کہانی کا آخری حصّہ پیش خدمت ہے ۔
اسی وقت دروازہ کھلا اور ہاسپٹل کے ملازمین ایک اور لاش سٹریچر پر لے کر اندر داخل ہوگئے۔ ان کے پیچھے پولیس کا ایک آفیسر بھی تھا۔ میں ان کے لیے مستعدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ملازمین لاش کو ملحقہ کمرے میں پہنچا کر چلے گئےاس لاش کے کوائف بھی ایک فارم پہ درج کیے گئے تھے۔ وہ میں نے سنبھال لیا ۔ پولیس آفیسر اس لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سینیر ڈاکٹر آج مصروف ہیں تو حتمی رپورٹ شام تک مل سکتی ہے۔
اس آفیسر سے مجھے معلوم ہوا کہ لڑکی غیر ملکی تھی اور یہاں شاید سیر کے لیے آئی تھی۔ اس کی لاش پولیس کو عمان کے قدیم قلعہ بہلا کے پیچھے ملی تھی۔ لڑکی کو وہاں پھینکا گیا تھا۔ کب پھینکا گیا یہ معلوم کرنا تھا۔ یہ باتیں کر کے وہ پولیس آفیسر شام تک آنے کا کہہ کر چلا گیا ۔
قدیم باہلا یا بہلا کا قلعہ ارواح خبیثہ یعنی برے جنات کے لیے مشہور تھا۔ مجھے یہ معاملہ سیدھا نہیں لگ رہا تھا۔ میں بےچینی سے ڈاکٹر طفیل کا انتظار کر رہا تھا ۔
میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو سوئیاں بارہ بجا رہی تھیں۔ اب میں دوسری لاش کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ ایک بوڑھے شخص کی تھی۔ اس کی تصاویر اور فنگر پرنٹس کا کام مکمل کرتے مجھے مزید دو گھنٹے لگے۔ اسے کیبن میں پہنچا کر نوٹ چسپاں کیا۔ اور دوسرے کمرے میں بچھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہاں موجود کمپیوٹر پہ جب سرچ کیا تو واقعی قلعہ پراسرار لگا۔ میں بالکل محو تھا جب اچانک ہی مجھے کسی کے رونے کی آواز سنائی دی ۔ میں نے چونک کے سر اٹھایا۔ اسی وقت روشنی معطل ہو گئی اور ایک لمحے میں سرخ رنگ کی روشنی کمرے میں پھیل گئی ۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ ملحقہ کمرے کی طرف نظر دوڑائی تو میرا دل دھڑکنا بھول گیا ۔ کمرے کے وسط میں کوئی گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ وہ ایک لڑکی تھی۔۔۔
میرا گلا اینٹھنے لگا۔ آواز گلے میں پھنس گئی ۔۔۔ وہ رونے کی آواز اسی کی تھی ۔۔ میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں ابھی گر کر بے ہوش ہو جاؤں گا ۔ اسی دم اس لڑکی نے سر اٹھایا ۔۔۔
اس کی آنکھیں بالکل سیاہ تھیں سفید پتلیوں کے بنا۔۔۔ اس نے منہ کھولا اور ایک تیز چیخ کی آواز اس کے حلق سے نکلی۔۔۔ جیسے کوئی تیز سیٹی ہو میرے کانوں کے پردے پھٹنے لگے۔۔۔
میں تیورا کر فرش پہ گر گیا اور پھر مجھے کوئی ہوش نہ تھا۔۔۔
جب میری آنکھیں کھلیں تو میں مردہ خانے میں ہی ایک بستر پہ لیٹا تھا اور ڈاکٹر طفیل اور ڈاکٹر الباقر میرے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔ میں نے گھبرا کر اس لاش کے بارے میں بتانا چاہا مگر انہوں نے مجھے خاموش کروا دیا۔ ڈاکٹر طفیل کا کہنا تھا کہ مجھے ذہنی دباؤ کا سامنا ہوا ہے اور کچھ نہیں ۔
میں خاموش ہو گیا۔ ڈاکٹر الباقر کے جانے کے بعد انہوں نے مجھ سے تفصیل پوچھی جو میں نے پوری طرح بیان کی۔
انہوں نے فوراً ملحقہ کمرے میں جا کر بیان کردہ مطلوبہ کیبن کھولا۔۔ ٹرے باہر نکالی لاش اسی طرح تھی جیسے میں نے اس کو رکھا تھا۔
تو کیا وہ سب میرا وہم تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔
میں بستر سے اٹھ گیا اور ان کے ساتھ مل کر لاش پوسٹ مارٹم کے میز پہ منتقل کی ۔ وہ مجھے آرام کرنے کا کہتے رہے مگر میں نہیں مانا۔ میں یہ گتھی سلجھانا چاہتا تھا ۔
لاش کی آنکھیں بند تھیں۔ جب ڈاکٹر طفیل نے معائنہ کرنے کے لیے آنکھیں کھول کر ٹارچ کی روشنی ڈالی تو میں دنگ رہ گیا۔۔۔ آنکھوں کا رنگ سیاہ ہی تھا۔
لڑکی کی موت زہر سے ہوئی تھی۔۔۔ اس کے مرنے کے باوجود اس کے ہاتھوں اور پیروں کی رگیں کاٹ دی گئی تھیں۔ اس وقت مجھے وہ تعویز نما کاغذ یاد آیا۔۔۔ میں لپک کر میز تک گیا اور اس کی دراز سے وہ پلاسٹک کا لفافہ نکال کر لایا۔ وہ کاغذ کھول کر اس میں ڈالا تھا۔ کاغذ پہ نظر پڑتے ہی ڈاکٹر طفیل چونک کر دو قدم پیچھے ہٹ گئے اور مجھ سے پریشانی سے پوچھنے لگے کہ یہ کاغذ کہاں سے آیا؟
میں نے بتایا کہ یہ لاش کے منہ کے اندر تھا۔ وہ بولے۔" تم نے اسے ہاتھ لگایا؟ " میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ پریشانی میں کچھ بڑبڑانے لگے ۔ پھر سب کام چھوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئے اور سر تھام لیا۔ میں بھی پریشان ہو گیا۔۔
ان کے سامنے جا کر میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟
جو تفصیلات انہوں نے بتائیں اسے سن کر میرا دماغ بھی چکرا گیا۔
ان کے مطابق یہ ایک یہودی ایگزوکرسم تھا۔ یعنی یہودیت میں کسی پہ سے جادو اتارنا۔ یہ لڑکی یہودی النسل تھی مگر کسی کے ظلم کا نشانہ بن چکی تھی۔ اس کو بچانے کی کوششیں ناکام گئیں تو قتل کر دی گئی۔ اب سارا معاملہ سامنے تھا۔ تفتیش تو پولیس نے کرنی تھی۔ مگر وہ پراسرار لڑکی مجھے کیوں دکھائی دی؟
ڈاکٹر طفیل کے مطابق جب اس کاغذ کو جس پہ ناقابل فہم زبان درج تھی اس کے منہ میں ڈالا گیا تو ایک طرح سے اس عفریت کو قید کیا گیا تھا اس کے جسم میں۔ مگر میں نے یہ کاغذ نکال لیا تھا اور اس کو رہائی مل گئی تھی۔ تب ہی وہ مجھے نظر آئی ۔۔ اچانک میرا سر بھاری ہونے لگا۔ معاملہ سمجھ کر میں نفسیاتی طور پر ایک عجیب سے خوف میں مبتلا ہو گیا تھا۔
یہ جانتے ہی کہ میں نے ہاتھ لگایا تھا اس کاغذ کو۔۔۔ ڈاکٹر طفیل نے مجھے ایک شخصیت سے ملنے کا کہا۔
شام کو ہی میں ان کے ساتھ ان کے بتائے ہوئے پتہ پہ پہنچا تو معلوم ہوا وہ ایک روحانی بزرگ ہیں۔ وہ ایک خوش اخلاق اور پرنور انسان تھے ۔ ڈاکٹر طفیل بھی میرے ہمراہ تھے ۔
تمام معاملہ ان کے گوش گزار کیا۔ انہوں نے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور میں جیسے گہری نیند میں چلا گیا۔۔۔
میرے چاروں طرف آوازیں تھیں مگر گہرا اندھیرا چھایا تھا۔۔ میں ان آوازوں کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔ میرا ذہن جیسے کسی کی مٹھی میں تھا۔ اچانک مجھے ایک آواز سنائی دی ۔۔ حسن! ۔۔۔۔ حسن!.... اور میں اس آواز کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ دور سے ایک روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ میں اس کی طرف جیسے بھاگنے لگا۔۔۔
پھر آواز آئی ۔۔۔ حسن ۔۔۔ کلمہ پڑھو۔۔۔ لاالہ الااللہ ۔۔۔ میرے دل نے تکرار شروع کر دی ۔۔۔
اسی وقت جیسے میں کہیں سے اٹھا کر پٹخ دیا گیا۔۔۔ میری آنکھیں کھل گئیں۔۔
میں ان روحانی بزرگ کے سامنے بیٹھا تھا۔۔ میرے جسم کا رواں رواں درد میں ڈوبا تھا۔۔۔
انہوں نے ایک مٹی کا پیالہ مجھے دیا اس میں پانی تھا۔۔۔ میرا حلق خشک تھا ۔ میں نے ایک سانس میں اسے خالی کر دیا۔۔ سارا بوجھ اتر گیااور میں ہلکا ہو گیا۔۔۔ وہ تعویذ نما کاغذ انہوں نے لے لیا جو میں ڈاکٹر طفیل کے کہنے پہ لے آیا تھا۔۔
لاش اسی رات پولیس کی تحویل میں دے دی گئی تھی اور رپورٹ بھی۔ جہاں سے وہ اپنے وطن واپس چلی جانا تھی۔
میں نے ڈاکٹر طفیل کے ساتھ مزید تین سال کام کیا پھر واپس اپنے وطن آگیا کیونکہ ابا جی کا انتقال ہو گیا تھا۔۔
اس واقعے کو بہت عرصہ گزر گیا مگر آج بھی خیال آجاے تو ایک خوف کی جھرجھری سی دوڑ جاتی ہے ۔۔
نہ جانے وہ اندھیری دنیا کن کی تھی؟ ۔۔۔ وہ ناقابل فہم آوازیں کس کی تھیں؟۔۔۔۔۔۔وہ لڑکی کون تھی؟ ۔۔۔۔۔۔وہ عفریت اس میں کیسے داخل ہو گئی ؟ ۔۔۔۔۔
یہ سب سوالات آج تک جواب طلب ہیں ۔۔۔
کیسی
لگی کہانی؟ رائے سے آگاہ فرمایۓ گا
📚 یہ کہانی پسند آئی؟
اب پڑھیں: کارساز کی دلہن – کراچی کی خوفناک سچی کہانی
ایک ایسی پراسرار کہانی جو کراچی کے مشہور کارساز روڈ سے جڑی خوفناک روایات پر مبنی ہے۔

