ملا نصرالدین اور عقلمند چور
ایک نفسیاتی اور سبق آموز داستان
پہلا حصہ: شہرِ چکاچک اور اس کے باسی
بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک چھوٹا سا شہر تھا جس کا نام "چکاچک" تھا۔ یہ نام اس لیے نہیں پڑا تھا کہ وہاں کوئی خاص چمک دمک تھی، بلکہ اس لیے پڑا تھا کہ وہاں کے لوگ دن رات ایک دوسرے کی باتوں میں اتنے مصروف رہتے تھے کہ ان کی زبانیں ہر وقت "چک چک" کرتی رہتی تھیں۔ کوئی بھی راز اس شہر میں راز نہیں رہتا تھا۔ صبح کو کسی کے گھر میں اگر نمک کم پڑ جاتا تو شام تک پورے شہر کو خبر ہو جاتی۔
اسی شہر میں ملا نصرالدین رہتے تھے۔
ملا نصرالدین کوئی بادشاہ نہیں تھے، کوئی سپہ سالار نہیں تھے، کوئی بڑے تاجر بھی نہیں تھے۔ وہ بس ایک سادہ سا انسان تھے جن کے پاس ایک چھوٹی سی دکان تھی، ایک گھر تھا، اور ایک گدھا تھا۔ لیکن جو چیز انہیں پورے شہر میں ممتاز کرتی تھی، وہ ان کا دماغ تھا۔ ملا کا دماغ ایسا تھا جیسے کوئی پرانا حکیم کا نسخہ — دیکھنے میں سادہ، لیکن اثر میں کمال۔
لوگ اکثر کہتے تھے کہ ملا نصرالدین کبھی غصہ نہیں کرتے۔ یہ سن کر نئے آنے والے حیران ہوتے کہ بھلا کوئی انسان غصہ نہ کرے تو کیا وہ زندہ بھی ہے؟ لیکن ملا کا کہنا تھا:
"غصہ ایک جلتی ہوئی آگ ہے جو اوروں کو جلانے سے پہلے خود اپنے ہاتھ جلا لیتی ہے۔"
اور ان کا گدھا؟ وہ تو پورے شہر کا محبوب تھا۔ اس کا نام "فلسفی" تھا۔ ملا نے خود یہ نام رکھا تھا کہ گدھے، فلسفیوں کی طرح، بہت کم بولتے ہیں لیکن جب بولتے ہیں تو پورا محلہ جاگ اٹھتا ہے۔ فلسفی ایک سرمئی رنگ کا موٹا تازہ گدھا تھا جس کی آنکھیں بڑی بڑی اور کان لمبے لمبے تھے۔ وہ اتنا سمجھدار تھا کہ لوگ ہنسی میں کہتے کہ فلسفی اپنے مالک سے بھی زیادہ عقلمند ہے — البتہ یہ بات وہ ملا کے سامنے کبھی نہیں کہتے تھے۔
ملا فلسفی کو اپنا دوست مانتے تھے۔ ہر صبح اسے تازہ گاجریں کھلاتے، اس کے ساتھ باتیں کرتے، اور کبھی کبھی فلسفی کے کان میں کوئی راز بھی کہہ دیتے۔ فلسفی خاموشی سے سنتا اور اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ایک عجیب سی گہری نظر سے ملا کو دیکھتا جیسے کہہ رہا ہو: "ہاں ملا، آپ نے بالکل درست فرمایا۔"
دوسرا حصہ: چمن چور — شہر کا سب سے "ذہین" مجرم
اسی شہر میں ایک اور مشہور شخصیت رہتی تھی — چمن۔
چمن کا پورا نام چمن خان تھا، لیکن لوگ اسے "چمن چور" کے نام سے جانتے تھے کیونکہ چوری اس کا پیشہ تھا اور اسے اس پیشے پر ناز تھا۔ وہ خود کو عام چور نہیں سمجھتا تھا۔ اس کا کہنا تھا:
"عام چور وہ ہوتا ہے جو ہاتھ ڈالتا ہے اور پکڑا جاتا ہے۔ میں آرٹسٹ ہوں — میں ایسے چراتا ہوں کہ لوگ خود بھی نہیں جان پاتے کہ ان کے پاس کچھ تھا بھی یا نہیں۔"
چمن کا قد درمیانہ تھا، آنکھیں تیز تھیں، اور اس کی مونچھیں ہر وقت ایک خاص انداز میں اوپر کو اٹھی رہتی تھیں — جیسے وہ ہر وقت اپنے آپ پر فخر کر رہا ہو۔ وہ باقاعدہ چوری کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔ پہلے ہدف کا جائزہ لیتا، پھر وقت چنتا، پھر راستہ سوچتا، اور پھر اتنی صفائی سے کام کرتا کہ خود شیطان بھی داد دیتا۔
اب تک اسے کوئی نہیں پکڑ سکا تھا۔
یہی اس کا سب سے بڑا غرور تھا۔
لیکن غرور ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ باہر سے وہ بڑا مضبوط لگتا ہے، لیکن ایک معمولی ٹھوکر سے بھی گر سکتا ہے۔
ایک دن چمن نے فلسفی پر نظر ڈالی اور اس کے دل میں لالچ جاگ اٹھی۔
تیسرا حصہ: چوری کی رات
رات کا دوسرا پہر تھا۔ چاند بادلوں میں چھپا ہوا تھا جیسے وہ بھی جانتا تھا کہ آج کچھ برا ہونے والا ہے اور وہ گواہ نہیں بننا چاہتا۔
چمن نے اپنا سیاہ کپڑا اوڑھا، جیب میں ایک تازہ، رسیلی، میٹھی گاجر رکھی، اور ملا کے گھر کی طرف چل پڑا۔
فلسفی گھر کے پچھواڑے ایک چھوٹی سی جگہ میں بندھا تھا۔ چمن نے دیوار کے قریب آ کر آہستہ سے گاجر نکالی اور فلسفی کی طرف بڑھائی۔ فلسفی نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے ایک نظر گاجر پر ڈالی، پھر ایک نظر اس اجنبی پر ڈالی۔
فلسفی کو معلوم تھا کہ یہ انجان آدمی ہے۔
لیکن گاجر تھی بھی تو بہت میٹھی۔
اور فلسفی — ہر فلسفی کی طرح — لالچ کی کمزوری سے آزاد نہیں تھا۔
فلسفی نے گاجر کھا لی۔ چمن نے آہستہ سے رسی کھولی، اور فلسفی کو لے کر رات کے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
چمن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس نے سوچا: "ملا نصرالدین! تم بہت عقلمند سمجھے جاتے ہو، لیکن آج تمہارا سب سے قیمتی دوست میرے پاس ہے۔"
چوتھا حصہ: صبح کا تماشہ
اگلی صبح ملا نصرالدین اٹھے، ہاتھ منہ دھویا، اور معمول کے مطابق فلسفی کو ناشتہ دینے پچھواڑے گئے۔
وہاں صرف خالی رسی پڑی تھی۔
ایک لمحے کے لیے ملا رک گئے۔ انہوں نے رسی کو غور سے دیکھا۔ پھر اردگرد نظر دوڑائی۔ پھر آسمان کی طرف دیکھا جیسے فلسفی کہیں اڑ تو نہیں گیا۔
اور پھر ملا نصرالدین نے کچھ ایسا کیا جو کوئی اور نہ کرتا۔
وہ مسکرا دیے۔
یہ کوئی خوشی کی مسکراہٹ نہیں تھی، بلکہ اس قسم کی مسکراہٹ تھی جو اس وقت آتی ہے جب کوئی ہوشیار آدمی کسی مسئلے کو ایک پہیلی کی طرح دیکھتا ہے — اور اسے پہیلیاں حل کرنے کا شوق ہوتا ہے۔
ملا نے ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ پیا، بیٹھ گئے، اور سوچنے لگے۔
"فلسفی اتنا سمجھدار ہے کہ وہ خود نہیں جاتا۔ کوئی لایا بھی نہیں کیونکہ وہ کسی کے ساتھ جاتا نہیں — سوائے اس کے کہ اسے لالچ دیا جائے۔ تو یعنی کسی نے گاجر یا ایسی کوئی چیز سے بہلا کر اسے لے جایا۔ یہ عام آدمی کا کام نہیں، یہ کسی جانکار کا کام ہے۔"
ملا نے مزید سوچا:
"اگر میں نے شور مچایا، رویا، چیخا، تو چور ڈر کر فلسفی کو کہیں دور بیچ دے گا یا چھپا دے گا۔ مجھے ایسا کرنا ہوگا کہ چور خود گدھا واپس لے آئے۔"
اور اس ایک خیال کے ساتھ ملا نصرالدین کے ذہن میں ایک ایسا منصوبہ آیا جو کوئی اور نہ سوچ سکتا تھا۔
پانچواں حصہ: ملا کا نفسیاتی جال
ملا نے اپنی پگڑی ٹھیک کی، جوتے پہنے، اور شہر کے چوک کی طرف چل پڑے — وہی چوک جہاں ہر دن لوگ جمع ہوتے تھے، خبریں بانٹتے تھے، اور جہاں سے ایک گھنٹے کے اندر پوری بستی میں بات پہنچ جاتی تھی۔
وہاں پہنچ کر ملا نے ایک درخت کے نیچے بیٹھے بزرگوں کو سلام کیا، چائے والے سے ایک پیالہ چائے لی، اور پھر بڑی عامیانہ آواز میں، جیسے بات کرتے ہوئے ہو، کہنا شروع کیا:
"ارے بھائی، آج صبح میں نے دیکھا کہ فلسفی نہیں ہے۔ لگتا ہے کوئی لے گیا۔"
لوگوں نے کان کھڑے کیے۔
"اچھا ملا صاحب؟ آپ کا گدھا چوری ہو گیا؟ اب کیا کریں گے؟"
ملا نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا:
"گدھے کا تو مجھے زیادہ افسوس نہیں۔ گدھا نیا مل جائے گا۔ مجھے افسوس اس بے وقوف چور کا ہے جس نے یہ کام کیا۔ اس کو معلوم نہیں کہ اس نے انجانے میں اپنے آپ پر کتنی بڑی مصیبت مول لی ہے۔"
لوگ حیران ہوئے۔ ایک نے پوچھا:
"کیسی مصیبت ملا صاحب؟"
ملا نے ادھر ادھر دیکھا، پھر آہستہ سے — مگر اتنی آہستہ سے نہیں کہ لوگ سن نہ سکیں — بولے:
"بس اتنا کہوں گا کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے، وہ فوری طور پر فلسفی کو واپس کر دے۔ ورنہ مجھے وہی کرنا پڑے گا جو میرے والد نے اس وقت کیا تھا جب ان کا گدھا چوری ہوا تھا۔"
یہ کہہ کر ملا اٹھے، ایک آخری گھونٹ چائے پی، اور اطمینان سے اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔
چوک میں سناٹا چھا گیا۔
پھر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پوچھنا شروع کیا:
"ملا کے والد نے کیا کیا تھا؟"
"ہمیں کیا معلوم؟"
"لیکن لگتا ہے کچھ بہت خوفناک ہوگا، ورنہ ملا اتنے سکون سے کیوں کہتے؟"
"ہاں، جو آدمی رو نہ رہا ہو، چیخ نہ رہا ہو، غصہ نہ کر رہا ہو — اسی سے سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے!"
چھٹا حصہ: چور کا دماغ — خود کا دشمن
خبر پھیلنے میں دیر نہیں لگی۔
شام تک چمن چور کے پاس بھی یہ بات پہنچ گئی۔
چمن اپنے کمرے میں فلسفی کو باندھے بیٹھا تھا اور آنے والے دنوں کے منصوبے بنا رہا تھا کہ اسے کہاں بیچا جائے جہاں ملا کی پہچان نہ ہو۔ لیکن جیسے ہی اس نے یہ خبر سنی، اس کے ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گئے۔
"ملا کے والد نے کیا کیا تھا؟"
چمن نے سوچا — پہلے ہلکے سے، پھر گہرے سے، پھر بہت گہرے سے۔
اور جتنا زیادہ سوچا، اتنا زیادہ ڈرتا گیا۔
یہی تو عقلمند آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ہے — وہ اپنا ہی دشمن بن جاتا ہے۔ اس کا دماغ اتنے امکانات سوچ لیتا ہے، اتنے خطرے دکھا دیتا ہے، کہ اسے اصل خطرے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
چمن نے سوچا: "ملا کے والد کوئی عام آدمی نہیں ہوں گے۔ وہ بھی حکیم ہوں گے، یا شاید جادوگر۔ لوگ کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں حکیم لوگ چوروں پر ایسے جادو کر دیتے تھے کہ وہ بیمار پڑ جاتے، یا ان کے ہاتھ کام کرنا بند کر دیتے، یا ان کی قسمت پلٹ جاتی۔ کہیں ملا بھی یہی نہ کریں!"
رات کو چمن کو نیند نہیں آئی۔
اگلے دن بھی وہ بے چین رہا۔
فلسفی اپنی بڑی آنکھوں سے چمن کو دیکھتا رہا — شانت، پرسکون — جیسے وہ جانتا ہو کہ ملا کا جال تنا جا چکا ہے اور بس وقت کی بات ہے۔
شام کو ملا نے پھر شہر میں اعلان کروایا:
"ابھی بھی وقت ہے۔ جو فلسفی کو آج رات واپس کر دے، میں وہی کام نہیں کروں گا جو میرے والد نے کیا تھا۔ کل صبح تک انتظار ہے۔"
اب چمن کا حال برا ہو گیا۔
اس نے اپنے ایک دوست سے پوچھا:
"تم نے کبھی ملا نصرالدین کے والد کے بارے میں کچھ سنا ہے؟"
دوست نے کندھے اچکائے: "نہیں، لیکن بہت بڑے آدمی رہے ہوں گے۔ ملا خود اتنے ہوشیار ہیں تو باپ تو اور بھی بڑے ہوں گے۔ سنا ہے بچپن میں وہ اپنے باپ کی کتابیں پڑھتے پڑھتے بڑے ہوئے — کچھ کتابیں ایسی بھی تھیں جو عام آدمی چھو بھی نہیں سکتا تھا۔"
یہ بالکل بھی سچ نہیں تھا، لیکن چمن کے لیے یہ کافی تھا۔
ساتواں حصہ: رات کا اعتراف
دوسری رات، جب شہر سو گیا، چمن نے فیصلہ کیا۔
وہ فلسفی کو واپس کرنے جائے گا۔
خاموشی سے۔ اندھیرے میں۔ بغیر کسی کو بتائے۔
اس نے فلسفی کی رسی پکڑی اور ملا کے گھر کی طرف چل پڑا۔ فلسفی آرام سے چلتا گیا، جیسے وہ پہلے سے جانتا ہو کہ کہاں جانا ہے۔
ملا کے گھر کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ دروازے کے پاس ایک لالٹین جل رہی ہے اور ملا نصرالدین خود ایک چارپائی پر بیٹھے ہیں، ہاتھ میں چائے کا پیالہ ہے، اور وہ بالکل ایسے بیٹھے ہیں جیسے کسی مہمان کا انتظار کر رہے ہوں۔
چمن ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
ملا نے بغیر اٹھے، بغیر کوئی شور مچائے، صرف مسکرا کر کہا:
"آ جاؤ چمن۔ چائے پیو گے؟"
چمن کا دل ڈوب گیا۔
وہ آہستہ آہستہ قریب آیا، فلسفی کی رسی ملا کو دی، اور سر جھکا لیا۔
ملا نے فلسفی کی پیٹھ تھپتھپائی: "آ گئے فلسفی۔ دیکھا، میں نے کہا تھا نا کہ تم جلد واپس آ جاؤ گے۔"
فلسفی نے ایک لمبی سانس لی جیسے کہہ رہا ہو: "ہاں ملا، آپ ہمیشہ ٹھیک کہتے ہیں۔"
چمن ڈرتے ڈرتے بولا: "ملا صاحب... میں... مجھے معاف کر دیں۔"
ملا نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا: "بیٹھو پہلے۔"
آٹھواں حصہ: وہ سوال جو چمن پوچھنا چاہتا تھا
چمن بیٹھ گیا۔ ملا نے خاموشی سے اسے چائے پیش کی۔
کچھ دیر کوئی نہ بولا۔ رات کی خاموشی میں صرف جھینگروں کی آواز تھی اور فلسفی کے چبانے کی آواز — کیونکہ ملا نے اسے تازہ گاجر دے دی تھی۔
پھر چمن سے رہا نہ گیا۔ اس کے دماغ میں وہ سوال دو دن سے گھوم رہا تھا۔ اس نے کانپتی آواز میں پوچھا:
"ملا صاحب... ایک بات پوچھوں؟"
"پوچھو۔"
"آپ کے والد نے کیا کیا تھا؟ جب ان کا گدھا چوری ہوا تھا؟"
ملا نے چائے کا آخری گھونٹ پیا، پیالہ رکھا، اور مسکرائے۔ وہ مسکراہٹ جو دل کی گہرائیوں سے آ رہی تھی۔
"جب میرے والد کا گدھا چوری ہوا، اور بہت کوشش کے بعد بھی واپس نہ ملا... تو انہوں نے چپ چاپ بازار سے ایک نیا گدھا خرید لیا۔"
چمن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
"بس...؟"
"بس۔"
"لیکن... لیکن آپ نے کہا تھا کہ آپ وہی کریں گے جو آپ کے والد نے کیا۔ یعنی آپ صرف... نیا گدھا خریدنے والے تھے؟"
"ہاں۔"
چمن کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اچانک اس کے منہ سے نکلا:
"اوہ!"
اور پھر وہ مایوسی اور حیرانی کے ملے جلے جذبے کے ساتھ بولا:
"یعنی میں دو دن سے بھوت کے ڈر سے ڈرتا رہا — اور بھوت تھا ہی نہیں؟!"
ملا نے آہستہ سے جواب دیا:
"چمن، یہی تو تمہاری اصل کہانی ہے۔ میں نے تمہیں نہیں ڈرایا۔ تمہارے اپنے دماغ نے تمہیں ڈرایا۔ تمہاری اپنی فکر، تمہارا اپنا وہم، تمہاری اپنی بے ایمانی کا احساس — یہ سب مل کر تمہیں ڈراتے رہے۔ میں نے صرف ایک خالی جگہ چھوڑی تھی — تم نے خود اسے ڈر سے بھر لیا۔"
نواں حصہ: ملا کی نصیحت
رات اور گہری ہو گئی تھی۔ چمن کا سر جھکا ہوا تھا۔
ملا نے آہستہ سے بات شروع کی، اس لہجے میں جو باپ کا ہوتا ہے، استاد کا ہوتا ہے:
"چمن، تم بے وقوف نہیں ہو۔ دراصل تم بہت ذہین ہو۔ لیکن ذہانت ایک تیز دھار چھری کی طرح ہے — اگر اسے صحیح کاموں میں لگاؤ تو کھانا کاٹتی ہے، اگر غلط کاموں میں لگاؤ تو خود تمہارا ہاتھ کاٹ لیتی ہے۔
تم نے آج تک اپنی ذہانت کو چوری میں لگایا۔ اسی لیے تم دو دن سے سو نہیں سکے، کھانا نہیں کھا سکے، چین سے نہیں بیٹھ سکے۔ کیا یہ کامیابی ہے؟
اصل ذہانت یہ نہیں کہ تم دوسروں کو بے وقوف بناؤ۔ اصل ذہانت یہ ہے کہ تم اپنے نفس کو، اپنے لالچ کو، اپنی برائیوں کو بے وقوف بناؤ — انہیں دھوکہ دو، ان سے جیتو۔
آج تم فلسفی کو واپس لے آئے — یہ تمہاری ذہانت نہیں تھی، یہ تمہارا ضمیر تھا۔ اور جب ضمیر بولتا ہے تو سب سے بڑا بہادر وہی ہوتا ہے جو اسے سنتا ہے۔"
چمن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
وہ پہلی بار اپنی زندگی میں خود سے شرمندہ ہوا — نہ پکڑے جانے سے، نہ سزا سے، بلکہ اس احساس سے کہ اس نے اپنی ذہانت کو غلط جگہ لگایا۔
اس نے آہستہ سے کہا: "ملا صاحب، کیا آپ مجھے معاف کر سکتے ہیں؟"
ملا نے مسکرا کر جواب دیا:
"چمن، میں نے تمہیں پہلے ہی معاف کر دیا تھا۔ یہ سوال اپنے آپ سے پوچھو۔ جب اپنا آپ معاف کر دے — یعنی جب تم سچے دل سے بدل جاؤ — تو دنیا کی سب معافیاں مل جاتی ہیں۔"
دسواں حصہ: انجام — ایک نئی شروعات
اگلے دن صبح چمن چور شہر کے قاضی کے پاس گیا۔
اس نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے تمام گناہ لکھوائے اور کہا کہ وہ اب سے ایمانداری کی زندگی گزارے گا۔ لوگ حیران ہوئے، کیونکہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ چمن چور ایسا کرے گا۔
کچھ لوگوں نے پوچھا: "چمن، یہ تبدیلی کیسے آئی؟"
چمن نے سادہ الفاظ میں جواب دیا:
"ایک گدھے کی وجہ سے۔"
لوگ ہنسے لیکن چمن سنجیدہ تھا۔ اس نے آگے کہا:
"اور اس گدھے کے مالک کی وجہ سے — جنہوں نے مجھے بغیر مارے، بغیر قید کیے، بغیر سزا دیے، وہ سبق دیا جو مجھے پوری زندگی یاد رہے گا۔"
ملا نصرالدین کو جب یہ خبر ملی تو وہ فلسفی کے ساتھ بیٹھے گاجریں کھا رہے تھے۔
انہوں نے فلسفی کی طرف دیکھا اور کہا: "دیکھا فلسفی؟ ایک گاجر کے لالچ نے پہلے تمہیں پھنسایا، پھر اسی کہانی نے ایک چور کی زندگی بدل دی۔ لالچ نے نقصان کیا، لیکن صبر نے فائدہ دیا۔"
فلسفی نے ایک لمبی "ہیں ہاں" کی — جو واضح طور پر "بالکل صحیح" کا اظہار تھا۔
سبق آموز خلاصہ
اس کہانی میں تین اہم سبق ہیں:
پہلا سبق: انسان کا سب سے بڑا دشمن اکثر باہر نہیں، بلکہ اندر ہوتا ہے۔ چمن کو کسی نے نہیں ڈرایا — اس کے اپنے وہم اور خوف نے اسے توڑ دیا۔ جب ہم کوئی غلط کام کرتے ہیں تو ہمارا اپنا ضمیر ہمیں سب سے زیادہ سزا دیتا ہے۔
دوسرا سبق: اصلی عقلمندی یہ نہیں کہ ہم دوسروں کو دھوکہ دیں۔ اصلی عقلمندی یہ ہے کہ ہم اپنے لالچ کو، اپنے نفس کو دھوکہ دیں — اس کے پھندوں میں نہ آئیں۔ چمن بہت ذہین تھا، لیکن اس کی ذہانت اسی کے کام آتی اگر وہ اسے صحیح جگہ لگاتا۔
تیسرا سبق: مسائل کو طاقت اور چیخ و پکار سے نہیں بلکہ صبر اور نفسیاتی سمجھ سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ملا نصرالدین نے نہ شور مچایا، نہ غصہ کیا، نہ پولیس بلائی — صرف ایک خالی جگہ چھوڑی اور چور نے خود اسے ڈر سے بھر لیا۔
"غصہ بلند آواز میں بولتا ہے لیکن حکمت آہستہ مسکراتی ہے — اور جیتتی بھی وہی ہے۔"

