کیوں نہیں بتایا کہ خدا کیسے ہوتا ہے۔۔۔
میں نے اسے اتنی اذیتیں دی تھیں، اتنی تکلیفیں دی تھیں کہ اس کی روح تک چھلنی کر دی گئی تھی۔ اسے ذہنی اذیت دینے کے لیے میں اس کے سامنے غیر لڑکیوں کو لایا کرتا تھا اور ان کے ساتھ وقت گزارا کرتا تھا۔ میں نے اسے اتنا جلایا تھا کہ اسے مرتے وقت یہ وصیت کرنا پڑ گئی تھی کہ:
"جب میں مر جاؤں تو میری قبر کسی سایہ دار جگہ میں بنانا۔"
اس کا نام ماہم سلطان تھا۔ وہ میری ماں کی پسند تھی۔ میں اس سے شادی کرنا نہیں چاہتا تھا، مگر جس لڑکی کو میں پسند کرتا تھا، میری فیملی کا کوئی فرد وہاں میری شادی پر راضی نہیں تھا۔ مجھے مجبور کیا گیا تھا۔ میرے انکار کے باوجود میری شادی اس سے کروا دی گئی تھی۔
اب یہاں کچھ لوگ یہ ضرور کہیں گے کہ مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا، مگر یقین کریں کہ مرد مجبور ہو جاتا ہے۔ ہاں، البتہ اگر مجبوری میں بھی مرد تعلق نبھانا چاہے، ساتھ نبھانا چاہے، تو اتنا حوصلہ ضرور رکھتا ہے کہ اس مجبوری کے باوجود وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا ہے۔
خیر، جب میرے والدین نے مجھے مجبور کیا تو میں نے دل میں یہ عہد کر لیا تھا کہ آنے والی اس لڑکی کو اتنی تکلیفیں دوں گا، اتنی اذیتیں دوں گا کہ وہ خود منہ سے بول کر طلاق مانگے گی۔ اور پھر میں یہ نوبت لے بھی آیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ:
"مجھے طلاق دے دو۔"
مگر تب بھی میرے گھر والے رکاوٹ بن رہے تھے۔ وہ میری منتیں کر رہے تھے، مجھے واسطے دے رہے تھے کہ:
"تم ایسا نہ کرو۔ اسے ہم بیاہ کر لائے ہیں، ہم اس کے والدین کو کیا منہ دکھائیں گے؟ ہم خدا کو کیا منہ دکھائیں گے؟ ہم معاشرے کو کیا منہ دکھائیں گے؟"
خیر، مجھے ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا۔ میں جسے پسند کرتا تھا، اسے ہر حال میں اپنانا چاہتا تھا۔ اس کے لیے اب ایک ہی صورت تھی کہ میری بیوی خود مجھ سے طلاق مانگتی، اور اس کی زبان سے یہ لفظ بلوانے کے لیے مجھے اسے اذیتیں دینا تھیں، جو میں دیتا رہا۔
مجھے یاد ہے، جب میں پہلی بار کمرے میں داخل ہوا تھا تو اس نے سر پر لی گئی چادر کے پلو سے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا۔ مگر میرے قدموں کی آہٹ سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ میں کمرے میں آ گیا ہوں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میری آمد سے پہلے اس کے پاس بیٹھی ہوئی میری ماں، بہنیں اور ہمارے گاؤں کی چند قریبی خواتین وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھیں۔
جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوا تو وہ جس حال میں تھی، اسی حال میں اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ مجھے السلام علیکم کہا، پھر جب تک میں نے اسے بیٹھنے کو نہیں کہا، تب تک وہ بیڈ کے پاس کھڑی رہی۔
مجھے نہیں پتا اس کے دل میں کتنے ارمان تھے یا وہ مجھ سے کیسی توقعات رکھتی تھی، مگر میں نے اسے انتہائی کرخت لہجے میں صرف یہ کہا تھا:
"جا کر یہ لباس تبدیل کر آؤ۔"
میں اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پایا تھا، کیونکہ وہ مجھ سے اوجھل تھی۔ مگر میری بات کی تعمیل کرتے ہوئے اس نے لباس تبدیل کر لیا تھا۔ اس کے بعد وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئی تھی۔
وہ انتہائی معصوم، خوبصورت اور سلجھی ہوئی لگ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا تھا:
"تم یہاں کیا توقعات لے کر آئی ہو؟"
اس نے مختصر سا جواب دیا تھا:
"میں جتنی بھی توقعات لے کر آئی تھی، وہ ساری مر گئی ہیں۔ بس اب میں آپ کے حکم کی غلام رہوں گی اور کوشش کروں گی کہ آپ کو مطمئن اور خوش رکھ سکوں۔"
میں نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا:
"لوگوں کو مطمئن اور خوش رکھنا تو کوٹھے والیوں کی عادت ہوتی ہے۔"
میری بات سن کر اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں، اور اس نے صرف اتنا کہا تھا:
"غور کرنا، یہ حکم کوٹھے والیوں کو نہیں، ایمان والیوں کو دیا گیا تھا کہ تمہارا شوہر تمہارا مجازی خدا ہے، اور اپنے خدا کو خوش رکھنے کی کوشش ہر انسان کرتا ہے، وہ میں بھی کروں گی۔ اب اگر آپ مجھے کوٹھے والی سمجھتے ہیں تو بے شک سمجھتے رہیں۔"
اس کی بات ٹھیک تھی، لیکن میں نے اسی بات پر اسے پہلی رات پہلا تھپڑ مارا تھا۔ اس تھپڑ کا نشان صبح تک اس کے چہرے پر باقی تھا۔
خیر، یوں ہمارے رشتے کی ابتدا ہوئی تھی، اور پھر یہ تشدد اس کی زندگی کا حصہ بنتا گیا۔ پہلے تھوڑا تھا، پھر زیادہ ہوا، پھر اور زیادہ ہو گیا۔ ایک وقت آیا کہ کوئی بات ہوتی یا نہ ہوتی، میں گھر آتا، اس کے ہاتھ پاؤں باندھتا اور بیلٹ کی مدد سے اسے مارنا شروع کر دیتا۔
وہ مجھ سے پوچھتی رہتی تھی:
"میری غلطی کیا ہے؟"
لیکن میں اسے کبھی کوئی غلطی نہیں بتاتا تھا، کیونکہ غلطی کا مجھے خود بھی پتا نہیں ہوتا تھا۔ میں بس یہ چاہتا تھا کہ میں اسے اتنی اذیت دوں کہ وہ مجھ سے...
طلاق لے
"بے شک مجھے طلاق دے دیں اور اپنی پسند کی شادی کر لیں۔ اگر مجھے اپنے نکاح میں رکھتے ہوئے کرنا چاہتے ہیں تو بے شک تب بھی کر لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن مجھے اتنا مارا نہ کریں۔"
مجھے اس کی یہ شرط منظور تھی، لیکن مجھے پتا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے میرے گھر والے کبھی بھی یہ بات نہیں مانیں گے۔ لہٰذا میں نے اسے کہا تھا کہ تم خود میرے گھر والوں سے کہو کہ وہ تمہیں مجھ سے طلاق لے کر دیں۔ اس بات پر وہ آمادہ نہیں تھی، اور اسی بات کی بنیاد پر میں اس پر تشدد کرتا تھا۔
اسے میں نے ایسی ایسی اذیتیں دی ہیں کہ اگر آج میں خود سوچوں تو میری اپنی روح کانپ جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے، ایک بار میں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے تھے۔ سگریٹ میرے ہاتھ میں تھا۔ سگریٹ کی مدد سے میں نے اس کے ناک کے نتھنوں کو اندر کی طرف سے جلا دیا تھا، صرف اس لیے کہ اگر اسے اذیت دینے کے لیے میں اس کی بیرونی جلد کو جلاتا تو وہ کسی کو نظر آ جاتا، اور پھر لوگ مجھے ظالم اور جابر کہتے۔
میں کوشش کرتا تھا کہ جب بھی مجھے اس پر تشدد کرنا ہوتا تو ایسی جگہ کا انتخاب کرتا جسے وہ کسی کو دکھا نہ سکے۔ میرا تشدد سہتے سہتے اس کے جسم کی کچھ باریک نالیاں کٹ گئی تھیں یا پھٹ گئی تھیں، جس کی وجہ سے وہ اب ٹھیک طرح سے چل نہیں پاتی تھی۔ پانی کا بھرا ہوا جگ تک اسے بھاری لگتا تھا۔ وہ اتنا وزن بھی اٹھا نہیں پاتی تھی۔ وہ بالکل نڈھال ہو گئی تھی۔
میرے گھر والوں نے اس کا علاج معالجہ کروایا تھا، لیکن ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اب اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ اب اس بچی کو جب تک جینا ہے، ایسے ہی جینا ہے۔ بلکہ یہ کچھ عرصہ مزید چل پھر سکے گی، اس کے بعد بستر کی ہو کر رہ جائے گی۔
یوں، جب اس کی صحت اتنی بگڑ گئی تو وہ اپنے میکے واپس چلی گئی۔ وہاں وہ کوئی دو اڑھائی سال زندہ رہی۔ ان دو اڑھائی سالوں میں میں کبھی اس سے ملنے نہیں گیا، نہ ہی اس کی خیر خبر لینے گیا۔
اس کی طرف سے میری والدہ کے ہاتھ ایک دو بار یہ پیغام آیا تھا کہ:
"اگر میری ذات سے تمہیں کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو تو مجھے معاف کر دینا۔"
مگر وہ بیچاری مجھے کہاں تکلیف پہنچا سکتی تھی، اور میں نے اسے کہاں معاف کرنا تھا۔ وہ اپنی موت مر گئی تھی۔
کہتے ہیں کہ مرتے وقت اس نے وصیت کی تھی:
"مجھے زندگی میں اتنا جلایا گیا ہے، اور مجھے سائے کی اتنی طلب پیدا ہو گئی ہے کہ میری قبر بھی کسی سائے والی جگہ پر بنانا۔"
پھر اس کی وصیت کے مطابق اس کی قبر درختوں کے جھنڈ میں بنائی گئی، اور وہاں کچھ نئے پودے بھی خاص طور پر اس کی قبر پر سایہ رکھنے کے لیے لگائے گئے تھے۔
وہ تو اپنی زندگی جی کر گزر گئی، مگر اب مجھے میرا اپنا اختتام انتہائی بھیانک نظر آ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اسے جتنی اذیتیں دی تھیں، اس سے دگنی سہہ کر مروں گا۔ منتظر ہوں کہ کب میرا مکافاتِ عمل شروع ہو گا اور کب میں تقدیر کی گرفت میں آ جاؤں گا۔
📚 ہماری مزید کہانیاں
اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے تو ہماری ویب سائٹ پر موجود مزید دلچسپ، سسپنس، جذباتی اور سبق آموز اردو کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔
📖 مزید کہانیاں پڑھیں
