10 سال سے بند گھر
تحریر فرزانہ خان
👇👇
میری عمر تقریباً پینتالیس سال ہو چکی ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں مَیں شہر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، مگر پیچھے گاؤں میں میرے امی ابو رہ گئے۔ مَیں نے انہیں بارہا شہر آنے کو کہا، مگر وہ راضی نہ ہوئے۔ ہر ماہ ان کے خرچے کی رقم بھیجتا رہا اور اکثر ملنے بھی جاتا رہا۔
مگر انہیں گزرے آج دس برس بیت چکے ہیں، اور اس کے بعد سے مَیں کبھی گاؤں نہیں گیا۔ حال ہی میں مجھے مجبوراً گاؤں جانا پڑا — اپنے والدین کا وہ گھر بیچنے کے لیے جو برسوں سے تالا بند پڑا تھا۔
میرا ارادہ اکیلے جانے کا تھا، مگر بچوں کی ضد پر مَیں اپنی بیوی اور دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر نکل پڑا۔ چند گھنٹوں بعد ہم گاؤں پہنچ گئے۔ ماحول آج بھی ویسا ہی پُرسکون تھا — وہی مٹی کی خوشبو، وہی خاموشی — مگر ماں باپ کی کمی مجھے اندر ہی اندر اداس کیے جا رہی تھی۔
گھر پہنچا تو تالا لگا ہوا تھا۔ جوں ہی کھولا، ایک سرد ہوا کا جھونکا مجھے چھو کر گزر گیا۔ اندر داخل ہوئے تو معلوم ہوا بجلی نہیں ہے۔ بیوی بچوں کو باہر بٹھایا اور بجلی کا انتظام کرنے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد بجلی آئی تو سب کے ساتھ اندر داخل ہوا۔
لائٹ آن کرتے ہی جو منظر سامنے آیا، اس نے ہمیں ساکت کر دیا۔ گھر بالکل صاف ستھرا تھا، جیسے ابھی ابھی کسی نے صفائی کی ہو۔ دس سال سے بند گھر اتنا بے داغ کیسے ہو سکتا تھا؟ کہیں مٹی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پورا گھر ویسے ہی ترتیب سے تھا جیسے پہلے ہوا کرتا تھا۔ شک ہوا تو پڑوسیوں سے پوچھنے گیا کہ کیا میری غیر موجودگی میں کوئی یہاں آتا رہا ہے۔ سب کا ایک ہی جواب تھا:
"نہیں بیٹا، یہ گھر تو اسی دن سے بند ہے جب تم تالا لگا کر گئے تھے۔ آج ہی پہلی بار کھلا ہے۔"
سفر کی تھکن سے چور، مَیں، عائشہ اور بچے اپنے پرانے کمرے میں جا کر سو گئے۔
گہری نیند میں تھا کہ ایک عجیب آواز نے آنکھ کھول دی۔ دروازہ خود بخود ہل رہا تھا، حالانکہ ہوا کا نام و نشان نہ تھا۔ چرچراہٹ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ اٹھ کر دروازہ تھاما ہی تھا کہ امی ابو کے کمرے سے دھیمی دھیمی باتوں کی آواز آنے لگی۔
اس آواز کی طرف بڑھا، اور جو منظر آنکھوں کے سامنے تھا، اس پر یقین کرنا محال تھا۔ امی ابو، بہت بوڑھے اور نحیف، آپس میں کچھ کہہ رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی دونوں نے پلٹ کر ایسی نظروں سے دیکھا جیسے شدید نفرت ہو۔ اگلے ہی لمحے ایک ایسی زوردار چیخ ماری کہ مجھے شدید جھٹکا لگا، مَیں دیوار سے ٹکرا کر بے ہوش ہو گیا۔
ہوش آیا تو عائشہ مجھے سنبھال رہی تھی۔ مَیں نے اسے کچھ نہ بتایا اور واپس کمرے میں آ گیا۔ عائشہ اور بیٹیاں دوبارہ سو گئیں، مگر میری آنکھوں سے نیند اڑ گئی۔ رات بھر یہی سوچتا رہا کہ جو دیکھا وہ حقیقت تھی یا وہم؟ اب مسلسل یہ احساس ستانے لگا کہ گھر میں کوئی موجود ہے، جو ہر لمحہ ہم پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
صبح ہوئی تو مَیں نے شہر سے لایا وہ بورڈ نکالا جس پر "مکان برائے فروخت" لکھا تھا۔ عائشہ اور بیٹیاں بھی وہیں تھیں۔ بورڈ رکھتے ہی وہ خود بخود زمین پر گر پڑا۔ اٹھا کر دوبارہ رکھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی — اب اس پر لکھا تھا: "یہ مکان فروخت نہیں ہوگا۔"
ابھی اس حیرت سے نکلے بھی نہ تھے کہ بورڈ خودبخود جلنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے راکھ بن گیا۔
تبھی پیچھے سے چھوٹی بیٹی انایا کے پاگلوں کی طرح ہنسنے کی آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو اس کا لہجہ اچانک بدل گیا۔ ایک بھاری، خوفناک آواز میں بولی: "یہ گھر ہمارا ہے... یہ گھر کوئی نہیں بیچ سکتا!"
یہ الفاظ انایا کے نہیں، اس کے اندر بسی کسی شیطانی طاقت کے تھے۔ کہتے ہی وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ بڑی مشکل سے ہوش میں لائے تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔
مَیں نے فوراً عائشہ سے کہا: "سامان سمیٹو، ہم یہ گھر چھوڑ رہے ہیں۔" چھوٹی بیٹی سعدیہ خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ سامان سمیٹ کر نکلنے لگے تو انایا کا ہاتھ پکڑا — برف کی طرح ٹھنڈا۔ وہ کرسی پر بیٹھی، چہرے پر عجیب مسکراہٹ لیے، پھر ایک ہولناک آواز میں بولی: "انایا اب کہیں نہیں جائے گی... انایا اب ہماری ہے!" اور ایک خوفناک قہقہہ بلند کیا۔
میرا دل جیسے رک گیا۔ پندرہ سالہ لڑکی میں نہ جانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی تھی کہ مَیں اسے ہلا تک نہ سکا۔
تبھی باہر سے کسی کے رونے کی آواز آئی۔ ڈر تو مجھے بھی لگ رہا تھا، مگر ہمت کر کے آگے بڑھا۔ سامنے میرے امی ابو کھڑے، روتے ہوئے کہہ رہے تھے: "انایا کو یہیں چھوڑ جاؤ... ہم بہت اکیلے ہیں... اسے اپنے ساتھ مت لے جاؤ۔" یہ سب عائشہ اور سعدیہ نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے دونوں غائب ہو گئے۔
عائشہ اور سعدیہ کا ہاتھ تھام کر باہر نکل آیا۔ خوف و پریشانی میں ڈوبے دیکھ کر ایک بزرگ پاس آئے، سارا قصہ سنا تو بولے: "گاؤں میں ایک بزرگ رہتے ہیں، ان کے پاس چلے جاؤ، شاید کچھ مدد ہو سکے۔"
مَیں فوراً ان کے پاس پہنچا۔ وہ خاموشی سے درخت کے سائے میں بیٹھے تھے۔ سلام کے بعد آنسوؤں کے ساتھ پوری بات بتائی۔ وہ فوراً میرے ساتھ چلنے پر تیار ہو گئے۔ عائشہ اور سعدیہ کو گاڑی میں بٹھا کر خود ان کے ساتھ گھر کے اندر گیا۔ وہ مسلسل کچھ پڑھتے، گھر کے ہر گوشے کو غور سے دیکھتے رہے۔
جس کمرے میں انایا بالکل ساکت، جیسے گہری نیند میں، بیٹھی تھی، وہاں پہنچے۔ بزرگ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، چند لمحے خاموش رہے، پھر ٹھنڈی آہ بھر کر آہستہ سے بولے: "انایا اس دنیا سے جا چکی ہے۔"
یہ سنتے ہی جیسے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میری ہنستی کھیلتی بیٹی چلی گئی تھی۔ مَیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، آنسو بہہ نکلے، زبان گنگ ہو گئی۔
بزرگ نے بتایا: "اس گھر میں شیطانی مخلوق بسی ہوئی ہے، اور ان کی تعداد کم نہیں۔ گھر کا طویل عرصہ بند رہنا انہیں یہاں کا مسکن بنا گیا۔" پھر بولے: "جو تمہیں اپنے ماں باپ نظر آئے، وہ اصل نہیں تھے — وہی مخلوق ان کا روپ دھار کر تمہیں دھوکا دے رہی تھی۔ اس گھر کو ہمیشہ کے لیے بند کر دو، کیونکہ جو بھی یہاں آئے گا، یہ مخلوق اسے اسی طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی۔"
یہ سن کر مَیں اندر سے ٹوٹ گیا۔ باہر بیٹھی عائشہ اور سعدیہ کو کیا جواب دوں گا، یہی سوچ رہا تھا کہ خود کو سنبھالا اور انایا کو گود میں اٹھایا — تبھی اس کے جسم میں معمولی سی حرکت محسوس ہوئی۔
مَیں چیخ اٹھا: "بابا! انایا کی سانسیں چل رہی ہیں!"
ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے گود میں اٹھا کر باہر بھاگا اور سیدھا گاؤں کے ہسپتال لے گیا، جہاں فوری علاج شروع ہو گیا۔
دوسری طرف مَیں نے اپنے والدین کے گھر کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آخری بار دروازہ بند کرتے ہوئے چند سایہ نما شیطانی مخلوقات کی ہلکی سی جھلک نظر آئی — مسکراتی ہوئیں، جیسے مذاق اڑا رہی ہوں، جیسے کہہ رہی ہوں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی ہیں۔
کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بند کیا، مضبوط تالا لگایا اور باہر ایک بورڈ آویزاں کر دیا: "اس گھر سے دور رہیں۔"
انایا کا علاج جاری رہا، آہستہ آہستہ صحت یاب ہوئی، مگر اس واقعے نے اسے اندر سے بری طرح ہلا دیا تھا۔ وقت گزرا اور آخرکار وہ مکمل صحت مند ہو گئی۔ ہم سب واپس شہر لوٹ آئے، اور اس ہولناک رات کے بعد مَیں نے کبھی دوبارہ گاؤں کا رخ نہ کیا۔
آج بھی جب اس رات کو یاد کرتا ہوں تو جسم میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے، اور سوچتا ہوں کہ اس بند گھر میں حقیقت کیا تھی... اور کیا وہ شیطانی مخلوق آج بھی وہیں موجود ہے؟

