ناقابلِ بیان معمہ میں ایک بار پھر خوش آمدید۔
آج ہم آپ کے لیے ایک ایسا لازوال کلاسیکی معمہ لے کر آئے ہیں جسے دنیا کی بہترین جاسوسی کہانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایک نوجوان خاتون، خوف سے کانپتی ہوئی، ایک مشہور جاسوس کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ اسے یقین ہے کہ دو سال پہلے جس پراسرار انداز میں اس کی بہن موت کے گھاٹ اتار دی گئی تھی، اب وہی بھیانک انجام اس کا انتظار کر رہا ہے۔
بند دروازوں، مقفل کھڑکیوں اور ایسی مضبوط دیواروں کے درمیان، جہاں کسی پوشیدہ راستے کا تصور بھی ناممکن ہو، ہر رات موت خاموشی سے اس کا تعاقب کرتی ہے۔
یہ ہے "چتکبری پٹی کا معمہ" (The Adventure of the Speckled Band) کا پہلا حصہ۔
اگر آپ کو اس قسم کی پراسرار اور سنسنی خیز کہانیاں پسند ہیں تو Untold Suspense کو ضرور سبسکرائب کیجیے، کیونکہ ہر ہفتے ہم آپ کے لیے ایک نئی، دل دہلا دینے والی کہانی لے کر حاضر ہوتے ہیں۔
---
گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران میں نے اپنے عزیز دوست شرلاک ہومز کے ساتھ پیش آنے والے تقریباً ستر سے زائد مقدمات کی تفصیلات قلم بند کی ہیں۔ جب کبھی میں ان یادداشتوں کے اوراق پلٹتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان میں کچھ داستانیں الم ناک ہیں، چند نہایت دلچسپ اور مزاح سے بھرپور، بے شمار حیرت انگیز، مگر ایک بھی ایسی نہیں جسے معمولی یا عام کہا جا سکے۔
اس کی وجہ بھی واضح تھی۔ شرلاک ہومز اپنی غیر معمولی ذہانت کو دولت کمانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اپنے فن سے محبت کا اظہار سمجھتا تھا۔ وہ کسی ایسے مقدمے کو ہاتھ لگانے پر آمادہ ہی نہ ہوتا جس میں کوئی انوکھی، غیر معمولی یا ناقابلِ یقین بات موجود نہ ہو۔
ان تمام عجیب و غریب واقعات میں بھی ایک مقدمہ ایسا تھا جس کی پراسراریت آج تک میرے ذہن پر نقش ہے۔ وہ مقدمہ سرے کی معروف اور بااثر رائلٹ فیملی، یعنی اسٹوک موران کے رائلٹس سے تعلق رکھتا تھا۔
یہ واقعہ اُن ابتدائی دنوں کا ہے جب میری شرلاک ہومز سے رفاقت کا آغاز ہوا تھا اور ہم دونوں غیر شادی شدہ نوجوانوں کی حیثیت سے بیکر اسٹریٹ کے ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔
بسا اوقات میرے دل میں خیال آتا تھا کہ اس حیرت انگیز واقعے کو بھی اپنی یادداشتوں کا حصہ بنا دوں، مگر اُس وقت میں نے ایک خاتون سے رازداری کا وعدہ کیا تھا، اور میں نے اس وعدے کی پوری پاسداری کی۔
اب، جب گزشتہ ماہ اُن خاتون کا اچانک انتقال ہو چکا ہے، میں اس عہد سے آزاد ہو گیا ہوں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ اس داستان کے اصل حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں، کیونکہ مجھے بخوبی علم ہے کہ ڈاکٹر گرائمزبی رائلٹ کی موت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، اور ان افواہوں نے اس واقعے کو حقیقت سے کہیں زیادہ خوفناک اور ہولناک بنا کر پیش کیا ہے۔
سن 1883 کی ایک سرد اپریل کی صبح تھی۔ میں حسبِ معمول گہری نیند میں تھا کہ اچانک آنکھ کھلی تو دیکھا، شرلاک ہومز مکمل لباس پہنے میرے بستر کے سرہانے کھڑا تھا۔
یہ منظر میرے لیے غیر معمولی تھا، کیونکہ ہومز عموماً دیر سے بیدار ہونے کا عادی تھا۔ میں نے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔ ابھی صرف سوا سات بجے تھے۔
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، اور سچ کہوں تو اس قدر سویرے جگائے جانے پر ہلکی سی ناگواری بھی محسوس ہوئی، کیونکہ میں اپنی روزمرہ زندگی میں وقت کا نہایت پابند تھا۔
"معاف کرنا، واٹسن،" ہومز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "مگر آج صبح سب کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ پہلے مسز ہڈسن کو جگایا گیا، پھر انہوں نے مجھے جگا دیا... اور اب میں نے تمہیں۔"
میں نے چونک کر پوچھا، "آخر بات کیا ہے؟ کہیں آگ تو نہیں لگ گئی؟"
ہومز نے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا، "نہیں، ایک مؤکل آیا ہے۔ ایک نوجوان خاتون انتہائی پریشان اور مضطرب حالت میں یہاں پہنچی ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ فوراً مجھ سے ملاقات کریں۔ اس وقت وہ ہمارے بیٹھک خانے میں انتظار کر رہی ہیں۔"
وہ لمحہ بھر رکا، پھر بولا،
"جب کوئی نوجوان خاتون لندن جیسے عظیم شہر میں صبح سویرے، اس غیر معمولی وقت پر، لوگوں کو ان کی نیند سے جگاتے ہوئے کسی جاسوس کے دروازے پر پہنچے، تو یقیناً معاملہ نہایت سنگین اور فوری نوعیت کا ہوتا ہے۔ اگر یہ واقعی کوئی دلچسپ مقدمہ ثابت ہوا، تو مجھے یقین ہے تم بھی ابتدا ہی سے اس کا حصہ بننا چاہو گے۔ اسی خیال سے میں نے تمہیں جگا دیا۔"
میں فوراً بستر سے اٹھ بیٹھا۔
"میرے عزیز دوست!" میں نے کہا، "ایسا موقع میں دنیا کی کسی چیز کے بدلے بھی ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا۔"
واقعی، میرے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہ تھی کہ میں شرلاک ہومز کے ساتھ اس کی پیشہ ورانہ تحقیقات میں شریک رہوں۔ ہر نئے مقدمے میں اس کی حیرت انگیز ذہانت، بجلی کی سی تیزی سے کیے گئے نتائج، اور وہ غیر معمولی استدلال مجھے مسحور کر دیتا تھا۔ بظاہر اس کے فیصلے وجدان کا کرشمہ معلوم ہوتے، مگر حقیقت میں ان کی بنیاد ہمیشہ مضبوط منطق پر قائم ہوتی تھی، اور یہی خوبی اسے ہر پیچیدہ معمہ سلجھانے میں بے مثال بنا دیتی تھی۔
میں نے جلدی جلدی کپڑے پہنے، اور چند ہی لمحوں بعد ہومز کے ساتھ نیچے بیٹھک کی طرف روانہ ہو گیا۔
کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا، کھڑکی کے قریب ایک خاتون خاموشی سے بیٹھی تھیں۔ انہوں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور چہرہ ایک گہرے سیاہ نقاب میں چھپا ہوا تھا۔ ہماری آہٹ سنتے ہی وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
ہومز ہمیشہ کی طرح خوش اخلاقی سے مسکرایا۔
"صبح بخیر، محترمہ!" اس نے نہایت شائستگی سے کہا۔ "میرا نام شرلاک ہومز ہے، اور یہ میرے نہایت قریبی دوست اور رفیقِ کار، ڈاکٹر واٹسن ہیں۔ آپ ان کے سامنے بھی اسی بے تکلفی سے گفتگو کر سکتی ہیں جیسے میرے سامنے۔"
اچانک اس کی نظر آتش دان کی طرف گئی۔
"بہت اچھا ہوا کہ مسز ہڈسن نے آگ جلا دی ہے۔ آئیے، آپ اس کے قریب تشریف لے آئیں۔ میں ابھی آپ کے لیے گرم کافی منگواتا ہوں... کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ بری طرح کانپ رہی ہیں۔"
"مجھے سردی نہیں لرزا رہی..." خاتون نے مدھم اور کانپتی ہوئی آواز میں کہا، اور ہومز کے کہنے پر آتش دان کے قریب آ کر بیٹھ گئیں۔
"...مجھے خوف لرزا رہا ہے، مسٹر ہومز۔ ایسا خوف... جو انسان کی روح تک کو ہلا کر رکھ دے۔"
یہ کہتے ہوئے انہوں نے آہستہ سے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔
میں اور ہومز ایک لمحے کے لیے خاموش رہ گئے۔
ان کی حالت نہایت قابلِ رحم تھی۔ چہرہ زردی مائل راکھ کی مانند بے رنگ ہو چکا تھا، آنکھیں مسلسل بے چینی سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھیں، بالکل اُس ہرن کی مانند جو شکاریوں کے نرغے میں آ چکا ہو۔ اگرچہ ان کے نقوش اور جسمانی ساخت سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان کی عمر بمشکل تیس برس ہوگی، مگر ان کے بال وقت سے پہلے ہی سفیدی اوڑھ چکے تھے، اور چہرے پر ایسی تھکن اور اذیت ثبت تھی جیسے برسوں کی مصیبتوں نے ان کی جوانی چھین لی ہو۔
شرلاک ہومز نے اپنی مخصوص تیز اور باریک بین نگاہ سے انہیں سر سے پاؤں تک دیکھا۔ وہ چند ہی لمحوں میں گویا ان کی پوری کیفیت پڑھ چکا تھا۔
وہ نرم لہجے میں بولا،
"آپ خود کو سنبھالیے، محترمہ۔ خوف کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دیں۔"
یہ کہتے ہوئے اس نے تسلی کے انداز میں ان کے بازو پر ہلکے سے ہاتھ رکھا۔
"مجھے پورا یقین ہے کہ ہم جلد ہی اس معاملے کی تہہ تک پہنچ جائیں گے اور سب کچھ درست ہو جائے گا۔"
پھر اچانک اس نے کہا،
"میرا خیال ہے، آپ آج صبح ہی ریل گاڑی سے یہاں آئی ہیں۔"
خاتون نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
"کیا... آپ مجھے پہلے سے جانتے ہیں؟"
ہومز مسکرا دیا۔
"نہیں، مگر آپ کے بائیں ہاتھ کے دستانے میں واپسی کے ٹکٹ کا آدھا حصہ ابھی تک موجود ہے۔ اسی سے اندازہ ہوا کہ آپ آج صبح ہی سفر کر کے آئی ہیں۔"
وہ ذرا سا رکا، پھر اپنی بات آگے بڑھائی۔
"اور آپ نے گھر سے بہت سویرے روانگی اختیار کی تھی۔ اسٹیشن پہنچنے سے پہلے آپ نے کچی اور کیچڑ بھری سڑک پر ایک ڈاگ کارٹ میں خاصا طویل سفر بھی کیا ہے۔"
خاتون یہ سن کر بری طرح چونک اٹھیں۔
ان کی آنکھوں میں حیرت صاف جھلک رہی تھی، جیسے کسی نے ان کے دل کی پوشیدہ بات پڑھ لی ہو۔
ہومز ہلکے سے مسکرایا۔
"اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں، محترمہ۔ دیکھیے، آپ کے کوٹ کی بائیں آستین پر کیچڑ کے کم از کم سات تازہ چھینٹے موجود ہیں۔ یہ نشان ابھی ابھی لگے ہیں۔ اس قسم کے چھینٹے صرف ڈاگ کارٹ ہی اچھالتی ہے، اور وہ بھی اس وقت جب مسافر کوچوان کے بائیں جانب بیٹھا ہو۔"
خاتون نے گہرا سانس لیا اور آہستگی سے بولیں،
"وجہ خواہ کچھ بھی ہو، آپ کی ہر بات بالکل درست ہے۔"
"میں آج صبح چھ بجنے سے پہلے گھر سے نکلی تھی۔ بیس منٹ بعد لیدرہیڈ پہنچی، اور وہاں سے پہلی ٹرین کے ذریعے واٹرلو اسٹیشن آ گئی۔"
یہ کہتے کہتے ان کی آواز بھرّا گئی۔
"مسٹر ہومز... میں اب مزید یہ ذہنی اذیت برداشت نہیں کر سکتی۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو مجھے ڈر ہے کہ میں اپنا ہوش و حواس کھو بیٹھوں گی۔"
انہوں نے بے بسی سے نظریں جھکا لیں۔
"اس دنیا میں میرا کوئی نہیں... کوئی بھی نہیں... سوائے ایک شخص کے، جو واقعی میری فکر کرتا ہے۔ مگر وہ بے چارہ بھی میری کوئی خاص مدد نہیں کر سکتا۔"
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ دوبارہ بولیں،
"میں نے آپ کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے۔ مسز فارنٹوش نے مجھے بتایا تھا کہ جب وہ شدید مصیبت میں گھری ہوئی تھیں تو آپ ہی نے انہیں اس اندھیرے سے نکالا تھا۔ انہی سے مجھے آپ کا پتا ملا۔"
ان کی آواز التجا میں ڈوب گئی۔
"خدارا، مسٹر ہومز... کیا آپ میری بھی مدد کر سکتے ہیں؟ کیا آپ اس گھنے اندھیرے میں، جس نے میری زندگی کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، امید کی کوئی کرن روشن کر سکتے ہیں؟"
وہ لمحہ بھر کو رکیں، پھر نہایت عاجزی سے بولیں،
"اس وقت میرے پاس آپ کی خدمات کا معاوضہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں۔ لیکن ایک یا ڈیڑھ ماہ بعد میری شادی ہونے والی ہے۔ اس کے بعد میری اپنی آمدنی میرے اختیار میں ہوگی، اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کی اس مہربانی کا قرض کبھی نہیں بھولوں گی۔"
شرلاک ہومز خاموشی سے اپنی میز کی طرف بڑھا۔ اس نے دراز کا تالا کھولا، ایک چھوٹی سی نوٹ بک نکالی اور اس کے اوراق الٹنے لگا۔
"فارنٹوش..." وہ آہستہ سے بولا، "آہ! اب یاد آیا۔ یہ اوپل کے تاج والا مقدمہ تھا۔ واٹسن، میرا خیال ہے اُس وقت تم ابھی میرے ساتھ نہیں تھے۔"
اس نے کتاب بند کی، خاتون کی طرف دیکھا اور نہایت اعتماد سے کہا،
"محترمہ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس توجہ اور خلوص کے ساتھ میں نے آپ کی دوست کا مقدمہ حل کیا تھا، آپ کے معاملے میں بھی وہی کوشش کروں گا۔"
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر ابھری۔
"جہاں تک معاوضے کا تعلق ہے، میرے لیے میرا پیشہ ہی سب سے بڑا انعام ہے۔ البتہ اگر اس تفتیش کے دوران کوئی اخراجات ہوئے تو آپ جب مناسب سمجھیں، انہیں ادا کر سکتی ہیں۔"
پھر وہ ذرا آگے جھکا۔
"اب براہِ کرم، بلا جھجک ہمیں وہ سب کچھ بتائیے جو اس معاملے کو سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتا ہو۔"
خاتون نے ایک طویل اور بےبس آہ بھری۔
"افسوس، مسٹر ہومز... میری بدقسمتی یہی ہے کہ میرے خوف کی کوئی واضح شکل نہیں۔ میرے تمام خدشات چند ایسی معمولی باتوں پر قائم ہیں، جو شاید کسی دوسرے شخص کو بالکل بے معنی محسوس ہوں۔"
انہوں نے نظریں جھکا لیں۔
"یہاں تک کہ وہ شخص بھی، جس سے مجھے سب سے زیادہ مدد اور مشورے کی امید ہونی چاہیے، میری باتوں کو ایک خوف زدہ عورت کے وہم و گمان سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔"
وہ تلخی سے مسکرائیں۔
"وہ زبان سے کبھی ایسا نہیں کہتا... مگر اس کی تسلی دینے والی باتوں اور نظریں چرانے کے انداز سے میں سب کچھ سمجھ جاتی ہوں۔"
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے امید بھری نگاہ سے ہومز کی طرف دیکھا۔
"لیکن میں نے آپ کے بارے میں سنا ہے، مسٹر ہومز... لوگ کہتے ہیں کہ آپ انسانی دل کی تاریک ترین گہرائیوں میں چھپی برائی کو بھی پہچان لیتے ہیں۔ شاید آپ ہی مجھے بتا سکیں کہ ان خطرات کے درمیان، جنہوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے، میں خود کو کیسے محفوظ رکھوں۔"
ہومز نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا،
"میں پوری توجہ سے آپ کی بات سن رہا ہوں، محترمہ۔"
خاتون نے خود کو سنبھالا اور کہنا شروع کیا۔
"میرا نام ہیلن اسٹونر ہے، اور میں اپنے سوتیلے والد کے ساتھ رہتی ہوں۔ وہ انگلستان کے قدیم ترین سیکسن خاندانوں میں سے ایک، اسٹوک موران کے رائلٹ خاندان کے آخری زندہ فرد ہیں۔ یہ جاگیر سرے کی مغربی سرحد پر واقع ہے۔"
ہومز نے اثبات میں سر ہلایا۔
"یہ نام میرے لیے اجنبی نہیں،" اس نے آہستگی سے کہا۔
ہیلن نے اپنی داستان جاری رکھی۔
"ایک زمانہ تھا جب ہمارا خاندان انگلستان کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ ان کی جاگیریں شمال میں برکشائر اور مغرب میں ہیمپشائر تک پھیلی ہوئی تھیں۔"
ان کی آواز میں ماضی کی عظمت کا درد جھلکنے لگا۔
"مگر پھر بدقسمتی نے اس خاندان کا دامن تھام لیا۔ مسلسل چار وارث ایسے آئے جو عیش و عشرت، فضول خرچی اور بداعمالیوں میں ڈوبے رہے۔ آخرکار ریجنسی کے دور میں ایک جواری نے خاندان کی رہی سہی دولت بھی برباد کر دی۔"
انہوں نے افسردگی سے سر جھکا لیا۔
"آخر میں صرف چند ایکڑ زمین باقی رہ گئی اور دو سو برس پرانی وہ خاندانی حویلی... جو خود بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔"
"میرے سوتیلے والد کے والد نے اپنی پوری زندگی اسی ویران حویلی میں ایک مفلس رئیس کی طرح گزار دی۔"
"البتہ ان کے اکلوتے بیٹے، یعنی میرے سوتیلے والد ڈاکٹر رائلٹ، نے حالات کی نزاکت کو سمجھ لیا۔ انہوں نے ایک عزیز سے قرض لیا، طب کی تعلیم حاصل کی، اور پھر قسمت آزمانے کلکتہ چلے گئے۔"
"وہاں اپنی غیر معمولی طبی مہارت اور مضبوط شخصیت کی بدولت انہوں نے بہت جلد ایک کامیاب اور وسیع طبیبانہ شہرت حاصل کر لی۔"
وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئیں، پھر ان کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔
"لیکن ان کا مزاج نہایت سخت اور غصیلا تھا۔ ایک روز گھر میں مسلسل چوریوں سے مشتعل ہو کر انہوں نے اپنے ہندوستانی خانساماں کو اس قدر بے رحمی سے مارا کہ وہ موقع ہی پر ہلاک ہو گیا۔"
"یہ جرم انہیں تقریباً پھانسی کے تختے تک لے گیا تھا، مگر خوش قسمتی سے سزائے موت سے بچ گئے۔ البتہ انہیں کئی برس قید کاٹنی پڑی۔"
"جب وہ جیل سے رہا ہو کر انگلستان واپس آئے تو وہ پہلے والے انسان نہیں رہے تھے۔ ان کا مزاج تلخ، طبیعت کڑوی اور دل شدید مایوسی سے بھر چکا تھا۔"
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھائی۔
"ہندوستان ہی میں ڈاکٹر رائلٹ نے میری والدہ، مسز اسٹونر، سے شادی کی تھی۔ میری والدہ بنگال آرٹلری کے میجر جنرل اسٹونر کی بیوہ تھیں۔"
"میں اور میری بہن جولیا جڑواں بہنیں ہیں، اور اس وقت ہماری عمر صرف دو سال تھی جب ہماری والدہ نے دوسری شادی کی۔"
"والدہ خاصی خوش حال تھیں۔ ان کی سالانہ آمدنی ایک ہزار پاؤنڈ سے کم نہ تھی۔ انہوں نے اپنی تمام جائیداد ڈاکٹر رائلٹ کے نام کر دی، بشرطیکہ جب تک ہم ان کے ساتھ رہیں، وہ اس آمدنی کے مالک رہیں۔ البتہ وصیت میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ ہماری شادی کے بعد ہم دونوں بہنوں کو اس آمدنی میں سے ایک مقررہ سالانہ حصہ دیا جائے گا۔"
ان کی آواز غم سے بوجھل ہو گئی۔
"انگلستان واپس آنے کے کچھ ہی عرصے بعد ہماری والدہ ایک المناک ریلوے حادثے میں، کریو کے قریب، جان کی بازی ہار گئیں۔ آج اس حادثے کو آٹھ برس گزر چکے ہیں۔"
"والدہ کی وفات کے بعد ڈاکٹر رائلٹ نے لندن میں دوبارہ طب کی پریکٹس شروع کرنے کا ارادہ ترک کر دیا، اور ہمیں لے کر اسٹوک موران کی اسی پرانی خاندانی حویلی میں آ بسے۔"
انہوں نے دھیرے سے کہا،
"والدہ کی چھوڑی ہوئی دولت ہماری تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھی، اور اُس وقت تک ہمیں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہماری خوشیوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔"
"مگر اسی دوران میرے سوتیلے والد میں ایک ہولناک تبدیلی آ گئی۔
ابتدا میں آس پاس کے لوگ بے حد خوش تھے کہ اسٹوک موران کے رائلٹ خاندان کا ایک فرد دوبارہ اپنے آبائی گھر میں آ بسا ہے۔ سب چاہتے تھے کہ ان سے میل جول رکھیں، مگر ڈاکٹر رائلٹ نے خود کو دنیا سے کاٹ لیا۔ وہ دن رات حویلی کی چار دیواری میں بند رہتے، اور اگر کبھی باہر نکلتے بھی، تو کسی نہ کسی سے شدید جھگڑا ضرور ہو جاتا۔
ان کا غصہ محض تیز مزاجی نہیں تھا، بلکہ جنون کی حدوں کو چھوتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ رائلٹ خاندان کے مردوں میں یہ خونی مزاج نسل در نسل منتقل ہوتا آیا تھا، مگر میرے خیال میں ہندوستان کے گرم علاقوں میں برسوں قیام نے ان کی اس کیفیت کو اور بھی خطرناک بنا دیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کے جھگڑے بدنامی کا سبب بننے لگے۔ کئی بار ہاتھا پائی ہوئی، جن میں سے دو مقدمے عدالت تک جا پہنچے۔ آخرکار پورا گاؤں ان کے نام سے کانپنے لگا۔
لوگ انہیں دور سے آتا دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے، کیونکہ وہ غیر معمولی جسمانی طاقت کے مالک تھے، اور غصے کی حالت میں خود پر ذرا بھی قابو نہیں رکھ سکتے تھے۔
"صرف گزشتہ ہفتے کی بات ہے..."
ہیلن کی آواز لرز گئی۔
"انہوں نے گاؤں کے لوہار کو اٹھا کر پل کی منڈیر سے نیچے ندی میں پھینک دیا۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کر کے معاملہ رفع دفع کیا، ورنہ ایک اور عوامی مقدمہ ان کے سر آ جاتا۔"
انہوں نے تھکے ہوئے لہجے میں بات جاری رکھی۔
"ان کا کوئی دوست نہیں تھا... سوائے ان خانہ بدوش خانہ بدوش جپسیوں کے، جو وقتاً فوقتاً ہمارے علاقے میں آتے تھے۔"
"وہ انہیں خاندانی جاگیر کی جھاڑیوں سے ڈھکی زمین پر خیمے لگانے کی اجازت دے دیتے، اور بدلے میں خود بھی ان کے خیموں میں جا بیٹھتے۔ کبھی کبھی تو ہفتوں تک انہی کے ساتھ غائب رہتے۔"
"انہیں ہندوستانی جانور پالنے کا بھی عجیب شوق تھا۔ وہاں سے ان کا ایک جاننے والا وقتاً فوقتاً جنگلی جانور بھیجتا رہتا تھا۔"
"اس وقت بھی ہمارے احاطے میں ایک چیتا اور ایک خونخوار بابون آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں۔ گاؤں والے ان جانوروں سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا ان کے مالک، یعنی ڈاکٹر رائلٹ سے خوف کھاتے ہیں۔"
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئیں۔
"اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میری اور میری بےچاری بہن جولیا کی زندگی کتنی کربناک تھی۔"
"کوئی ملازم ہمارے ہاں زیادہ عرصہ ٹھہرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا، اس لیے برسوں تک گھر کا سارا کام ہم دونوں بہنوں نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔"
ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
"میری بہن جب فوت ہوئی تو اس کی عمر صرف تیس برس تھی... مگر مسلسل خوف اور پریشانی نے اس کے بال بھی وقت سے پہلے سفید کر دیے تھے... بالکل میری طرح۔"
ہومز نے سنجیدگی سے پوچھا،
"تو... آپ کی بہن وفات پا چکی ہیں؟"
ہیلن نے آہستہ سے سر جھکا دیا۔
"جی ہاں... آج سے ٹھیک دو سال پہلے۔"
انہوں نے گہرا سانس لیا۔
"اور میں آج آپ کے پاس اسی کی موت کا راز لے کر آئی ہوں۔"
وہ چند لمحے خاموش رہیں، پھر بولیں،
"جیسی زندگی میں نے آپ کو بیان کی ہے، اس میں ہمارے لیے اپنے ہم عمر یا اپنے طبقے کے لوگوں سے میل جول رکھنا تقریباً ناممکن تھا۔"
"البتہ ہماری ایک خالہ تھیں، مس ہونوریا ویسٹ فیل، جو ہیرو کے قریب رہتی تھیں۔ وہ میری والدہ کی سگی بہن تھیں، اور کبھی کبھار ہمیں چند دن کے لیے ان کے گھر جانے کی اجازت مل جایا کرتی تھی۔"
"دو سال پہلے کرسمس کے موقع پر جولیا بھی انہی کے ہاں گئی تھی۔"
"وہیں اس کی ملاقات بحریہ کے ایک میجر سے ہوئی، جو ریٹائرمنٹ سے قبل نصف تنخواہ پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ رفتہ رفتہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، اور ان کی منگنی طے ہو گئی۔"
"جب جولیا واپس آئی تو میرے سوتیلے والد کو بھی اس منگنی کا علم ہو گیا۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔"
ہیلن کی آواز اچانک بوجھل ہو گئی۔
"مگر شادی کی مقررہ تاریخ آنے میں ابھی صرف دو ہفتے باقی تھے..."
انہوں نے بمشکل اپنے جذبات پر قابو پایا۔
"...کہ وہ خوفناک سانحہ پیش آ گیا، جس نے مجھ سے میری واحد ساتھی... میری جڑواں بہن... ہمیشہ کے لیے چھین لی۔"
شرلاک ہومز اپنی کرسی پر نیم دراز تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور سر کرسی کے نرم گدّے سے ٹکا ہوا تھا۔ بظاہر وہ بےپروا معلوم ہوتا تھا، مگر میں جانتا تھا کہ اس کے ذہن کا ہر گوشہ ہماری مہمان کی ایک ایک بات کو غیر معمولی باریکی سے جذب کر رہا ہے۔
اچانک اس نے آہستہ سے اپنی پلکیں اٹھائیں اور ہیلن اسٹونر کی طرف دیکھا۔
"براہِ کرم،" اس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا، "ہر واقعہ پوری تفصیل اور ترتیب سے بیان کیجیے۔ معمولی سے معمولی بات بھی نظر انداز نہ کیجیے۔"
ہیلن نے دھیرے سے سر ہلایا۔
"میرے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں، مسٹر ہومز... کیونکہ اُس ہولناک رات کا ایک ایک لمحہ میری یادداشت پر ایسے نقش ہو چکا ہے جیسے کسی نے آگ سے میرے دل پر ثبت کر دیا ہو۔"
انہوں نے اپنی بات شروع کی۔
"جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں، ہماری حویلی بہت پرانی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا بیشتر حصہ ویران ہو چکا ہے، اور اب صرف ایک ہی حصہ رہائش کے قابل ہے۔"
"اسی حصے میں تمام خواب گاہیں موجود ہیں، اور وہ سب زمینی منزل پر واقع ہیں، جبکہ بیٹھک اور دوسرے کمرے عمارت کے درمیانی حصے میں ہیں۔"
"خواب گاہوں کی ترتیب کچھ یوں ہے: سب سے پہلا کمرہ ڈاکٹر رائلٹ کا، اس کے ساتھ میری بہن جولیا کا، اور سب سے آخر میں میرا کمرہ۔"
"ان تینوں کمروں کے درمیان اندرونی راستہ یا دروازہ نہیں تھا، البتہ تینوں ایک ہی راہداری میں کھلتے تھے۔"
وہ رکی اور بولی،
"کیا میں اپنی بات واضح انداز میں بیان کر رہی ہوں؟"
"بالکل۔" ہومز نے مختصر جواب دیا۔
ہیلن نے سلسلۂ کلام دوبارہ جوڑا۔
"تینوں کمروں کی کھڑکیاں سامنے پھیلے ہوئے سبزہ زار کی طرف کھلتی تھیں۔"
"جس رات وہ سانحہ پیش آیا، ڈاکٹر رائلٹ معمول سے کچھ پہلے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ لیکن ہمیں معلوم تھا کہ وہ ابھی سوئے نہیں، کیونکہ وہ حسبِ عادت اپنے نہایت تیز بو والے ہندوستانی سگار پی رہے تھے، اور ان کی بو میری بہن کے کمرے تک پہنچ رہی تھی۔"
"اسی وجہ سے جولیا اپنا کمرہ چھوڑ کر میرے پاس آ گئی۔"
"وہ کافی دیر تک میرے کمرے میں بیٹھی رہی۔ ہم اس کی آنے والی شادی، مستقبل کے خوابوں اور زندگی کے نئے مرحلے کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔"
"رات کے ٹھیک گیارہ بجے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔"
"دروازے تک پہنچی تو اچانک رک گئی... پھر مڑ کر میری طرف دیکھا۔"
ہیلن کی آواز دھیمی ہو گئی، جیسے وہ دوبارہ اسی لمحے میں لوٹ گئی ہو۔
"اس نے مجھ سے پوچھا..."
'ہیلن... کیا تم نے کبھی آدھی رات کے سناٹے میں سیٹی کی آواز سنی ہے؟'
"میں نے حیرت سے جواب دیا..."
'نہیں، کبھی نہیں۔'
"وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی..."
'کیا یہ ممکن ہے کہ تم نیند میں خود سیٹی بجاتی ہو؟'
"میں بےاختیار ہنس پڑی۔"
'ہرگز نہیں۔ مگر تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو؟'
"اس نے سنجیدگی سے کہا..."
'پچھلی چند راتوں سے، ٹھیک تین بجے کے قریب، مجھے ایک مدھم مگر نہایت صاف سیٹی کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میری نیند ہلکی ہے، اسی لیے اس آواز سے آنکھ کھل جاتی ہے۔'
'میں نہیں جانتی وہ آواز کہاں سے آتی ہے... شاید ساتھ والے کمرے سے... شاید لان سے... میں نے سوچا، تم سے پوچھ لوں، شاید تم نے بھی اسے سنا ہو۔'
"میں نے نفی میں سر ہلایا۔"
'نہیں، میں نے تو کبھی کچھ نہیں سنا۔ غالباً یہ اُن بدبخت خانہ بدوش جپسیوں کی حرکت ہوگی جو باغ کے قریب ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔'
"جولیا نے آہستہ سے کہا..."
'شاید... مگر اگر آواز واقعی لان سے آتی ہے تو مجھے حیرت ہے کہ تمہیں کیوں نہیں سنائی دیتی۔'
"میں نے مسکرا کر جواب دیا..."
'اس لیے کہ میری نیند تم سے کہیں زیادہ گہری ہے۔'
"اس نے بھی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا..."
'خیر... شاید یہ کوئی خاص بات نہیں۔'
"یہ کہہ کر اس نے مجھے آخری بار مسکرا کر دیکھا، دروازہ بند کیا، اور چند ہی لمحوں بعد میں نے صاف سنا کہ اس نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے مقفل کر لیا ہے۔"
ہومز فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
"واقعی؟" اس نے دلچسپی سے پوچھا۔ "کیا آپ لوگ ہر رات اپنے کمروں کو اندر سے بند کر کے سوتی تھیں؟"
"جی ہاں... ہمیشہ۔"
"اس کی کیا وجہ تھی؟"
ہیلن نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
"شاید میں نے پہلے بتایا تھا کہ ڈاکٹر رائلٹ ایک چیتا اور ایک خونخوار بابون پالے ہوئے تھے، اور وہ دونوں آزادانہ پوری جاگیر میں گھومتے رہتے تھے۔"
"ایسی حالت میں دروازے بند کیے بغیر سونا ہمارے لیے ناممکن تھا۔ مقفل دروازہ ہی ہمیں کسی حد تک تحفظ کا احساس دلاتا تھا۔"
ہومز نے اثبات میں سر ہلایا۔
"بہت خوب..." اس نے نہایت غور سے کہا۔ "اب اپنی داستان آگے بیان کیجیے۔"
ہیلن نے ایک گہرا سانس لیا۔ ان کی آنکھوں میں ماضی کی دہشت پھر سے جاگ اٹھی۔
"اس رات نہ جانے کیوں میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ دل پر ایک انجان سا بوجھ تھا... جیسے کوئی ہولناک حادثہ ہونے والا ہو۔"
وہ آہستہ سے بولیں،
"آپ کو یاد ہوگا، میں اور جولیا جڑواں بہنیں تھیں۔ شاید آپ جانتے ہوں کہ جڑواں روحوں کے درمیان ایک ایسا نادیدہ رشتہ ہوتا ہے، جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایک کی بےچینی دوسرے کے دل میں اتر جاتی ہے۔"
انہوں نے نظریں جھکا لیں۔
"وہ رات نہایت خوفناک تھی۔ باہر تیز آندھی چیخ رہی تھی، اور موسلا دھار بارش کھڑکیوں سے اس شدت سے ٹکرا رہی تھی کہ پوری حویلی لرزتی محسوس ہوتی تھی۔"
اچانک ان کی آواز کانپ گئی۔
"اسی شور و غوغا کے درمیان... یکایک ایک ایسی چیخ گونجی کہ آج بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔"
"وہ میری بہن جولیا کی چیخ تھی۔"
میں ایک جھٹکے سے بستر سے اٹھی، جلدی سے اپنے گرد شال لپیٹی اور دوڑتی ہوئی راہداری میں نکل آئی۔
"جیسے ہی میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا، مجھے ایک مدھم مگر صاف سیٹی کی آواز سنائی دی... بالکل ویسی ہی، جیسی جولیا نے چند لمحے پہلے مجھے بتائی تھی۔"
"اور اس کے چند ہی لمحوں بعد..."
وہ رکی، جیسے وہ آواز دوبارہ ان کے کانوں میں گونج گئی ہو۔
"...دھات کے کسی بھاری ٹکڑے کے گرنے جیسی ایک تیز جھنکار سنائی دی۔"
"میں پوری قوت سے راہداری میں دوڑی۔"
"جولیا کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اپنے قبضوں پر آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔"
"میں خوف سے ساکت رہ گئی۔"
"مجھے معلوم نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے اس دروازے کے پیچھے سے کیا منظر سامنے آنے والا ہے۔"
"راہداری میں جلتے ہوئے چراغ کی مدھم روشنی میں میں نے دیکھا..."
"...جولیا دروازے پر نمودار ہوئی۔"
"اس کا چہرہ دہشت سے بالکل سفید پڑ چکا تھا۔ دونوں ہاتھ بےبسی سے فضا میں کسی سہارے کو تلاش کر رہے تھے، اور اس کا پورا جسم ایسے ڈول رہا تھا جیسے کوئی نشے میں چور شخص لڑکھڑا رہا ہو۔"
"میں دوڑ کر اس تک پہنچی اور اسے اپنے بازوؤں میں تھام لیا..."
"لیکن اسی لمحے اس کے گھٹنوں نے جواب دے دیا، اور وہ میرے سامنے زمین پر گر پڑی۔"
"وہ شدید اذیت میں مبتلا انسان کی طرح تڑپ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پاؤں بری طرح اکڑ رہے تھے، اور پورا جسم خوفناک جھٹکوں سے کانپ رہا تھا۔"
"پہلے پہل مجھے لگا کہ شاید وہ مجھے پہچان بھی نہیں پا رہی..."
"لیکن جب میں اس کے چہرے کے قریب جھکی تو اس نے اچانک ایسی دل دہلا دینے والی چیخ ماری، جسے میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتی۔"
ہیلن کی آواز ٹوٹ گئی۔
وہ آہستہ سے بولیں،
"اے خدا... ہیلن...! وہ پٹی...! چتکبری پٹی...!"
"لگتا تھا وہ ابھی کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی۔"
"اس نے کانپتی ہوئی انگلی اٹھا کر ڈاکٹر رائلٹ کے کمرے کی سمت اشارہ کیا..."
"مگر اسی لمحے ایک اور شدید تشنج نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔"
"میں چیختی ہوئی اپنے سوتیلے والد کو بلانے کے لیے دوڑی۔"
"وہ بھی اپنا ڈریسنگ گاؤن پہنے تیزی سے اپنے کمرے سے باہر نکل رہے تھے۔"
"جب ہم دونوں جولیا کے پاس پہنچے تو وہ بےہوش ہو چکی تھی۔"
"ڈاکٹر رائلٹ نے فوراً اس کے حلق میں برانڈی انڈیلنے کی کوشش کی، پھر گاؤں سے ڈاکٹر بھی بلایا گیا..."
"مگر ہر کوشش بےکار ثابت ہوئی۔"
"وہ آہستہ آہستہ زندگی کی ڈور سے چھوٹتی گئی..."
"...اور کبھی دوبارہ ہوش میں آئے بغیر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گئی۔"
ہیلن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"یوں... میری عزیز بہن کا انجام ہوا۔"
کمرے میں چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔
پھر شرلاک ہومز نے نہایت سنجیدگی سے کہا،
"ایک لمحہ، محترمہ۔"
"کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ نے واقعی وہ سیٹی اور دھات کے ٹکرانے کی آواز سنی تھی؟"
"کیا آپ عدالت میں بھی اس بات پر حلف اٹھا سکتی ہیں؟"
ہیلن نے سوچتے ہوئے جواب دیا،
"تحقیقات کے دوران کورونر نے بھی مجھ سے یہی سوال کیا تھا۔"
"مجھے پورا یقین محسوس ہوتا ہے کہ میں نے وہ آوازیں سنی تھیں..."
"لیکن اس رات آندھی کے شور، بارش کی گرج اور اس پرانی حویلی کی چرچراہٹ کے درمیان... ممکن ہے میرا وہم بھی ہو۔"
ہومز نے اگلا سوال کیا۔
"جب آپ کی بہن ملی، کیا وہ مکمل لباس میں تھی؟"
"نہیں، وہ اپنے شب خوابی لباس میں تھی۔"
"اس کے دائیں ہاتھ میں جلی ہوئی ماچس کی ایک تیلی تھی، اور بائیں ہاتھ میں ماچس کی ڈبیا۔"
ہومز کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
"اس کا مطلب یہ ہے کہ خطرہ محسوس ہوتے ہی اس نے فوراً ماچس جلا کر اردگرد دیکھنے کی کوشش کی تھی..."
وہ آہستہ سے بولا،
"یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے۔"
پھر اس نے پوچھا،
"تحقیقات کے بعد کورونر کس نتیجے پر پہنچا؟"
ہیلن نے جواب دیا،
"انہوں نے بڑی باریک بینی سے پورے معاملے کی چھان بین کی، خاص طور پر اس لیے کہ ڈاکٹر رائلٹ کی بدنام شہرت پورے ضلع میں مشہور تھی۔"
"مگر اس کے باوجود موت کی کوئی قابلِ اطمینان وجہ دریافت نہ ہو سکی۔"
"میری گواہی سے ثابت ہوا کہ جولیا نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کیا تھا۔"
"کھڑکیوں پر پرانے زمانے کے مضبوط شٹر تھے، جنہیں موٹی لوہے کی سلاخوں سے ہر رات بند کیا جاتا تھا۔"
"دیواروں کو ہر طرف سے ٹھونک بجا کر دیکھا گیا، مگر وہ مکمل طور پر ٹھوس نکلیں۔"
"فرش کی بھی پوری جانچ کی گئی، مگر وہاں بھی کوئی پوشیدہ راستہ یا سوراخ موجود نہیں تھا۔"
"چمنی اگرچہ کشادہ تھی، لیکن اس میں چار مضبوط لوہے کے سلاخ نما کنڈے نصب تھے، جن سے کسی انسان یا جانور کا گزرنا ناممکن تھا۔"
"اس لیے یہ بات یقینی تھی کہ میری بہن اپنے آخری لمحوں میں کمرے میں بالکل اکیلی تھی۔"
"اور سب سے حیرت انگیز بات..."
"...اس کے جسم پر تشدد یا زخم کا ایک بھی نشان موجود نہیں تھا۔"
ہومز نے فوراً پوچھا،
"زہر کا امکان؟"
"ڈاکٹروں نے اس پہلو سے بھی مکمل معائنہ کیا، مگر انہیں کوئی زہریلا مادہ نہیں ملا۔"
ہومز چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،
"تو آپ کے خیال میں اس بدقسمت خاتون کی موت کس وجہ سے ہوئی؟"
ہیلن نے بےبسی سے سر ہلایا۔
"میرا یقین ہے کہ وہ خالص خوف اور شدید ذہنی صدمے سے مر گئی..."
"لیکن آخر وہ کون سی چیز تھی جس نے اسے اس قدر خوفزدہ کر دیا تھا..."
"...یہ راز آج تک میری سمجھ سے باہر ہے۔"
ہومز نے اپنی نظریں اس پر جما دیں۔
"اس وقت کیا وہ خانہ بدوش جپسی بھی جاگیر میں موجود تھے؟"
"جی ہاں،" ہیلن نے جواب دیا، "وہ خانہ بدوش جپسی تقریباً ہمیشہ ہی ہماری جاگیر میں موجود رہتے ہیں۔"
ہومز نے فوراً دوسرا سوال کیا۔
"اور آپ کی بہن نے مرنے سے پہلے جو الفاظ کہے تھے... 'چتکبری پٹی'... ان کا مطلب آپ نے کیا سمجھا؟"
ہیلن نے چند لمحے سوچ کر جواب دیا۔
"کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ وہ موت کی تکلیف میں بے ربط باتیں کر رہی تھی۔"
"اور کبھی خیال آتا ہے کہ شاید اس کا اشارہ کسی گروہ یا ٹولی کی طرف تھا... ممکن ہے انہی جپسیوں کی طرف، جو ہماری جاگیر میں خیمے لگائے رہتے تھے۔"
"ان میں سے اکثر اپنے سروں پر چتکبرے رومال باندھتے تھے۔ شاید انہی رومالوں کی وجہ سے جولیا نے 'چتکبری' کا لفظ استعمال کیا ہو۔"
ہومز نے خاموشی سے سر ہلایا۔
اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ یہ وضاحت اسے ہرگز مطمئن نہیں کر سکی۔
"یہ معاملہ..." وہ آہستہ سے بولا، "...بہت گہرا ہے۔"
پھر اس نے کہا،
"براہِ کرم، اپنی داستان جاری رکھیے۔"
ہیلن نے دوبارہ کہنا شروع کیا۔
"اس سانحے کو دو سال گزر چکے ہیں۔"
"اس عرصے میں میری زندگی پہلے سے بھی زیادہ تنہا اور ویران ہو گئی تھی۔"
"البتہ تقریباً ایک ماہ قبل میری زندگی میں امید کی ایک کرن نمودار ہوئی۔"
ان کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
"میرے ایک پرانے دوست، جنہیں میں کئی برسوں سے جانتی ہوں، نے مجھ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔"
"ان کا نام پرسی آرمیٹیج ہے۔ وہ ریڈنگ کے قریب واقع کرین واٹر کے معزز زمیندار مسٹر آرمیٹیج کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔"
"میرے سوتیلے والد نے اس رشتے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، اور ہماری شادی اسی موسمِ بہار میں طے ہو چکی ہے۔"
مگر اگلے ہی لمحے ان کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
"دو روز پہلے حویلی کے مغربی حصے میں مرمت کا کام شروع ہوا۔"
"اس دوران میرے کمرے کی دیوار توڑ دی گئی، جس کی وجہ سے مجھے مجبوراً وہی کمرہ اختیار کرنا پڑا..."
ان کی آواز لرز گئی۔
"...وہی کمرہ، جہاں میری بہن نے اپنی آخری سانس لی تھی۔"
"...اور وہی بستر، جس پر وہ سویا کرتی تھی۔"
انہوں نے بےاختیار اپنے ہاتھ آپس میں بھینچ لیے۔
"آپ خود اندازہ کیجیے، کل رات میری حالت کیا ہوگی۔"
"میں جاگ رہی تھی... اپنی بہن کی دردناک موت کو یاد کر رہی تھی..."
"کہ اچانک..."
کمرے میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔
"...رات کی خاموشی میں وہی مدھم سیٹی میرے کانوں میں گونجی..."
"...وہی سیٹی، جو دو سال پہلے جولیا کی موت کا پیش خیمہ بنی تھی۔"
"میں گھبرا کر فوراً بستر سے اٹھ بیٹھی اور چراغ روشن کر دیا۔"
"لیکن پورا کمرہ خالی تھا۔"
"مجھے کوئی چیز دکھائی نہ دی۔"
"اس خوف کے بعد دوبارہ اس کمرے میں سونا میرے لیے ناممکن تھا۔"
"میں نے فوراً کپڑے بدلے، اور جیسے ہی صبح ہوئی، خاموشی سے حویلی سے نکل آئی۔"
"سامنے واقع کراؤن اِن سے ایک ڈاگ کارٹ کرائے پر لی، لیدرہیڈ پہنچی، اور وہاں سے پہلی ٹرین پکڑ کر سیدھی آپ کے پاس چلی آئی۔"
انہوں نے التجا بھری نظروں سے ہومز کو دیکھا۔
"میرا مقصد صرف ایک تھا..."
"...آپ سے مشورہ لینا، اور اگر ممکن ہو تو اپنی جان بچانا۔"
ہومز نے اثبات میں سر ہلایا۔
"آپ نے بہت دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔"
پھر اس نے نہایت گہری نگاہوں سے خاتون کو دیکھا۔
"لیکن..."
"...کیا آپ نے مجھے سب کچھ بتا دیا ہے؟"
"جی ہاں،" ہیلن نے فوراً جواب دیا، "میں نے کچھ نہیں چھپایا۔"
ہومز کی نظریں ان پر جمی رہیں۔
"نہیں، مس رائلٹ..."
اس کی آواز پہلے سے زیادہ سنجیدہ تھی۔
"...آپ اب بھی اپنے سوتیلے والد کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔"
ہیلن چونک اٹھیں۔
"آپ... آپ کا کیا مطلب ہے؟"
ہومز نے کوئی جواب نہ دیا۔
وہ آہستہ سے آگے بڑھا اور ان کے ہاتھ پر پڑی سیاہ لیس کی آستین کو ذرا سا پیچھے کر دیا۔
میں نے بھی نگاہ ڈالی...
اور اگلے ہی لمحے میری سانس رک گئی۔
ہیلن کی کلائی پر نیل پڑے ہوئے پانچ واضح نشان ثبت تھے۔
چار انگلیوں اور ایک انگوٹھے کے گہرے، نیلے نشان...
جیسے کسی نے پوری قوت سے ان کی کلائی دبوچ لی ہو۔
ہومز نے دھیمے مگر پُراثر لہجے میں کہا،
"آپ پر بےحد ظلم کیا گیا ہے۔"
ہیلن کا چہرہ شرم اور بےبسی سے سرخ ہو گیا۔
انہوں نے جلدی سے اپنی آستین کھینچ کر کلائی چھپا لی۔
"وہ... سخت مزاج آدمی ہیں،" انہوں نے مدھم آواز میں کہا۔
"شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کی طاقت کتنی زیادہ ہے۔"
کمرے میں طویل خاموشی چھا گئی۔
شرلاک ہومز اپنی کہنیوں پر جھک گیا، دونوں ہاتھوں پر ٹھوڑی ٹکائے، اور آتش دان میں جلتی لکڑیوں کو خاموشی سے دیکھتا رہا۔
چند لمحوں بعد اس نے آہستہ سے کہا،
"یہ معاملہ غیر معمولی حد تک پیچیدہ ہے۔"
"ابھی بے شمار ایسی باتیں ہیں جنہیں جانے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا..."
"لیکن ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔"
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور ہیلن کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،
"اگر ہم آج ہی اسٹوک موران چلیں..."
"...تو کیا یہ ممکن ہوگا کہ ہم آپ کے سوتیلے والد کو خبر ہوئے بغیر ان کمروں کا معائنہ کر سکیں؟"
"اتفاق کی بات ہے کہ آج صبح ہی انہوں نے بتایا تھا کہ کسی نہایت اہم کام کے سلسلے میں لندن جا رہے ہیں۔ غالباً وہ سارا دن گھر سے باہر رہیں گے، اس لیے آپ لوگوں کے معائنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ اب ہمارے ہاں ایک خانساماں بھی ہے، مگر وہ عمر رسیدہ اور خاصی بھولی بھالی عورت ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اسے آسانی سے کسی بہانے وہاں سے دور بھیج سکتی ہوں۔"
ہومز نے اطمینان سے سر ہلایا۔ "بہت خوب۔ واٹسن، امید ہے اس سفر پر جانے میں تمہیں کوئی اعتراض نہیں؟"
"ہرگز نہیں،" میں نے فوراً جواب دیا۔
"تو پھر طے رہا، ہم دونوں آج ہی اسٹوک موران آئیں گے۔ اور آپ خود کیا کریں گی، مس اسٹونر؟"
ہیلن نے کہا، "اب جبکہ میں لندن آ ہی گئی ہوں، چند ضروری کام نمٹانا چاہتی ہوں۔ اس کے بعد بارہ بجے والی ٹرین سے واپس روانہ ہو جاؤں گی، تاکہ آپ کے پہنچنے سے پہلے گھر موجود رہوں۔"
"بہت اچھا،" ہومز نے کہا، "ہم دوپہر کے اوائل میں پہنچ جائیں گے۔ مجھے بھی شہر میں چند مختصر کام نمٹانے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ناشتا ہمارے ساتھ کر سکتی ہیں۔"
ہیلن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انکار میں سر ہلایا۔ "نہیں، اب مجھے چلنا چاہیے۔ آپ سے اپنے دل کا بوجھ بانٹ کر مجھے پہلے ہی بہت سکون مل چکا ہے۔ اب میں دوپہر میں آپ کی آمد کی منتظر رہوں گی۔"
یہ کہہ کر انہوں نے اپنا سیاہ نقاب دوبارہ چہرے پر ڈال لیا، آہستہ سے دروازے کی طرف بڑھیں، اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
چند لمحوں تک کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ پھر شرلاک ہومز کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا، "کیوں واٹسن، اس سارے معاملے کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟"
میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا، "میرے خیال میں یہ ایک نہایت تاریک اور منحوس معمہ ہے۔"
ہومز نے آہستگی سے کہا، "بے شک... تاریک بھی ہے اور انتہائی خطرناک بھی۔"
میں نے کہا، "لیکن اگر مس اسٹونر کی بات درست ہے، اور واقعی فرش، دیواریں، دروازہ، کھڑکیاں اور چمنی سب مکمل طور پر محفوظ اور ناقابلِ عبور تھے، تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ اس کی بہن اپنی موت کے وقت کمرے میں بالکل اکیلی تھی۔"
ہومز نے فوراً سوال کیا، "پھر رات کے وقت سنائی دینے والی وہ سیٹی کس کی تھی؟ اور مرتی ہوئی لڑکی کے وہ پراسرار الفاظ... 'چتکبری پٹی'... ان کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے؟"
میں نے بے بسی سے سر ہلایا۔ "سچ پوچھو تو میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ پا رہا۔"
ہومز نے اپنی انگلیاں آپس میں جوڑ لیں اور گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں بولا، "جب تم ان تمام باتوں کو ایک ساتھ رکھتے ہو... رات کی خاموشی میں سنائی دینے والی سیٹی، جاگیر میں رہنے والے وہ جپسی جن کے ڈاکٹر رائلٹ سے غیر معمولی تعلقات تھے، یہ حقیقت کہ ڈاکٹر کے پاس اپنی سوتیلی بیٹی کی شادی رکوانے کی ایک مضبوط وجہ موجود تھی، مرتی ہوئی لڑکی کا 'چتکبری پٹی' کا ذکر، اور آخر میں مس ہیلن اسٹونر کا دھات کے ٹکرانے جیسی آواز سننا، جو شاید کھڑکی کے شٹر کی لوہے کی سلاخ کے اپنی جگہ واپس گرنے سے پیدا ہوئی ہو... تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انہی سراغوں میں اس معمے کے حل کی کنجی چھپی ہوئی ہے۔"
میں نے حیرت سے پوچھا، "لیکن اگر ایسا ہے تو پھر ان جپسیوں نے آخر کیا کیا ہوگا؟"
ہومز نے آہستہ سے سر ہلایا۔ "یہی تو میں بھی نہیں جانتا۔"
میں نے کہا، "مجھے تو اس نظریے میں کئی خامیاں نظر آتی ہیں۔"
ہومز کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ "اور مجھے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج ہی اسٹوک موران جا رہے ہیں۔ میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ اعتراضات واقعی اس نظریے کو باطل ثابت کرتے ہیں... یا پھر ان کی کوئی معقول وضاحت موجود ہے۔"
وہ ابھی اپنی بات مکمل ہی کر رہا تھا کہ اچانک چونک کر دروازے کی طرف مڑا۔
"مگر... یہ آخر شیطان کے نام پر کیا ہے؟!"
ہومز کے منہ سے بےاختیار یہ الفاظ اس وقت نکلے جب ہمارے کمرے کا دروازہ اچانک پوری شدت سے کھلا، اور اس کی چوکھٹ میں ایک دیو ہیکل آدمی نمودار ہوا۔ اس کا لباس عجیب و غریب تھا، جیسے کسی معزز پیشہ ور شخص اور دیہاتی زمیندار کا حلیہ آپس میں مل گیا ہو۔ سر پر سیاہ اونچی ٹوپی، بدن پر لمبا فراک کوٹ، ٹانگوں پر چمڑے کی لمبی گیٹرز، اور ہاتھ میں شکار کے لیے استعمال ہونے والا مضبوط ہنٹر تھا، جسے وہ بےپروائی سے ہلا رہا تھا۔
وہ اس قدر لمبا تھا کہ اس کی ٹوپی دروازے کی اوپری لکڑی سے چھو رہی تھی، جبکہ اس کے چوڑے کندھے یوں محسوس ہوتے تھے جیسے پوری چوکھٹ کو بھر دیں گے۔ اس کا چہرہ دھوپ کی تپش سے زرد پڑ چکا تھا اور بےشمار گہری جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس چہرے پر ظلم، سفاکی اور بدطینتی کے ایسے آثار نمایاں تھے کہ پہلی ہی نظر میں دل دہل جائے۔ اس کی گہری، خون آلود آنکھیں اور لمبی، پتلی، گوشت سے تقریباً خالی ناک اسے کسی بوڑھے مگر خونخوار شکاری پرندے کی سی ہیبت عطا کر رہی تھیں۔
"تم دونوں میں شرلاک ہومز کون ہے؟" اس اجنبی نے کرخت آواز میں پوچھا۔
ہومز نے نہایت سکون سے جواب دیا، "میرا نام شرلاک ہومز ہے، جناب۔ لیکن افسوس، مجھے یہ اعزاز حاصل نہیں کہ میں آپ کو پہچان سکوں۔"
اجنبی نے سینہ تان کر کہا، "میں اسٹوک موران کا ڈاکٹر گرائمزبی رائلٹ ہوں۔"
"اوہ، واقعی ڈاکٹر صاحب!" ہومز نے اسی بےنیازی سے کہا، "تشریف رکھیے۔"
"میں بیٹھنے نہیں آیا!" ڈاکٹر رائلٹ غرّایا۔ "میری سوتیلی بیٹی یہاں آئی تھی۔ میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہوں۔ بتاؤ، اس نے تم سے کیا کہا ہے؟"
ہومز نے کھڑکی کی طرف ایک سرسری نظر ڈالی اور بالکل مختلف انداز میں بولا، "اس سال موسم کے لحاظ سے خاصی ٹھنڈ ہے، ہے نا؟"
ڈاکٹر رائلٹ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
"میں نے پوچھا، اس نے تم سے کیا کہا ہے؟" وہ دھاڑا۔
مگر ہومز کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔
"البتہ میں نے سنا ہے کہ اس سال کروکس کے پھول بڑی اچھی بہار دکھائیں گے۔"
یہ سن کر ڈاکٹر رائلٹ ایک قدم آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہنٹر ہوا میں لہراتے ہوئے بولا، "اچھا! تو تم مجھے ٹالنے کی کوشش کر رہے ہو؟"
اس نے نفرت بھری نگاہ سے ہومز کو گھورا۔
"میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں، بدذات آدمی! تمہارا نام پہلے بھی سن چکا ہوں۔ تم ہو... شرلاک ہومز... دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے والا!"
ہومز کے لبوں پر صرف ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
"شرلاک ہومز... ہر معاملے میں ناک گھسانے والا!"
ہومز کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
"اور شرلاک ہومز... اسکاٹ لینڈ یارڈ کا خودساختہ افسر!"
اس بار ہومز بےاختیار ہنس پڑا۔
"ڈاکٹر صاحب،" اس نے نہایت خوش دلی سے کہا، "آپ کی گفتگو واقعی بےحد دلچسپ ہے۔ البتہ جاتے وقت مہربانی کرکے دروازہ بند کر دیجیے گا، کیونکہ وہاں سے خاصی ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی ہے۔"
ڈاکٹر رائلٹ کی آنکھوں میں غضب کی چنگاریاں بھڑک اٹھیں۔
"میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک اپنی بات مکمل نہ کر لوں۔" وہ غصے سے بولا۔ "خبردار! میرے معاملات میں مداخلت کرنے کی کوشش بھی نہ کرنا۔ مجھے معلوم ہے کہ مس اسٹونر یہاں آئی تھی، اور میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہوں۔"
وہ مزید قریب آ گیا، یہاں تک کہ اس کا سایہ ہم دونوں پر پڑنے لگا۔
"یاد رکھو..." اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا، "میں ایسا آدمی ہوں جس سے دشمنی مول لینا آسان نہیں۔"
یہ کہتے ہی وہ بجلی کی سی تیزی سے آتش دان کے پاس پہنچا۔ اس نے وہاں رکھا ہوا مضبوط لوہے کا پوکر ایک ہی جھٹکے میں اٹھایا، اور اپنی بھاری بھرکم بھوری ہتھیلیوں کی طاقت سے اسے یوں موڑ دیا، جیسے وہ لوہے کا نہیں بلکہ موم کا بنا ہوا ہو۔
"بس یاد رکھنا... میری گرفت میں آنے کی غلطی کبھی مت کرنا!" ڈاکٹر رائلٹ نے غرّا کر کہا۔ پھر اس نے مڑا ہوا لوہے کا پوکر پوری طاقت سے واپس آتش دان میں پھینک دیا اور بھاری قدموں سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ چند ہی لمحوں بعد اس کے قدموں کی گونج بھی خاموش ہو گئی، مگر اس کی دھمکی آمیز آواز جیسے اب بھی کمرے کی فضا میں معلق تھی۔
چند لمحے تک ہومز خاموش بیٹھا رہا، پھر اچانک ہنس پڑا۔ "واقعی، نہایت خوش اخلاق انسان معلوم ہوتے ہیں!" اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔ "اگرچہ میرا جسم ان جتنا بھاری بھرکم نہیں، لیکن اگر وہ چند لمحے اور رکتا تو شاید اسے معلوم ہو جاتا کہ میری گرفت بھی اتنی کمزور نہیں جتنی وہ سمجھ رہا ہے۔"
یہ کہتے ہوئے ہومز آہستہ سے اٹھا، آتش دان کے پاس گیا، اور وہی موڑا ہوا فولادی پوکر ہاتھ میں اٹھا لیا۔ پھر ایک لمحے کے لیے اپنی پوری قوت جمع کی اور ایک ہی زور دار جھٹکے سے اسے دوبارہ بالکل سیدھا کر دیا، جیسے اس پر کبھی کوئی خم آیا ہی نہ ہو۔
پوکر کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا، "ذرا اس شخص کی جسارت تو دیکھیے! مجھے سرکاری جاسوسوں میں شمار کر رہا تھا۔" اس کی آنکھوں میں تجسس کی چمک ابھر آئی۔ "بہرحال، اس ملاقات نے ہمارے مقدمے میں ایک نئی دلچسپی ضرور پیدا کر دی ہے۔ اب مجھے صرف ایک ہی تشویش ہے کہ مس ہیلن اسٹونر کو اس بےاحتیاطی کی قیمت نہ چکانی پڑے کہ اس نے اس درندہ صفت آدمی کو اپنے پیچھے آنے کا موقع دے دیا۔"
ہومز نے اپنی گھڑی پر ایک نظر ڈالی، پھر حسبِ معمول نہایت پُرسکون لہجے میں بولا، "چلو واٹسن، پہلے ناشتے کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس کے بعد میں ڈاکٹرز کامنز جاؤں گا۔ امید ہے وہاں سے مجھے کچھ ایسے ریکارڈ یا معلومات مل جائیں گی جو اس پراسرار معاملے کی گرہیں کھولنے میں ہماری مدد کریں گی۔"
پہلا حصہ یہاں اختتام پذیر ہوتا ہے۔
کیا ڈاکٹر رائلٹ واقعی اپنی سوتیلی بیٹی کی جان کا دشمن ہے؟ "چتکبری پٹی" کا اصل راز کیا ہے؟ اور شرلاک ہومز اس پراسرار معمہ کی تہہ تک کیسے پہنچے گا؟
یہ سب جاننے کے لیے دوسرا حصہ ضرور سنیے۔

