گمشدہ وصیت
ہرکیول پوآرو ایک غیر معمولی مقدمہ حل کرتا ہے
اگاتھا کرسٹی
مس وائلٹ مارش کی طرف سے پیش کیا جانے والا مسئلہ ہمارے معمول کے کام سے خاصا مختلف اور خوشگوار تبدیلی لیے ہوئے تھا۔ پوآرو کو اس خاتون کا ایک مختصر مگر نہایت باقاعدہ خط موصول ہوا تھا، جس میں اس نے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ پوآرو نے جواب میں اسے اگلے روز گیارہ بجے اپنے پاس آنے کے لیے کہہ دیا۔
وہ عین وقت پر پہنچ گئی۔
وہ ایک لمبی، خوب صورت نوجوان عورت تھی۔ لباس سادہ مگر صاف ستھرا تھا، اور اس کے انداز میں ایک پراعتماد، کاروباری سنجیدگی تھی۔ صاف محسوس ہوتا تھا کہ وہ زندگی میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
میں خود اس نام نہاد ’’نئی عورت‘‘ کا کوئی خاص مداح نہیں تھا، اس لیے اس کی خوش شکل شخصیت کے باوجود میرے دل میں اس کے لیے ابتدا ہی سے کوئی خاص نرم گوشہ پیدا نہ ہوا۔
وہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد بولی،
’’مسٹر پوآرو، میرا معاملہ کچھ غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ بہتر ہوگا کہ میں ابتدا ہی سے شروع کروں اور آپ کو پوری بات بتا دوں۔‘‘
’’جیسا آپ مناسب سمجھیں، میڈموازیل۔‘‘
اس نے کہنا شروع کیا:
’’میں یتیم ہوں۔ میرے والد دو بھائیوں میں سے ایک تھے۔ دونوں بھائی ڈیون شائر کے ایک چھوٹے سے کسان کے بیٹے تھے۔ ان کے والد کی زمین معمولی سی تھی اور آمدنی بھی زیادہ نہیں تھی۔ میرے والد کے بڑے بھائی، اینڈریو، آسٹریلیا چلے گئے، جہاں انہوں نے خاصی ترقی کی۔ زمینوں میں کامیاب سرمایہ کاری کرتے کرتے وہ بہت دولت مند ہو گئے۔
’’میرے والد، راجر، جو دونوں بھائیوں میں چھوٹے تھے، زراعت کی طرف بالکل مائل نہیں تھے۔ انہوں نے اپنی محدود استطاعت کے باوجود کسی نہ کسی طرح کچھ تعلیم حاصل کی اور ایک چھوٹی سی کمپنی میں کلرک کی ملازمت حاصل کر لی۔
’’انہوں نے اپنے مرتبے سے کچھ بہتر خاندان میں شادی کی۔ میری والدہ ایک غریب مصور کی بیٹی تھیں۔ میرے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا جب میں صرف چھ برس کی تھی۔ چار سال بعد، جب میں چودہ برس کی ہوئی، میری والدہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
’’اس وقت دنیا میں میرا واحد زندہ رشتہ دار میرے انکل اینڈریو تھے، جو کچھ عرصہ پہلے آسٹریلیا سے واپس آئے تھے اور اپنے آبائی علاقے میں ایک چھوٹی سی جائیداد خرید کر رہنے لگے تھے۔ اس جگہ کا نام کرَیب ٹری مینور تھا۔
’’وہ اپنے مرحوم بھائی کی یتیم بیٹی کے ساتھ بے حد شفقت سے پیش آئے۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا لیا، اپنے گھر میں رکھا اور ہر معاملے میں میرے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے میں ان کی اپنی بیٹی ہوں۔‘‘
وہ ذرا رکی، پھر بولی:
’’نام سے تو کرَیب ٹری مینور کوئی بڑی جاگیر معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ صرف ایک پرانا سا فارم ہاؤس ہے۔ میرے انکل کے رگ و پے میں زراعت بسی ہوئی تھی اور وہ جدید طرزِ کاشت کاری کے مختلف تجربات میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔
’’اگرچہ میرے ساتھ ان کی شفقت بے حد تھی، لیکن عورتوں کی پرورش اور تعلیم کے بارے میں ان کے کچھ عجیب اور گہرے نظریات تھے۔
’’وہ خود تقریباً بے تعلیم آدمی تھے، اگرچہ ان میں غیر معمولی معاملہ فہمی اور دوراندیشی تھی۔ وہ اس چیز کو، جسے وہ ’کتابی علم‘ کہتے تھے، زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ خصوصاً عورتوں کی تعلیم کے سخت مخالف تھے۔
’’ان کے خیال میں لڑکیوں کو گھر کے کام کاج، باورچی خانے اور دودھ دہی کے کام سیکھنے چاہییں، گھر میں کارآمد ہونا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو کتابوں اور پڑھائی لکھائی سے دور رہنا چاہیے۔
’’وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ میری پرورش انہی اصولوں کے مطابق ہو۔
’’لیکن میرے لیے یہ بات سخت مایوس کن تھی۔‘‘
اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے وہی پرانی ناراضی ابھر آئی، جیسے برسوں گزر جانے کے باوجود اس واقعے کی تلخی ابھی باقی ہو۔
’’میں نے صاف صاف بغاوت کر دی۔
’’مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میرا دماغ اچھا ہے، جبکہ گھریلو کام کاج میں میری صلاحیت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس معاملے پر میرے انکل اور میرے درمیان کئی مرتبہ سخت بحث ہوئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے، لیکن اپنی اپنی بات پر قائم رہنے والے بھی تھے۔
’’خوش قسمتی سے مجھے ایک تعلیمی وظیفہ مل گیا، اور اس کے بعد ایک حد تک میں اپنی مرضی منوانے میں کامیاب رہی۔
’’اصل بحران اس وقت پیدا ہوا جب میں نے گیرٹن کالج جانے کا فیصلہ کر لیا۔
’’میرے پاس کچھ رقم اپنی بھی تھی جو میری والدہ میرے لیے چھوڑ گئی تھیں، اور میں پوری طرح پرعزم تھی کہ خدا نے مجھے جو صلاحیتیں دی ہیں، انہیں ضائع نہیں ہونے دوں گی۔
’’آخرکار میری اپنے انکل کے ساتھ ایک طویل اور آخری بحث ہوئی۔
’’اس مرتبہ انہوں نے میرے سامنے معاملہ بالکل صاف الفاظ میں رکھ دیا۔
’’ان کا کوئی اور رشتہ دار نہیں تھا، اور ان کی خواہش تھی کہ ان کی ساری جائیداد کی واحد وارث میں بنوں۔
’’جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا، وہ بہت دولت مند آدمی تھے۔
’’لیکن انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اگر میں اپنی ان ’نئی نئی فضول سوچوں‘ پر قائم رہی تو مجھے ان کی طرف سے کچھ بھی ملنے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
’’میں نے ان کی بات سنی، مگر اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹی۔
’’میں ان سے ہمیشہ دل کی گہرائیوں سے محبت کرتی رہوں گی، یہ اپنی جگہ، لیکن مجھے اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنی تھی۔
’’ہماری آخری گفتگو بھی اسی بات پر ختم ہوئی۔
’’جدا ہوتے وقت ان کے آخری الفاظ تھے:
’تمہیں اپنے دماغ پر بڑا ناز ہے، لڑکی۔ میرے پاس کتابی علم نہیں، لیکن اس کے باوجود میں جب چاہوں تمہارے دماغ کا مقابلہ اپنے دماغ سے کر سکتا ہوں۔ اب دیکھتے ہیں، آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘‘
اس بات کو نو برس گزر چکے تھے۔ کبھی کبھار میں ہفتے کے اختتام پر ان کے پاس چلی جاتی، اور اگرچہ ان کے خیالات میں ذرّہ بھر تبدیلی نہیں آئی تھی، ہمارے تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے۔ انہوں نے کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ میں نے میٹرک پاس کر لیا تھا، نہ ہی میری بی۔ایس۔سی۔ کی ڈگری کا کبھی ذکر چھیڑا۔
گزشتہ تین برس سے ان کی صحت مسلسل گرتی جا رہی تھی، اور ایک ماہ پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔
’’اب میں آپ کو اپنی آمد کی اصل وجہ بتاتی ہوں۔‘‘
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی:
’’میرے انکل نے ایک نہایت عجیب وصیت چھوڑی ہے۔ اس وصیت کے مطابق ان کی موت کے بعد ایک سال تک کرَیب ٹری مینور اور اس میں موجود تمام چیزیں میرے اختیار میں رہیں گی—اور وصیت میں عین یہی الفاظ لکھے ہیں: ’اس عرصے میں میری ذہین بھتیجی اپنی عقل مندی ثابت کر سکتی ہے۔‘
’’اس مدت کے اختتام پر، ’جب یہ ثابت ہو جائے گا کہ میری عقل اس کی عقل سے بہتر ہے‘، گھر اور میرے انکل کی تمام بھاری جائیداد مختلف فلاحی اداروں کے حوالے کر دی جائے گی۔‘‘
پوآرو نے تبصرہ کیا،
’’یہ تو آپ کے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی، میڈموازیل، خصوصاً اس لیے کہ آپ مسٹر مارش کی واحد خونی رشتہ دار تھیں۔‘‘
’’میں اسے اس نظر سے نہیں دیکھتی۔ انکل اینڈریو نے مجھے پہلے ہی صاف صاف خبردار کر دیا تھا اور میں نے اپنی مرضی کا راستہ خود چنا۔ جب میں ان کی خواہش کے مطابق چلنے پر آمادہ نہیں تھی تو انہیں پوری آزادی تھی کہ وہ اپنی دولت جسے چاہیں دے جائیں۔‘‘
’’کیا یہ وصیت کسی وکیل نے تیار کی تھی؟‘‘
’’نہیں۔ یہ ایک چھپے ہوئے وصیتی فارم پر خود لکھی گئی تھی، اور اس پر اس مرد اور اس کی بیوی نے گواہی دی تھی جو گھر میں رہتے تھے اور میرے انکل کی دیکھ بھال کرتے تھے۔‘‘
’’کیا ایسی وصیت کو عدالت میں چیلنج کرنے کا کوئی امکان ہو سکتا ہے؟‘‘
’’میں ایسا کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنا چاہوں گی۔‘‘
’’تو آپ اسے اپنے انکل کی طرف سے ایک ذہنی مقابلہ سمجھتی ہیں؟‘‘
’’بالکل۔ میں اسے اسی طرح دیکھتی ہوں۔‘‘
پوآرو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا،
’’یقیناً اس کی یہی تعبیر بنتی ہے۔ اس پرانے اور پھیلے ہوئے گھر میں کہیں آپ کے انکل نے یا تو نوٹوں کی صورت میں کچھ رقم چھپا رکھی ہے، یا ممکن ہے کہ دوسری وصیت چھپا دی ہو۔ اور انہوں نے آپ کو ایک سال دیا ہے کہ آپ اپنی ذہانت اور تدبر استعمال کرکے اسے تلاش کریں۔‘‘
’’بالکل، مسٹر پوآرو۔ اور میں آپ سے یہ توقع کرکے آپ پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہوں کہ آپ کی ذہانت میری ذہانت سے کہیں زیادہ ہوگی۔‘‘
’’ایہہ، ایہہ! لیکن یہ تو آپ کی بڑی عنایت ہے۔ میرے ’گرے سیلز‘ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ کیا آپ نے خود تلاش نہیں کیا؟‘‘
’’صرف سرسری سی۔ لیکن مجھے اپنے انکل کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اتنا یقین ہے کہ میں یہ سمجھنے کی حماقت نہیں کر سکتی کہ یہ کام آسان ہوگا۔‘‘
’’کیا وصیت، یا اس کی کوئی نقل، آپ کے پاس ہے؟‘‘
مس مارش نے ایک دستاویز میز پر ہماری طرف بڑھا دی۔
پوآرو نے اسے پڑھا اور درمیان درمیان میں اثبات میں سر ہلاتا رہا۔
’’تین سال پہلے بنائی گئی ہے۔ تاریخ پچیس مارچ ہے، اور وقت بھی درج ہے—صبح گیارہ بجے۔‘‘
اس کی آنکھوں میں اچانک دلچسپی کی چمک پیدا ہوئی۔
’’یہ بات بہت معنی خیز ہے۔ اس سے ہماری تلاش کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ یقیناً ہمیں ایک دوسری وصیت تلاش کرنی ہے۔ اگر دوسری وصیت اس سے صرف آدھے گھنٹے بعد بھی لکھی گئی ہو تو یہ ساری وصیت بے اثر ہو سکتی ہے۔‘‘
وہ مسکرایا۔
اچھا تو مس آپ نے میرے سامنے ایک نہایت دل چسپ اور ذہانت سے تراشا ہوا مسئلہ پیش کیا ہے۔ اسے حل کرنے میں مجھے دنیا بھر کی خوشی ہوگی۔ یہ مان بھی لیا جائے کہ آپ کے انکل ایک قابل آدمی تھے، لیکن ان کے ’گرے سیلز‘ ہرکیول پوآرو کے گرے سیلز جیسے تو نہیں ہو سکتے!‘‘
(واقعی، پوآرو کی خود پسندی بھی حد سے گزری ہوئی تھی!)
’’خوش قسمتی سے اس وقت میرے پاس کوئی خاص اہم کام نہیں ہے۔ ہیسٹنگز اور میں آج رات ہی کرَیب ٹری مینور روانہ ہو جائیں گے۔ آپ کے انکل کی خدمت پر مامور وہ میاں بیوی اب بھی وہیں رہتے ہیں، میرا خیال ہے؟‘‘
’’جی ہاں۔ ان کا نام بیکر ہے۔‘‘
اگلی صبح ہم باقاعدہ تلاش کے لیے تیار تھے۔
ہم گزشتہ رات دیر سے وہاں پہنچے تھے۔ مس مارش نے ہمیں آنے کی اطلاع ٹیلی گرام کے ذریعے مسٹر اور مسز بیکر کو دے دی تھی، اس لیے وہ پہلے ہی ہماری آمد کے منتظر تھے۔
وہ ایک خوش اخلاق جوڑا تھا۔ مرد کا چہرہ کھردرا اور سرخی مائل تھا اور اس کی شکل کسی سوکھے ہوئے سیب جیسی لگتی تھی، جبکہ اس کی بیوی خاصی بھاری بھرکم خاتون تھی اور اس کے پورے انداز میں ڈیون شائر کے لوگوں جیسا پرسکون اطمینان جھلکتا تھا۔
سفر کی تھکن، اور اسٹیشن سے گھر تک آٹھ میل کی گاڑی کے سفر نے ہمیں خاصا نڈھال کر دیا تھا، چنانچہ بھنے ہوئے مرغ، ایپل پائی اور ڈیون شائر کی گاڑھی کریم پر مشتمل عمدہ کھانے کے بعد ہم فوراً سو گئے تھے۔
اب ہم ایک شاندار ناشتہ کر چکے تھے اور ایک چھوٹے سے پینل لگے کمرے میں بیٹھے تھے۔ یہ مرحوم مسٹر مارش کی مطالعہ گاہ اور رہنے کا کمرہ تھا۔
دیوار کے ساتھ ایک لکڑی کی رول ٹاپ میز رکھی تھی، جس میں کاغذات بھرے ہوئے تھے۔ تمام کاغذات نہایت سلیقے سے الگ الگ عنوانات کے تحت ترتیب دیے گئے تھے۔
ایک بڑی، چمڑے کی آرام دہ کرسی صاف بتا رہی تھی کہ اس کے مالک کا مستقل آرام گاہ یہی ہوا کرتی تھی۔
سامنے والی دیوار کے ساتھ ایک بڑا صوفہ رکھا تھا جس پر پھول دار پرانے طرز کا کپڑا چڑھا ہوا تھا۔ گہری اور نیچی کھڑکیوں کے بیٹھنے والے چوڑے تختوں پر بھی اسی قسم کا قدرے ماند پڑ چکا، پرانے نقش و نگار والا کپڑا بچھا تھا۔
’’ایہہ بیئن، میرے دوست،‘‘ پوآرو نے اپنی ننھی سی سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا، ’’اب ہمیں اپنی مہم کا نقشۂ کار بنانا ہوگا۔‘‘
اس نے ایک لمحے کے لیے کمرے پر نگاہ دوڑائی۔
’’میں پہلے ہی گھر کا ایک سرسری جائزہ لے چکا ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ کوئی بھی سراغ ہمیں اسی کمرے سے ملے گا۔ ہمیں اس میز میں موجود تمام دستاویزات کو انتہائی احتیاط اور باریک بینی سے دیکھنا ہوگا۔‘‘
اس نے انگلی اٹھائی۔
’’ظاہر ہے، مجھے یہ توقع نہیں کہ ہمیں وصیت انہی کاغذات میں سے مل جائے گی۔ لیکن عین ممکن ہے کہ کوئی بظاہر بے ضرر اور معمولی سا کاغذ اس جگہ تک پہنچنے کا سراغ اپنے اندر چھپائے ہوئے ہو جہاں وصیت چھپائی گئی ہے۔‘‘
وہ ذرا رکا، پھر بولا:
’’لیکن پہلے ہمیں کچھ معلومات حاصل کرنی ہوں گی۔‘‘
اس نے میری طرف دیکھا۔
’’براہِ کرم گھنٹی بجائیے۔‘‘
میں نے گھنٹی بجا دی۔
جب تک جواب آنے کا انتظار کر رہے تھے، پوآرو کمرے میں ٹہلتا رہا اور ہر چیز کو قدرے تحسین بھری نظروں سے دیکھتا رہا۔
’’ایک نہایت سلیقہ مند آدمی تھا، یہ مسٹر مارش۔ دیکھو، کاغذات کے یہ پیکٹ کس ترتیب سے عنوانات کے ساتھ رکھے گئے ہیں۔ اور ہر دراز کی چابی پر ہاتھی دانت کا لیبل لگا ہوا ہے—دیوار پر لگے اس چینی کے برتنوں والے کیبنٹ کی چابی بھی اسی طرح ہے۔ اور ذرا اندر رکھے برتنوں کی ترتیب تو دیکھو! دل خوش ہو جاتا ہے۔ یہاں کوئی چیز آنکھ کو ناگوار نہیں گزرتی—‘‘
اچانک وہ رک گیا۔
اس کی نظر خود میز کی چابی پر پڑی تھی، جس کے ساتھ ایک میلا سا لفافہ بندھا ہوا تھا۔ پوآرو نے ناگواری سے اسے دیکھا اور چابی کے سوراخ سے نکال لیا۔
لفافے پر ٹیڑھے میڑھے، بے ڈھب حروف میں لکھا تھا:
’’رول ٹاپ میز کی چابی‘‘
یہ تحریر باقی تمام چابیوں پر موجود صاف ستھری تحریر سے بالکل مختلف تھی۔
پوآرو نے پیشانی پر بل ڈالتے ہوئے کہا،
’’یہ تحریر یہاں اجنبی لگتی ہے۔ میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہاں ہمیں اب مسٹر مارش کی شخصیت نظر نہیں آ رہی۔ لیکن اس گھر میں اور کون آیا ہو سکتا ہے؟ صرف مس مارش۔ اور جہاں تک میں اسے سمجھ سکا ہوں، وہ بھی سلیقے اور ترتیب پسند نوجوان خاتون ہے۔‘‘
گھنٹی کی آواز سن کر بیکر اندر آ گیا۔
پوآرو نے کہا،
’’اپنی بیوی کو بھی بلا لاؤ اور میرے چند سوالوں کا جواب دو۔‘‘
بیکر چلا گیا اور چند ہی لمحوں بعد مسز بیکر کے ساتھ واپس آیا۔ وہ اپنے ایپرن سے ہاتھ پونچھ رہی تھی اور اس کے پورے چہرے پر خوش دلی پھیلی ہوئی تھی۔
پوآرو نے چند واضح الفاظ میں اپنے یہاں آنے کا مقصد انہیں بتا دیا۔
بیکر میاں بیوی فوراً ہماری ہمدردی میں شامل ہو گئے۔
مسز بیکر بولی،
’’ہم تو یہ نہیں چاہتے کہ مس وائلٹ اپنے حق سے محروم ہو جائیں۔ بڑا ظلم ہوگا، اگر سارا مال ہسپتالوں کو مل جائے۔‘‘
پوآرو نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا۔
ہاں، مسٹر اور مسز بیکر کو اچھی طرح یاد تھا کہ انہوں نے وصیت پر گواہی دی تھی۔
بیکر کو اس سے پہلے پڑوس کے شہر بھیجا گیا تھا تاکہ وہ وصیت کے دو چھپے ہوئے فارم لے آئے۔
’’دو؟‘‘ پوآرو نے فوراً چونک کر پوچھا۔
’’جی صاحب۔ شاید احتیاط کے لیے، کہ اگر ایک خراب ہو جائے تو دوسرا کام آ جائے۔ اور واقعی ایک خراب ہو بھی گیا۔ ہم نے ایک پر دستخط کر دیے تھے—‘‘
’’دن کے کس وقت؟‘‘
بیکر نے سر کھجایا، لیکن اس کی بیوی فوراً بول پڑی۔
’’ارے، گیارہ بجے ہی تو میں نے کوکو کے لیے دودھ چولہے پر رکھا تھا۔ آپ کو یاد نہیں؟ جب ہم واپس باورچی خانے میں آئے تو دودھ سارا چولہے پر ابل کر بہہ چکا تھا۔‘‘
’’اور اس کے بعد؟‘‘
’’وہ اس کے کوئی ایک گھنٹے بعد کی بات ہوگی۔ ہمیں دوبارہ اندر جانا پڑا۔ بوڑھے ماسٹر نے کہا، ’مجھ سے غلطی ہو گئی ہے—پورا کاغذ پھاڑنا پڑا۔ اب دوبارہ دستخط کرنے ہوں گے۔‘ اور ہم نے دوبارہ دستخط کر دیے۔
’’اس کے بعد ماسٹر نے ہم دونوں کو خاصی معقول رقم دی۔ انہوں نے کہا، ’میں نے اپنی وصیت میں تم دونوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، لیکن جب تک میں زندہ ہوں، ہر سال تمہیں اتنی رقم دیتا رہوں گا کہ میرے مرنے کے بعد یہ تمہارے کام آئے۔‘ اور واقعی انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘
پوآرو کچھ دیر سوچتا رہا۔
’’دوسری مرتبہ دستخط کرنے کے بعد مسٹر مارش نے کیا کیا؟ کیا تمہیں معلوم ہے؟‘‘
’’گاؤں چلے گئے تھے، دکانداروں کے حساب کتاب چکانے۔‘‘
یہ بات زیادہ امید افزا معلوم نہیں ہوئی۔
پوآرو نے ایک اور راستہ اختیار کیا۔ اس نے میز کی چابی بیکر کے سامنے کرتے ہوئے پوچھا:
’’کیا یہ تمہارے ماسٹر کی لکھائی ہے؟‘‘
شاید یہ میرا وہم تھا، مگر مجھے محسوس ہوا کہ بیکر نے جواب دینے سے پہلے ایک دو لمحے توقف کیا۔
’’جی صاحب، انہی کی ہے۔‘‘
’’یہ جھوٹ بول رہا ہے،‘‘ میں نے سوچا۔
’’لیکن کیوں؟‘‘
پوآرو نے پوچھا،
’’کیا تمہارے ماسٹر نے کبھی یہ مکان کرائے پر دیا؟ گزشتہ تین برس میں کوئی اجنبی یہاں آیا؟‘‘
’’نہیں صاحب۔‘‘
’’کوئی مہمان؟‘‘
’’صرف مس وائلٹ۔‘‘
’’اس کمرے میں بھی کسی قسم کا کوئی اجنبی نہیں آیا؟‘‘
’’نہیں صاحب۔‘‘
اس کی بیوی نے اسے یاد دلایا،
’’تم مزدوروں کو بھول رہے ہو، جِم۔‘‘
’’مزدور؟‘‘ پوآرو فوراً اس کی طرف مڑا۔ ’’کون سے مزدور؟‘‘
عورت نے بتایا کہ تقریباً ڈھائی برس پہلے گھر میں کچھ مرمت کا کام کرنے کے لیے مزدور آئے تھے۔
وہ یہ نہیں بتا سکی کہ مرمت کس چیز کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ سب اس کے ماسٹر کا ایک اور شوق تھا، جس کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔
کچھ عرصے تک وہ مزدور اسی مطالعہ گاہ میں بھی کام کرتے رہے تھے، لیکن انہوں نے وہاں کیا کیا، وہ نہیں بتا سکتی تھی، کیونکہ کام کے دوران اس کے ماسٹر نے اسے اور اس کے شوہر، دونوں کو کمرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔
بدقسمتی سے انہیں اس فرم کا نام بھی یاد نہیں تھا جسے کام دیا گیا تھا۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ فرم پلائی ماؤتھ کی تھی۔
بیکر میاں بیوی کے کمرے سے نکل جانے کے بعد پوآرو نے خوشی سے اپنے ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا:
’’ہم آگے بڑھ رہے ہیں، ہیسٹنگز! صاف ظاہر ہے کہ اس نے دوسری وصیت تیار کی تھی اور پھر پلائی ماؤتھ سے مزدور بلا کر اس کے لیے ایک مناسب خفیہ جگہ بنوائی۔ وقت ضائع کرنے کے بجائے فرش اکھاڑنے اور دیواریں ٹھونک ٹھونک کر دیکھنے سے بہتر ہے کہ ہم خود پلائی ماؤتھ چلیں۔‘‘
تھوڑی سی کوشش کے بعد ہم مطلوبہ معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک دو جگہ پوچھ گچھ کرنے کے بعد ہمیں وہ فرم بھی مل گئی جسے مسٹر مارش نے کام دیا تھا۔
اس فرم کے تمام ملازمین کئی برسوں سے وہیں کام کر رہے تھے، اس لیے ان دو آدمیوں کو تلاش کرنا مشکل نہیں تھا جنہوں نے مسٹر مارش کی ہدایت پر کام کیا تھا۔
انہیں وہ کام اچھی طرح یاد تھا۔
گھر میں کئی دوسرے معمولی کاموں کے علاوہ انہوں نے پرانے طرز کی آتش دان کی جگہ پر ایک اینٹ نکالی تھی، اس کے نیچے ایک خفیہ کھوکھلی جگہ بنائی تھی اور پھر اینٹ کو اس طرح تراشا تھا کہ جوڑ کا سرے سے پتہ نہ چل سکے۔
آخری سرے سے دوسری اینٹ پر دباؤ ڈالنے سے پوری اینٹ اوپر اٹھ جاتی تھی۔
یہ خاصا پیچیدہ کام تھا اور بوڑھے صاحب اس کے ایک ایک حصے کے بارے میں بے حد نکتہ چیں تھے۔
ہمیں یہ معلومات دینے والا شخص کوگن نامی ایک آدمی تھا۔ وہ لمبا چوڑا، دبلا پتلا شخص تھا، جس کی مونچھیں وقت کے ساتھ سفید اور سرمئی ہو چکی تھیں۔ وہ خاصا سمجھ دار آدمی معلوم ہوتا تھا۔
ہم بہت خوشی کے عالم میں کرَیب ٹری مینور واپس آئے۔ مطالعہ گاہ کا دروازہ اندر سے بند کیا اور حاصل شدہ معلومات کو عملی طور پر آزمانے لگے۔
اینٹوں پر کسی قسم کا نشان دکھائی نہیں دیتا تھا، لیکن جس طریقے سے ہمیں بتایا گیا تھا، اس طرح دبانے پر فوراً ایک گہری کھوکھلی جگہ ظاہر ہو گئی۔
پوآرو نے بے تابی سے اپنا ہاتھ اندر ڈالا۔
اگلے ہی لمحے اس کے چہرے کی مطمئن مسکراہٹ غائب ہو گئی اور اس پر حیرت و پریشانی چھا گئی۔
اس کے ہاتھ میں صرف موٹے کاغذ کا ایک جلا ہوا ٹکڑا تھا۔
اس کے سوا وہ خفیہ جگہ بالکل خالی تھی۔
’’ساکرے!‘‘ پوآرو نے غصے سے چیخ کر کہا۔ ’’ہم سے پہلے کوئی یہاں آ چکا ہے!‘‘
ہم نے بے چینی سے کاغذ کے ٹکڑے کا جائزہ لیا۔
صاف ظاہر تھا کہ یہ اسی چیز کا ایک حصہ تھا جس کی ہمیں تلاش تھی۔ بیکر کے دستخط کا ایک ٹکڑا اس پر باقی رہ گیا تھا، لیکن وصیت کی شرائط کیا تھیں، اس کا کوئی سراغ نہیں تھا۔
پوآرو ایڑیوں کے بل بیٹھ گیا۔
’’میں کچھ نہیں سمجھتا،‘‘ اس نے غصے سے کہا۔ ’’اسے کس نے تباہ کیا؟ اور کیوں؟‘‘
میں نے تجویز پیش کی:
’’بیکر میاں بیوی نے؟‘‘
’’کیوں؟‘‘ پوآرو نے فوراً جواب دیا۔ ’’دونوں وصیتوں میں ان کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا تھا۔ اور اگر مس مارش کو یہ جگہ مل جائے تو ان کے پاس یہاں ملازمت پر برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے، بہ نسبت اس کے کہ یہ جگہ کسی ہسپتال کی ملکیت بن جائے۔ آخر کسی کے لیے وصیت تباہ کرنے میں کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
’’ہسپتالوں کو فائدہ ضرور پہنچتا ہے، لیکن ہم فلاحی اداروں پر تو شک نہیں کر سکتے!‘‘
میں نے کہا،
’’شاید بوڑھے آدمی نے اپنا ارادہ بدل لیا ہو اور وصیت خود ہی تباہ کر دی ہو۔‘‘
پوآرو کھڑا ہو گیا اور ہمیشہ کی طرح بڑی احتیاط سے اپنے گھٹنوں سے گرد جھاڑنے لگا۔
’’یہ ممکن ہے،‘‘ اس نے تسلیم کیا۔ ’’ہیسٹنگز، تمہاری یہ بات نسبتاً زیادہ معقول باتوں میں سے ایک ہے۔ بہرحال، یہاں اب ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ جو کچھ ایک انسان کر سکتا ہے، ہم نے سب کر لیا۔ ہم نے مرحوم اینڈریو مارش کی ذہانت کا اپنی ذہانت سے مقابلہ کامیابی سے کر لیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہماری کامیابی سے اس کی بھتیجی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘‘
ہم فوراً گاڑی کے ذریعے اسٹیشن پہنچے اور خوش قسمتی سے لندن جانے والی ایک ٹرین پکڑنے میں کامیاب ہو گئے، اگرچہ وہ مرکزی ایکسپریس ٹرین نہیں تھی۔
پوآرو غمگین اور بے حد غیر مطمئن تھا۔
جہاں تک میرا تعلق ہے، میں سفر سے تھک چکا تھا اور ایک کونے میں بیٹھ کر اونگھنے لگا۔
اچانک، جب ٹرین ٹاونٹن سے روانہ ہونے ہی والی تھی، پوآرو نے ایک ایسی تیز چیخ ماری کہ میں چونک کر جاگ اٹھا۔
’’جلدی، ہیسٹنگز! اٹھو اور چھلانگ لگاؤ! میں کہتا ہوں، چھلانگ لگاؤ!‘‘
مجھے کچھ سمجھ آتا، اس سے پہلے ہی ہم پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔
ہماری ٹوپیاں سر سے غائب تھیں، ہمارے سفری بیگ ٹرین میں رہ گئے تھے، اور ٹرین رات کے اندھیرے میں دور جا چکی تھی۔
مجھے شدید غصہ آیا، مگر پوآرو نے میری طرف ذرا بھی توجہ نہ دی۔
وہ چیخا:
’’میں کتنا احمق رہا ہوں! تین گنا احمق! آئندہ کبھی اپنے ان ننھے گرے سیلز پر فخر نہیں کروں گا!‘‘
میں نے جھنجھلا کر کہا،
’’کم از کم یہ تو اچھی بات ہے۔ لیکن آخر معاملہ کیا ہے؟‘‘
ہمیشہ کی طرح جب وہ اپنے خیالات کے پیچھے چل رہا ہوتا تھا، اسے میری کسی بات کی کوئی پروا نہیں تھی۔
وہ بے چینی سے بڑبڑایا:
’’دکانداروں کے حساب کی کتابیں! میں نے انہیں بالکل نظر انداز کر دیا! ہاں، لیکن کہاں؟ کہاں؟ خیر، کوئی بات نہیں۔ میں غلط نہیں ہو سکتا۔ ہمیں فوراً واپس جانا ہوگا۔‘‘
کہنا آسان تھا، کرنا مشکل۔
ہم کسی طرح ایک سست رفتار ٹرین سے ایکسیٹر پہنچے اور وہاں پوآرو نے ایک موٹر کار کرائے پر لے لی۔
رات کے پچھلے پہر ہم دوبارہ کرَیب ٹری مینور پہنچ گئے۔
جب ہم نے بڑی مشکل سے بیکر میاں بیوی کو جگایا تو ان کے چہروں پر جو حیرت اور پریشانی تھی، اسے بیان کرنا بے فائدہ ہوگا۔
پوآرو نے کسی کی طرف توجہ نہیں دی اور سیدھا مطالعہ گاہ کی طرف چل پڑا۔
’’میں تین گنا احمق نہیں بلکہ چھتیس گنا احمق ثابت ہوا ہوں، میرے دوست،‘‘ اس نے کرم فرما کر مجھے بتایا۔ ’’اب دیکھو!‘‘
وہ سیدھا میز کے پاس گیا، چابی نکالی اور اس کے ساتھ بندھا ہوا لفافہ الگ کر لیا۔
میں اسے بے وقوفوں کی طرح گھور رہا تھا۔
آخر وہ اس ننھے سے لفافے میں ایک بڑی سی وصیت کیسے تلاش کرنے کی امید کر سکتا تھا؟
اس نے بڑی احتیاط سے لفافہ کاٹا اور اسے پوری طرح کھول کر سیدھا پھیلا دیا۔
پھر اس نے آگ جلائی اور لفافے کے اندر کی سادہ سطح کو شعلے کے قریب کر دیا۔
چند منٹ بعد اس پر ہلکے ہلکے حروف نمودار ہونے لگے۔
’’دیکھو!‘‘ پوآرو نے فاتحانہ انداز میں چیخ کر کہا۔
میں نے دیکھا۔
اس پر صرف چند مدھم سطریں تھیں۔ مختصر طور پر لکھا تھا کہ وہ اپنی تمام جائیداد اپنی بھتیجی وائلٹ مارش کے نام چھوڑتا ہے۔
وصیت کی تاریخ پچیس مارچ درج تھی، وقت دوپہر ساڑھے بارہ بجے تھا، اور گواہوں کے نام البرٹ پائیک، حلوائی، اور جسی پائیک، شادی شدہ خاتون درج تھے۔
میں حیرت سے بولا:
’’لیکن کیا یہ قانونی ہے؟‘‘
پوآرو نے جواب دیا:
’’جہاں تک مجھے معلوم ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو کسی شخص کو اپنی وصیت غائب ہو جانے والی اور مخصوص مادّے سے ظاہر ہونے والی سیاہی کے امتزاج سے لکھنے سے روکے۔ وصیت کرنے والے کی نیت بالکل واضح ہے، اور جس کے حق میں وصیت کی گئی ہے، وہ اس کی واحد زندہ رشتہ دار ہے۔
’’لیکن اس آدمی کی ذہانت تو دیکھو!
’’اس نے تلاش کرنے والے کی ایک ایک ممکنہ حرکت پہلے ہی بھانپ لی تھی—اور وہ تمام حرکتیں جو میں، بدقسمت احمق، کر چکا تھا!
’’اس نے وصیت کے دو فارم خریدے۔ ملازموں سے دو مرتبہ دستخط کروائے۔ پھر اپنی وصیت ایک گندے لفافے کے اندرونی حصے پر لکھ کر اور وہ خاص سیاہی والا قلم اپنے ساتھ لے کر باہر نکل گیا۔
’’کسی نہ کسی بہانے سے اس نے حلوائی اور اس کی بیوی سے بھی اپنے دستخط کے نیچے ان کے نام لکھوا لیے۔
’’پھر اس نے وہ لفافہ اپنی میز کی چابی سے باندھ دیا اور دل ہی دل میں بیٹھ کر مسکراتا رہا۔
’’اگر اس کی بھتیجی اس چھوٹی سی چال کو سمجھ لیتی تو وہ اپنی زندگی کے انتخاب اور اپنی اعلیٰ تعلیم کو درست ثابت کر دیتی، اور اس صورت میں اس کی دولت حاصل کرنے کی وہ پوری طرح حق دار ہوتی۔‘‘
میں نے آہستہ سے کہا:
’’لیکن وہ اس چال کو سمجھ تو نہیں سکی، ہے نا؟ مجھے تو یہ کچھ ناانصافی سی لگتی ہے۔ آخر بوڑھا آدمی واقعی جیت گیا۔‘‘
’’لیکن نہیں، ہیسٹنگز!‘‘
پوآرو نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔
’’یہ تمہاری عقل ہے جو غلط راستے پر جا رہی ہے۔ مس مارش نے اپنی ذہانت کی دوراندیشی اور عورتوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی افادیت اس طرح ثابت کر دی کہ اس نے فوراً یہ معاملہ میرے حوالے کر دیا۔
’’ہمیشہ ماہر سے کام لینا چاہیے!
’’اس نے اپنے آپ کو اس دولت کا حق دار پوری طرح ثابت کر دیا ہے۔‘‘
میں سوچتا ہوں—واقعی بہت سوچتا ہوں—کہ بوڑھے اینڈریو مارش یہ سب جان کر کیا سوچتے!

