بجائے اس بار امید اور اطمینان کی جھلک تھی۔ انہوں نے گرمجوشی سے ہم دونوں سے مصافحہ کیا اور خوشی سے بول اٹھیں، "میں کب سے آپ دونوں کا انتظار کر رہی تھی۔ خوش قسمتی سے سب کچھ ہماری توقع کے مطابق ہوا۔ ڈاکٹر رائلٹ صبح ہی شہر چلے گئے ہیں، اور غالب امکان یہی ہے کہ شام سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔"
ہومز ہلکا سا مسکرایا۔ "اتفاق سے آج صبح ہمیں بھی ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا تھا۔" پھر اس نے مختصر مگر جامع انداز میں ڈاکٹر رائلٹ کی بیکر اسٹریٹ آمد، اس کی دھمکیوں اور فولادی پوکر موڑنے کا پورا واقعہ سنا دیا۔ ہیلن یہ سب سنتی رہیں، مگر ہر جملے کے ساتھ ان کے چہرے کا رنگ اڑتا گیا، یہاں تک کہ ان کے ہونٹ بھی سفیدی مائل ہو گئے۔
"یا خدا!" وہ بےاختیار بول اٹھیں۔ "تو اس نے واقعی میرا پیچھا کیا تھا!"
"بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے،" ہومز نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔
ہیلن نے بےبسی سے کہا، "وہ اس قدر مکار اور چالاک ہے کہ مجھے کبھی یقین نہیں ہوتا میں اس سے کب محفوظ ہوں۔ جب وہ واپس آئے گا تو نہ جانے کیا کرے گا!"
ہومز کی آنکھوں میں اعتماد کی چمک ابھری۔ "اب اسے خود بھی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ اس کا تعاقب کرنے والا ایک ایسا شخص بھی موجود ہے جو شاید اس سے زیادہ چالاک ہے۔ آج رات آپ اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند رکھیے۔ اگر وہ ذرا بھی پرتشدد رویہ اختیار کرے تو ہم فوراً آپ کو آپ کی خالہ کے گھر، ہیرو، منتقل کر دیں گے۔"
اس نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی اور سنجیدگی سے کہا، "اب ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ ہم ہر لمحہ قیمتی سمجھیں۔ براہِ کرم، ہمیں فوراً ان کمروں تک لے چلیں جن کا معائنہ کرنا ہے۔"
حویلی سرمئی پتھروں سے تعمیر کی گئی تھی، جن پر وقت کے ساتھ سبز کائی اور لائیکن کی تہہ جم چکی تھی۔ عمارت کا درمیانی حصہ خاصا بلند تھا، جبکہ اس کے دونوں جانب مڑے ہوئے دو بازو اس انداز میں پھیلے ہوئے تھے جیسے کسی دیوہیکل کیکڑے کے پنجے ہوں۔ بائیں طرف کا ایک حصہ مکمل ویرانی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ چکے تھے اور انہیں لکڑی کے تختوں سے بند کر دیا گیا تھا، جبکہ چھت کئی جگہوں سے بیٹھ چکی تھی۔ مرکزی حصہ بھی کچھ زیادہ بہتر حالت میں نہیں تھا، البتہ دائیں جانب کی عمارت نسبتاً نئی معلوم ہوتی تھی۔ کھڑکیوں پر پڑے پردے اور چمنیوں سے اٹھتا ہوا نیلا دھواں اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ خاندان اسی حصے میں رہائش پذیر تھا۔
عمارت کے آخری سرے پر بانسوں کا سہارا لگا ہوا تھا اور پتھروں کی دیوار ایک جگہ سے توڑی جا چکی تھی، گویا مرمت کا کام جاری ہو۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ہماری آمد کے وقت وہاں ایک بھی مزدور موجود نہ تھا۔ ہومز خاموشی سے لان میں آہستہ آہستہ چلتا رہا۔ گھاس بےترتیبی سے بڑھی ہوئی تھی اور جگہ جگہ جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔ وہ ہر کھڑکی کے باہر بڑی باریکی سے معائنہ کرتا، کبھی جھک کر دیکھتا اور کبھی اپنی تیز نگاہوں سے دیواروں کا جائزہ لیتا۔
آخر وہ رک کر مس ہیلن اسٹونر کی طرف متوجہ ہوا۔ "اگر میں غلط نہیں ہوں،" اس نے کہا، "یہ کھڑکی آپ کے پرانے کمرے کی ہے، درمیان والی آپ کی مرحوم بہن جولیا کے کمرے کی، اور اس کے ساتھ والی ڈاکٹر رائلٹ کے کمرے کی؟"
"جی بالکل،" ہیلن نے جواب دیا، "البتہ اب میں درمیان والے کمرے میں سوتی ہوں، یعنی وہی کمرہ جہاں میری بہن کی موت ہوئی تھی۔"
"ہاں، مرمت کے دوران آپ کو وہاں منتقل کیا گیا تھا،" ہومز نے آہستگی سے کہا۔ پھر اس نے دیوار کی طرف غور سے دیکھا اور بولا، "ویسے مجھے اس دیوار میں ایسی کوئی خرابی دکھائی نہیں دیتی جس کی فوری مرمت ضروری ہو۔"
ہیلن نے تلخی سے مسکرا کر کہا، "واقعی ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے تو ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ یہ سب صرف ایک بہانہ تھا تاکہ مجھے میرے کمرے سے نکال کر اس کمرے میں منتقل کر دیا جائے۔"
ہومز کی آنکھوں میں فوراً چمک آ گئی۔ "آہا...! یہ تو نہایت اہم بات ہے۔" پھر اس نے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا، "اس تنگ حصے کی دوسری جانب وہی راہداری ہے جہاں سے ان تینوں کمروں کے دروازے کھلتے ہیں؟"
"جی ہاں۔"
"اور اس راہداری میں بھی کھڑکیاں ہیں؟"
"ہیں تو سہی، مگر بہت چھوٹی۔ اتنی تنگ کہ کوئی شخص ان میں سے گزر ہی نہیں سکتا۔"
ہومز نے اثبات میں سر ہلایا۔ "اور چونکہ آپ دونوں ہر رات اپنے کمروں کے دروازے اندر سے بند کر لیتی تھیں، اس لیے اس طرف سے بھی کسی کا اندر آنا ممکن نہیں تھا۔" پھر اس نے نہایت شائستگی سے کہا، "اگر آپ مہربانی کرکے اپنے موجودہ کمرے میں جائیں اور کھڑکی کے شٹر اندر سے بند کر دیں تو میں ایک بات کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں۔"
ہیلن فوراً اندر چلی گئیں اور حسبِ ہدایت شٹر بند کر دیے۔ ہومز کھلی کھڑکی کے باہر کھڑا بڑی توجہ سے انہیں دیکھتا رہا، پھر اس نے ہر ممکن طریقے سے شٹر کھولنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہا۔ نہ کہیں اتنی سی درز تھی کہ اس میں چاقو کی نوک ڈال کر اندر لگی سلاخ کو ہٹایا جا سکے، نہ ہی کوئی کمزور جگہ دکھائی دی۔ اس نے جیب سے عدسہ نکالا اور قبضوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ وہ خالص لوہے کے مضبوط قبضے تھے، جو دیوار کے بھاری پتھروں میں اس قدر مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے کہ انہیں باہر سے چھیڑنا ناممکن تھا۔
"ہُم..." ہومز نے ٹھوڑی سہلاتے ہوئے گہری سوچ میں کہا، "میرا نظریہ یہاں آ کر ضرور مشکل میں پڑ گیا ہے۔ اگر شٹر واقعی اندر سے بند ہوں تو کوئی شخص اس راستے سے ہرگز اندر داخل نہیں ہو سکتا۔ خیر... ممکن ہے اس راز کی گرہ کمرے کے اندر جا کر کھلے۔"
راہداری میں جانے کے لیے ایک چھوٹا سا پہلوئی دروازہ تھا، جو سفید چونے سے پوتی ہوئی تنگ راہداری میں کھلتا تھا۔ وہیں سے تینوں خواب گاہوں کے دروازے تھے۔ ہومز نے تیسرے کمرے، یعنی ڈاکٹر رائلٹ کے کمرے، کا معائنہ مؤخر کر دیا اور سیدھا دوسرے کمرے کی طرف بڑھا، جہاں اس وقت مس ہیلن اسٹونر رہ رہی تھیں، اور جہاں دو سال پہلے جولیا نے اپنی جان گنوائی تھی۔
کمرہ چھوٹا مگر گھریلو انداز کا تھا۔ اس کی چھت خاصی نیچی تھی اور ایک پرانے دیہاتی مکان کی طرح دیوار میں ایک کشادہ آتش دان بنا ہوا تھا۔ ایک کونے میں بھورے رنگ کی درازوں والی الماری رکھی تھی، دوسرے کونے میں سفید چادر سے ڈھکا ہوا ایک تنگ سا بستر تھا، جبکہ کھڑکی کے بائیں جانب ایک سادہ سا سنگھار میز رکھا ہوا تھا۔ کمرے کی ہر چیز عام اور بےضرر دکھائی دیتی تھی، مگر اس خاموش فضا میں ایک ایسی پراسرار گھٹن بسی ہوئی تھی جو کسی بھی حساس انسان کے دل میں بےاختیار بےچینی پیدا کر سکتی تھی۔
اس مختصر سے کمرے میں انہی چیزوں کے علاوہ صرف بید کی بنی ہوئی دو چھوٹی کرسیاں تھیں، جبکہ درمیان میں ولٹن کا ایک مربع قالین بچھا ہوا تھا۔ فرش کے تختے اور دیواروں پر لگی بلوط کی لکڑی کی پینلنگ انتہائی پرانی تھی۔ دیمک نے کئی جگہوں سے اسے کھا رکھا تھا اور وقت کی گرد نے اس کا رنگ بھی مدھم کر دیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ لکڑی حویلی کی ابتدائی تعمیر کے زمانے ہی سے اپنی جگہ موجود ہو۔
شرلاک ہومز نے خاموشی سے ایک کرسی گھسیٹ کر کمرے کے کونے میں رکھی اور اس پر بیٹھ گیا۔ پھر کافی دیر تک اس کی نظریں کمرے کے ہر حصے پر گردش کرتی رہیں۔ کبھی وہ چھت کو دیکھتا، کبھی دیواروں پر نظریں جماتا، کبھی فرش کا جائزہ لیتا، اور کبھی بستر کی طرف غور سے دیکھتا۔ اس کی تیز نگاہیں کمرے کی ہر معمولی سے معمولی چیز کو اس طرح پرکھ رہی تھیں جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کے نشانات تلاش کر رہا ہو۔
آخرکار اس نے بستر کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک موٹی گھنٹی کی رسی کی طرف اشارہ کیا، جس کا پھندنا تکیے کے بالکل قریب آ کر ختم ہوتا تھا، اور پوچھا، "یہ گھنٹی کس کمرے میں بجتی ہے؟"
ہیلن نے جواب دیا، "یہ خانساماں کے کمرے میں جاتی ہے۔"
ہومز نے رسی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا، "یہ تو باقی سامان کے مقابلے میں کافی نئی معلوم ہوتی ہے۔"
"جی ہاں،" ہیلن بولیں، "اسے صرف دو سال پہلے ہی لگایا گیا تھا۔"
"میرا خیال ہے، آپ کی بہن نے اسے لگوانے کی خواہش ظاہر کی ہوگی؟"
"نہیں، ہرگز نہیں۔ میں نے تو کبھی انہیں اس گھنٹی کو استعمال کرتے نہیں دیکھا۔ ہم دونوں اپنی ضرورت کی ہر چیز خود ہی لے لیا کرتی تھیں، اس لیے اس کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔"
ہومز نے معنی خیز انداز میں سر ہلایا۔ "واقعی... پھر تو یہاں اتنی عمدہ گھنٹی لگانے کی کوئی خاص وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں چند لمحے اس فرش کا معائنہ کرنا چاہوں گا۔"
یہ کہتے ہی وہ زمین پر اوندھا لیٹ گیا۔ ایک ہاتھ میں عدسہ تھامے وہ فرش پر آگے پیچھے رینگنے لگا اور تختوں کے درمیان موجود باریک دراڑوں کا نہایت باریکی سے جائزہ لینے لگا۔ اس کے بعد وہ دیواروں کی لکڑی کی پینلنگ کے قریب گیا اور اسی احتیاط سے ہر تختے کا معائنہ کیا۔ پھر وہ اٹھ کر بستر کے پاس آیا، دیر تک اسے غور سے دیکھتا رہا اور اس کے ساتھ والی دیوار پر نظریں دوڑاتا رہا۔ آخر اس نے آگے بڑھ کر گھنٹی کی رسی پکڑی اور پوری طاقت سے ایک جھٹکا دیا۔
"ارے!" اس کے منہ سے بےاختیار نکلا۔ "یہ تو محض دکھاوے کی رسی ہے۔"
ہیلن حیران رہ گئیں۔ "کیا مطلب؟ کیا یہ گھنٹی نہیں بجاتی؟"
"بالکل نہیں۔" ہومز نے رسی کو دوبارہ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ "اس کے ساتھ تو کوئی تار ہی نہیں جڑا ہوا۔ یہ صرف ایک مصنوعی گھنٹی ہے... اور یہی بات اسے غیر معمولی حد تک دلچسپ بنا دیتی ہے۔"
اس نے رسی کے اوپری حصے کی طرف اشارہ کیا۔ "دیکھیے، یہ سیدھی اس ہک سے بندھی ہوئی ہے جو اس چھوٹے سے روشن دان کے عین نیچے لگا ہوا ہے۔"
ہیلن نے چونک کر اوپر دیکھا۔ "کتنی عجیب بات ہے! میں نے تو آج تک اس طرف کبھی غور ہی نہیں کیا۔"
"واقعی عجیب..." ہومز آہستہ سے بڑبڑایا، جبکہ اس کی نظریں اب بھی رسی اور روشن دان کے درمیان گھوم رہی تھیں۔ "اس کمرے میں کئی ایسی باتیں ہیں جو معمول کے مطابق نہیں۔ مثال کے طور پر، آخر کوئی معمار اتنا نادان کیسے ہو سکتا ہے کہ روشن دان باہر کی کھلی فضا میں بنانے کے بجائے دوسرے کمرے میں کھول دے؟ اتنی ہی محنت میں اسے باہر کی ہوا سے بھی جوڑا جا سکتا تھا۔"
ہیلن نے فوراً وضاحت کی، "وہ روشن دان بھی نیا ہے۔ اسے بھی تقریباً دو سال پہلے ہی بنایا گیا تھا۔"
ہومز نے فوراً سوال کیا، "یعنی اسی زمانے میں جب یہ گھنٹی کی رسی لگائی گئی تھی؟"
"جی ہاں،" ہیلن نے جواب دیا۔ "انہی دنوں حویلی میں کئی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔"
"واقعی،" ہومز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "یہ تبدیلیاں خاصی دلچسپ معلوم ہوتی ہیں۔ ایک ایسی گھنٹی کی رسی جو کسی گھنٹی سے جڑی ہی نہیں، اور ایک ایسا روشن دان جو باہر کی ہوا کے بجائے دوسرے کمرے میں کھلتا ہے۔ مس اسٹونر، اگر آپ اجازت دیں تو اب ہم ساتھ والے کمرے کا معائنہ کرنا چاہیں گے۔"
ڈاکٹر گرائمزبی رائلٹ کا کمرہ اپنی سوتیلی بیٹی کے کمرے سے کہیں زیادہ کشادہ تھا، مگر اس کی سادگی تقریباً ویسی ہی تھی۔ ایک فوجی طرز کا بستر، لکڑی کی ایک چھوٹی سی الماری جس میں زیادہ تر طبی اور فنی موضوعات کی کتابیں رکھی تھیں، بستر کے قریب ایک آرام کرسی، دیوار کے ساتھ ایک سادہ لکڑی کی کرسی، درمیان میں ایک گول میز اور ایک بڑی لوہے کی تجوری... یہی وہ چیزیں تھیں جو پہلی نظر میں دکھائی دیتی تھیں۔ ہومز آہستہ آہستہ پورے کمرے میں گھوما اور ہر چیز کو نہایت باریک بینی اور گہری دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
وہ تجوری کے پاس رکا، اپنی انگلیوں سے اس پر ہلکی سی دستک دی اور پوچھا، "اس میں کیا رکھا ہے؟"
ہیلن نے جواب دیا، "میرے سوتیلے والد کے کاروباری اور ذاتی کاغذات۔"
"اوہ! تو آپ نے اس کا اندرونی حصہ دیکھا ہے؟"
"صرف ایک بار، کئی سال پہلے۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت یہ مختلف کاغذات سے بھری ہوئی تھی۔"
ہومز نے سنجیدگی سے پوچھا، "اس میں... مثال کے طور پر... کوئی بلی تو نہیں؟"
ہیلن بےاختیار مسکرا دیں۔ "نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟"
"اچھا... پھر ذرا یہ دیکھیے۔" ہومز نے تجوری کے اوپر رکھا ہوا دودھ سے بھرا ایک چھوٹا سا طشتری نما برتن اٹھایا۔ "اگر بلی نہیں ہے تو پھر یہ دودھ کس کے لیے رکھا جاتا ہے؟"
ہیلن نے جواب دیا، "ہمارے پاس بلی تو نہیں، البتہ ایک چیتا اور ایک بابون ضرور ہیں۔"
"ہاں... بالکل!" ہومز نے دھیرے سے کہا۔ "چیتا بھی آخر ایک بڑی بلی ہی ہے۔ لیکن میرا خیال نہیں کہ دودھ کی یہ معمولی سی طشتری اس کی بھوک مٹا سکتی ہو۔ بہرحال... ایک اور بات ہے جس کی مجھے تصدیق کرنی ہے۔"
وہ لکڑی کی کرسی کے سامنے بیٹھ گیا اور عدسے کی مدد سے اس کی نشست کا نہایت باریک بینی سے معائنہ کرنے لگا، جیسے وہاں کسی نہایت اہم ثبوت کی تلاش ہو۔ چند لمحوں بعد وہ اطمینان سے کھڑا ہوا، عدسہ جیب میں رکھا اور بولا، "بہت خوب... اب یہ معاملہ بھی میری سمجھ میں آ گیا۔"
اسی لمحے اس کی نظر بستر کے ایک کونے سے لٹکتی ہوئی ایک چھوٹی سی چمڑے کی پٹی پر پڑی۔ وہ آگے بڑھا اور اسے ہاتھ میں لے لیا۔ بظاہر وہ کتے کو باندھنے والی عام سی پٹی تھی، مگر اس کا سرا موڑ کر ایک مضبوط پھندا بنا دیا گیا تھا۔
ہومز نے وہ پٹی میری طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا، "واٹسن، تمہاری اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟"
میں نے اسے غور سے دیکھا اور کہا، "یہ تو عام سی چمڑے کی پٹی معلوم ہوتی ہے، لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کے سرے پر یہ پھندا کیوں بنایا گیا ہے۔"
"بالکل!" ہومز نے آہستہ سے کہا۔ "عام پٹی تو ہے، مگر اس پر یہ پھندا ہرگز عام بات نہیں۔" اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی۔ "افسوس... یہ دنیا واقعی برائیوں سے بھری ہوئی ہے، اور جب کوئی ذہین انسان اپنی عقل کو جرم کے لیے استعمال کرنے لگے تو اس سے زیادہ خطرناک چیز شاید ہی کوئی ہو۔"
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر مس اسٹونر کی طرف مڑ کر بولا، "میرا خیال ہے، میں نے یہاں وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے جس کی مجھے ضرورت تھی۔ اگر آپ اجازت دیں تو اب ہم لان میں چلتے ہیں۔"
میں نے اس دن اپنے دوست کے چہرے پر اتنی سختی اور اس کی پیشانی پر اتنی گہری فکر پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ہم تینوں کئی مرتبہ خاموشی سے لان میں ٹہلتے رہے۔ نہ میں اور نہ ہی مس اسٹونر اس کی سوچوں کا سلسلہ توڑنے کی ہمت کر سکے۔ وہ کسی گہرے راز کی کڑیاں اپنے ذہن میں جوڑ رہا تھا۔
آخرکار وہ اپنی خاموشی سے باہر آیا اور نہایت سنجیدہ لہجے میں بولا، "مس اسٹونر، اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ آپ میری ہر ہدایت پر من و عن عمل کریں۔ ذرا سی بھی کوتاہی آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔"
ہیلن نے فوراً پُرعزم انداز میں جواب دیا، "میں آپ کی ہر بات پر پوری طرح عمل کروں گی۔"
"یہ معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کی گنجائش نہیں۔ ممکن ہے آپ کی جان کا انحصار اسی بات پر ہو کہ آپ میری ہر ہدایت پر مکمل عمل کریں۔"
ہیلن اسٹونر نے نہایت اعتماد سے جواب دیا، "میں آپ کو یقین دلاتی ہوں، مسٹر ہومز، اب میں مکمل طور پر آپ کے سپرد ہوں۔"
ہومز نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر انتہائی سنجیدہ لہجے میں بولا، "سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آج رات میں اور میرا دوست واٹسن، دونوں آپ کے کمرے میں قیام کریں گے۔"
یہ سنتے ہی ہیلن اسٹونر اور میں ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔ ہومز کی اس غیر متوقع تجویز نے ہم دونوں کو ششدر کر دیا تھا۔
"جی ہاں،" ہومز نے ہماری حیرانی بھانپتے ہوئے کہا، "ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ میں آپ کو پوری بات سمجھاتا ہوں۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو سامنے جو سرائے نظر آ رہی ہے، وہی گاؤں کی واحد سرائے ہے؟"
"جی ہاں،" ہیلن نے جواب دیا، "اس کا نام کراؤن اِن ہے۔"
"بہت اچھا۔ وہاں سے آپ کے کمرے کی کھڑکی صاف دکھائی دیتی ہوگی؟"
"جی، بالکل۔"
ہومز نے سر ہلاتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی بیان کرنا شروع کی۔ "جب آج شام آپ کے سوتیلے والد واپس آئیں تو آپ سر درد کا بہانہ بنا کر سیدھی اپنے کمرے میں چلی جائیں اور وہیں رہیں۔ پھر جب آپ کو یقین ہو جائے کہ وہ رات کے لیے اپنے کمرے میں جا چکے ہیں، تو اپنی کھڑکی کے شٹر کھول دیجیے، اندر لگی کنڈی ہٹا دیجیے، اور کھڑکی پر اپنا روشن لیمپ رکھ دیجیے۔ یہی ہمارے لیے اشارہ ہوگا کہ راستہ صاف ہے۔ اس کے بعد خاموشی سے اپنی ضرورت کا تمام سامان لے کر اپنے پرانے کمرے میں چلی جائیے۔ میرا خیال ہے کہ مرمت کے باوجود آپ ایک رات وہاں بآسانی گزار سکتی ہیں۔"
ہیلن نے فوراً جواب دیا، "جی ہاں، اس میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔"
"بہت خوب۔" ہومز نے اطمینان سے کہا۔ "اس کے بعد باقی تمام معاملہ ہمارے حوالے چھوڑ دیجیے۔"
ہیلن نے متجسس انداز میں پوچھا، "لیکن آپ دونوں وہاں کیا کریں گے؟"
ہومز کی آنکھوں میں ایک پُراسرار چمک ابھری۔ وہ آہستہ سے بولا، "ہم پوری رات آپ کے کمرے میں رہیں گے... اور اس پراسرار آواز کے اصل منبع کا پتہ لگائیں گے، جو کئی راتوں سے آپ کی نیند اور سکون دونوں کو چھینتی آ رہی ہے۔"

