السلام علیکم.....
میں ہوں فرزانہ خان، اور آپ دیکھ رہے ہیں
Karim Voice۔
آج کی کہانی کراچی سے ہمیں ایک ایمبولینس ڈرائیور نے بھیجی ہے۔ اس کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے ہم اس کا نام تبدیل کر رہے ہیں، اور اس کہانی میں ہم اسے احمد کے نام سے پکاریں گے۔
آج کی یہ داستان ایک ایسے مقام سے جڑی ہے جس کا ذکر ہوتے ہی بہت سے لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں بے شمار کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ کچھ لوگ انہیں محض افواہ کہتے ہیں، جبکہ کچھ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھا ہے جس پر یقین کرنا آسان نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کراچی کے مشہور کارساز پل کے قریب رات کے دو بجے کے بعد ایک پراسرار دلہن دکھائی دیتی ہے۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کارساز پل ختم ہوتا ہے اور بائیں جانب موجود Water Board Pumping Station کی طرف نظر ڈالی جائے، تو وہاں سیڑھیوں پر ایک لڑکی رات تین سے چار بجے کے درمیان خاموش بیٹھی ہوئی نظر آتی ہے۔
کیا یہ سب صرف ایک افسانہ ہے؟ یا واقعی اس جگہ کوئی ایسا راز چھپا ہے جسے آج تک کوئی سمجھ نہیں سکا؟
آئیے، سنتے ہیں احمد کی زبانی ایک ایسی سچی کہانی، جس نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی۔
یہ واقعہ آج سے تقریباً بائیس سال پہلے کا ہے۔ اُس وقت میری عمر صرف بیس سال تھی۔ میرے والد بھی ڈرائیور تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی طبیعت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے انہوں نے مجھے خصوصی طور پر ڈرائیونگ سکھائی اور اپنی جان پہچان کی مدد سے میری ملازمت ایک ایمبولینس سروس میں بطور ڈرائیور لگوا دی۔
شروع کے دن میرے لیے انتہائی مشکل تھے۔ میری ڈیوٹی زیادہ تر رات کی شفٹ میں ہوتی تھی۔ ابتدا میں ہماری ڈیوٹی لیاری کے علاقے میں لگی ہوئی تھی۔
اس کام کا سب سے مشکل حصہ لاشوں کو اٹھانا تھا۔ تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوان، کم عمر لڑکے، اور بعض اوقات معصوم بچے بھی... ایسے مناظر انسان کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے تھے۔
میرے ساتھ ایک اور لڑکا بھی ڈیوٹی کرتا تھا، جس کا نام میں یہاں سلمان رکھ رہا ہوں۔ وہ مجھ سے کافی تجربہ کار تھا، لیکن میں اس ماحول میں بالکل نیا تھا۔ ہر بار کوئی خوفناک منظر دیکھ کر میں اندر سے ٹوٹ جاتا تھا۔ نہ کھانا کھایا جاتا، نہ رات کو سکون سے نیند آتی۔
لاشوں کی وہ کیفیت، ان کے سخت اور اکڑے ہوئے جسم، اور ان کے لواحقین کی آہ و بکا میرے دل پر گہرا اثر چھوڑتی تھی۔ میں اکثر ان چہروں کو دیکھتا رہتا، جو کبھی مسکراتے ہوئے محسوس ہوتے اور کبھی شدید پریشانی میں ڈوبے ہوئے۔ ہر حادثے کی جگہ پر موت کی سختی اور زندگی کی بےثباتی اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آ جاتی تھی۔
ویسے بھی میری طبیعت بہت حساس تھی اور دل نرم تھا، لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی اپنے فرض سے پیچھے ہٹنے کا نہیں سوچا۔ وقت کے ساتھ میں نے خود کو اس کام کے مطابق ڈھال لیا تھا۔
میرے ساتھ کام کرنے والا سلمان مجھ سے بالکل مختلف تھا۔ وہ نہایت تیز، سمجھدار اور مضبوط اعصاب کا مالک تھا۔ گھر کے سخت حالات کی وجہ سے وہی اپنے خاندان کا واحد سہارا تھا۔ اس کے باوجود وہ ہمیشہ میری ہمت بڑھاتا اور ہر مشکل کام میں مجھ سے پہلے آگے بڑھ جاتا۔
کافی عرصے تک مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آخر وہ ہر خطرناک صورتحال میں سب سے آگے کیوں رہتا ہے۔ لیکن ایک دن مجھے اس کی وجہ معلوم ہوئی... اور اس حقیقت نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
ایک دن شہر کے ایک مصروف بازار میں خوفناک بم دھماکا ہوا۔ ہر طرف چیخ و پکار، بھگدڑ اور دہشت کا عالم تھا۔ ایمرجنسی کال ملتے ہی میں اور سلمان فوراً جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
وہاں پہنچ کر ہم نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ زخمیوں کو اٹھانا شروع کر دیا۔ ایسے مواقع پر نہ تھکن محسوس ہوتی ہے، نہ خوف... بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ جانیں بچانا۔
تیسرے چکر میں ہم ایک شدید زخمی شخص کو ایمبولینس میں لے آئے۔ آج بھی اس کی آنکھیں میری نظروں کے سامنے ہیں۔ شاید میں زندگی بھر انہیں کبھی نہ بھول سکوں۔ ان میں زندگی کی آخری رمق باقی تھی۔
وہ بہت دھیمی آواز میں کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں فوراً اس کے قریب جھکا تاکہ اس کی بات سن سکوں۔
اس نے ٹوٹتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا...
"میرے بچے... بہت چھوٹے ہیں..."
شاید یہی اس کے زندگی کے آخری الفاظ تھے۔
اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ میں نے نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑایا، اسے تسلی دی اور دوڑ کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ پھر پوری رفتار سے ایمبولینس اسپتال کی طرف دوڑا دی۔
سلمان پیچھے اسی زخمی شخص کے ساتھ بیٹھا تھا اور اسے ابتدائی طبی امداد دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
راستے میں ایک لمحے کے لیے میری نظر ریئر ویو مرر پر پڑی۔ میں نے دیکھا کہ سلمان خاموشی سے کوئی چیز اپنی جیب میں رکھ رہا ہے۔
اس وقت میرا ذہن اس منظر پر غور کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ میری پوری توجہ صرف اسپتال جلد از جلد پہنچنے پر تھی۔
لیکن افسوس... وہ شخص اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔
ہم ابھی اسپتال ہی میں تھے کہ اس کے گھر والے بھی پہنچ گئے۔ اگلے دن سرد خانے سے اس کی میت گھر پہنچانے کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی حصے میں آئی۔
نجانے کیوں، اس کی میت کے ساتھ جاتے ہوئے میرا دل عجیب بےچینی میں مبتلا تھا۔ جبکہ سلمان ہمیشہ کی طرح پرسکون انداز میں میرے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھا تھا، اور پیچھے مرحوم کا بھائی خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔
جب ہم ان کے گھر پہنچے اور میت اتارنے لگے تو ایک لمحے کے لیے اُس مرحوم کا ہاتھ پھر میرے ہاتھ سے چھو گیا۔
مجھے یوں محسوس ہوا... جیسے اس نے جان بوجھ کر میرا ہاتھ تھاما ہو۔
وہ صرف ایک لمحہ تھا، لیکن اسی ایک لمحے نے مجھے دوبارہ اسی خوف اور بےچینی میں دھکیل دیا، جس سے نکلنے کے لیے میں نے مہینوں محنت کی تھی۔
ہم میت کو گھر کے صحن میں لے گئے۔ وہاں ایک روتی ہوئی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
"آج ہی اسے تنخواہ ملی تھی... بچوں کے لیے اسکول بیگ اور کتابیں خریدنے گیا تھا۔ اس کے پاس دفتر کا قیمتی سامان بھی تھا... اس حادثے میں سب کچھ ختم ہو گیا..."
یہ الفاظ سن کر میرا دل مزید بوجھل ہو گیا۔
ہم واپس ڈیوٹی پر آ گئے، مگر میرا مزید کام کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن ایسی ملازمت میں چھٹی کہاں ملتی ہے؟ شہر کی مصروفیات بڑھتی جا رہی تھیں اور ہمیں کھانا کھانے تک کی فرصت نہیں ملی۔ تھانے سے معمول کا کھانا آیا تو سلمان نے کہا،
"چلو احمد بھائی، سامنے والے ہوٹل سے بریانی کھاتے ہیں۔"
میں نے جواب دیا، "پیسے نہیں ہیں۔ دال سبزی ہی کافی ہے۔"
وہ مسکرایا اور بولا، "تم بس چلو، پیسے میں دے دوں گا۔"
ہم دونوں ہوٹل پہنچ گئے۔ میں نے دل نہ ہوتے ہوئے بھی کچھ بریانی کھا لی۔
جب سلمان نے پیسے دینے کے لیے اپنا بٹوا نکالا تو میری نظریں اس پر جم گئیں۔
اس میں ہزار ہزار کے کئی نوٹ صاف دکھائی دے رہے تھے۔
ہم ایک دوسرے کے مالی حالات اچھی طرح جانتے تھے۔ اسی لمحے میرے ذہن میں بجلی سی کوند گئی۔ مجھے اچانک وہ منظر یاد آیا جب دھماکے میں زخمی ہونے والے شخص کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھے ہوئے سلمان نے خاموشی سے کوئی چیز اپنی جیب میں رکھی تھی۔
تب مجھے احساس ہوا کہ شاید وہ یہ حرکت پہلی بار نہیں کر رہا تھا... بلکہ کافی عرصے سے یہی کرتا آ رہا تھا۔
میں نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پہلے وہ گھبرا گیا، پھر صاف انکار کرنے لگا۔ لیکن زیادہ دیر تک جھوٹ نہ بول سکا۔
آخرکار اس نے مان لیا۔
میں نے اسے سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ وہ تمام رقم فوراً واپس کرے، ورنہ میں اس کی شکایت کر دوں گا۔
مجبوراً اس نے جیب سے پورے پچیس ہزار روپے نکال کر میرے حوالے کر دیے۔
ہم نے وہ رقم ایک لفافے میں رکھی اور سیدھے اس مرحوم کے گھر پہنچ گئے۔
دروازہ اس کے تقریباً پندرہ سالہ بیٹے نے کھولا۔
ہم نے خاموشی سے لفافہ اس کے ہاتھ میں دیا، ایک لفظ بھی نہ کہا، اور واپس لوٹ آئے۔
اس رات کئی دنوں کے بعد مجھے سکون کی نیند آئی۔
اس واقعے کے بعد میں نے سلمان سے ہمیشہ کے لیے فاصلہ اختیار کر لیا۔ یہاں تک کہ اپنی ڈیوٹی بھی اس سے الگ کروا لی۔
اس ملازمت میں آ کر میں نے بہت کچھ دیکھا تھا، لیکن انسان کی وہ بےحسی اور سنگ دلی، جو سلمان کے اندر دیکھی، شاید وہ ہر خوفناک منظر سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔
کچھ عرصے بعد میرے ساتھ ایک نیا لڑکا تعینات ہوا۔ اس کا نام میں یہاں راشد رکھ رہا ہوں۔
راشد نہایت معصوم، دیانت دار اور نرم مزاج لڑکا تھا۔ وہ ہر وقت اپنے مرحوم والد کا ذکر کرتا رہتا، ان کا قلم آج بھی اپنی جیب میں سنبھال کر رکھتا تھا۔ اسے پڑھنے لکھنے کا بےحد شوق تھا، لیکن قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا۔
AAAAAAAA
آہستہ آہستہ میرا اس پر اعتماد بڑھنے لگا۔ وہ بھی ہر وقت "احمد بھائی، احمد بھائی" کہتے نہیں تھکتا تھا۔
ایک رات ہمیں اطلاع ملی کہ ایک گھر سے ایک لاوارث خاتون کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
جب ہم وہاں پہنچے تو وہ خاتون اپنے ہی گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، جیسے آخری لمحے میں کسی خوفناک منظر پر جم گئی ہوں۔
میں نے احترام سے ان کے چہرے پر چادر ڈال دی۔
پولیس کی کارروائی مکمل ہونے میں کافی وقت لگ گیا، اس لیے ہمیں وہاں سے نکلتے نکلتے تقریباً رات کا ایک بج چکا تھا۔
میں خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا اور راشد بھی غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔
جیسے ہی ہم کارساز روڈ پر پہنچے، اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے ایمبولینس کے نیچے کوئی بہت بڑی چیز آ گئی ہو۔
گاڑی زور سے اچھلی۔
ہم دونوں اپنی نشستوں سے اچھل کر چھت سے جا ٹکرائے، اور پیچھے رکھی میت بھی اسٹریچر سے آدھی نیچے سرک گئی۔
میں نے فوراً بریک لگائی۔
ہم دونوں گاڑی سے اترے اور نیچے جھانک کر دیکھا...
لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
نہ کوئی پتھر، نہ جانور، نہ کوئی اور چیز۔
راشد آگے پیچھے پوری سڑک دیکھ آیا اور حیرت سے بولا،
"احمد بھائی... یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔"
مگر وہ چیز، جو مجھے دکھائی دی تھی... اللہ کا شکر ہے کہ اس نے نہیں دیکھی۔
سڑک کے دوسری طرف ایک لڑکی کھڑی تھی...
وہ مکمل دلہن کے لباس میں ملبوس تھی۔
میں کبھی اسے دیکھتا، کبھی راشد کو، اور پھر ایمبولینس کے اندر رکھی اس میت کو، جس کی چادر ذرا سی ہٹنے سے اس کی کھلی ہوئی آنکھیں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔
وہ منظر ناقابلِ بیان حد تک خوفناک تھا۔
میں نہیں چاہتا تھا کہ راشد گھبرا جائے، اس لیے میں نے خود کو معمول کے مطابق ظاہر کرتے ہوئے کہا،
"تم ذرا گاڑی کے نیچے دوبارہ دیکھو۔"
جیسے ہی وہ دوسری طرف گیا، میں نے فوراً میت کی چادر درست کی اور اسے احتیاط سے سیدھا لٹا دیا۔
ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا... جیسے اس خاتون کی آنکھوں کی پتلیاں ہلیں ہوں۔
شاید یہ میرا وہم تھا...
میں جلدی سے نیچے اترا تو دیکھا کہ راشد بالکل ساکت کھڑا ہے۔
اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
وہ ہکلاتے ہوئے بولا،
"ا... احمد بھائی... وہ... وہ دیکھیں..."
میں سمجھ گیا کہ اس کی نظر بھی اب اسی دلہن پر پڑ چکی تھی۔
میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے کہا،
"چھوڑو... فوراً گاڑی میں بیٹھو۔"
ہم دونوں تیزی سے ایمبولینس میں آ بیٹھے۔
میں نے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی...
لیکن انجن نے جواب دے دیا۔
رات کا سنسان وقت...
ایمبولینس میں ایک میت...
اور سامنے دلہن کے لباس میں کھڑی ایک پراسرار عورت...
ایسے لمحے میں چاہے انسان کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو، خوف دل میں ضرور اتر جاتا ہے۔
شاید گھبراہٹ کی وجہ سے میرے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔
ہم دونوں کی نظریں مسلسل اسی عورت پر جمی ہوئی تھیں، جبکہ میرے ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا...
کسی بھی طرح اس میت کو جلد از جلد سرد خانے پہنچانا ہے۔
پھر اچانک وہ دلہن...
جو اب تک ساکت کھڑی تھی...
آہستہ آہستہ ہماری ایمبولینس کی طرف چلنے لگی۔
راشد گھبرا کر چیخ اٹھا،
"احمد بھائی... جلدی کریں! خدا کے لیے... وہ ہماری طرف آ رہی ہے!"
میں نے فوراً اللہ کا نام لیا اور ایک بار پھر چابی گھمائی۔
اگر اس بار بھی گاڑی اسٹارٹ نہ ہوتی تو شاید ہمیں ایمبولینس اور میت دونوں وہیں چھوڑ کر بھاگنا پڑتا۔
لیکن اللہ کا شکر تھا...
اسی لمحے انجن اسٹارٹ ہو گیا۔
میں نے پوری رفتار سے ایمبولینس بھگا دی۔
ریئر ویو مرر میں ایک لمحے کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ دلہن ہماری گاڑی کے پیچھے دوڑ رہی ہو۔
ہم مسلسل دعائیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ گئے۔
ان تمام کارروائیوں میں رات کے ساڑھے تین بج چکے تھے۔
فارغ ہو کر میں باہر بنی ایک بینچ پر آ کر بیٹھ گیا۔
راشد سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔
میں نے اس سے کہا،
"کیا ہوا راشد؟ اللہ کا شکر ادا کرو کہ ہم خیریت سے واپس آ گئے... باقی یہ سب، شاید اس پیشے کا ایک حصہ ہے..."
میں نے راشد سے کہا،
"اللہ کا شکر ادا کرو کہ ہم خیریت سے وہاں سے نکل آئے ہیں۔ ابھی تو نہ جانے اس پیشے میں ہمیں کیا کچھ اور دیکھنا باقی ہے۔"
اس نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
"احمد بھائی... جب ہم گاڑی سے اترے تھے تو میرے ابو کا دیا ہوا وہ قلم شاید وہیں کہیں گر گیا..."
مجھے اس کی بات سن کر افسوس ہوا۔ میں جانتا تھا کہ وہ قلم اس کے لیے صرف ایک قلم نہیں تھا، بلکہ اپنے مرحوم والد کی آخری نشانی تھا۔ وہ اکثر اسے ہاتھ میں پکڑ کر دیر تک دیکھتا رہتا تھا۔
میں نے کئی بار کہا تھا کہ اسے گھر میں سنبھال کر رکھو، مگر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتا،
"اسے اپنے ساتھ رکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ابو آج بھی میرے ساتھ ہیں۔"
اس کی بات سن کر میں نے ایک لمحے میں فیصلہ کر لیا۔
"چلو... اٹھو۔"
وہ حیران ہو کر بولا،
"کہاں؟"
میں نے ایمبولینس کی چابی اٹھائی اور کہا،
"پہلے چلو، پھر بتاتا ہوں۔"
وقت بہت کم تھا، کسی بھی لمحے ایمرجنسی کال آ سکتی تھی، مگر میں اس کی آنکھوں میں وہ اداسی برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔
چند ہی منٹ بعد ہم دوبارہ اسی سنسان سڑک پر کھڑے تھے۔
میں نے گاڑی روکی اور کہا،
"میرا خیال ہے، قلم یہیں کہیں گرا ہوگا۔ آؤ، تلاش کرتے ہیں۔"
ہم دونوں سڑک پر نظریں جمائے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے۔
رات پہلے سے بھی زیادہ گہری اور خوفناک محسوس ہو رہی تھی۔
اچانک میری نظر ایک چمکتی ہوئی چیز پر پڑی۔
"وہ رہا...!"
میں تیزی سے آگے بڑھا، قلم اٹھایا اور راشد کے ہاتھ میں دے دیا۔
اس کی آنکھیں خوشی اور جذبات سے بھر آئیں۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا،
"چلو میرے بھائی... اب فوراً چلتے ہیں۔"
میں نے ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ میرے قدم اچانک رک گئے...
وہی دلہن...
ایک بار پھر ہمارے سامنے کھڑی تھی۔
اس بار راشد نے بھی اسے صاف صاف دیکھ لیا تھا۔
ہم اپنی ایمبولینس سے کچھ فاصلے پر تھے، جبکہ وہ پراسرار عورت ہماری گاڑی کے بالکل قریب کھڑی تھی۔
میں نے فوراً اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔
کچھ فاصلے پر ایک کار کھڑی نظر آئی، جس پر پہلے ہماری نظر نہیں پڑی تھی۔
میں زور سے بولا،
"راشد! بھاگو... اور Ayat-ul-Kursi پڑھتے رہو!"
یہ کہتے ہوئے میں پوری رفتار سے اس گاڑی کی طرف دوڑا۔
راشد بھی میرے ساتھ بھاگنے لگا۔
جب ہم گاڑی تک پہنچے تو دیکھا، ایک درمیانی عمر کے شخص اسٹیئرنگ پر سر جھکائے بےہوش پڑے تھے۔
میں نے دروازہ کھولا اور انہیں چیک کیا۔
الحمدللہ... سانسیں چل رہی تھیں۔
ہم دونوں ایک لمحے کے لیے اپنا خوف بھی بھول گئے۔
ہم نے انہیں احتیاط سے پچھلی سیٹ پر لٹایا اور فوراً اسپتال کی طرف روانہ ہو گئے۔
گاڑی میں ایک بیگ بھی رکھا ہوا تھا۔
میں نے راشد سے کہا،
"ذرا دیکھو، شاید ان کا کوئی شناختی کارڈ یا پتہ مل جائے۔"
اس نے بیگ کھولا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
اس میں لاکھوں روپے نقد موجود تھے۔
میں نے فوراً کہا،
"بیگ بند کرو اور جیسے ہے ویسے ہی رکھ دو۔"
ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ انہیں غالباً شدید Heart Attack ہوا تھا، اور اگر چند منٹ مزید تاخیر ہو جاتی تو شاید ان کی جان نہ بچتی۔
اللہ کا شکر تھا کہ ہم انہیں وقت پر اسپتال پہنچا چکے تھے۔
صبح کی روشنی پھیلنے لگی تو ہم دوبارہ کارساز واپس گئے، اپنی ایمبولینس وہاں سے لی، پھر ان صاحب کی گاڑی اور ان کی امانت ان کے گھر والوں کے حوالے کر دی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ شہر کے ایک بڑے کاروباری شخص تھے۔
انہوں نے ہوش میں آنے کے بعد بتایا کہ رات اسی سڑک پر انہیں بھی ایک دلہن کے لباس میں ملبوس عورت دکھائی دی تھی۔
وہ اچانک ان کی گاڑی کے سامنے آتی...
اور پھر ایک لمحے میں غائب ہو جاتی۔
جیسے ہی وہ دوبارہ گاڑی آگے بڑھاتے، وہ عورت پھر سامنے آ کھڑی ہوتی۔
شدید خوف کے باعث انہیں دل کا دورہ پڑ گیا تھا۔
اس دن مجھے ایک بات پوری طرح سمجھ آ گئی...
جسے اللہ حفاظت میں رکھے، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
شاید اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف ایک وسیلہ بنایا تھا، کیونکہ اس شخص کی زندگی ابھی باقی تھی۔
اللہ نے اس نیکی کا بہترین صلہ بھی عطا کیا۔
ان صاحب نے بعد میں راشد کی تعلیم کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
اس کا برسوں پرانا خواب پورا ہو گیا۔
وہ ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھ سکا، اور بعد میں انہی صاحب نے اسے ایک بہترین جگہ ملازمت بھی دلوا دی۔
چار سال ساتھ کام کرنے کے بعد جب راشد مجھ سے رخصت ہوا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
مجھے دل سے خوشی تھی کہ اس بچے کی زندگی سنور گئی۔
وہ صاحب میرے لیے بھی کچھ کرنا چاہتے تھے۔
میں نے بارہا انکار کیا، لیکن پھر بھی انہوں نے خاموشی سے ایک بڑی رقم میرے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا دی۔
آج بھی میں وہی ایمبولینس ڈرائیور ہوں۔
مجھے اپنے پیشے سے محبت ہے، کیونکہ اس کام میں ہمیں اکثر ایسے لوگوں کی مدد کرنے کا موقع مل جاتا ہے، جن کے لیے شاید ہم اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک وسیلہ ہوتے ہیں۔
دوستو، میری زندگی کا زیادہ تر حصہ ایمبولینس چلاتے ہوئے گزرا ہے۔ اس سفر میں میں نے بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سیکھا۔
میں نے ایسے چہرے بھی دیکھے ہیں جو موت کے بعد بھی مسکراتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ انسانیت کو مرتے دیکھا، خون میں لتھڑی لاشیں دیکھیں، بےشمار دردناک حادثات دیکھے، اور ایسے کئی واقعات دیکھے جنہیں آج بھی یاد کرتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔
میرے پاس سنانے کے لیے ایسی بہت سی سچی اور حیران کن کہانیاں موجود ہیں۔ اگر زندگی نے مہلت دی تو آئندہ بھی ایک ایک کرکے آپ سب کے ساتھ ضرور شیئر کروں گا۔
اگر آپ کو آج کی یہ کہانی پسند آئی ہو تو ویڈیو کو Like ضرور کریں، اپنے قیمتی خیالات Comment میں لکھیں، اور اگر ابھی تک ہمارے چینل Karim Voice کو Subscribe نہیں کیا، تو ابھی Subscribe کرکے بیل آئیکن بھی دبا دیں تاکہ ہماری آنے والی ہر نئی اور دلچسپ کہانی سب سے پہلے آپ تک پہنچ سکے۔
اور اگر آپ کے ساتھ بھی کوئی سچا، پراسرار، خوفناک یا حیرت انگیز واقعہ پیش آیا ہے، تو آپ اپنی پوری کہانی ہمیں WhatsApp پر بھیج سکتے ہیں۔ ہمارا WhatsApp Number آپ کو ویڈیو کی Description میں مل جائے گا۔
میں ہوں فرزانہ خان۔
اگلی دلچسپ کہانی کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوں گی۔
تب تک کے لیے اپنا بہت خیال رکھیے۔
اللہ حافظ۔
Agar aap ko Karachi Horror Stories aur Sachi Horror Stories pasand hain to hamari doosri kahaniyan bhi zaroor parhein.

