اس کے جسم پر بننے والے چھوٹے چھوٹے کٹ کے نشانات۔
کبھی بازو پر، کبھی کلائی پر، کبھی کندھے کے قریب— اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے ان کا لگنا محسوس ہی نہیں ہوتا تھا۔
اکیلے میں اسے اپنے ماں باپ اور بہنوں کی بہت یاد آتی۔ ایک دن اس نے زمان سے کہا کہ وہ اسے گھر فون کروائے۔
زمان نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا، “یہاں سگنل نہیں آتے…”
سونیہ نے اسے وقتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔
“چند دن کی ہی تو بات ہے…” اس نے خود کو تسلی دی۔
ادھر سونیہ کے والدین اور بہنیں اس سے ملنے اس کے سسرال پہنچے…
مگر وہاں جا کر وہ حیران رہ گئے۔
گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔
انہوں نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھا تو ایک چونکا دینے والی بات سامنے آئی—
“اس گھر میں تو پچھلے پانچ سال سے کوئی نہیں رہتا… آخری فیملی تو بیرونِ ملک منتقل ہو گئی تھی…”
یہ سن کر سب کے ہوش اڑ گئے۔
حالانکہ… سونیہ کے والدین اسی گھر میں زمان اور اس کے خاندان سے ملے تھے۔
انہوں نے بار بار زمان اور اس کے والد کا نمبر ملایا— مگر دونوں بند جا رہے تھے۔
شدید پریشانی اور خوف کے عالم میں وہ واپس لوٹ آئے…
اور اب— ایک ایسا سوال ان کے ذہن میں گردش کر رہا تھا، جس کا جواب شاید بہت خوفناک تھا…
آخر سونیہ کس کے ساتھ رہ رہی تھی…؟
سورج غروب ہو چکا تھا اور آہستہ آہستہ اندھیرا پورے گھر پر چھانے لگا تھا۔ زمان ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ سونیہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی کہ اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے کئی لوگ دھیمی آواز میں سرگوشیاں کرتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ رہے ہوں۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
وہ کچن سے باہر نکلنے کے لیے مڑی ہی تھی کہ اسی لمحے چھ لڑکیاں دروازے کے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔
ان کے چہرے زردی مائل، کپڑے پھٹے ہوئے، اور پورے جسم پر گہرے کٹ کے نشان تھے—ایسے جیسے کسی نے انہیں بے دردی سے چیر دیا ہو۔
سونیہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
یہ وہی لڑکیاں تھیں… جو اسے خواب میں دلہن کے لباس میں نظر آئی تھیں— اور زمان کو اپنا شوہر کہہ رہی تھیں۔
وہ سب آہستہ آہستہ سونیہ کی طرف بڑھنے لگیں۔ ان کی آوازیں بھاری اور کھردری تھیں، مگر سب ایک ساتھ بول رہی تھیں:
“بھاگ جاؤ یہاں سے… ابھی بھی وقت ہے…” “زمان سے دور چلی جاؤ…” “اسے بتائے بغیر بھاگ جاؤ… ورنہ وہ تمہیں ڈھونڈ کر واپس لے آئے گا…”
سونیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے گھبراہٹ میں کچن سے چاقو اٹھایا اور ان کی طرف لہرا کر چیخی، “دور رہو مجھ سے! میرے پاس مت آنا!”
وہ لڑکیاں بظاہر انسان نہیں لگ رہی تھیں… کسی بھٹکتی روحوں کا سایہ تھیں۔
مگر حیرت انگیز طور پر، چاقو دیکھ کر وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گئیں۔
یہ موقع غنیمت جان کر سونیہ تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی۔ اس کے پیچھے ان لڑکیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں:
“بھاگ جاؤ… واپس مت آنا…”
سونیہ دوڑتی ہوئی گیٹ تک پہنچی—
اور اچانک زمان سے ٹکرا گئی، جو اسی وقت گھر میں داخل ہو رہا تھا۔
اسے اس حال میں دیکھ کر زمان گھبرا گیا، مگر اس کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی سونیہ بے ہوش ہو کر اس کے سامنے گر پڑی۔
زمان فوراً اسے اٹھا کر کمرے میں لے گیا۔
کچھ دیر بعد جب سونیہ کو ہوش آیا تو وہ بری طرح خوفزدہ تھی۔ “میں یہاں ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتی!” اس نے لرزتی آواز میں کہا۔
زمان نے بے بسی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی، “سونیہ، پلیز میری مجبوری سمجھو… چالیس دن سے پہلے ہم یہاں سے نہیں جا سکتے۔ تمہیں وہم ہوا ہے۔ بھلا اس گھر میں لڑکیاں کہاں سے آئیں گی؟”
```0سونیہ نے روتے ہوئے اپنے جسم پر بنے بے شمار کٹ کے نشانات اسے دکھائے، “یہ دیکھیں! یہ سب انہوں نے کیا ہے میرے ساتھ! ان کے اپنے جسموں پر بھی ایسے ہی زخم تھے… میں یہاں نہیں رہ سکتی… خدا کے لیے مجھے واپس چھوڑ آئیں…”
زمان کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے۔ “تم زیورات پہن کر سوتی ہو، اسی لیے یہ کٹ لگ گئے ہوں گے۔ خدا کے لیے میرا دماغ مت خراب کرو، سونیہ! مجھے تمہاری ذہنی حالت پر شک ہونے لگا ہے… تمہیں اکیلے رہنے کی عادت نہیں، اسی لیے وہم کر رہی ہو۔”
پھر اس نے کچھ نرم ہوتے ہوئے کہا، “میں اپنی امی کو یہاں بلا لیتا ہوں… اب ٹھیک ہے نا؟”
سونیہ کچھ نہ بولی۔ آنسوؤں میں ڈوبی، وہ اسی طرح سو گئی۔
زمان آہستہ سے کمرے سے باہر نکلا اور صحن میں درختوں کے جھنڈ کے نیچے جا کر رک گیا۔
اس نے دونوں ہاتھ جوڑے، آنکھیں بند کیں، اور دھیمی مگر سنجیدہ آواز میں بولنے لگا:
“اے رانی تشنکہ… اے کالی طاقتوں کی ملکہ… اے شیطان کی عظیم پجارن…
جیسے تو نے اب تک میرا ساتھ دیا، ویسے ہی اب بھی میری مدد کر…
میری طاقت ابھی اتنی نہیں کہ ان چھ لڑکیوں کی بھٹکتی روحوں کو سونیہ سے دور رکھ سکوں… وہ اسے یہاں سے بھگانے کی کوشش کر رہی ہیں…
صرف تو ہی ہے جو انہیں روک سکتی ہے… میری مدد کو پہنچ… جلدی…”
اپنا پیغام اس ان دیکھی طاقت تک پہنچا کر وہ خاموشی سے واپس مڑا—
اور کمرے میں داخل ہو گیا…
گزشتہ شام کے خوفناک واقعے کے بعد سونیہ بستر سے اٹھنے کی ہمت بھی نہ کر سکی۔ وہ خوف کے مارے کمرے میں ہی سمٹی رہی۔ زمان نے اس کے لیے ناشتہ بھی کمرے میں لا کر دیا۔
اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔
زمان کے چہرے پر فوراً مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی عورت کھڑی تھی، جو سونیہ کے گھر زمان کی ماں بن کر رشتہ لے کر گئی تھی۔
زمان فوراً عقیدت سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ذرا سا جھکا اور بولا، “مجھے معلوم تھا کہ میرے بلانے پر آپ ضرور آئیں گی، رانی تشنکہ… مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ میرے عمل کے مکمل ہونے میں صرف گیارہ دن باقی ہیں۔ اگر ان بھٹکتی روحوں نے سونیہ کو حقیقت بتا کر یہاں سے بھگا دیا تو میری برسوں کی محنت ضائع ہو جائے گی۔”
تشنکہ نے ایک عجیب سی ممتا بھرے لہجے میں کہا، “تو میرے بچوں جیسا ہے… میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ سونیہ تیرا ساتواں اور آخری شکار ہے۔ اس کے بعد تیرا عمل مکمل ہو جائے گا، اور شیطان دیوتا تجھے کالی طاقتوں سے نواز دیں گے۔ تیرے دل کی ہر مراد پوری ہو جائے گی۔”
وہ کچھ رکی، پھر دھیمے مگر خوفناک انداز میں بولی، “تو فکر نہ کر… ان لڑکیوں کی روحوں کو میں قید کر دیتی ہوں۔ طاقتیں حاصل کرنے کے بعد تو خود سونیہ سمیت ان سب کو ہمیشہ کے لیے اس قید سے آزاد کر دینا…”
زمان کے چہرے پر ایک خطرناک اطمینان ابھر آیا۔ وہ اسے اندر لے گیا۔ اس کی کیفیت ایسی تھی جیسے وہ اس کے قدموں میں اپنی جان بھی نچھاور کر دے۔
یہ وہی تشنکہ تھی— جس کے دل میں انسانیت کے لیے ذرہ برابر رحم نہ تھا، جس نے کالی طاقتوں کے حصول کے لیے بے شمار معصوم جانیں قربان کی تھیں…
اور اسی نے زمان کو ماں بن کر پالا تھا۔
اب وہ اسے شیطان دیوتا کا خاص چیلہ بنانے جا رہی تھی۔
“سونی! دیکھو کون آیا ہے!”
زمان نے کمرے میں داخل ہوتے ہی خوشی سے کہا۔
سونیہ نے جیسے ہی تشنکہ کو دیکھا، خوشی سے اس کے گلے لگ گئی۔ “آنٹی! آپ کیسی ہیں؟ شکر ہے آپ آ گئیں… میں تو زمان سے کہہ رہی تھی کہ مجھے آپ لوگوں کے پاس چھوڑ آئیں…”
تشنکہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور نرمی سے بولی، “ارے میری بچی… تم تو بہت کمزور ہو گئی ہو…”
دونوں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ تھوڑی دیر بعد زمان آفس جانے کا کہہ کر گھر سے نکل گیا۔
تشنکہ کے آنے کے بعد گھر کا ماحول بظاہر بدل گیا۔
وہ خوفناک لڑکیاں دوبارہ سونیہ کو نظر نہ آئیں… گھر میں ایک عارضی سا سکون چھا گیا۔
مگر اس سکون کے پیچھے ایک بھیانک حقیقت چھپی تھی۔
سونیہ دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ اس کے جسم پر کٹ کے نشانات بڑھتے جا رہے تھے۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے نمایاں ہو چکے تھے، اور رنگت زرد پڑتی جا رہی تھی۔
تشنکہ بظاہر اس کا بہت خیال رکھتی— اسے جوس، پھل، اور مختلف چیزیں کھلاتی پلاتی۔
سونیہ مطمئن تھی…
کیونکہ وہ اس ہولناک کھیل سے مکمل طور پر بے خبر تھی، جو اس کے ساتھ کھیلا جا رہا تھا۔
اب چالیس دن مکمل ہونے میں صرف تین دن باقی رہ گئے تھے…
اسی رات، سونیہ کو سلا کر زمان باہر آیا اور تشنکہ کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر ایک زہریلی سنجیدگی تھی۔
وہ دھیمی مگر نفرت سے بھری آواز میں بولا، “بس تین دن باقی ہیں، رانی… پھر میں انسپکٹر سجاد شاہ کو ایسی اذیتیں دوں گا کہ وہ مرنے کی دعا مانگے گا۔”
اس کی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
“اسی نے میرے ماں باپ کو پھانسی تک پہنچایا… میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد ان کی موت کا بدلہ لینا ہے۔ اگر اس کے پاس روحانی طاقتیں نہ ہوتیں تو میں کب کا اسے مار چکا ہوتا…”
وہ کچھ لمحے رکا، پھر تلخی سے بولا، “اس کی وجہ سے میں لاوارث ہو گیا تھا… اگر تم مجھے نہ سنبھالتیں تو میں شاید گلیوں میں مر کھپ جاتا…”
اس کی آواز نرم پڑ گئی۔
“تم میرے لیے ماں سے بڑھ کر ہو…”
تشنکہ نے خاموشی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا— مگر اس کے لبوں پر ابھرنے والی ہلکی سی مسکراہٹ، کسی ماں کی نہیں… بلکہ ایک خطرناک کھیل جیتنے والی کھلاڑی کی تھی…
سونیہ نے خود کو ایک اندھیرے کمرے میں پایا۔ وہی چھ لڑکیاں زنجیروں میں جکڑی ہوئی روتے ہوئے اسے کہہ رہی تھیں:
“ہم نے تمہیں بچانے کی پوری کوشش کی تھی، لیکن تمہاری قسمت میں بھی ہماری طرح بربادی لکھی تھی۔ اب تم بھی بدروح بن کر ہمارے ساتھ اس مکان میں بھٹکتی رہو گی۔”
سونیہ کے ہونٹ بمشکل ہلے: “نہیں… ایسا نہیں ہو سکتا…”
اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا جسم بالکل بے جان محسوس ہو رہا تھا۔ قریب بیٹھے زمان کو دیکھ کر اس نے مدھم آواز میں کہا: “مجھے ان لڑکیوں جیسا نہیں بننا… زمان، پلیز مجھے یہاں سے لے جائیں…”
زمان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا: “بس دو دن اور، سونی… پھر ہم واپس چلے جائیں گے، اور تمہارے امی ابو سے بھی ملنے جائیں گے۔”
سونیہ نے کمزور سی مسکراہٹ کی کوشش کی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین اور بہنوں کے چہرے گھومنے لگے۔
زمان نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا: “سو جاؤ، سونی…”
اور وہ خود بھی لیٹ گیا۔
رات کے تقریباً تین بجے، زمان کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ وہ اٹھا اور خاموشی سے باہر چلا گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا شیشے کا گلاس اور ایک چاقو تھا۔
اس نے کچھ منتر پڑھے اور سونیہ پر پھونک مار دی، جس سے وہ گہری بے ہوشی میں چلی گئی۔ پھر اس نے اس کے پیروں سے چادر ہٹائی اور چاقو سے اس کے تلوے پر تقریباً دو انچ لمبا کٹ لگا دیا۔ خون بہنے لگا، جسے اس نے گلاس میں جمع کرنا شروع کر دیا۔
وہ ایک کے بعد ایک کٹ لگاتا رہا، یہاں تک کہ گلاس بھر گیا۔
اس کے بعد اس نے بیڈ کے نیچے سے ایک بیگ نکالا، جس میں سے ایک کھوپڑی نکالی۔ صحن میں درختوں کے جھنڈ کے نیچے اس نے ایک دائرہ بنایا، کھوپڑی کو درمیان میں رکھا، اور خون سے بھرا گلاس اس کے اوپر رکھ دیا۔
وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا، آنکھیں بند کیں اور منتر پڑھنے لگا۔
کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں، گلاس اٹھایا اور سارا خون پی گیا۔
پھر انتہائی عقیدت کے ساتھ کھوپڑی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر دوبارہ بیگ میں رکھا اور اندر جانے کے لیے مڑا—تو سامنے تشنکہ کو کھڑا پایا۔
“میرے بچے…” تشنکہ نے نرمی مگر عجیب لہجے میں کہا، “تیری یہ لگن دیکھ کر شیطان دیوتا بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ تو نے ان کی اطاعت میں اپنے ضمیر اور اپنی انسانیت تک قربان کر دی۔ تو بہت آگے جائے گا… تو ان کا سچا پرستار ہے۔”
زمان نے جھک کر اس کے ہاتھ چومے: “مجھے زندگی دینے والی رانی… میرے پاس چاہے جتنی بھی طاقتیں آ جائیں، میں ہمیشہ آپ کا غلام رہوں گا۔ آپ میری ماں سے بڑھ کر ہیں…”
تشنکہ نے مسکرا کر اس کے گال پر ہاتھ پھیرا: “جیتا رہ، میرے بچے…”
زمان کے اندر جاتے ہی تشنکہ زور سے ہنس پڑی۔
“اسی لیے تو میں نے تجھ پر اتنے احسان کیے… تاکہ تو ان کے بوجھ تلے دبا رہے۔ تیری ماں اولاد کی خواہش میں میرے پاس آئی تھی۔ میں نے اسے کالی طاقتوں کا راستہ دکھایا۔ اس نے میرے کہنے پر شیطان دیوتا کو سات نومولود بچوں کا خون پیش کیا… تب جا کر تجھے حاصل کیا۔
تجھ پر شیطان کی خاص نظر ہے… بس تیرے اندر کی ساری اچھائیاں ختم کرنا باقی تھا—جو میں نے کر دیا۔
اب تو دیوتا کا خاص چیلہ بن جائے گا… اور تیری طاقتیں… میری ہوں گی…”
وہ ایک بار پھر مسکرائی، اس کی آنکھوں میں خطرناک چمک تھی۔
“اب بس… کل رات کا انتظار ہے…”
سجاد شاہ تکیے سے ٹیک لگائے کتاب پڑھ رہے تھے کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ حنین نے اجازت لے کر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ادب سے سر جھکایا اور کہا:
“جی بابا جان، آپ نے بلایا تھا؟”
سجاد شاہ نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور سنجیدگی سے کہا: “آج میں تمہارے دوست حماد کے گھر گیا تھا، اس کے والد سے ایک کام کے سلسلے میں۔ وہاں حماد نے بتایا کہ تم اس محلے کی کسی لڑکی میں دلچسپی رکھتے ہو۔”
حنین نے دل ہی دل میں حماد کو کوسا۔ اس نے ماتھے کا پسینہ صاف کیا، بولنے کے لیے منہ کھولا مگر آواز نہ نکلی۔ گلا کھنکار کر بمشکل بولا:
“نہیں بابا جان، میں نے اس لڑکی پر کوئی بری نظر نہیں رکھی۔ ایک دن حماد سے ملنے گیا تھا تو وہ گلی میں نظر آئی۔ وہ بہت معصوم اور باحیا لگی، اسی لیے کبھی کبھار حماد سے اس کے بارے میں پوچھ لیتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں، مجھے اپنے خاندان کی عزت اور وقار کا پورا خیال ہے۔ میں نے آج تک آپ کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔”
سجاد شاہ نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا اور اس کے دل کی کیفیت بھانپ لی۔ پھر شفقت سے بولے: “میں نے حماد کے والدین سے اس لڑکی کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کر لی ہیں۔ وہ شریف لوگ ہیں۔ تم تیار رہنا، کل ہم رشتہ لے کر ان کے گھر جائیں گے۔”
حنین کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ اس نے اپنی خوشی چھپاتے ہوئے کہا: “جی بابا جان، جیسے آپ کا حکم۔”
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا، جبکہ سجاد شاہ مسکراتے ہوئے دوبارہ کتاب پڑھنے لگے۔
اگلے دن دونوں لڑکی والوں کے گھر گئے اور آنے کا مقصد بیان کیا۔
لڑکی کے والد کے چہرے پر تشویش چھا گئی۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا: “ہم اس وقت رشتہ نہیں کر سکتے۔”
سجاد شاہ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے گہری سانس لے کر بتایا: “ایک ماہ پہلے ہی ہم نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کی تھی، مگر اس کے سسرال والوں نے دھوکہ دیا۔ انہوں نے کسی اور کا گھر اپنا ظاہر کیا، اور شادی کے بعد ہماری بیٹی کو لے کر غائب ہو گئے۔ آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ نہ جانے ان کے کیا ارادے تھے کہ دوسرے ہی دن سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم بہت پریشان ہیں، اور پولیس بھی کوئی خاص مدد نہیں کر رہی۔”
سجاد شاہ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر بولے: “آپ میرے ساتھ پولیس اسٹیشن چلیں۔ میں ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہوں، اور الحمدللہ میرے کچھ تعلقات اب بھی موجود ہیں۔ ہم جلد ہی آپ کی بیٹی تک پہنچ جائیں گے۔ اللہ اس بچی کی حفاظت فرمائے۔ اس معاملے کے حل کے بعد ہم رشتے کی بات دوبارہ کر لیں گے۔”
لڑکی کے والد ان کے ساتھ پولیس اسٹیشن گئے اور کیس سے متعلق تمام تفصیلات جمع کرا دیں۔ وہ اپنی بیٹی کی شادی کی تصاویر بھی ساتھ لائے تھے، جن میں اس کا شوہر اور ساس سسر بھی موجود تھے، تاکہ پولیس کو انہیں تلاش کرنے میں آسانی ہو۔
سجاد شاہ کی نظر جب ان تصاویر میں موجود لڑکی کی ساس پر پڑی، تو وہ چونک گئے۔
یہ چہرہ ان کے ماضی کے کسی دھندلے مگر خوفناک باب سے جڑا ہوا تھا۔
سجاد شاہ روحانی عملیات میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے انہوں نے مغرب کی نماز کے بعد تنہائی اختیار کی اور عمل شروع کیا۔
کچھ ہی دیر میں پوری کہانی کے مناظر ان کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگے…
“بابا جان… اب تو بتا دیں، اتنی رات کو دوسرے شہر سفر کرنے کی کیا مجبوری ہے؟ ہم کل صبح بھی تو جا سکتے تھے نا؟”
حنین نے گاڑی چلاتے ہوئے پیچھے بیٹھے سجاد شاہ سے پوچھا، جو تسبیح کے دانے گھماتے ہوئے کچھ پڑھ رہے تھے۔
انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا: “کل صبح تک بہت دیر ہو چکی ہو گی… ہمیں تین بجنے سے پہلے مطلوبہ جگہ پہنچنا ہوگا۔ گاڑی تیز چلاؤ۔”
حنین نے قدرے پریشانی سے کہا: “آپ پہلے پوری بات تو بتائیں، بابا جان… مجھے بھی تو معلوم ہو کہ ہم کیوں جا رہے ہیں۔”
سجاد شاہ نے گہری سانس لے کر کہنا شروع کیا: “ہم اس کہانی کا اختتام کرنے جا رہے ہیں… جو تیس سال پہلے شروع ہوئی تھی۔”
حنین خاموشی سے سنتا رہا، جبکہ گاڑی رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔
سجاد شاہ بولے: “تیس سال پہلے، جب میری یہاں پوسٹنگ ہوئی تھی، اس شہر کے ایک ہسپتال سے چالیس دن کے اندر سات نومولود بچے غائب ہو گئے تھے۔ میں نے اور میرے عملے نے بہت کوشش کی، مگر کوئی سراغ نہ مل سکا۔”
وہ لمحہ بھر رکے، پھر بولے: “آخرکار ایک سال بعد ہماری محنت رنگ لائی، اور ہم مجرموں تک پہنچ گئے۔ وہ میاں بیوی تھے۔ بیوی نرس تھی اور شوہر اسی ہسپتال میں چوکیدار۔ دورانِ حراست انہوں نے اعتراف کیا کہ بچوں کے اغوا کے پیچھے انہی کا ہاتھ تھا۔”
حنین کی گرفت اسٹیئرنگ پر مضبوط ہو گئی۔
سجاد شاہ نے بات جاری رکھی: “وہ بے اولاد تھے… اور کسی کالے علم کے ماہر نے انہیں ایک مکروہ عمل بتایا تھا—سات نومولود بچوں کو ذبح کر کے شیطانی قوتوں کو بیدار کرنا۔ انہوں نے وہ عمل کیا… اور نتیجتاً اس نرس کی گود بھر گئی۔”
“جب میں نے انہیں گرفتار کیا، تب ان کا بیٹا پیدا ہو چکا تھا۔ دونوں کو پھانسی کی سزا ہوئی۔ ان کی خواہش پر بچے کو ایک جاننے والی عورت کے حوالے کر دیا گیا…”
وہ لمحہ بھر کے لیے رکے، پھر دھیرے سے بولے: “وہ عورت… اشتیاق صاحب کی سمدھن تھی۔ اور ان کا داماد زمان… وہی بچہ ہے۔”
حنین چونک گیا: “کیا…؟!”
سجاد شاہ نے سنجیدگی سے کہا: “اور اب… وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: “اشتیاق صاحب کی بیٹی کی شادی کو آج پورے چالیس دن ہو چکے ہیں۔ اگر میرا علم درست ہے… تو آج رات تین بجے کے بعد یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ بچی کی جان خطرے میں ہے۔ ہمیں جلدی پہنچنا ہوگا۔”
حنین نے اب پوری توجہ سے ڈرائیونگ شروع کر دی، جبکہ سجاد شاہ اسے راستہ بتاتے جا رہے تھے۔
ادھر، زمان اور تشنکہ بے حد پرجوش تھے۔
عمل کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی وہ دونوں کمزور اور لاغر پڑی سونیہ کی طرف بڑھے۔ تشنکہ نے اسے سہارا دے کر بٹھایا، جبکہ زمان نے چاقو اٹھا لیا۔
آج اس نے سونیہ کو بے ہوش کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔
اب سچ چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں رہا تھا… اور نہ ہی سونیہ میں اتنی طاقت بچی تھی کہ وہ مزاحمت کر سکتی۔
سونیہ نے نیم وا آنکھوں سے زمان کے ہاتھ میں چاقو دیکھا۔ وہ بےدردی سے اس کے گال پر کٹ لگا کر ٹپکتا ہوا خون گلاس میں جمع کر رہا تھا۔
اس نے بمشکل دھیمی آواز میں کہا: “زمان… آپ… یہ سب آپ کر رہے تھے میرے ساتھ…؟”
مگر اس کی بات ادھوری رہ گئی۔ جیسے ہی گلاس بھر گیا، زمان وہاں سے ہٹ گیا۔
سونیہ کی آواز بھی اب ختم ہو چکی تھی۔
تشنکہ نے اسے چھوڑ دیا، اور وہ بے جان سی بستر پر گر گئی۔ اس کی بند آنکھوں سے آنسو بہہ کر گالوں پر پھیل گئے، اور اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔
زمان اور تشنکہ کمرے سے باہر نکل گئے۔
جب وہ صحن میں پہنچے تو وہاں غیر معمولی گہماگہمی دیکھ کر زمان گھبرا گیا۔
اس نے بے چینی سے تشنکہ کی طرف دیکھا…
تشنکہ نے اسے پیار سے بہلاتے ہوئے کہا: “یہ سب ہمارے ہی ساتھی ہیں، بیٹا… تیری خوشی میں شریک ہونے آئے ہیں۔”
زمان نے غور سے سب کو دیکھا۔ زرد آنکھوں اور سرخ ہونٹوں والے یہ لوگ وہی تھے، جو اس کی ساتوں شادیوں میں باراتی بنے تھے۔
اس نے زمین پر ایک دائرہ بنایا، اس کے اندر کھوپڑی رکھی اور اس کے اوپر خون سے بھرا گلاس رکھ دیا۔
اچانک تیز ہوا کے جھونکے چلنے لگے، اور کھوپڑی روشن ہو گئی۔
تشنکہ سمیت سب خوشی سے نعرے لگانے لگے: “شیطان دیوتا خود حاضر ہو گئے… شیطان دیوتا خود حاضر ہو گئے!”
کھوپڑی میں سے ایک خوفناک آواز گونجی: “میرے تابعدارو، سب سن لو… اس لڑکے نے اپنی ماں کی طرح سچی لگن سے میری پرستش کی ہے۔ میں اس سے بہت خوش ہوں۔ آج میں اسے ایسی طاقتوں سے نوازوں گا کہ مستقبل میں جب بھی میرا ذکر ہوگا، اس کا نام بھی لیا جائے گا۔
تو روز مجھے پکارتا ہے… دور سے پوجتا ہے… اب اپنا عمل شروع کر، میرے لاڈلے۔ آج میں خود تیرے سامنے بیٹھ کر تیری عقیدت دیکھوں گا۔”
وہاں موجود تمام شیطانی کارندے زمان کو مبارکباد دینے لگے۔
زمان خوشی سے بے قابو ہو کر تشنکہ کے گلے لگ گیا۔ اس کے ہاتھ چومنے کے بعد وہ دیوتا کے سامنے بیٹھا اور منتر پڑھنا شروع ہی کیا تھا کہ اچانک وہاں موجود شیطانی لوگوں میں کھلبلی مچ گئی۔
سجاد شاہ اور حنین وہاں پہنچ چکے تھے۔
تشنکہ نے حیرت سے کہا: “یہ یہاں کیسے آ گئے؟”
زمان نے سجاد شاہ کو دیکھتے ہی غصے سے چیخ کر کہا: “تو آ ہی گیا، سجاد شاہ! آخر تیری موت تجھے خود میرے سامنے لے آئی۔ آج تیس سال بعد میں اپنے ماں باپ کی موت کا بدلہ لوں گا!”
تشنکہ نے فوراً اسے روکتے ہوئے کہا: “زمان! پہلے اپنا عمل مکمل کر، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اسے ہم سنبھال لیں گے۔”
زمان دوبارہ بیٹھ گیا اور تیزی سے منتر پڑھنے لگا۔
ادھر موجود شیطانی کارندے چاروں طرف سے سجاد شاہ اور حنین کی طرف بڑھنے لگے، مگر سجاد شاہ نے اپنے اور حنین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر رکھا تھا۔ جو بھی ان کے قریب آنے کی کوشش کرتا، وہ ایسے پیچھے جا گرتا جیسے کسی نے زور سے اسے دھکا دے کر پھینک دیا ہو۔
حنین یہ سب دیکھ کر خوفزدہ ہو کر وہیں گر گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔
سجاد شاہ نے اسے سنبھالا، پھر “چاروں قل” پڑھ کر زمان کی طرف رخ کیا اور پھونک مار دی۔
ان کی معمولی سی پھونک ایک تیز ہوا کے جھونکے میں بدل کر زمان کی طرف بڑھی اور کھوپڑی کے اوپر رکھا گلاس نیچے گر گیا۔ سارا خون زمین پر گر کر مٹی میں جذب ہو گیا۔
تشنکہ صدمے سے چیخ اٹھی: “پاگل بوڑھے! یہ کیا کر دیا تو نے؟ ہماری سالوں کی محنت برباد کر دی!”
وہ چیخنے لگی۔
زمان کچھ لمحوں تک ساکت بیٹھا رہا، جیسے پتھر کا بن گیا ہو۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک لمحے میں اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
پھر وہ غصے سے بپھر اٹھا: “سجاد شاہ… تو نے اچھا نہیں کیا!”
وہ آگ بگولہ ہو کر اٹھا اور غصے میں زمین پر زور سے پاؤں مارا۔
مگر غلطی سے اس کا پاؤں اسی شیطانی کھوپڑی پر پڑ گیا، جو ٹوٹ کر چکنا چور ہو گئی۔
کھوپڑی کے ٹوٹتے ہی زمین جیسے ہلنے لگی۔
تشنکہ دونوں ہاتھوں سے سر پیٹتے ہوئے چیخ اٹھی: “یہ تو نے کیا کر دیا، زمان؟! تو نے شیطان دیوتا کی توہین کر دی…!”
شیطان کی غصے سے چنگھاڑتی آواز فضا میں بلند ھوئی
گستاخ لڑکے۔۔ابھی میں نے تجھے طاقت دی نہیں اور تو اتنا سرکش ھوگیا۔۔۔میری توہین بہت مہنگی پڑے گی تجھے
اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اسے مارڈالو
پل بھر میں منظر بدلا جو لوگ تھوڑی دیر پہلے زمان کی خوش قسمتی پہ رشک کررھے تھے اسے مبارکبادیں دے رھے تھے وہ اپنے دیوتا کے حکم کی تعمیل کرتے ھوئے اسے پیٹنے لگے
زمان دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگا مگر بے سود۔۔اس نے تشنکہ سے التجا کی
رانی۔مجھے بچا لےشیطان دیوتا کو بتا کہ میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا
تشنکہ نے حقارت سے دیکھتے ھوئے اسکے منہ پہ لات رسید کر کے کہا
لعنت ھے تجھ پر۔۔میں نے تجھے پالا پوسا تاکہ تجھ سے کچھ نفع حاصل کرسکوں مگر تو نے دیوتا کو ھی ناراض کردیااب بھی اگر تیری طرفداری کی تو دیوتا مجھے اپنی شیطانی دنیا سے بے دخل کردیں گے۔۔تیرا مر جانا ھی بہتر ھے منحوس۔۔جیتی ھوئی بازی ھار گیا
زمان کو اسکے سلوک پہ حیران ھونے کا بھی موقع ناملا اسکے ناک اور منہ سے خون کے فوارے پھوٹنے لگے۔۔
سجاد شاہ زمان کو اپنی موت آپ مرتے دیکھ کر حنین کو ھوش میں لانے کے بعد سونیہ کو تلاش کرنے لگے جو انہیں ایک کمرے میں بے سدھ پڑی ملی
شاہ جی نے اسکی سانس چیک کی اور افسردہ ھوگئے۔۔اسکی روح پرواز کرچکی تھی۔۔
باھر تشنکہ سمیت سب شیطانی کارندے زمان کو ھلاک کرکے جاچکے تھے۔۔زمان کی لاش خون میں تر درختوں کے نیچے پڑی تھی
سجاد شاہ نے اسکی طرف اشارہ کر کے حنین سے کہا
دیکھا بیٹا آپ نے اسکا حشر۔۔ جس کو خوش کرنے کیلئےاس سات معصوموں کی جان لی اور پتہ نہیں کتنے شیطانی عمل کئے اس دیوتا نے اسکی ھزاروں تابعداریوں کو بھلا کر فقط ایک غلطی کی کتنی بھیانک سزادی۔
اور دوسری طرف ھمارا اللہ ھے۔۔ھم لاکھ گناہ کرنے کے بعد سچے دل سےجب استغفار کرلیں تو وہ اپنی رحمت کے سائے میں لےلیتا ھے۔۔بلاشبہ وہ وحدہ لاشریک ھے۔۔ اسکے مخالف اسی کے پیداکردہ ھوکر اسکی ھی نافرمانی کرت
ے ھیں اور ان کا انجام یہی ھوتا ھے۔۔
سونیہ کی میت اسکے گھر بھجواکر سجاد شاہ نے زمان کے گھر کے تہہ خانے سے ان لڑکیوں کی بوسیدہ ھڈیوں کوجمع کیا جن سے زمان نے دھوکے سے شادی کر کے اپنے شیطانی عمل میں ان کا استعمال کیاتھا۔۔
📖 ہماری مزید بہترین خوفناک کہانیاں
ہماری اور بھی بہترین خوفناک کہانیاں چیک کریں
یہ خوفناک کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔
👉 مزید خوفناک کہانیاں دیکھیں
