وہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ میٹنگ میں موجود وہ تینوں افراد بری طرح چونک گئے اور دروازے سے اندر آنے والی اس حسین دوشیزہ کو دیکھنے لگے۔ فہام کے ماتھے پر اَن گنت بل پڑ گئے تھے۔ ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بھینچتے وہ اسے سخت نظروں سے نوازنے لگا۔ لیکن وہ گرین آنکھوں والی پری آج اس فہام کے غصیلے انداز سے بھی نہ ڈری تھی۔
"مجھے بات کرنی ہے آپ سے۔ ابھی اسی وقت۔" اپنی گیلی پلکوں سے فہام کو بنا پلکیں جھپکائے دیکھتے وہ نرم انداز میں بولی۔
فہام نے رخ پیچھے کیا اور اسے گھورنے لگا۔
"مجھے آپ سے..." وہ بولتی کہ فہام کے غصے سے بھری غراہٹ سنتے ہی وہ لڑکی رک گئی۔
"سنائی دے رہا ہے؟ جاؤ یہاں سے!" اب کی بار اس کی آواز اونچی ہوئی۔ وہاں موجود ان دو نفوس نے سر جھکائے، اس معاملے سے خود کو الگ ہی رکھنا چاہا۔
"بات ضروری ہے آپ سے مجھے..."
"تمہیں اونچا سنائی دیتا ہے؟ کہا ہے باہر جاؤ۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد آنا۔ آؤٹ!" وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھتا، دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھتے ہوئے چلایا، تو وہ بڑی سی لڑکی سہم کر دو قدم پیچھے ہٹی۔ اور پھر وہاں رک کر مزید اپنی بے عزتی نہ کروا سکی اور آفس سے باہر نکل آئی اور دروازے کے باہر ہی کھڑی ہو گئی۔
وہاں موجود ایک دو کولیگز نے اسے فہام کے آفس کے باہر کھڑے دیکھا تو افسوس کیا۔
"پتا نہیں کیوں اتنے اونچے خواب سجانے لگتی ہیں یہ لڑکیاں۔ امیروں کے ساتھ صرف ٹائم پاس ہوتا ہے، تعلق نہیں بنایا جاتا، کیونکہ ہم ان کے لیے جسٹ ٹائم پاس ہی ہوتے ہیں۔" مصباح نے ایک نظر پری کو دیکھتے ہوئے طنز کیا۔
"بس یار، کچھ لڑکیاں خود کو واقعی جنت کی حور سمجھ لیتی ہیں کہ امیر لڑکے ان کے دیوانے بنے ان کے پیچھے آئیں گے۔ جبکہ وہ بھول جاتی ہیں کہ وہ مڈل کلاس لڑکیوں کے ساتھ وقت گزاری تو کر لیتے ہیں لیکن شادی اپنے جیسے امیر خاندان میں ہی کرتے ہیں۔ اب صرف ہم کو ہی دیکھ لو۔ کل منگنی کر رہے ہیں۔ سنا ہے بہت امیر لڑکی ہے، ان کے ہم پلہ ہے۔" نرجس نے مزید معلومات میں اضافہ کیا۔
پری کا دل بری طرح سے دکھ رہا تھا۔ وہ تو معصوم تھی، اور اس کی معصومیت کہ وہ اس شخص سے محبت کر بیٹھی جو کل کسی اور سے منگنی کر رہا تھا۔ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کر رہا تھا۔ پری کا دل کھول رہا تھا۔ وہ فہام کے منہ سے سننا چاہتی تھی کہ وہ سب افواہیں ہیں، جھوٹ ہے۔ لیکن ابھی جس طرح وہ اس سے پیش آیا تھا، اس کے بعد تو پری کو لگ رہا تھا کہ وہ سب افواہیں نہیں ہیں بلکہ کچھ نہ کچھ تو سچائی ضرور ہے۔
آفس کا دروازہ کھلا اور وہ دونوں نفوس باہر نکلے۔ ایک نظر پری کو دیکھا جس کی سفید رنگت میں گلابیاں گھلی ہوئی تھیں، اور وہ نظرانداز کرتے آگے بڑھ گئے۔ وہ گہرا سانس بھرتی آفس کا دروازہ کھٹکھٹاتی اندر داخل ہوئی، لیکن سامنے فہام اسے دکھائی نہ دیا۔ جبکہ اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی کلک کی آواز سے وہ پلٹی۔ فہام نے غصے سے اس کی جانب پیش قدمی کرتے اسے دیوار کے ساتھ پن کیا۔
"تمہیں اب کون سی زبان میں سمجھانا پڑے گا کہ میرے آفس میں میٹنگ کے دوران مت آیا کرو؟" وہ غصہ ہو رہا تھا اپنی پری پر۔
پری کی آنکھیں چھلک اٹھیں۔ "آپ کی منگنی..." پری کے حلق سے بمشکل یہ الفاظ نکلے۔
"ہاں کر رہا ہوں میں۔" وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے خود سے قریب تر کر گیا کہ اس کی بکھری سانسوں کی نرمی فہام محسوس کرتا، دل کے بہکنے کو روک نہیں پا رہا تھا۔
"آپ... آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔"
"میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ وہ مجھے روک نہیں سکتی۔" وہ سنجیدہ آواز میں کہتا اس کی گردن میں اپنی گرم سانسیں چھوڑتا ہے۔ اس کی مہک کو محسوس کرتا بیوقوف ہو رہا تھا۔
"پیچھے ہٹیں!" وہ غصے سے اسے پش کر گئی۔ فہام ذرا سا پیچھے ہوا اور اس کے سارے جذبات پل میں اُڑن چھو ہوئے۔ اس کا یوں جھٹکنا فہام کو شدید غصہ دلا گیا تھا۔ وہ اس کے سر کے پیچھے سے ہاتھ گزارتا اس کا چہرہ اپنے چہرے سے اتنا قریب تر کر گیا کہ پری بری طرح سے گھبرا گئی۔
"تمہاری جرأت کیسے ہوئی مجھے یوں جھٹکنے کی؟ ہاں؟"
اس کا دماغ پل بھر میں گھوما تھا۔ "ٹھیک ویسے جیسے آپ منگنی کرنے کی جرأت کر رہے ہیں۔" وہ بنا ڈرے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی بنا اٹکے بولی تھی، وگرنہ ہمیشہ ہی فہام کے سامنے اس کی زبان اٹک جاتی تھی۔
اس کی بات پر فہام کے چہرے کو مسکراہٹ نے چھوا۔ پری کو اس کے خوبصورت چہرے کی مسکراہٹ اس وقت زہر لگی تھی۔
"آئی لائک اِٹ۔ آئی لائک یور اٹیٹیوڈ۔" اس کے چہرے پر ہلکی سی پھونک مارتا پیچھے ہٹا۔ اس کا دور جانا بھی پری کے دل پر ہتھوڑے برسا گیا تھا۔
"اب اتنی جلدی بدل جائیں گے، میں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ مگر کسی اور سے ہی منگنی کرنی تھی، اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا تھا، تو مجھے کیوں اپنی محبت کے جھوٹے جال میں پھنسایا؟" اس کے پاس آتے ہی وہ غصے سے چیخی۔
"اب تم حد سے بڑھ رہی ہو پریسا۔" وہ غصے میں ہمیشہ اس کا پورا نام لیا کرتا تھا۔
"آپ نے ساری حدیں توڑ دی ہیں فہام سلطان! اب مجھ سے بھی کسی قسم کی کوئی امید مت رکھیے گا۔" وہ آنسو ضبط کرتی دروازے کی جانب پلٹی کہ فہام نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے دروازے کے ساتھ ہی پن کر دیا۔
پری ایک دم گھبرا سی گئی۔ اس نے پلٹ کر فہام کو دیکھنا چاہا لیکن اس نے اس کی کمر پر دباؤ ڈالتے اس کی پچھلی گردن پر اپنے لب مس کیے۔ اس کا انداز ہمیشہ کی طرح پری کے لیے جان لیوا ثابت ہوا تھا۔ اس کی نرمی آہستہ آہستہ شدت اختیار کر لیتی تھی، جو پری کے لیے سہنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس کی اس قدر قربت سے اس کی سانسوں میں بے انتہا انتشار برپا ہونے لگا۔ فہام اپنے مقصد میں کامیاب ہوا تھا۔
جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب موڑتا، اس کی آنکھوں میں چھائی گہری خمار دیکھتا زیرِ لب مسکرایا، جس پر پری کی آنکھوں میں نمی چھلکنے لگی۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کے بری طرح سے رو دی۔ فہام نے اس کے آنسو پونچھنا ضروری نہیں سمجھا، اسے روتا ہوا دیکھتا رہا۔ اس کے ہاتھوں کی پشت پر دھیرے سے لب رکھے۔ اس کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا گیا تھا۔ اس نے فوراً سے اپنے آنسو پونچھے۔ وہ یہاں آنے پر اب پوری طرح سے پچھتا رہی تھی۔ وہ بھول گئی تھی کہ فہام سلطان کچھ بھی کر سکتے ہیں، کچھ بھی۔ لیکن اس نے صرف پری کو اپنا قیدی بنا دیا تھا، جبکہ وہ خود آزاد تھا۔ اس بات سے پری کو بہت تکلیف ہوئی تھی۔
وہ پلٹی، اپنے آنسو پونچھے، اس سپاٹ چہرے کے ساتھ باہر نکلنا چاہا لیکن فہام نے اس کے اطراف بازو جمائے، اس کا راستہ روکا۔
"کل سلطان ہاؤس میں منگنی کا بہت بڑا فنکشن ہو گا۔ امید کرتا ہوں کہ تم ضرور آؤ گی۔" وہ اب اس کا آخری امتحان لے رہا تھا۔
"میں نہیں آؤں گی فہام سلطان! آپ بے وفا ہیں۔" وہ دکھتے دل سے اسے دیکھتے ہی تڑپ کر بولی۔
"تم لازمی آؤ گی۔ گاڑی آئے گی تمہیں لینے۔ پر تم جانتی ہو فہام سلطان کو نہ سننے کی عادت نہیں ہے۔" فہام نے قطعی انداز میں کہا اور دروازے کا لاک کھول دیا۔
"نہیں آؤں گی کبھی بھی۔" وہ فہام کو گھورتی باہر نکلی، جبکہ فہام کے چہرے کو مسکراہٹ نے چھوا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی پری اسے کبھی انکار کر ہی نہیں سکتی تھی اور وہ ضرور آئے گی۔ وہ یہ بھی جانتا تھا۔
گھر آتے ہی پری نے اپنا بیگ دور صوفے پر اچھالا، جوتے اتارے اور شیلف میں پھینکے، چادر اتار کر پلنگ پر پھینکی۔ سونیا بیگم اسے اس طرح سب کچھ کرتے دیکھ کر ماتھے پر بل ڈال گئیں۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے پری؟ کیوں یہ سب پھیلاوا مچایا ہے؟" وہ سخت لہجے میں بولیں۔
پری کی آنکھیں جھلملا گئیں۔
"میں تم سے بات کر رہی ہوں۔ پری ہوش میں آؤ تم۔ اٹھاؤ یہ سب۔ کوئی فکر نہیں ہے۔ بی سیما نے ساری صفائی کی اور تم نے آتے ہی بچوں کی طرح سب کچھ بکھیر دیا۔" ان کی وسیع آواز پر پری نے آنسو ضبط کرتے اپنی چیزیں خاموشی سے اٹھائیں اور اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔
"کپڑے چینج کر کے آؤ اور کچن میں روٹی ڈالو۔" آگے فوراً انہوں نے اپنا اگلا حکم نامہ جاری کیا، جبکہ پری بس سن سی ہو کر چپ ہو گئی تھی۔
اپنے کمرے میں آتے ہی سب کچھ اس نے پھینک دیا اور غصے سے باتھ روم کی طرف کا رخ کیا۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے شدت سے رو رہی تھی۔ پانی کے ٹھنڈے چھینٹے چہرے پر گرائے تو جلتے دل کو کچھ سکون نصیب ہوا تھا۔ ٹاول سے چہرہ خشک کرتی ہوئی باہر آئی تو سیما اس کے کمرے میں آتی اس کا پھیلاوا سمیٹ رہی تھی۔
"کیا بات ہے پری؟ کیوں اپ سیٹ ہو؟" سیما نے پیار سے پوچھا۔
"کچھ نہیں، میں روٹی ڈال لوں۔" وہ خود پہ ضبط کیے کمرے سے باہر نکلنے لگی کہ سیما نے اس کا ہاتھ تھامے اسے روک لیا۔
"پہلے بتاؤ مجھے کیا ہوا؟ پریشان کیوں ہو؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟" پیار سے پوچھنے لگی تو پری کے آنسو پھر سے چھلکنے کو بے تاب تھے۔
"کہیں فہام نے تو کچھ..." سیما کو تھوڑا تھوڑا سا سمجھ آنے لگا۔
"بھابھی وہ... منگنی کر رہا ہے کل کسی ہما سے۔" پری نے خود پر ضبط کر کے کہا۔
"واٹ؟ وہ کیسے کسی اور کے ساتھ؟ وہ تو تم سے..." سیما کو حیرت ہوئی۔
"مجھے بھی یہی لگتا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن وہ بے وفا نکلے۔ سب کچھ جھوٹ تھا۔ اینڈ اینڈ ایوری تھنگ۔" وہ رو پڑی۔ اور اس سے پہلے کہ سیما کچھ کہتی، سونیا بیگم اندر داخل ہوئیں تو وہ ٹاپک بدل گئی۔
"اچھا، اس میں اتنا رونے والی کیا بات ہے؟ تمہاری طبیعت نہیں ٹھیک تو تم ریسٹ کرو نا، میں روٹی بنا لوں گی۔" سیما نے مسکراتے ہوئے کہا تو پری نے سر اٹھا کر ماں کو دیکھتے آنسو پونچھے۔
"ہو گئے ان محترمہ کے ڈرامے۔ چلو اب اٹھو اور روٹی بناؤ۔" وہ تھوڑی سخت طبیعت ثابت ہوئی تھیں۔ ان کی سختی کی وجہ سے اکثر اوقات پری باغی ہو جاتی تھی۔ ابھی بھی اٹھتے ہی دروازے کی جانب بڑھی کہ سیما نے روک دیا۔
"بڑی، تم رہنے دو، میں بناتی ہوں۔ رکو، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔"
"مت بگاڑو اسے۔ اگلے گھر جا کر ناک کٹوائے گی یہ لڑکی۔ کوئی نہیں سہتا اتنے نخرے۔" وہ چڑ کر بولیں۔
"میں بنا رہی ہوں روٹی۔" پری بولی۔
"اتنا غصہ نہ کریں۔" وہ اپنی اصلی معصومیت سے بولتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔
"اتنی سختی نہ کیا کریں۔ چھوٹا سا دل ہے اس کا۔ آگے جائے گی تو خود ہی کر لے گی۔ سر پر پڑتی ہے تو اچھے اچھوں کو آ جاتی ہے۔" سیما کو پری پر ترس آیا۔
"کرے گی تو آئے گا نا۔ تم یہ خواہ مخواہ اس کی سائیڈ مت لیا کرو۔" سونیا بیگم نے ابھی بھی اسے گھرکا۔ "جاؤ دیکھو، عبیرہ جاگ گئی ہے۔ اسے فیڈ کرواؤ۔"
انہوں نے بہو سے کہتے خود کچن کی جانب قدم بڑھایا جہاں پری روٹیاں ڈال رہی تھی۔
"اسے یہیں چھوڑو۔ جاؤ سلاد بناؤ جلدی سے۔" وہ اسے چولہے کی سائیڈ سے ہٹا کر خود روٹیاں ڈالنے لگی تھیں۔
"میں ڈال رہی ہوں نا امی۔"
"وہ مت۔ ہٹو! کہاں ہے سلاد؟ آؤ نا جلدی سے، بھائی آنے والا ہو گا شاپ سے۔ سلاد کے بغیر وہ کھانا نہیں کھاتا۔" وہ فٹافٹ توے پر روٹیاں ڈال رہی تھیں۔ پری نے فریج سے سلاد کا سامان نکالا تو خاموشی سے بنانے لگی۔
"چلو، روٹیاں بن گئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جنید بھی آ گیا ہو گا۔ سیما!" وہ بولتے ہی سیما کو پکارنے لگیں۔ وہ جو عبیرہ کو فیڈ کروا کر ہٹی تھی اور بستر بچھاتے اس کے گرد تکیے رکھے ہی تھے کہ اسی لمحے جنید اندر داخل ہوا۔
"اسلام علیکم! آج کافی تھک گیا۔"
"وعلیکم السلام۔" سیما نے مسکرا کر جواب دیا۔
"میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ جلدی سے کھانا لگا دو۔ اب شاپ پر بہت کام ہے۔" وہ عجلت میں کہتا واش روم میں گھسا۔ چپکے سے ماں اٹھتی فوراً پری کے ساتھ ٹیبل لگانے لگیں۔
"اسلام علیکم امی!" وہ فریش سا چیئر پر آ کر بیٹھا۔
"وعلیکم السلام بیٹا۔ آج بہت تھکے ہوئے ہو۔ آرام سے کھانا کھاؤ۔"
"امی جان! عید کے دن قریب آ رہے ہیں نا تو شاپ پر کافی رش ہے۔ سارا حساب کتاب رکھنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ پتا ہے نا آپ کو شاپ کتنی بڑی ہے۔" جنید گورنمنٹ کی شاپ چلاتا تھا اور وہ کافی بڑی تھی۔ وہاں اس نے پانچ لڑکے اور بھی رکھے تھے۔ لیکن پھر بھی جب تک وہ خود ان کے سر پر کام نہ کروائے، وہ آؤٹ فٹ نہیں ملتا جو وہ چاہتا تھا۔
"ہم... صحیح۔" وہ لقمہ بنا کر منہ میں ڈالتے، ذائقے پر سر ہلا گئی تھیں۔
دو سال پہلے باپ کے اچانک کہیں چلے جانے کے بعد پورا گھر ایک دم سے الٹ پلٹ ہو گیا تھا۔ کون سی جگہ تھی جہاں انہوں نے احمد صاحب کو نہ ڈھونڈا تھا۔ لیکن وہ نہ ملے۔ ان کے جانے کے بعد انہیں ایک سربراہ کی ضرورت تھی۔ تب جنید نے اپنے فوٹوگرافر کے خواب اور اپنی جاب کو الوداع کہتے اپنے باپ کی شاپ سنبھالی تھی اور وقت سے پہلے وہ بڑا ہو گیا تھا۔
"پری، کیا ہوا؟ اب تم کیوں چپ ہو بچے؟" کھیرے کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے اس نے اس کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھا۔
"جی بس... وہ... طبیعت ٹھیک نہیں تھی بھائی۔" وہ سر جھکائے بولی۔ "آج آفس سے جلدی آ گئی۔"
جو بات کسی نے نوٹ نہ کی تھی، وہ جنید نوٹ کر گیا تھا۔
"جی بھائی، وہ وہاں تھوڑا سا سر درد تھا تو چھٹی لے آئی۔"
"اچھا کیا۔ میں تو کہتا ہوں کہ بس کر دو بچے یہ جاب۔ عجیب شوق ہے یہ جاب کا۔ ہر چیز پوری تو ہو رہی ہے، مگر پڑھائی شروع کر دو۔ آگے جاب میں کیا رکھا ہے؟" وہ اسے ہمیشہ کی طرح جاب چھوڑنے کا کہہ رہا تھا۔
"بھائی آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔" پری کے جواب پر سیما نے حیرت سے پری کو دیکھا۔ اگر وہ جاب چھوڑ دیتی تو فہام کا کیا ہوتا؟ ان کے بیچ محبت کا کیا ہوتا؟ وہ سوچتی رہی لیکن بولی کچھ نہیں۔
"پری، کیا تم واقعی جاب چھوڑ دو گی؟" پھر رات کو چھت پر واک کرتے ہوئے سیما نے اس سے پوچھا۔
"تو کیا کروں گی بھابھی؟ اسے کنٹینیو رکھ کر بھی سوائے درد کے کچھ نہیں دیا اس جاب نے مجھے۔" وہ دکھی ہوئی۔
"اور تمہارا اور فہام کا رشتہ؟" وہ اسے ٹٹول رہی تھی۔
"شاید جیسے بنا ویسے ٹوٹ بھی جائے۔" وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی۔
"ایسے نہ کہو پری۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی وجہ ہو۔ اس سے پوچھنے کی۔" وہ اسے سمجھانے لگی۔
"کوئی بھی وجہ ہو بھابھی، لیکن میں انہیں اب کبھی معاف نہیں کروں گی۔ انہوں نے میری جگہ کسی اور کو دینے کا سوچا بھی کیسے؟ وہ بے وفا نکلے ہیں۔ مجھے اب ان کی شکل بھی نہیں دیکھنی۔" وہ بہت کچھ بول رہی تھی اور وہ بھی بنا اٹکے، وگرنہ فہام کا ذکر وہ اتنی روانی میں بول جائے، نامکمن تھا۔
"اوکے، ریلیکس رہو۔ کب ہے منگنی؟" سیما نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
"کل ہے شام کو۔ آپ کو پتا ہے، کہہ رہے تھے کہ گاڑی بھجواؤں گا، تم نے ضرور آنا ہے۔ مطلب میں ان کی منگنی اٹینڈ کروں گی۔ سوچا بھی کیسے انہوں نے؟" پری نے غصے میں منہ بنایا۔
سیما کو ہنسی آ گئی۔ لیکن وہ پری کے سامنے ہنس کر اپنی شامت نہیں بلوا سکتی تھی۔
"لیکن ایک بات بولوں؟ لازمی جانا۔ انہیں یہ بتاؤ کہ تم ان کے اس عمل سے بالکل دکھی نہیں ہو۔ اور تمہیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ جتنا جتنا تم انہیں فیل کرواؤ گی نا کہ تمہیں فرق پڑ رہا ہے، اتنا مزید ڈچ کریں گے اور تم انہیں خود پر حاوی مت کرو۔ جسٹ چِل۔"
"سیما! سیما!" نیچے سے جنید کی آواز آنے لگی تو وہ گرل کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
"جی، کیا ہوا؟" وہ مسکراہٹ لیے پوچھ رہی تھی۔
"یار، اسے بھوک لگی ہے۔ شاید روئے جا رہی ہے۔" وہ عبیرہ کو گود میں اٹھائے جھنجھلا رہا تھا اور بولا۔ وہ روتی تھی تو جنید کی جان جاتی تھی۔
"اچھا نا، ابھی فیڈ کیا تھا اس نے۔" وہ بھی چھ ماہ کی بچی کو پیار بھری نظروں سے دیکھتی شرارت سے بولی۔
"یار مجھے نہیں پتا، نیچے آؤ۔" وہ وہیں سے بولتا اندر کی جانب بڑھ گیا اور سیما پری کی جانب دیکھتی مسکرائی۔
"چلیے بھابھی، نیچے چلتے ہیں۔ بھائی ویٹ کر رہے ہیں نا آپ کا۔ ہمیں اس سے پہلے کہ وہ اپنے غصے میں آ جائے، نیچے جانا چاہیے۔"
"ہاں، اور میری بات کے بارے میں سوچنا ضرور۔" اس کا کندھا تھپکتی نیچے اتری تو وہ بھی کچھ سوچتی سیما کے ساتھ نیچے اتر آئی۔
*(یہاں ایک شعر/گانے کی سطر تھی جو ٹرانسکرپٹ میں بگڑی ہوئی تھی اور پڑھی نہیں جا سکی، اس لیے ہٹا دی گئی ہے۔)*
اس وقت میوزک زور شور سے بج رہا تھا۔ گہما گہمی عروج پر تھی۔ پورا آفس اسٹاف وہاں موجود تھا۔ پری بھی اپنی دوست نادیہ کے ساتھ وہاں فہام کی گاڑی بھیجنے سے پہلے ہی پہنچ گئی تھی۔ انہیں لگا کہ وہ جلدی آ گئی ہے۔ لیکن اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر وہ تھوڑا گھبرا گئی اور وہاں چلتے نادیہ سیدھی ایک ٹیبل پر جا بیٹھی۔ اسٹیج بہت پیارا سجا ہوا تھا۔ وہاں سے آج کا دن کتنا اہم تھا، یا وہاں کی رونق اور اسٹیج کو دیکھ کر اسے بہت اچھے سے اندازہ ہو سکتا تھا۔ آنکھوں کے گوشے نرم ہوئے لیکن وہ روئی نہیں تھی۔ خود کو یہی بار بار کہہ رہی تھی کہ "پری، بی اسٹرانگ۔"
نادیہ اس کے دل کے حال سے واقف تھی، اس لیے سوچوں سے اسے باہر نکالا۔ پری نے اس بات پر سر ہلایا۔
اس وقت ساری لائٹس آف تھیں اور ایک اسپاٹ لائٹ آن ہوئی۔ اور اسپاٹ لائٹ میں فہام کے ساتھ وہ لڑکی قیمتی لباس پہنے کھڑی حور لگ رہی تھی۔ اس کا چہرہ کتنا کھلا ہوا تھا۔ پری کا دل بری طرح بجھا اور وہ یک ٹک ان کی جوڑی کو دیکھے جا رہی تھی۔ کیا وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے بنے تھے؟ پھر میں کہاں ہوں یہاں؟ پری اپنی جگہ سے اٹھی۔
فائر ورکس نے ماحول کو چار چاند لگا دیے تھے۔ فہام بلیک کلر کے ٹکسیڈو میں پاکٹس میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کے بازو میں ہما نے اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے ہوئے تھے۔ گولڈن میکسی میں اس وقت دمک رہی تھی۔ اب رِنگز کا تبادلہ ہو رہا تھا اور ہر طرف تالیوں کی گونج تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی۔ کلکس کی آواز میں وہ چونکی۔ وہ کسی ریاست کا شہزادہ تھا اور وہ ایک عام سی لڑکی۔ خوبصورتی اپنی جگہ لیکن مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی تھی وہ، اور آج وہ شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو رہی تھی۔
پری نے رخ پھیرا۔ اس کے دل میں شدید ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔ وہ دیوانی تھی اس شخص کی، جس کا نکاح... نہیں، جس کی منگنی کسی اور سے ہو رہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک آنسو گال پر آ کر گزرا اور اس نے رخ پھیرتے ایک نظر اسٹیج پر ڈالی۔
اسی وقت فہام کی نگاہ اپنی پری کے بہتے چہرے پر پڑی۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ سمٹی۔
"کانگریچولیشنز فہام سلطان! آج ہم بزنس پارٹنر سے رشتہ دار بن گئے۔" جیسے ہی ساحل نے فہام کو گلے سے لگایا تو فہام نے مصنوعی مسکراہٹ سے انہیں دیکھا۔ سب کی نظریں پھر سے پری کو ڈھونڈنے لگیں۔ وہ وہاں اب نہیں تھی۔
"کہاں چلی گئی ہے؟" فہام بے چین ہوا اور ایکسکیوز کرتا وہاں سے نیچے اترا۔ اس کا اسٹیج چھوڑ کر نیچے اترنا ہما کو سخت ناگوار گزرا۔ لیکن وہ جا چکا تھا، اس لیے ہما لگ رہی تھی... بے چین۔
پری کوریڈور میں بھاگتی ہوئی باہر کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی۔ "پری!" اس کے قدم تھمے۔ وہ یہ پکار لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی۔ اب واقعی اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔ وہ پلٹی اور اس شخص کے سینے سے جا لگی۔ اور اسی وقت اسے واقعی ایک مضبوط سہارے کی ضرورت تھی۔ اور باپ سے بڑھ کر کون سا سہارا مضبوط ہو سکتا تھا؟
"بابا!"
"ارے میرے بچے، اتنا رو کیوں رہے ہو؟ کیا ہو گیا؟" انہوں نے پیار سے چمکارا۔
"بابا! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ دیکھیے انہیں، اندر کسی اور کے ساتھ منگنی کر رہے ہیں وہ۔ انہیں میری یاد بھی نہیں آئی۔" وہ روہانسی آواز میں بولی۔
"بیٹا، ہر دکھنے والی چیز ویسی نہیں ہوتی جیسی ہمیں نظر آ رہی ہوتی ہے۔ تھوڑا صبر رکھو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
"کیا ٹھیک ہو گا؟ وہ بے وفا ہیں۔ بے وفائی کر چکے ہیں اور اب میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ آپ بھی بیچ میں اب نہیں آنا۔" وہ انگلی اٹھاتے اپنے بابا کو غصہ کر رہی تھی اور وہ اس کے غصے سے اسے پیار سے دیکھ رہے تھے۔
"انکل! آپ جائیے، میں دیکھ لیتا ہوں۔" اچانک اپنے عقب سے فہام کی آواز سنتے وہ دونوں چونک گئے۔ احمد صاحب اپنا ماسک دوبارہ پہنتے وہاں سے جانے لگے۔
"بابا! آپ کہیں نہیں جائیں گے، بلکہ آپ مجھے گھر چھوڑ کے آئیں گے۔ ابھی اسی وقت۔" وہ حکم صادر کرتے ہوئے بولی۔
"بیٹا، فہام کی بات سن لو، پھر گھر چلی جانا۔" انہوں نے اسے متانت سے جواب دیا۔
"ہرگز نہیں۔ مجھے ان کی شکل بھی نہیں دیکھنی ہے۔ پلیز، میرے ساتھ چلیں۔" وہ باپ کا بازو تھام گئی۔ ناراضی اتنی تھی کہ فہام کی جانب ایک بار بھی نگاہ نہ کی، جس پر فہام کو سخت برا لگا۔
"انکل!" اس نے احمد صاحب کو جانے کا اشارہ کیا تو جنہوں نے اسے پیار سے ہینڈل کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے چلے گئے تھے۔ پری باپ کو بھی آج اس کی سائیڈ لیتے دیکھ کر بہت بری طرح سے اپ سیٹ ہوئی تھی۔ مطلب اس کی بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ فہام نے انہیں جانے کو بولا اور وہ بیٹی کو چھوڑ کر چلے گئے۔
پری نے رخ پھیرتے آنسو پونچھے۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتی، فہام نے اس کی کلائی تھامے اسے باہر کار تک کھینچ کر لے گیا۔ گاڑی کے پاس آتے اس نے خود کو چھڑایا لیکن فہام کی گرفت کافی سخت تھی۔
گاڑی کے پاس آتے ہی اس نے خود کو چھڑایا، لیکن فہام کی گرفت کافی سخت تھی۔ اس نے پری کو گاڑی کے بونٹ کے ساتھ لگاتے ہوئے اس کے دونوں اطراف ہاتھ رکھے تو وہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔
"بہت زبان چلنے لگی ہے۔ ذرا سی چھوٹ کیا دے دی، زبان کو سکون ہی نہیں دیتی۔" فہام اس پر جھکا، گمبھیر لہجے میں بولا۔
"میرا نہیں خیال کہ اس وقت آپ کو یہاں ہونا چاہیے۔ آپ کی ہونے والی بیوی آپ کا انتظار کر رہی ہو گی نا۔ جائیں، وہاں جائیں۔" وہ تنتنا کر اس کے کندھوں پر ہاتھ ٹکائے، اپنے اور اس کے بیچ فاصلہ قائم کر گئی، جسے فہام نے ایک جھٹکے سے ختم کر دیا۔
"فہام سلطان کو جب تک اپنی پری کی سانسوں کی مہک نہ ملے، اسے سانس نہیں آتا۔" وہ گمبھیر لہجے میں کہتا اس کے لبوں کو اپنے لبوں سے چھونے لگا۔ اس کے لمس سے اس کی دیوانی کی سانسیں تیز ہونے لگیں۔
"پیچھے ہٹیں فہام سلطان، ورنہ..."
"ورنہ کیا؟" وہ اسے دھمکی دے رہی تھی۔ فہام سلطان کو دھمکی، یہ بھی صرف وہی دے سکتی تھی۔ آس پاس کی دنیا والوں کو تو وہ کچھ سمجھتا ہی کہاں تھا۔
"ورنہ مار ڈالوں گی آپ کو، اور خود کو بھی۔" اس بار وہ اس کا کالر پکڑ بیٹھی تھی۔ فہام نے دلچسپ نظروں سے اسے دیکھا۔
"دیوانہ پن تو میں واقعی یہی دیکھنا چاہوں گا۔" وہ اس کے گال پر دانتوں سے کاٹتا ہوا بولا۔ اس کے نرم و نازک گال یکدم لال انگاروں کی طرح دہک اٹھے۔
فہام نے اسے گاڑی میں پیسنجر سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔
"گاڑی روکیں فہام!" وہ ہمت کرتے ہوئے بولی۔
"مجھے مجبور مت کرنا۔ میں جگہ کا لحاظ بھی نہیں کروں گا اور تمہارے روم میں اتر جاؤں گا۔ اور یقین جانو، ایک الگ اسٹائل سے سہاگ رات منانے کا ٹرینڈ چل پڑے گا۔" وہ سخت الفاظ میں وارن کرتا ہوا بولا۔
اس کے لفظوں پر غور کرتی پری کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لب دانتوں تلے دبائے وہ بس اپنا رخ پھیر گئی، کیونکہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ چاہ کر بھی اس شخص کو کچھ بھی کرنے سے روک نہیں سکتی تھی۔
گاڑی ایک بڑے سے اپارٹمنٹ کے اندر داخل ہوئی۔ پری کا دل ایک سو بیس کی رفتار سے دھڑکا۔ گاڑی رکتے ہی فہام اس کی جانب دیکھنے لگا۔
"آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟ مجھے گھر جانا ہے۔ پلیز مجھے گھر چھوڑ دیں۔" سارا غصہ جھاگ کی طرح کہیں دور جا سویا۔ وہ اس بے باک سلطان کے رحم و کرم پر تھی، اور وہ اپنے لفظوں سے کس طرح اس کی جان آزاد رکھتا تھا، یہ صرف وہی جانتی تھی۔ اب رات ہونے والی تھی۔ وہ گھر سے نادیہ کے ساتھ نکلی تھی اور اسے نادیہ کے ساتھ ہی واپس آنا تھا۔
"اندر چلو۔ کچھ باتیں کرنی ہیں، پھر چھوڑ آؤں گا۔" اس کا سخت لہجہ محسوس کرتے ہوئے پری کے گلے میں گلٹی سی ابھری۔
"نہیں، مجھے یہیں بتا دیں کیا بات کرنی ہے۔" اس نے جھٹ سے پوچھا۔
"ایکچوئلی جو بات مجھے کرنی ہے نا، اس کے لیے یہ جگہ کمفرٹیبل نہیں ہے۔ اس لیے بہتر ہے اپارٹمنٹ کے اندر چلو۔" وہ گاڑی سے اتر گیا اور پری کو پھر مجبوراً اس کی تقلید کرتے اس کے پیچھے جانا پڑا۔
اندر آتے ہی وہ اپنا کوٹ اتار کر ایک طرف صوفے پر اچھال گیا اور شرٹ بھی کھول دی، اور پری کی جانب دیکھے بغیر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ پری کا دل دھک دھک کیے جا رہا تھا۔ ڈھیروں سوال اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اسے یہاں کیوں لایا گیا تھا؟ اگر اس نے کوئی زور زبردستی کی تو کیا وہ اسے روک پائے گی؟ اچانک پری کا بلڈ پریشر بری طرح لو ہونے لگا اور وہیں ایک صوفے پر بیٹھ کر ٹیک لگاتی آنکھیں موند گئی۔
کچھ ہی دیر میں فہام باہر آتا دکھائی دیا، جو صرف ایک بلیک کلر کے ٹراؤزر میں ملبوس تھا۔ اس کا کٹاؤدار دلکش سینہ اور بازو دیکھتی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ شاور لے کر آیا تھا۔
"کیا ہوا؟ کھڑی کیوں ہو گئی؟ بیٹھو سکون سے اور بتاؤ مجھے، کیا کھاؤ گی؟"
"آپ کو مجھ سے کوئی بات کرنی تھی نا؟ جلدی سے بولیں، پلیز۔ مجھے گھر جانا ہے۔" وہ اسمارٹ انداز میں بولی، جبکہ فہام کے پرسکون چہرے پر رتی برابر بھی فرق نہ آیا تھا۔
"پری، جو بات مجھے کرنی ہے نا، اس کے لیے تمہارے اندر انرجی ہونی چاہیے۔ ورنہ تم بے ہوش ہو گئیں تو صبح سے پہلے تمہیں ہوش نہیں آنا۔ اور ایسے میں تمہارے گھر والے کیا سوچیں گے کہ پری رات کہاں گزار کر آئی ہے؟"
اس کی باتوں پر پری کو تپ چڑھی۔ "آپ میری فکر نہ کریں، بات کریں۔ مجھے خود کو سنبھالنا بہت اچھے سے آتا ہے۔" وہ دو ٹوک جواب دیتی فہام کو چیلنج کر رہی تھی۔
فہام اپنی جگہ سے اٹھتا اس کے قریب آیا۔
"دور رہ کر بات کریں، مجھ سے... مجھے قریب مت آئیں۔" وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی۔
"نہیں رہ سکتا۔ تم جانتی ہو۔" اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
"یہ غلط ہے۔ آپ کو اپنی منگنی کے فنکشن میں ہی رہنا چاہیے تھا، تاکہ میری جیسی مڈل کلاس لڑکی کے ساتھ وقت گزارا جا سکے۔" وہ اس کے الفاظ اسے لوٹاتی ہوئی اسے حیران کر گئی۔
فہام کے مسلسل بڑھتے قدموں کی وجہ سے وہ مزید پیچھے ہٹنے لگی۔ فہام نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر زور سے اسے اپنی جانب کھینچا۔ وہ پیچھے گرنے والی تھی کہ سیدھا اس کے چٹانی سینے سے جا ٹکرائی۔ دونوں کی دھڑکنیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔
"مجھے کیوں مجبور کرتی ہو کہ تمہارے قریب آؤں؟" وہ گمبھیر لہجے میں بولتا اسے حیران کر گیا۔
"میری فکر نہ کیا کریں آپ، اور یہ میں آپ سے آخری بار کہہ رہی ہوں۔" وہ دبے دبے لہجے میں بولی۔
فہام نے اسے ایک جھٹکے سے گھما دیا، خود صوفے پر بیٹھ کر اسے کھینچتے ہوئے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ وہ گھبرا گئی۔ یہیں سے فہام کی مستیاں شروع ہوئی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پائی تھی۔
"کیا کر رہے ہیں؟" اس کے فراک کی زپ کے ساتھ چھیڑ خانی کرتا اسے سرسرانے پر مجبور کر گیا تھا۔
"مجھے طلب ہو رہی ہے تمہاری۔" اس کی گردن پر اپنی ناک پھیرتا وہ پری کو پاگل کر رہا تھا۔
"پلیز فہام، ایسا کچھ مت کریں۔ مجھے گھر جانا ہے۔" اس بار وہ آنکھوں میں آنسو لیے بے بسی سے بولی۔ وہ جانتی تھی کہ مقابل کو غصے میں کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اور پیار سے وہ مان جایا کرتا تھا۔
"تھوڑی دیر رک جاؤ نا۔" اس کی کمر کے گرد بازو پھیلا کر اسے اپنے حصار میں قید کر گیا۔ وہ سانسیں روکے بیٹھی رہ گئی۔
"تم جانتی ہو، تم پر حق رکھتا ہوں۔ پھر دوری کیوں بناتی ہو؟" بے بسی سے بولتا اس کے کندھے پر سے فراک کو ذرا سا سرکاتے ہوئے اپنے لب رکھ دیے اور وہ دل کی دھڑکنوں کو بمشکل سنبھالنے لگی۔ وہ ہمیشہ اس کی قربت میں اس کے سنگ بہنے لگتی تھی، لیکن آج وہ خود کو قابو کیے ہوئے تھی۔ وہ بہک نہیں سکتی تھی۔
"آپ میرے بغیر بھی رہ سکتے ہیں اور آج آپ نے ثابت کر دیا ہے فہام سلطان! آپ کے لیے پری کوئی معنی نہیں رکھتی۔" وہ کرب سے بولی۔
فہام نے چہرہ اوپر اٹھاتے اس کے آنسو دیکھے۔ "فہام سلطان، جس کی آج منگنی تھی، وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں تمہارے سامنے ہے، تو بھی تمہیں میری محبت پر شک ہو رہا ہے؟" اس کا رخ جھٹکتے ہوئے اپنی طرف کرتا، اسے اپنے اوپر جھکا گیا۔
"دنیا والوں کے سامنے آپ سے اپنا جائز رشتہ بنا رہی ہوں، آپ کے نام کے ساتھ اب اس کا نام جڑا ہے، جبکہ پری، پری تو آپ کے لیے تنہائی کا سامان ہے نا؟ اپنی تنہائی میں اپنے جذبات نچھاور کرنا جانتے ہیں، نام نہیں دے سکتے۔" وہ بھی درد سے چور لہجے میں بولتی چلی گئی۔ اسے اپنے سینے سے لگائے وہ صوفے کے ساتھ ٹیک لگا گیا۔
"ہاں، وہ تو تم میری تنہائی کا سامان ہو، میری خلوت کی ساتھی۔ تو کیا تم چاہتی ہو یہ وقت بھی کسی اور کو دے دوں میں؟ اپنے جذبات کسی اور کے نام کر دوں کیا؟" اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بول اٹھا۔
"تو دے دیں۔ مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ منع نہیں کر سکتی میں۔ ایک دن آپ کے بستر سے بھی..."
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے فہام نے اس کے لبوں پر اپنے لبوں کا قفل لگا دیا تھا۔ وہ پھڑپھڑا کر رہ گئی۔ آج پہلی بار فہام نے اس کے لبوں کی لالی چرائی تھی، ورنہ جذبات میں کبھی اس قدر نہیں بہکا تھا۔ پری نے خود کو چھڑانا چاہا، لیکن کیا وہ اس دیو قامت جیسی باڈی کا مقابلہ کر سکتی تھی؟ وہ ایمپائر کی طرح اس کے لبوں سے چپک کر رہ گیا تھا۔ تھک ہار کر بالآخر اس کے کندھوں پر مکے چلنے لگے۔ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو جمع ہونے لگے۔ وہ اپنا سارا غصہ اس کے نازک لبوں پر اتارتا، آنکھیں بند کیے مدہوش سا ہوتا جا رہا تھا۔ پہلی بار زندگی میں اس نے ہونٹوں کا جام چکھا تھا، بہکنا تو بنتا تھا۔
وہ سانس لینے کی مہلت دیتا اس کے لبوں کو ذرا سا کھینچتا پیچھے ہٹا۔ پری سیدھی اس کے سینے پر سر گرا گئی اور گہری سانس بھرتی اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی۔ فہام نے اس کے گرد حصار باندھے اسے شدت سے اپنی بانہوں میں سمیٹا۔
"جب پتا ہے کہ میری قربت سہنے کی تم میں طاقت نہیں ہے، پھر کیوں پنگے لیتی ہو؟" وہ اسے پیار سے لپٹاتا بولا۔
"ہاں، صحیح کہہ رہے ہیں۔ میرے لیے تو آپ کی محبت، آپ کی قربت ہی نہیں ہے جو میں سہن کر سکوں۔ جائیں اپنی منگیتر کے پاس۔" وہ غصے سے اس کی گود میں سے اٹھنے لگی کہ فہام اسے اپنی بانہوں میں بھرتے اپنی جگہ سے اٹھا۔
"اگر تم ایسے ہی کرو گی نا تو آج رات جانے نہیں دوں گا میں۔ اپنی قربت کی مہک سے پل پل مہکاؤں گا تمہیں۔" یہ کہتے ہوئے وہ اسے بستر پر لے آیا۔ پری کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی، جو اس کا سر تکیے پر رکھتا، اس کے اطراف میں اپنی دونوں ہتھیلیاں جماتا اس کے چہرے پر جھکا۔ پری کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب تھا۔
"مجھے گھر جانا ہے۔" وہ ڈرتے ہوئے بولی، جبکہ فہام کی آنکھوں میں چھائی خماری سے اس کی جان ہوا ہونے لگی تھی۔ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا، اس کے گالوں پر لبوں کو ٹریس کرتا، پری نے بیڈ شیٹ کو مٹھی میں جکڑ آنکھیں میچ لیں۔ ان لمحوں کا اثر آنے لگا تھا۔ ان لمحات میں وہ صرف اس کا ہوتا تھا۔ لبوں سے ٹریس کرتا وہ گال سے گردن پر جھکتے وہاں اپنے نشاں چھوڑنے لگا۔ پری کی سانسوں کا زیر و بم گہرا ہوا۔ فہام کو اس کا یہی انداز تو بھاتا تھا۔ وہ اس کی قربت میں بہک جاتی تھی۔ اس کے دل میں صرف فہام تھا۔ اس بات سے فہام کی روح تک سرشار ہو جاتی تھی۔
لبوں سے ٹریس کرتا وہ اس کی دھڑکنوں تک آ پہنچا۔
سانس حلق میں اٹک گیا تھا۔ اسی وقت موبائل کی چنگھاڑتی آواز پر فہام بری طرح بدمزہ ہوا اور ذرا سا سر اوپر اٹھاتے اپنی جان کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں خماری کی سرخی صاف جھلک رہی تھی۔
"ایک منٹ میری جان، فہام دیکھ لوں، پھر یہیں سے کنٹینیو کریں گے۔" اس کے لبوں کو چھوتا، پاس دراز پر پڑا موبائل اٹھا کر دیکھنے لگا۔ دادو کالنگ دیکھ فوراً سے کال اٹھا لی۔
"جی دادو، کہاں ہو آپ؟" ان کی آواز میں گھبراہٹ اور غصے کی ملی جلی کیفیت تھی۔
"کیا ہوا؟ سب خیریت؟" وہ الٹا سوال کرنے لگا۔
"اپنی نئی نویلی منگیتر کو آ کر سنبھالو۔ پورا گھر سر پر اٹھا رکھا ہے۔" ان کی غصے سے بھری آواز سخت ہوئی۔
"کیوں؟ کیا ہو گیا؟"
"بہتر ہو گا جہاں بھی ہو جلدی گھر پہنچو، ورنہ آج آپ کی منگیتر یا تو خود کو مار ڈالے گی یا ہم میں سے کسی کو قتل کر کے دم لے گی۔" انہوں نے غصے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔
وہ ماتھے پر ہاتھ رکھتا ماتھا مسلنے لگا۔ پینٹ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ واہد کو کال ملانے لگا۔ پری نے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بستر سے اٹھ کر دور جانا چاہا تو فہام نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا۔ پری نے سر اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا۔
"ہیر او، یہ میرے پاس۔" وہ دھیما سا بولا۔ کال جا رہی تھی۔ واہد اس کا گہرا دوست تھا اور اس کے ہر راز سے واقف۔ وہ اس سے بات کر کے ساری ڈیٹیل لینا چاہتا تھا۔ کال پک ہو گئی۔
"کیا تماشا ہو رہا ہے؟" فہام نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
"بادشاہ، تم تو لگا کر گئے ہو۔ خود اپنی منکوحہ کو لے کر، منگیتر کا عذاب ہمارے سر چھوڑ گئے ہو۔" جواباً وہ بھی بھڑکا۔
"یار مسئلہ کیا ہے؟"
"مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی منگیتر صاحبہ نے آپ کو پری کے ساتھ..." فہام نے سختی سے اس کی بات کاٹی۔ وہ پری کو لے کر انتہا درجے کا پوزیسو تھا۔
"جی مہاراجہ صاحب، غلطی ہو گئی۔ آپ بھابھی حضور کو لے کر جب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے نا تو آپ کی منگیتر حضور نے آپ کو دیکھ لیا تھا۔ اور اس کے بعد جو ایک ہنگامہ کھڑا کیا ہے نا، اللہ کی پناہ، اس کا وہ گنجا باپ بھی اسے نہیں سنبھال سکا۔ سب مہمانوں کے سامنے جو بولی ہے، آج نے اسے اچھا خاصا پریشان کر دیا ہے۔"
پری کو بھی کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔
"ٹھیک ہے، میں آتا ہوں۔" وہ کال کاٹتا موبائل کو دراز میں پھینک کر پری کو سینے سے لگائے اپنی آنکھیں موند گیا۔ ایک وہی تو تھی جو اس کی روح، اس کے قلب کا سکون تھی۔ اس کے قریب اس کا سارا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا، ہر نیگیٹو وائبز دور ہو جاتی تھیں، اور اندر سکون سا ہو جاتا تھا۔
"آپ کو اپنی منگیتر کے پاس ہونا چاہیے۔" وہ دھیرے سے بولی۔
"ہم... لیکن میری منکوحہ کو میری ضرورت تھی نا۔ اسے کیسے اکیلا چھوڑ دیتا؟" اس کے گرد حصار تنگ کرتا شدت سے بولا۔
"آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟" پری نے سر اٹھاتے اٹکتے ہوئے پوچھا۔
"کیا تمہیں میری محبت پر شک ہے؟"
پری اس کی آنکھوں میں جھانکتی دل کی دھڑکنوں کو بڑھتا محسوس کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں صرف پری کا عکس تھا۔ پری نے اس کے ماتھے پر لب رکھے۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ اس کے آنسو فہام کو تکلیف دے رہے تھے۔
"جب صرف میں ہی ہوں نا، تو آپ نے اس سے منگنی کیوں کی؟" وہ بچوں کی طرح اس کے سینے پر سر رکھ کر استفسار کر رہی تھی۔
فہام نے گہرا سانس لیا۔ اسے لگا جیسے پری کو منانا بہت مشکل ہو جائے گا، لیکن وہ راضی ہو جائے گی۔ اس کا دل جیسے پرسکون ہوا۔
"وقت آنے پر بتاؤں گا۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، اس دل کی حکمرانی صرف تمہارے پاس ہے۔ اور وہ وقت دور نہیں ہے جب تم میرے گھر، میرے کمرے، میرے بستر پر میری زندگی کے اہم لمحات کو رنگین کر رہی ہو گی۔ یہ فہام سلطان صرف تمہارا ہے اور اپنی آخری سانس تک صرف تمہارا ہی رہے گا۔" وہ اس کا چہرہ سامنے کیے اسے یقین دلاتا، جذب کے عالم میں بولتا اس کے لبوں پر شدت سے جھکا۔
پری اس کے کندھوں کو تھامے ناخن گاڑ گئی تھی۔ وہ بہت شدت سے اس کے لبوں کے پیچھے پڑ گیا تھا۔
"جی چاہتا ہے کہ انہیں کھا جاؤں۔ اتنے نرم و ملائم ہیں۔" وہ بار بار چھوٹی چھوٹی گستاخیاں کر رہا تھا۔ پری کا شرم کے مارے برا حال تھا۔ وہ اس قدر رومانٹک ہو جائے گا، اسے اندازہ ہی نہیں تھا۔ چھوٹی موٹی گستاخیاں، غصہ، پیار، سب جتاتا تھا۔ آج پہلی بار اس کے اتنے قریب آیا تھا۔ پری کا دل بری طرح سینے میں سنسنا رہا تھا۔
"چلو، میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گا۔" اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا۔ کبرڈ سے اپنا نیا ڈریس نکالتے وہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔ پری اس کی تیزی دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ایک پل میں وہ سنجیدہ ہوا تھا، اور یہی اس کے وہ موڈ سوئنگز تھے جنہیں پری سمجھ نہیں پاتی تھی۔
اپنے کپڑے ٹھیک کرتی ہوئی وہ بیڈ سے اتری، صوفے سے اپنا پرس اٹھایا اور اس میں سے موبائل نکالا۔ موبائل سائلنٹ پر تھا۔ موبائل پر نادیہ کی پانچ مس کالز تھیں۔ وہ پریشان سی ہو گئی اور نادیہ کو بیک کال کی۔ نادیہ نے فوراً اٹھا لی۔
"کہاں ہو تم؟ جانتی ہو یہاں کتنا ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے؟" نادیہ نے دبی آواز میں کہا۔
"وہ... میں فہام کے ساتھ..." پری پھر ہکلا گئی۔
"بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فہام کی نئی نویلی منگیتر نے پورے ہال میں کہہ دیا ہے کہ فہام تمہارے ساتھ گیا ہے۔ تم دونوں کے تعلق پر اس نے سوال اٹھایا ہے۔ اور جو کچھ اس نے بولا ہے نا، خدا کی پناہ۔" نادیہ کو صحیح معنوں میں غصہ آیا ہوا تھا۔
"نادیہ، اب کیا ہو گا؟ بھائی یا امی کو کچھ پتا چلا تو وہ مجھے جان سے مار ڈالیں گے۔" اس کی گھبرائی آواز سن کر فہام چونکا اور موبائل اس کے ہاتھ سے لیتے اپنے کان سے لگایا۔ پری نے گھبرا کر فہام کو دیکھا۔
"تم بس جلدی سے گھر پہنچو۔ میں بھی گھر جا رہی ہوں۔ باقی دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس منحوس چڑیل نے بہت تماشا کر دیا ہے، اللہ کی پناہ۔ اکیلے مت جانا۔ واہد کو فون کرنا ہے۔ اس کے ساتھ جانا۔" وہ جو بولے جا رہی تھی، فہام کی آواز پر بری طرح چونکی اور اس کی بات سنتے ہی لب بھینچ گئی۔
"میں چلی جاؤں گی۔ اسے مت کہیے۔" وہ دھیرے سے بولی۔
"جتنا کہوں اتنا کرو۔" فہام نے اپنی کہتے ہوئے کال کاٹ دی اور پری کی جانب دیکھا، جس کی آنکھوں میں ایک ڈر تھا۔
"کیا ہوا؟ کس سے ڈر رہی ہو؟" اس کے قریب ہوتا نرم لہجے میں پوچھنے لگا۔
"وہ... امی اور بھائی..." وہ بنا پلکیں جھپکائے فہام کو پھر سے اپنے قریب آنے پر اکسا رہی تھی۔
"میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں سب ہینڈل کر لوں گا۔ ہاں، تم ڈرو، لیکن صرف مجھ سے۔ میری چاہت، میرے جنون، میری قربتوں کو سوچ کر ڈرو۔ جس دن تم پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑی نا، اس دن کے بعد سے ہر دن میری پناہوں میں گزرے گا۔" اس کے چہرے پر ہلکی سی پھونک مارتا وہ اس پر جیسے جادو پھونک رہا تھا۔
نو بج گئے تھے۔ "کہاں ہے وہ؟ ابھی تک گھر نہیں آئی۔ یہ کون سا فنکشن ہے جو ابھی تک چل رہا ہے؟" جنید کی غصیلی آواز کانوں سے ٹکرائی تو سونیا نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ پری انہیں بول کر گئی تھی کہ وہ آٹھ بجے تک گھر آ جائے گی۔ صرف ایک گھنٹے کی بات تھی، لیکن اب کافی دیر ہو گئی تھی۔ وہ خود بھی کافی پریشان تھیں۔
"سیما، کال لگاؤ اس لڑکی کو۔ آج اس کی خیر نہیں ہے میرے ہاتھوں۔" وہ غصے سے بولیں کہ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔
"شاید آ گئی۔ سیما!" فوراً اس نے دروازہ کھولا۔ سامنے پری ہی کھڑی تھی۔
"بھابھی، مما غصے میں ہیں؟" وہ دھیرے سے پوچھنے لگی۔
"بہت زیادہ۔ تم فون بھی تو نہیں اٹھا رہی تھیں۔ کس کے ساتھ آئی ہو؟" سیما نے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا۔
"فہام کے ساتھ۔ وہی چھوڑ کر گئے ہیں۔" وہ سیما سے ڈرے ہوئے لہجے میں بولی۔
"ارے باپ رے! کل تک تو ناراضی تھی، آج صلح ہو گئی کیا؟" سیما نے چھیڑا۔
"بھابھی، مجھے امی سے ڈر لگ رہا ہے۔ اور آپ..." پری نے برا مناتے ہوئے کہا۔
"چلو اندر۔ جب پیار کیا تو ڈرنا کیا؟ دو چار کھا ہی لو تو کچھ نہیں ہو گا۔ محبت میں لڑکے مار کھاتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں۔ تمہیں بھی ڈانٹ سے دو چار سلواتیں سننے کو ملیں گی، سن لینا۔" سیما نے اسے اپنے طریقے سے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
"یہ وقت ہے گھر آنے کا؟" سونیا بیگم نے اسے دیکھتے ہی غصے سے کہا۔
"سوری امی۔" وہ ڈر کے مارے ہمیشہ اپنی غلطی فوراً مان لیا کرتی تھی۔
"سوری کا اچار ڈالوں کیا؟ یہ موبائل کس لیے رکھا ہے؟ اگر فون آئے تو کیا اٹھانا بھی ضروری نہیں ہے؟" وہ سخت غصے میں تھیں۔
"امی، وہ بیگ میں تھا اور وہاں بہت شور تھا، سنائی نہیں دیا۔" وہ پھر سے سر جھکائے بولی۔
"ہو گیا تمہارا؟ اب بس، آج کے بعد کسی فنکشن میں جانے کی اجازت مت مانگنا تم مجھ سے۔" وہ انگلی اٹھائے وارن کر رہی تھیں اور پری کی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں۔
"امی، بس کریں۔ اور کتنا ڈانٹیں گی میری گڑیا کو؟ یہاں آؤ میرے بچے۔" جنید نے پری کو اپنے پاس بلایا۔ غصے میں تو وہ بھی تھا، لیکن پری کی آنکھوں میں آنسو اس کی کمزوری تھے۔ وہ بہن کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ جنید کے سینے سے لگی وہ سچ میں رو پڑی۔
"ارے، رونا نہیں۔" جنید نے اسے پیار سے چمکارا۔
"ہاں ہاں، کرو، مجھے ثابت کرو کہ میں ایک ظالم ماں ہوں۔ لیکن ماں سے معاشرے کی اونچ نیچ تم بچے نہیں سمجھ سکتے۔ اس ایک گھنٹے میں جو میرا حال ہوا ہے نا، وہ میں ہی جانتی ہوں۔" ان کا لہجہ رندھ گیا۔
"ممی، آئی ایم سوری۔ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔" پری ان کے سینے سے لگتی معافی مانگ رہی تھی۔
وہ پہلے ایسی نہیں تھیں۔ لیکن دو سال پہلے ہونے والے حادثے نے انہیں سخت بنا دیا تھا۔ وہ ہنستی بولتی گڑیا سی تھیں۔ پری بالکل ان ہی پر گئی تھی۔ رنگ بھی انہی کا چرایا تھا اور عادتیں بھی۔ لیکن ایک دن اچانک شوہر کے غائب ہو جانے پر وہ ایسا دکھ برداشت نہ کر سکیں کہ ہنسنا بولنا چھوڑ دیا۔ سخت مزاج سی ہو گئی تھیں۔ پری، جس کے سب سے زیادہ ناز نخرے وہ اٹھاتی تھیں، اس کے ساتھ سب سے زیادہ سخت رویہ رکھتی تھیں۔ جانتی تھیں کہ لڑکی ذات ہے اور رات کو اتنی دیر باہر رہنا کیا مناسب ہے۔
اسے اپنے ساتھ لگائے نم لہجے میں بولیں۔
"آئندہ ایسا نہیں ہو گا، سچ میں۔" وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی تو ان کے چہرے پر سکون سا اتر آیا۔
اسی وقت بڑے ہال میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ہما نے جو کچھ کیا تھا، وہ فہام کو بتا دیا گیا تھا۔ اس وقت ہما سب کے سامنے آنسو بہائے بیٹھی تھی۔
"میرا خیال ہے کہ تمہیں سب کو کلیئر کر دینا چاہیے کہ جس لڑکی کے ساتھ تم گئے تھے وہ کون ہے۔" اس کے چچا جان انور نے اسے ٹوکا۔
"ایک منٹ۔ میں اپنے معاملات کسی کو بولنے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ میں کیا کرتا ہوں؟ کہاں جاتا ہوں؟ کس سے ملتا ہوں؟ کسی کو صفائی دینا میں ضروری نہیں سمجھتا۔"
اس کے دو ٹوک انداز میں چچا انور پہلو بدل گئے۔
"تمہاری بات اپنی جگہ، لیکن ہماری عزت اسی کی وجہ سے داؤ پر لگی ہے۔ ہم برداشت نہیں کریں گے نا، فہام سلطان!" دادی جان نے فہام سے صاف لفظوں میں کہا۔ وہ ان کا لاڈلا تھا۔ ہر طرح سے اسے چھوٹ دی گئی تھی۔ ماں باپ کی وفات کے بعد وہ انہی کے ہاتھوں تو پلا بڑھا تھا اور ان کی ہر بات کو حرفِ آخر مانتا تھا۔
"آپ کس کی بات کر رہی ہیں؟" وہ ان کی جانب مڑا۔
"یہ جو آپ نے اپنی مرضی سے نیا رشتہ جوڑا ہے نا، یہ اس کی بات کر رہے ہو؟" انہوں نے ہما کی طرف اشارہ کیا۔
"مجھے جاننا ہے فہام، مجھ سے منگنی کے وقت مجھے چھوڑ کر اس لڑکی کے ساتھ کیوں گئے؟"
"کیونکہ میں تمہیں کبھی بتانے کا پابند نہیں ہوں، کچھ بھی۔ سمجھیں تم؟" فہام نے سختی سے کہا تو ہما نے باپ کی طرف دیکھا۔
"میں ہما کو گھر لے کر جا رہا ہوں، میں اسے سمجھاؤں گا۔" قیصر صاحب نرمی سے بولے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ فہام غصے میں آ کر یہ منگنی ہی ختم کر دے۔ جونی کے کہنے پر تو ہوئی تھی۔
"بیٹا، ایک مجبور باپ کی درخواست ہے میری۔ میری بیٹی بہت پسند کرتی ہے تمہیں۔ اگر تم نہ ملے تو مر جائے گی۔" قیصر صاحب کا لہجہ روہانسا ہو گیا تھا۔
"یہ میرا مسئلہ نہیں ہے قیصر صاحب۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کی بیٹی پر مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ آپ..."
"بیٹا، شادی مت کرو، صرف منگنی کر لو۔ بعد میں اسے سمجھا بجھا لوں گا نا۔ تمہارے باپ کا دوست ہوں۔ اپنے باپ کا درجہ دیتے ہو نا تم مجھے؟ بات صرف منگنی تک ہی رہے گی۔ بعد میں ہما کو کچھ بھی کر کے میں سمجھا دوں گا۔ لیکن اس وقت وہ نہیں سمجھ رہی۔" کہتے ہوئے وہ اس کے پاؤں پڑنے لگے۔
"پلیز انکل، کیا کر رہے ہیں؟ مجھے شرمندہ مت کریں۔" فہام نے آگے بڑھ کر انہیں روکا۔
"ٹھیک ہے۔ میں منگنی کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اس سے زیادہ مجھ سے کوئی امید مت رکھیے گا۔" وہ اس انداز میں بولا تو قیصر صاحب کو وہی الفاظ یاد آنے لگے۔
"بہتر یہی ہو گا۔" فہام کا انتہائی سرد انداز انہیں بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔ وہ فہام کو بیٹی کے ذریعے ٹریپ کرنا چاہ رہے تھے، لیکن وہ فہام سلطان تھا۔ اسے ٹریپ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ اس وقت جب احمد صاحب جیسے بندے کے انڈر کام کر رہا تھا۔
قیصر صاحب ہما کو زبردستی ساتھ لے کر جانے لگے تو وہ پینک ہو گئی۔
"مجھے نہیں جانا۔ یہ بتائیں کہ کون تھی وہ لڑکی جس کے ساتھ آپ اتنے پرائیویٹ ہو رہے تھے کہ اسے ساتھ لے کر چلے گئے؟" ہما اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی چیخ رہی تھی۔
"تمیز سے بات کرو۔ وہ لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں۔ یہاں رہتی ہے۔" اپنے دل کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہما کو اس کی اہمیت واضح کر گیا تھا۔ اندر ہی اندر وہ بری طرح ٹوٹ گئی، مگر...
"وہ آپ کے دل میں ہے تو مجھ سے منگنی کا ڈرامہ کیوں کر رہے ہیں؟" ہما بدتمیزی پر اتر آئی تھی۔
"اپنے باپ سے پوچھو۔" فہام نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں کہا۔
"بابا، یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ آپ نے کہا تھا کہ فہام مجھ سے پیار کرتے ہیں اور مجھ سے شادی کریں گے، اسی لیے منگنی کر رہے ہیں نا؟" وہ باپ کی طرف مڑی، جو سر جھٹک کر اپنی بیٹی کے جذباتی پن کو دیکھ رہے تھے، جس نے بنا بتائے کھیل بگاڑ دیا تھا۔
"بیٹا، گھر چلو۔" انہوں نے ہما کو سر تھامے دیکھا تو وہ بول اٹھی۔
"تو انگوٹھی بھی اسی کو دے دیں۔ مجھے کیوں پہنائی؟" وہ چلائی۔ اس نے اپنے انگوٹھے کی جانب دیکھا، جس سے اس نے اپنا سب کچھ بنایا تھا۔
"آواز نیچی رکھو!" فہام غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ سبھی اس کے شدید غصے سے واقف تھے، اس لیے اسے غصے میں آتا دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔
"میرا سب کچھ اسی کا ہے۔ یہ فہام سلطان، جو آپ سب کے سامنے کھڑا ہے نا، یہ تک اسی کا ہے۔"
"تو یہ انگوٹھی کیا چیز ہے؟" فہام نے ماتھے پر بل ڈالے۔ ہما نے رنگ اتار کر اس کے قدموں میں پھینکی۔
"ہما! کوئی گری پڑی چیز نہیں ہے، سمجھے تم؟" اپنی بات ختم کر کے وہ چلا گیا۔ ہما کو اپنی سیلف ریسپیکٹ بہت عزیز تھی، اس لیے اس نے فوراً فیصلہ لیا۔
"آؤٹ!" فہام کی دھاڑ پر گھر کے در و دیوار لرز اٹھے۔
"بابا... ہما..." ایک پل کو وہ لڑکھڑا گئی، پر باپ کو دیکھتے ہوئے باہر کی جانب بھاگ گئی۔ قیصر صاحب بھی اس کے پیچھے نکلے۔ ان کے جاتے ہی ماحول میں پھیلا تناؤ کم ہوا تھا۔
دادی جان نے فہام کو دیکھا اور اس کے پاس آئیں۔
"کون ہے وہ جو ہمارے جنونی پوتے کی جان ہے؟" ان کا محبت بھرا انداز دیکھ کر فہام کے چہرے پر مسکراہٹ سج گئی۔
"میرا سب کچھ ہے وہ، میری پریسا۔ دادی جان، میری رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کی طرح ہے۔" فہام کا جنونی انداز دادی جان کو بہت کچھ باور کروا گیا تھا۔
"ہم اسے اس گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں، وہ بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ، تاکہ پھر کوئی آپ دونوں کے بیچ نہ آئے۔"
دادی جان اس کا غصہ، قیصر صاحب کا انداز، ہما کے ردِعمل سے بہت کچھ سمجھ گئی تھیں، اس لیے اب مزید دیری نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ ان کی بات پر فہام کے چہرے پر مسکراہٹ سجی تھی۔
"کانگریچولیشنز میجر احمد! آج آپ کا مشن مکمل ہوا۔ آپ نے جو کچھ ملک کے لیے کیا، وہ اب ہمیشہ ہم یاد رکھیں گے۔" کرنل حیدر کی بات پر احمد صاحب کا سینہ فخر سے بلند ہوا۔
دو سال، دو سال سے وہ غائب تھے اپنی بیوی بچوں سے دور، صرف اپنے ملک کی خاطر، اپنے مشن پر۔ ان کے گھر والے بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں ہیں۔ لیکن ان کی بیوی یہ جانتی تھی کہ ان کا شوہر آئی ایس آئی میں ہے۔ مگر اچانک کہاں غائب ہوئے، انہیں یہ نہیں پتا تھا۔ فہام ان کا جونیئر تھا اور اسے مکمل ٹریننگ انہوں نے ہی دی تھی۔ وہ مشن میں ان کے ساتھ کام بھی کر چکا تھا۔ دنیا والوں کے سامنے ان کی پہچان اور تھی، لیکن حقیقت میں وہ ملک کے سپاہی تھے۔ اب وہ واپس لوٹنے والے تھے۔
دنیا کو واپس اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے احمد صاحب نے گھر کے دروازے پر دستک دی۔
"یہ اس وقت کون آ گیا؟" سیما، جو آٹا گوندھ رہی تھی، ہاتھوں کو دھوتی دروازے کی جانب بڑھی۔ دروازہ کھولتے ہی کچھ بولنے لگی تھی کہ سامنے احمد صاحب کو دیکھ کر اٹک کر رک گئی۔ کچھ کہنے کو لب کھولے، مگر کچھ بول ہی نہ پائی۔
"اندر آنے کو نہیں کہو گی؟" احمد صاحب نے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ فوراً پلٹی تھی۔ احمد صاحب اس کے پیچھے اندر آئے۔ آج جمعہ تھا تو جنید بھی گھر پر تھا۔ دروازے کی آواز سنتا وہ بھی صحن میں آیا۔ سامنے باپ کو دیکھ کر اس کا دل بھی تھم گیا تھا۔
"بابا..." جنید کے لب ہلے۔
"یار، ایسے تو نہ دیکھو سارے، ایسے لگتا ہے کہ کسی پرائے گھر میں آ گیا ہوں میں۔" انہوں نے شکوہ کیا تو جنید نے آگے بڑھ کر باپ کو گلے سے لگایا۔
اس وقت سبھی احمد صاحب کے گرد بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنے مشن کے بارے میں سب کو بتا دیا، جسے سن کر جنید کو اپنے باپ پر بہت فخر محسوس ہوا۔
"بابا، آئی ایم پراؤڈ آف یو۔ ہر فرض سے پہلے یہ فرض ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ملک ہے۔ اور اپنے ملک کے لیے تو لوگ نسلیں بھی قربان کر دیتے ہیں نا۔ آپ نے تو صرف دو سال ہی قربان کیے۔" جنید کی بات پر احمد صاحب نے اپنی بیوی کو دیکھا، جو ان کی دیوانگی کی حد تک ان سے عشق کرتی تھیں، خفا سی تھیں۔
"بابا، اب سچ میں ہماری جان ہیں۔" پری ان کے سینے سے لگی بیٹھی تھی۔
"لیکن پکی راز دار ہو تم۔" "ہاں، مجھے اپنی بچی پر فخر ہے۔" انہوں نے پری کو سینے سے بھینچا تو وہ مسکرا دی۔
چھ ماہ پہلے اسے پتا چل گیا تھا کہ اس کے بابا زندہ ہیں اور کہاں ہیں۔ اس کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں فہام نے اس کی مدد کی تھی، اور فہام کے دل کی حدوں کو وہ چھو گئی تھی۔ اور پھر ایک ماہ پہلے فہام کی پرزور خواہش پر احمد صاحب نے ان دونوں کا نکاح کر دیا تھا۔ پری اس کے آفس میں جاب کرنے لگی تھی، لیکن اس نکاح کو راز رکھا گیا تھا، کیونکہ احمد صاحب تب سامنے نہیں آ سکتے تھے۔ پر اب وہ باقاعدہ طریقے سے پری کو رخصت کرنا چاہتے تھے، اور انہوں نے پری کے نکاح کے بارے میں وہاں موجود سب کو بتا دیا۔
جنید حیران ہوا، لیکن سونیا پھر بھی کچھ نہ بولیں اور چپ کر کے وہاں سے اٹھ گئیں۔
"بابا، امی ناراض ہو گئی ہیں لگتا ہے۔" پری کو فکر ہوئی۔
"مجھے راضی کرنا آتا ہے۔" احمد صاحب انہیں شب بخیر کہتے اپنے کمرے کی جانب بڑھے، جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھیں۔ احمد صاحب ان کے پاس آ کر دھیرے سے بیٹھے اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔
"ایک ملک کا سپاہی ہونے کا فرض ادا کر رہا تھا نا، سونیا۔ لیکن تمہارا مجرم ہوں، جو چاہے سزا دے دو، اف تک نہیں کروں گا۔" ان کے درد بھرے لہجے پر سونیا ان کی طرف پلٹیں، ان کے سینے پر سر رکھ دیا اور شدت سے ان کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے رو دیں۔
"آپ جانتے تھے میں نہیں رہ سکتی تھی آپ کے بغیر۔ دیوانی ہوں میں آپ کی، پھر بھی دوری کی یہ سخت سزا۔ بس یہی سانسیں چلتی رہیں کہ ایک دن آپ واپس لوٹ آئیں گے۔ اگر یہ یقین نہ ہوتا تو..." وہ بات مکمل نہ کر پائیں۔ "یقین کریں، سونیا کی سانسیں رک جاتیں۔" وہ سر اٹھائے انہیں کہتے رک گئیں۔
ان کے ماتھے پر لب رکھتے احمد صاحب گہری سانس بھر گئے۔ ان کی محبوب بیوی نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ وہ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔
بہت دھوم دھام سے پری کی رخصتی کی گئی۔ سلطان مینشن میں بہت شاندار انداز میں اس کا استقبال کیا گیا۔ فہام کی دلہن پری سب کو بہت بھائی تھی۔ فہام کی تو اس میں سانسیں بسی تھیں، یہ اس کا ہر لمحہ اس کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا۔ اسی لیے وہ گھونگھٹ نکالے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے اندر آتے ہی پری کا دل زور سے دھڑکا۔
فہام نے بہت محبت سے اس کا گھونگھٹ الٹا۔ "ہائے!" وہ درد سے کراہتا پیچھے کو گرا۔
"فہام!" پری گھبرا کر اسے پکارتی اس کے قریب ہوئی اور اسے ہلانے جھلانے لگی، لیکن وہ آنکھیں بند کیے لیٹا رہا۔ "فہام، پلیز آنکھیں کھولیں!" وہ گھبرائی ہوئی اس کے چہرے پر جھکی، رندھے لہجے میں بولی۔
فہام نے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ لے جاتے ہوئے اسے خود میں مزید جھکایا اور اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں سمو لیا۔ وہ پہلے تو نا سمجھی سے فہام کو دیکھنے لگی، پھر اس کی شرارت سمجھتے ہوئے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، لیکن فہام کی گرفت بہت سخت تھی۔ وہ دھیرے سے اس کی صداؤں میں کھونے لگی۔ بنا اس کے لبوں کو آزادی بخشے وہ اپنی اور اس کی پوزیشن چینج کر گیا۔ پر ایک سانس حلق میں اٹکنے لگی۔ محبت، عشق، جنون، آج اس کی رگوں میں اتر رہا تھا، جو بہت جان لیوا تھا۔ اپنے ہاتھوں کو کام میں لاتے اس کا زیور اتارتا، اسے اپنے نزدیک سے نزدیک کر گیا تھا، کہ سارے پردے گراتا اس کی روح میں شامل ہو گیا، اور وہ بے باک سلطان اپنی پریسا کا دیوانہ اسے اپنی دیوانگی دکھاتا، معتبر کر گیا تھا۔
**ختم شد**
---

