سونیہ کی شادی اس کے والدین کی پسند سے ہو رہی تھی۔ اس سے چھوٹی اس کی چار بہنیں بھی تھیں، اسی لیے جب یہ رشتہ آیا تو اس کے والدین نے لڑکے کے خاندان کے بارے میں زیادہ چھان بین کرنے کے بجائے خدا کا شکر ادا کیا۔ ایک دو ملاقاتوں کے بعد ہی منگنی کر دی گئی۔
منگنی کے فوراً بعد لڑکے والوں نے شادی کے لیے اصرار شروع کر دیا۔ ان کے بقول زمان ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ جلد از جلد گھر میں بہو لانا چاہتے تھے۔ جہیز کے لیے بھی انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا، اس لیے سونیہ کے والدین نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے شادی کی تاریخ طے کر دی۔
ویسے تو وہ لوگ بہت اچھے لگتے تھے، مگر سونیہ کی ماں کے دل میں ایک عجیب سی الجھن رہتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ زمان کے والدین کی شکل و صورت عام لوگوں سے کچھ مختلف تھی۔ ان کی آنکھیں گہری زرد تھیں، ناک کچھ لمبی، اور ہونٹ غیر معمولی حد تک سرخ۔
یہی بات سونیہ کی ماں کو کھٹکتی تھی۔ ایک دن اس نے اپنے شوہر سے اس بارے میں ذکر کیا تو انہوں نے فوراً اسے ڈانٹ دیا۔
"کمال ہے بیگم! تمہاری سوچ کو سلام ہے۔ کیا ہم صرف اس لیے شادی سے انکار کر دیں کہ ان کی شکلیں تمہیں پسند نہیں؟"
سونیہ کی ماں نے شرمندگی سے کہا،
"میں نے کب کہا کہ انکار کریں؟ میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ ان کی شکلیں کچھ مختلف ہیں۔"
اس کے شوہر نے سنجیدگی سے جواب دیا،
"شکلیں بنانے والی تو خود اللہ کی ذات ہے، ہم کون ہوتے ہیں اس میں نقص نکالنے والے؟"
شادی کے دن جب بارات آئی تو سونیہ نے دیکھا کہ باراتیوں کی شکلیں بھی زمان کے والدین سے زیادہ مختلف نہیں تھیں۔ سب کی آنکھیں زرد اور ہونٹ سرخ تھے۔
البتہ زمان کی شخصیت سب سے الگ اور دلکش تھی۔ وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بالکل نارمل تھیں، لیکن ہونٹ اس کے بھی گہرے سرخ تھے، جو اس کے گورے رنگ پر خوب جچ رہے تھے۔ آف وائٹ شیروانی میں وہ کسی پریوں کی کہانی کا کردار معلوم ہوتا تھا۔
سونیہ بھی حسن میں کسی سے کم نہ تھی۔ دونوں کی جوڑی بے حد خوبصورت اور مکمل لگ رہی تھی۔
رخصتی کے وقت سونیہ کو زمان کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بٹھایا گیا، جبکہ اس کی ساس خود آگے بیٹھ گئی اور سسر نے گاڑی چلائی۔ باقی باراتی گاڑیاں ان کے پیچھے آ رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد گاڑی ایک گھر کے سامنے رکی۔ سونیہ کی ساس نے اس کا لہنگا سنبھالتے ہوئے اسے اندر لے گئی۔
سونیہ نے اشتیاق بھری نظروں سے اپنے نئے گھر کا جائزہ لیا۔ گھر واقعی خوبصورت تھا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ کہیں بھی شادی کی سجاوٹ نہیں تھی۔ صرف اس کا کمرہ سجایا گیا تھا۔
زمان کی ماں اسے آرام کرنے کا کہہ کر چلی گئی۔
کافی دیر گزر گئی۔ سونیہ نے وقت دیکھا—رات کے ایک بج رہے تھے۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی،
"یہ کیسے عجیب لوگ ہیں… کھانا تک نہیں دیا۔ اور یہ زمان کہاں رہ گئے؟"
وہ بے بسی سے اپنا لہنگا سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور خود ہی کمرے سے باہر آ گئی۔
مگر باہر کا منظر اس کی توقع کے بالکل برعکس تھا۔
شادی والے گھر کی چہل پہل کے بجائے ہر طرف گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔
وہ حیرت سے ادھر ادھر دیکھنے لگی اور آہستہ سے بڑبڑائی،
"سب کہاں چلے گئے؟ شادی والے گھر میں تو قبرستان جیسی خاموشی ہے… کیا نئی نویلی دلہن کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟"
بھوک سے اس کی جان نکل رہی تھی۔ جب اسے کچن نظر آیا تو وہ فوراً اندر چلی گئی۔
وہ ابھی کھانے کے لیے کچھ تلاش ہی کر رہی تھی کہ اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔
اس نے باہر جھانک کر دیکھا تو سامنے زمان کھڑا تھا۔
زمان نے قدرے حیرانی سے پوچھا،
"تم کچن میں کیا کر رہی ہو؟"
سونیہ اسے دیکھ کر گھبرا گئی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب وہ اس سے براہِ راست بات کر رہا تھا۔ شادی سے پہلے جب وہ گھر آیا تھا تو دونوں نے بس ایک نظر ہی ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
اس نے اپنی بے ترتیب سانسوں پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا،
"وہ… مجھے بھوک لگی تھی۔ کسی نے کھانا دیا ہی نہیں، اس لیے خود لینے آ گئی۔"
زمان نے معذرت بھرے انداز میں کہا،
"اوہ… ابھی تو شاید گھر میں کچھ بھی نہیں ہوگا کھانے کے لیے۔ بازار بھی بند ہو چکا ہوگا۔"
سونیہ نے منہ بنا کر کہا،
"کوئی بات نہیں… صبح ہی کھا لوں گی۔"
زمان نے اسے نرمی سے دیکھتے ہوئے کہا،
"تم کمرے میں جاؤ، میں پانچ منٹ میں آتا ہوں۔"
سونیہ واپس کمرے میں آ گئی اور اس کا انتظار کرنے لگی۔
ٹھیک پانچ منٹ بعد دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، اور زمان اندر آ کر اس کے قریب بیٹھ گیا۔
سونیہ کو لگا کہ شاید وہ کوئی رومانوی بات کرنے والا ہے، اس نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔
مگر زمان نے سنجیدہ اور پریشان لہجے میں کہا،
"ایک مسئلہ ہو گیا ہے، سونیہ… مجھے کل صبح دفتر کے کام سے چالیس دن کے لیے دوسرے شہر جانا پڑ رہا ہے۔"
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر بولا،
"میں نے ولیمہ بھی منسوخ کر دیا ہے، اور تمہارے والدین کو بھی اطلاع دے دی ہے۔ اگر میں نہ گیا تو مجھے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔"
سونیہ کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، زمان؟ کل تو ہمارا ولیمہ ہے! آپ اپنے باس کو بتائیں کہ آپ ابھی نہیں جا سکتے۔"
زمان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا،
"نہیں… یہاں کوئی کسی کی مجبوری نہیں سمجھتا۔ مجھے ہر حال میں جانا ہوگا۔ یہ بہت ضروری ہے، مجھے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔"
پھر اس نے نرمی سے کہا،
"تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔ اگر تم میرے ساتھ نہ بھی آؤ تو کوئی مسئلہ نہیں… لیکن ہماری ابھی ابھی شادی ہوئی ہے، اور میں تمہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔"
سونیہ نے اس کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے جانے کے لیے حامی بھر لی۔
زمان خوش ہو گیا۔ اس نے محبت سے اس کا ماتھا چوما اور کہا،
"تھینک یو فار انڈرسٹینڈنگ… اب تم پیکنگ کرو اور آرام کر لو۔ ہمیں صبح پانچ بجے نکلنا ہے۔ ہم اپنی نئی زندگی کی شروعات وہیں جا کر کریں گے۔"
اگلی صبح زمان نے اسے جگایا اور جلدی تیار ہونے کو کہا، ساتھ ہی بتایا کہ ناشتہ راستے میں ہی کر لیں گے۔
دونوں بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکلے۔ سونیہ نے دیکھا کہ زمان سیدھا گیٹ کی طرف جا رہا ہے، تو اس نے کہا،
"ارے… امی ابو سے تو مل لیں۔"
زمان نے بغیر رکے جواب دیا،
"وہ لوگ سو رہے ہوں گے۔ انہیں ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ویسے بھی میں انہیں بتا چکا ہوں کہ ہم صبح نکل جائیں گے۔"
سونیہ کو یہ بات عجیب تو لگی، مگر وہ خاموش رہی۔
لمبے سفر کے دوران سونیہ کی آنکھ لگ گئی، اور وہ اس وقت جاگی جب گاڑی ایک بڑے سے گیٹ کے سامنے آ کر رکی۔
زمان گاڑی سے اترا، لاک کھولا۔ سونیہ نے حیرت سے پوچھا،
"یہ کس کا گھر ہے، زمان؟ کیا آپ یہاں پہلے بھی آ چکے ہیں؟"
زمان نے سامان نکالتے ہوئے جواب دیا،
"جی ہاں… کافی بار آ چکا ہوں۔"
سونیہ اس کے پیچھے چلتی ہوئی جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہونے لگی، اچانک اسے کئی لڑکیوں کی چیختی ہوئی آوازیں ایک ساتھ سنائی دیں:
"رک جاؤ… اندر مت آؤ… ورنہ کبھی واپس نہیں جا سکو گی…!"
سونیہ کے قدم وہیں جم گئے۔
اچانک زمان کی آواز نے اس خوفناک سلسلے کو توڑا:
"کیا ہوا سونیہ؟ رک کیوں گئی ہو؟"
وہ ابھی دروازے پر ہی رکی کھڑی تھی کہ زمان نے اس کا ہاتھ تھاما اور نرمی سے اسے اندر لے آیا۔
“تم شاید اس پرانے اور ویران گھر کو دیکھ کر ڈر گئی ہو… لیکن یقین کرو، پوری دنیا میں یہ میری سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔ یہاں ایک عجیب سا سکون ہے۔”
سونیہ نے خاموشی سے اردگرد نظر دوڑائی۔ گھر واقعی عجیب تھا۔ صحن میں پرانے درختوں کا ایک جھنڈ تھا اور سامنے ایک سنسان برآمدہ، جس میں تین کمرے تھے۔ ہر طرف ایک انجانی سی وحشت پھیلی ہوئی تھی، جیسے یہ گھر کسی راز کو اپنے اندر چھپائے بیٹھا ہو۔
لنچ کے بعد زمان آفس چلا گیا۔ سونیہ نے سامان ترتیب دیا اور تھکن کے باعث بستر پر لیٹ گئی۔
نیم غنودگی میں اسے ایک عجیب خواب نظر آیا…
چھ دلہنیں ایک آدمی کے گرد کھڑی تھیں اور آپس میں جھگڑ رہی تھیں۔ جب سونیہ نے غور سے دیکھا تو وہ آدمی زمان تھا۔ سب اسے بازوؤں اور کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔
“یہ میرا شوہر ہے!” “نہیں، یہ میرا ہے!” “چھوڑو اسے، یہ میرا دولہا ہے!”
سونیہ گھبرا کر ان کے درمیان آئی اور زمان کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولی، “پیچھے ہٹو سب! یہ میرا شوہر ہے!”
اچانک سب کی آوازیں بلند ہو گئیں… اور اسی شور میں سونیہ کی آنکھ کھل گئی۔
شام کو جب زمان واپس آیا تو اس نے معصومیت سے خواب سنایا اور پوچھا، “زمان… آپ دوسری شادی تو نہیں کریں گے نا؟”
یہ سن کر زمان زور سے ہنس پڑا۔ “تم بھی نا، سونیہ!”
سونیہ نے خفگی سے اسے گھورا تو اس نے اس کا ہاتھ تھام کر محبت اور وفاداری کا یقین دلایا۔
رات گہری ہوتی گئی اور دونوں ایک دوسرے میں کھوئے رہے…
تقریباً دو بجے سونیہ نہا کر واپس آئی تو زمان سو چکا تھا۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بال سکھانے لگی۔ اب وہ ایک سہاگن تھی، اور اسے اپنا عکس پہلے سے زیادہ نکھرا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
اچانک اس کی نظر آئینے میں برآمدے کی کھلی کھڑکی پر پڑی…
وہاں ایک لڑکی کھڑی تھی۔
وہ لڑکی سونیہ کو گھور رہی تھی۔ اس کا چہرہ بے حد زرد اور اس پر لمبے لمبے کٹ کے نشان تھے، جیسے کسی نے بلیڈ یا چاقو سے چہرہ چیر دیا ہو۔
سونیہ نے گھبرا کر فوراً مڑ کر دیکھا…
مگر کھڑکی کے پاس کوئی نہیں تھا۔
اس نے دوبارہ آئینے میں دیکھا— وہ لڑکی پھر وہاں موجود تھی۔
اب کی بار سونیہ نے غور سے دیکھا… یہ انہی دلہنوں میں سے ایک تھی جو خواب میں زمان کو اپنا شوہر کہہ رہی تھیں۔
```1سونیہ خوف سے چیخ اٹھی اور فوراً زمان کو جگایا۔
زمان نے اٹھ کر لائٹس آن کیں، باہر جا کر دیکھا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ واپس آیا، سونیہ کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور اسے تسلی دی۔ آہستہ آہستہ وہ پرسکون ہو کر سو گئی۔
اگلی صبح جب وہ اٹھی تو زمان اس کے لیے ناشتہ تیار کر رہا تھا۔ سونیہ کو اپنی قسمت پر رشک آیا۔
مگر ناشتہ کرتے ہوئے اس کی نظر اپنے بازو پر پڑی…
وہاں تقریباً دو انچ لمبا گہرا کٹ تھا، جس سے خون نکل کر خشک ہو چکا تھا۔
زمان کی نظر جیسے ہی اس زخم پر پڑی، وہ بے چین ہو گیا۔ “سونی! یہ کیا ہوا تمہیں؟”
سونیہ نے حیرانی سے کہا، “مجھے نہیں پتا… شاید چوڑی ٹوٹ کر لگ گئی ہو…”
زمان فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کہنے لگا، مگر سونیہ نے اسے روک لیا۔ “کچھ نہیں ہوا… چھوٹا سا زخم ہے، درد بھی نہیں ہو رہا۔ آپ ناشتہ کریں، آفس کے لیے دیر ہو جائے گی۔”
زمان نے تسلی کے لیے زخم کو غور سے دیکھا۔ زخم گہرا تو تھا، مگر خطرناک نہیں لگ رہا تھا، اس لیے وہ کسی حد تک مطمئن ہو گیا۔
اس کے آفس جانے کے بعد سونیہ گھر کی صفائی میں لگ گئی…
مگر کچھ ہی دیر میں اسے محسوس ہوا کہ پورے گھر میں ایک عجیب سی بدبو پھیلی ہوئی ہے—
ایسی بدبو… جو کسی عام چیز کی نہیں ہو سکتی تھی۔
اگلے دن سونیہ نے کچن کے سامان کی فہرست بنائی اور قریبی دکان تلاش کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل آئی۔
گلی میں اسے ایک عورت نظر آئی جو کھیلتے ہوئے بچوں میں سے اپنے بچے کو پکڑ کر ڈانٹتے ہوئے گھر لے جا رہی تھی۔ سونیہ اس کے قریب گئی اور نرمی سے پوچھا، “آنٹی، یہاں قریب کوئی دکان ہے؟”
عورت نے خوش اخلاقی سے اسے قریبی اسٹور کا راستہ بتایا، پھر غور سے اسے دیکھتے ہوئے بولی، “لگتا ہے تم اس محلے میں نئی آئی ہو؟”
سونیہ مسکرا کر بولی، “جی، ہم کل ہی آئے ہیں۔ گلی کے نکڑ پر جو کالے گیٹ والا مکان ہے، ہم وہیں رہتے ہیں۔ آپ کسی دن آئیں نا، مجھے بہت خوشی ہوگی۔”
یہ سن کر عورت کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے سونیہ کو سر سے پاؤں تک ایسے دیکھا جیسے وہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہو۔
“کیا… تم اس گھر میں رہتی ہو؟”
سونیہ نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ عورت گھبرا گئی، فوراً اپنے بچے کو کھینچتے ہوئے تیز قدموں سے اپنے گھر میں داخل ہوئی اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
سونیہ اس عجیب ردِعمل پر پریشان ہو گئی…
واپسی پر جب وہ دکان سے سامان لے کر آ رہی تھی تو اذان کی آواز گونجنے لگی۔ لگ رہا تھا مسجد قریب ہی ہے۔ مگر جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوئی، اذان کی آواز اچانک بند ہو گئی۔
وہ حیران رہ گئی۔
اس نے دوبارہ باہر جا کر سنا— اذان بدستور جاری تھی۔
وہ الجھن میں گھر واپس آ گئی۔
شام کو جب زمان آیا تو سونیہ نے پورے دن کی باتیں اسے بتائیں اور قدرے فکرمندی سے کہا، “اس گھر میں ضرور کوئی گڑبڑ ہے…”
زمان نے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا، اس کے بال کان کے پیچھے کیے اور ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولا، “تم گھر سے باہر گئی ہی کیوں تھی؟ یہاں کیسے کیسے لوگ رہتے ہیں، تمہیں اندازہ نہیں۔ جو بھی سامان چاہیے ہو، مجھے بتا دیا کرو۔ اور اس گھر میں کوئی مسئلہ نہیں… بس پرانا ہے، اس لیے تمہیں پراسرار لگ رہا ہے۔”
پھر اس نے ہلکے شکوے کے انداز میں کہا، “میں سارا دن کام کر کے تھکا ہارا آیا ہوں، اور تم ہو کہ میری تھکن اتارنے کے بجائے ڈراؤنی کہانیاں سنا رہی ہو…”
سونیہ شرما گئی، اور کچھ ہی لمحوں میں دونوں ایک دوسرے کی قربت میں دنیا کی تمام الجھنیں بھول گئے۔
اس دن کے بعد سونیہ نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔
مگر تنہائی میں اسے اکثر محسوس ہوتا کہ جیسے گھر میں کوئی اور بھی موجود ہے… کوئی انجانی سی نظر، کوئی خاموش آہٹ۔ لیکن وہ ہر بار اسے وہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتی۔
وہ زیادہ تر زمان کے خیالوں میں گم رہتی۔ اسے محسوس ہوتا کہ زمان کو پا کر اسے دنیا کی ہر خوشی مل گئی ہے۔ اسی کیفیت میں وہ اپنے اردگرد کی چھوٹی چھوٹی عجیب باتوں کو محسوس ہی نہ کر پاتی۔
مگر ایک چیز تھی جو دن بدن بڑھتی جا رہی تھی…

