ٹیوشن والی مس
میرا نام حمزہ ہے۔
میں یہ سب آج اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو اگر زبان پر نہ لائی جائیں تو انسان کے اندر ہی اندر سڑنے لگتی ہیں۔ میں نے برسوں کوشش کی کہ ان واقعات کو بھلا دوں، خود کو سمجھاؤں کہ سب وہم تھا، تھکن تھی، ذہنی دباؤ تھا۔ مگر ہر سال سردیوں میں، خاص طور پر جب دسمبر اپنی آخری سانسیں لینے لگتا ہے، وہ سب کچھ دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔
یہ بات سات سال پرانی ہے، جب میں لاہور کے ایک پرانے علاقے گلشنِ راوی میں رہتا تھا۔ ہمارا گھر گلی کے آخری سرے پر تھا۔ سامنے خالی پلاٹ، دائیں بائیں پرانی طرز کے مکان، جن کی دیواروں پر نمی کے نشان اور چھتوں سے لٹکتے بجلی کے ننگے تار۔ شام کے بعد اس گلی میں عجیب سی خاموشی چھا جاتی تھی۔ گاڑی کم آتی، لوگ بھی جیسے جلدی جلدی گھروں میں گھس جاتے تھے۔
اُن دنوں میری زندگی بہت سادہ، بلکہ کہوں تو بوجھل ہو چکی تھی۔ ابّا کو گزرے دو سال ہو چکے تھے۔ امّی اکثر بیمار رہتی تھیں۔ میں بی اے کا آخری سال کر رہا تھا اور ساتھ ایک پرائیویٹ کالج میں جز وقتی پڑھاتا تھا۔ چھوٹا بھائی احمد دسویں جماعت میں تھا۔ وہ ذہین تھا، مگر ریاضی سے ہمیشہ گھبراتا تھا۔
میرا مزاج شروع سے ہی سنجیدہ رہا ہے۔ غیر ضروری ہنسی مذاق، شور شرابہ مجھے پسند نہیں۔ دوست بھی گنے چنے تھے۔ زیادہ وقت یا تو کالج میں گزرتا، یا گھر میں۔ شاید اسی وجہ سے میں چیزوں کو غور سے دیکھنے کی عادت رکھتا ہوں۔ چھوٹی باتیں، معمولی تبدیلیاں… جو اکثر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں، وہ مجھے فوراً محسوس ہو جاتی تھیں۔
یہ دسمبر کا آغاز تھا۔ سردی اس سال غیر معمولی تھی۔ صبح کے وقت دھند اتنی گہری ہوتی کہ موٹر سائیکل پر نکلتے ہوئے ہاتھ سامنے رکھنا پڑتا۔ شام ڈھلے ہوا میں ایسی ٹھنڈک آ جاتی کہ سانس لیتے ہوئے سینے میں چبھن سی محسوس ہوتی۔
احمد کے بورڈ کے پیپر سر پر تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اسے ٹیوشن لگوا دی جائے۔ محلے میں پہلے سے کچھ ٹیوشن سینٹر تھے، مگر وہاں کا شور اور رش مجھے پسند نہیں آیا۔ میں چاہتا تھا کہ احمد گھر پر ہی پڑھے، سکون سے۔
اسی دوران امّی نے بتایا کہ پاس والی گلی میں ایک نئی ٹیوشن مس آئی ہیں، اکیلی رہتی ہیں، اور گھر آ کر پڑھا دیتی ہیں۔ نام بتایا گیا: مس صائمہ۔
اگلے دن میں خود جا کر ملا۔
ان کا گھر دراصل ایک پرانی کوٹھی کا اوپر والا حصہ تھا۔ نیچے کا پورشن برسوں سے بند پڑا تھا۔ دیواروں پر پرانی بیلیں، لوہے کا گیٹ جس پر زنگ جمنے لگا تھا۔ میں نے گھنٹی بجائی تو کچھ لمحوں بعد دروازہ کھلا۔
سامنے مس صائمہ کھڑی تھیں۔
درمیانہ قد، دبلا سا وجود، سادہ شلوار قمیص، ہلکے رنگ کا دوپٹہ سر پر۔ چہرے پر نہ زیادہ مسکراہٹ، نہ سختی۔ بس ایک خاموش سا وقار۔ ان کی آنکھیں عجیب تھیں… جیسے بہت کچھ دیکھ چکی ہوں، مگر ظاہر کچھ نہ ہونے دیں۔
انہوں نے بڑے سکون سے بات کی۔ بتایا کہ وہ کراچی سے ہیں، ایم اے کر چکی ہیں، اور کچھ عرصے کے لیے لاہور آئی ہیں۔ اکیلی رہتی ہیں، اور بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر گزارا کر رہی ہیں۔
مجھے کوئی خاص عجیب بات محسوس نہیں ہوئی۔ بس ایک لمحے کو یہ خیال ضرور آیا کہ اتنی خاموش گلی، پرانی کوٹھی، اور ایک اکیلی لڑکی… مگر میں نے خود کو سمجھایا کہ یہ میرا فضول شک ہے۔
اسی دن طے ہوا کہ وہ شام سات سے آٹھ بجے تک احمد کو پڑھائیں گی۔
پہلا دن بالکل نارمل تھا۔
مس صائمہ وقت پر آئیں۔ احمد صحن میں میز لگا کر بیٹھ گیا۔ میں بھی وہیں کرسی پر بیٹھا رہا، اخبار پڑھتے ہوئے۔ ان کی پڑھانے کی آواز صاف، نرم اور مسلسل تھی۔ نہ اونچی، نہ نیچی۔ ایک ہی رفتار۔
ایک بات میں نے پہلے دن ہی نوٹ کی:
وہ گھڑی نہیں دیکھتیں تھیں، مگر ٹھیک آٹھ بجے کتاب بند کر دیتی تھیں۔
دوسرا دن، تیسرا دن… سب کچھ ایک جیسا۔
لیکن چند دن بعد، چھوٹی چھوٹی باتیں میرے ذہن میں کھٹکنے لگیں۔
مثلاً وہ کبھی پانی نہیں پیتیں تھیں۔
نہ سردی کا ذکر، نہ گرمی کی شکایت۔
نہ کبھی تھکن کا اظہار۔
اور جاتے وقت…
وہ ہمیشہ دروازہ بند کر کے سیدھا سیڑھیوں کی طرف چلی جاتیں، ایک لمحے کو بھی پیچھے نہیں دیکھتیں۔
ایک شام میں نے یونہی بات چیت میں پوچھ لیا،
“مس، آپ یہاں اکیلی رہتی ہیں؟ فیملی کبھی ملنے نہیں آتی؟”
انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو کچھ بدلا… جیسے کوئی پرانی یاد جاگ گئی ہو۔
“عادت ہو جائے تو اکیلا پن بھی شور نہیں لگتا، حمزہ۔”
میں چونک گیا۔
انہوں نے میرا نام لیا تھا۔
میں نے کبھی اپنا نام نہیں بتایا تھا۔
میں نے خود کو سمجھایا، شاید امّی نے بتایا ہو، یا احمد نے۔ مگر اس لمحے دل کے اندر ایک ہلکی سی سرد لہر دوڑ گئی۔
دسمبر آگے بڑھتا گیا، اور سردی بھی۔
ایک رات احمد نے پڑھتے ہوئے آہستہ سے کہا،
“بھائی… مس کبھی کبھی اچانک خاموش ہو جاتی ہیں۔”
“کیا مطلب؟”
“بس ایسے جیسے کسی آواز کو سن رہی ہوں۔ پھر چند سیکنڈ بعد دوبارہ پڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔”
میں نے اسے ڈانٹ دیا۔ کہا فضول خیالات چھوڑو، پڑھائی پر دھیان دو۔ مگر سچ یہ ہے کہ اگلے دن میں نے خود بھی یہی چیز نوٹ کی۔
وہ اچانک رک گئیں۔
آنکھیں سامنے کسی خالی جگہ پر جمی ہوئیں۔
پھر بغیر کچھ کہے دوبارہ بولنے لگیں۔
اس رات، کلاس کے بعد، میں نے دیکھا کہ صحن میں ان کی کرسی کے نیچے زمین گیلی تھی۔ جیسے کسی نے وہاں پانی بہایا ہو۔ حالانکہ بارش نہیں ہوئی تھی، اور صحن میں کہیں سے پانی آنے کا کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔
میں نے اسے نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔
پھر وہ رات آئی…
جس نے سب کچھ بدل دیا۔
یہ 30 دسمبر کی رات تھی۔ شدید سردی، بجلی بار بار جا رہی تھی۔ دھند اتنی گہری تھی کہ گلی میں کھڑے کھمبے کی روشنی بھی دھندلی لگ رہی تھی۔
مس صائمہ آئیں، مگر اُس دن کچھ مختلف تھیں۔ ان کے چہرے پر وہ خاموش سکون نہیں تھا۔ آنکھیں کچھ زیادہ گہری لگ رہی تھیں۔
انہوں نے آتے ہی کہا،
“آج احمد کو تھوڑا extra پڑھانا پڑے گا۔”
کلاس شروع ہوئی۔ میں وہیں بیٹھا تھا۔ وقت گزرتا رہا۔
اچانک انہوں نے کتاب بند کر دی۔
“احمد، اندر جا کر پانی لے آؤ۔”
احمد اٹھ کر اندر چلا گیا۔ صحن میں صرف میں اور مس صائمہ رہ گئے۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ مجھے اپنی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
میں نے ہمت کر کے پوچھا،
“مس، سب ٹھیک ہے؟”
انہوں نے آہستہ سے کہا،
“کچھ چیزیں انسان کو تب نظر آتی ہیں… جب وہ اکیلا رہ جائے۔”
اسی لمحے احمد واپس آ گیا۔
کلاس ختم ہوئی۔ وہ اٹھیں، اور ہمیشہ کی طرح چلی گئیں۔
مگر اُس رات…
اُس رات میں سو نہ سکا۔
رات تقریباً دو بجے، میں نے اوپر کسی کے چلنے کی آواز سنی۔ ننگے پاؤں کی، آہستہ آہستہ۔ پھر ایک ہلکی سی ہنسی… ایسی ہنسی جس میں خوشی نہیں تھی۔
میں بستر پر بیٹھ گیا۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی۔
ٹھیک آٹھ بجے کا وقت۔
اچانک مجھے لگا جیسے کوئی صحن میں کھڑا ہے۔
دروازہ آہستہ آہستہ خود بخود کھلنے لگا۔
اور باہر سے وہی نرم آواز آئی:
“حمزہ… احمد کی کلاس ابھی ختم نہیں ہوئی…”
میں نے ایک سایہ اندر داخل ہوتے دیکھا۔
یہاں میں رک جاتا ہوں۔
کیونکہ جو میں نے اُس کے بعد دیکھا…
وہ اگر میں نے ابھی سنا دیا…
تو شاید آپ بھی آج رات روشنی بند کرنے سے پہلے
ایک بار پیچھے ضرور دیکھیں گے…
میں دیر تک دروازے کے سامنے کھڑا رہا۔
میرے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے، حالانکہ وہ سایہ غائب ہو چکا تھا۔ کمرے میں سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا ہمیشہ ہوتا تھا، مگر پھر بھی مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی چیز بدل چکی ہو۔ جیسے گھر اب وہ گھر نہیں رہا جس میں میں برسوں سے رہتا آیا تھا۔
میں نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی۔
احمد مجھے گھور رہا تھا۔
“بھائی… یہ آواز کس کی تھی؟”
میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر خوف صاف نظر آ رہا تھا، مگر اس خوف کے ساتھ ایک تجسس بھی تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مزید سوال کرے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ اُس نام کو دوبارہ سنے۔
“کسی کی نہیں،” میں نے زبردستی خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے کہا،
“شاید اوپر کوئی چل رہا ہوگا۔ تم سو جاؤ۔”
وہ خاموشی سے بستر پر لیٹ گیا، مگر میں جانتا تھا کہ وہ بھی نہیں سو رہا۔ کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک بہت تیز لگ رہی تھی۔ ہر گزرتا سیکنڈ مجھے چبھ رہا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کیں تو وہی آواز دوبارہ کانوں میں گونجی:
“احمد کی کلاس ابھی ختم نہیں ہوئی…”
فجر کے قریب جا کر کہیں آنکھ لگی۔ مگر وہ نیند نہیں تھی۔ عجیب عجیب خواب آ رہے تھے۔ کبھی میں اسی صحن میں کھڑا ہوتا، مگر احمد وہاں نہیں ہوتا۔ کبھی مس صائمہ سامنے بیٹھی ہوتی تھیں، مگر ان کا چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا تھا۔ بس وہی آواز… بار بار۔
صبح جب آنکھ کھلی تو جسم ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔ امّی فجر کے بعد میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔
“حمزہ، طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔”
میں نے سر ہلا دیا۔ میں انہیں کیا بتاتا؟ کہ رات کو ایک ایسی عورت کی آواز سنی جس کا شاید وجود ہی نہیں؟
ناشتے کے وقت احمد غیر معمولی حد تک خاموش تھا۔ وہ میری طرف دیکھنا چاہتا تھا، مگر جیسے ڈر رہا ہو۔ آخرکار اس نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا:
“بھائی… آج مس آئیں گی نا؟”
یہ سوال سنتے ہی میرے ہاتھ سے کپ گر گیا۔
چائے فرش پر پھیل گئی۔
میں نے فوراً کہا، “نہیں۔ آج نہیں۔”
“کیوں؟” اس نے فوراً پوچھا۔
میں نے سخت لہجے میں کہا، “میں نے کہہ دیا نا، نہیں آئیں گی۔”
وہ خاموش ہو گیا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا احساس تھا۔ شاید مایوسی… یا شاید کچھ اور۔
میں اسی دن فیصلہ کر چکا تھا کہ مس صائمہ سے بات کرنی ہے۔ جو بھی ہے، سامنے آنا چاہیے۔ میں نے خود کو یہ کہہ کر سنبھالا کہ شاید سب ایک غلط فہمی ہو۔ شاید کوئی اور اوپر آ گیا ہو۔ شاید میں ہی زیادہ سوچ رہا ہوں۔
دوپہر کے وقت میں ان کے گھر گیا۔
کوٹھی ویسی ہی خاموش تھی جیسی ہمیشہ رہتی تھی۔ گیٹ پر تالا لٹک رہا تھا۔ میں نے دوبارہ غور سے دیکھا۔ زنگ آلود تالا، جس پر گرد جمی ہوئی تھی، جیسے کافی عرصے سے کھولا ہی نہ گیا ہو۔
میں نے دل میں خود کو ڈانٹا۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ تو روز آتی ہیں۔”
میں نے آس پاس دیکھا۔ سامنے والے گھر کی بالکونی میں ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی۔ میں نے آواز دی۔
“خالہ… اوپر جو مس رہتی تھیں، وہ کہاں گئیں؟”
وہ میری طرف مڑی۔ ان کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
“کون مس؟” انہوں نے پوچھا۔
“یہی… جو اوپر ٹیوشن پڑھاتی تھیں۔ مس صائمہ۔”
وہ عورت چند لمحے مجھے دیکھتی رہی، پھر آہستہ سے بولی:
“بیٹا، اوپر تو دو سال سے کوئی نہیں رہتا۔”
میرے جسم میں جیسے بجلی سی دوڑ گئی۔
“نہیں خالہ،” میں نے جلدی سے کہا،
“روز شام کو آتی تھیں ہمارے گھر پڑھانے۔”
وہ عورت خاموش ہو گئی۔ پھر آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر کر میرے قریب آئی۔
“بیٹا… تم شاید نہیں جانتے۔”
میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
“یہاں ایک لڑکی رہتی تھی۔ بالکل تمہاری بتائی ہوئی طرح۔ ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ اکیلی تھی۔ سردیوں کی ایک رات… وہ مر گئی تھی۔”
میرے کانوں میں جیسے شور مچ گیا۔
“کہتے ہیں،” وہ عورت سرگوشی میں بولی،
“وہ رات ٹھیک آٹھ بجے کے بعد کی تھی۔”
میرے دماغ میں گھڑی کی سوئیاں گھومنے لگیں۔ آٹھ بجے۔ ہمیشہ آٹھ بجے۔
میں وہاں زیادہ دیر کھڑا نہ رہ سکا۔ سیدھا گھر آیا۔ احمد صحن میں بیٹھا تھا، کتاب کھلی ہوئی، مگر نظریں کہیں اور۔
“بھائی… مس آئیں گی نا؟” اس نے پھر پوچھا۔
میں نے اس بار سختی سے کہا، “میں نے منع کیا ہے نا۔ دوبارہ یہ نام مت لینا۔”
اسی رات، میں نے احمد کا کمرہ بدل دیا۔ اسے اپنے کمرے میں سلا لیا۔ دروازے پر کنڈی لگا دی۔ میں خود پوری رات جاگتا رہا۔
رات کے ٹھیک آٹھ بجے…
گھر میں عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
نہ باہر گاڑیوں کی آواز، نہ کتوں کے بھونکنے کی۔
بس گھڑی کی ٹک ٹک۔
اچانک اوپر سے پھر وہی آواز آئی۔
ننگے پاؤں چلنے کی۔
میں نے احمد کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔
پھر دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
نہ زور کی، نہ ہلکی۔
تین بار۔
اور پھر…
وہی آواز:
“دروازہ کھولو، حمزہ… آج احمد نے سبق پورا نہیں کیا۔”
میرا سانس رک گیا۔
یہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
یہ صرف آغاز تھا۔
میرے ہاتھ احمد کے کندھوں پر جمے ہوئے تھے۔
وہ کانپ رہا تھا، اور اس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں۔ دروازے کے اُس پار خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی عام نہیں تھی۔ وہ ایسی خاموشی تھی جس میں کوئی سانس لے رہا ہو… بس بہت آہستہ۔
“بھائی…” احمد نے سرگوشی کی،
“دروازے کے باہر کون ہے؟”
میں نے جواب نہیں دیا۔
کیونکہ میں خود یہ جاننے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔
دستک دوبارہ ہوئی۔
اسی رفتار سے، اسی نرمی سے۔
جیسے کسی کو یقین ہو کہ دروازہ کھلے گا ہی۔
میں نے دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھنی شروع کی۔ زبان خشک ہو چکی تھی، الفاظ ٹھیک سے ادا نہیں ہو رہے تھے۔ میرے ذہن میں وہ بوڑھی عورت کی باتیں گونج رہی تھیں۔
“وہ رات ٹھیک آٹھ بجے کے بعد کی تھی…”
میں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
آٹھ بج کر دو منٹ۔
“حمزہ…”
اس بار آواز بالکل دروازے کے ساتھ تھی۔
ایسے جیسے وہ جھک کر بول رہی ہو۔
“دروازہ کھولو۔ بچے کو اکیلا نہیں چھوڑا جاتا…”
یہ سنتے ہی احمد کی چیخ نکل گئی۔
میں نے فوراً اس کا منہ بند کیا اور اسے سینے سے لگا لیا۔
“چپ… کچھ نہیں ہے…”
میں خود نہیں جانتا تھا کہ میں احمد کو تسلی دے رہا ہوں یا خود کو۔
اچانک دروازے کی کنڈی ہلنے لگی۔
آہستہ… پھر ذرا زور سے۔
میں نے دروازے کے ساتھ لکڑی کی الماری کھسکا دی۔ ہاتھ پسینے سے تر تھے، مگر میں پوری قوت لگا رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ آنکھیں بند کر لوں، سب ختم ہو جائے۔
پھر سب کچھ اچانک رک گیا۔
نہ آواز، نہ دستک، نہ کنڈی کی حرکت۔
میں نے کئی منٹ تک سانس بھی نہیں لی۔ احمد اب سسک رہا تھا۔ میں نے اسے بستر پر لٹا دیا، خود اس کے پاس بیٹھ گیا۔
وہ رات جیسے تیس سال لمبی تھی۔
فجر کی اذان سنائی دی تو جا کر میں نے آنکھیں بند کیں۔ مگر اب سونا ممکن نہیں تھا۔ جیسے ہی آنکھ بند کرتا، وہی آواز کانوں میں گونجتی۔
صبح میں نے فوراً فیصلہ کر لیا۔
یہ گھر اب ہمارے لیے محفوظ نہیں تھا۔
میں نے امّی کو سب کچھ نہیں بتایا، بس اتنا کہا کہ احمد کی طبیعت ٹھیک نہیں، ہمیں کچھ دن کے لیے ماموں کے ہاں جانا ہے۔ امّی نے سوال نہیں کیے۔ شاید وہ بھی کچھ محسوس کر رہی تھیں۔
دوپہر تک ہم گھر چھوڑ چکے تھے۔
ماموں کا گھر سبزہ زار میں تھا۔ نیا علاقہ، روشن گلیاں، رات کو بھی چہل پہل۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔
پہلے دو دن واقعی سکون میں گزرے۔
نہ کوئی آواز، نہ کوئی سایہ۔
احمد بھی تھوڑا نارمل لگنے لگا۔
تیسرے دن شام کو، احمد نے کتاب کھولی اور خود ہی پڑھنے بیٹھ گیا۔ میں نے حیرانی سے دیکھا۔
“آج خود پڑھ رہا ہے؟” میں نے پوچھا۔
وہ بغیر نظریں اٹھائے بولا،
“مس نے کہا تھا، آج ریویژن ضروری ہے۔”
میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
“کون مس؟” میں نے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
وہ خاموش ہو گیا۔ پھر آہستہ سے بولا،
“بھائی… وہ یہاں بھی آ سکتی ہیں نا؟”
میں نے فوراً کتاب بند کر دی۔
“بس! یہ سب مت سوچو۔”
اسی رات، ٹھیک آٹھ بجے، بجلی چلی گئی۔
ماموں کے گھر میں جنریٹر تھا، مگر چند منٹ کا اندھیرا کافی تھا۔
کمرے میں اچانک وہی سردی محسوس ہوئی…
جو گلشنِ راوی میں ہوتی تھی۔
پھر کمرے کے کونے سے آواز آئی۔
“احمد…”
احمد بستر سے اچھل پڑا۔
میں نے پورا کمرہ دیکھ لیا۔
کوئی نہیں تھا۔
لیکن آئینے میں…
مجھے ایک عکس نظر آیا۔
وہی سادہ دوپٹہ۔
وہی خاموش چہرہ۔
میں نے پلٹ کر دیکھا، مگر پیچھے کچھ نہیں تھا۔
دوبارہ آئینے میں دیکھا…
عکس غائب ہو چکا تھا۔
اسی لمحے مجھے سمجھ آ گیا۔
ہم نے گھر نہیں بدلا تھا۔
ہم نے جگہ بدلی تھی۔
وہ ہمارے ساتھ آ چکی تھی۔
اگلی صبح میں سیدھا ایک جاننے والے عامل کے پاس گیا۔ وہ عمر رسیدہ آدمی تھا، کم بولتا تھا۔ اس نے میری بات سنی، آنکھیں بند کیں، اور بس اتنا کہا:
“یہ وہ روح ہے جو اپنا کام مکمل کرنا چاہتی ہے۔”
“کیا کام؟” میں نے پوچھا۔
اس نے میری طرف دیکھا۔
“پڑھانا… اور جو سبق ادھورا رہ جائے، وہ برداشت نہیں کرتی۔”
میرا دماغ گھومنے لگا۔
“اس کا حل؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
“بچے کو خود ختم کرنا ہوگا۔ سبق… اور یہ تعلق۔”
اسی رات میں نے احمد کو خود پڑھایا۔
آٹھ بجے تک۔
ایک ایک سوال، ایک ایک صفحہ۔
ٹھیک آٹھ بجے میں نے کتاب بند کی۔
“بس،” میں نے کہا،
“آج کے بعد کوئی ٹیوشن نہیں۔”
کمرے میں اچانک ہوا کا تیز جھونکا آیا۔
پردے زور سے ہلے۔
اور پھر…
ایک آخری سرگوشی:
“سبق… پورا ہو گیا…”
اس کے بعد…
سب ختم ہو گیا۔
آج سات سال گزر چکے ہیں۔
احمد اب یونیورسٹی میں ہے۔
میں نے وہ علاقہ، وہ شہر، سب چھوڑ دیا ہے۔
مگر ایک بات آج بھی نہیں بدلی۔
ہر سال دسمبر میں،
ٹھیک آٹھ بجے،
میرے فون کی اسکرین روشن ہوتی ہے۔
کوئی نمبر نہیں ہوتا۔
کوئی نام نہیں ہوتا۔
بس ایک نوٹیفکیشن:
“Class completed.”
میں فون بند کر دیتا ہوں۔
کیونکہ میں جانتا ہوں…
کچھ اسباق
زندگی بھر
ختم نہیں ہوتے۔

