السلام علیکم ڈیئر فرینڈز
میں ہوں فرزانہ خان، اور آج میں آپ کے لیے ایک ایسی سچی معلوم ہونے والی پراسرار کہانی لے کر آئی ہوں جسے سن کر شاید آپ آئندہ رات کے سفر میں کسی اجنبی پر آسانی سے بھروسا نہ کریں۔
کہتے ہیں کہ بعض راستے صرف منزل تک نہیں لے جاتے، بلکہ ایسے رازوں سے بھی ملواتے ہیں جنہیں انسان پوری زندگی بھلا نہیں پاتا۔ آج کی کہانی بھی ایک ایسے ہی مسافر کی ہے، جس نے صرف انسانیت کے ناطے ایک اجنبی لڑکی کو اپنی گاڑی میں بٹھایا... مگر منزل پر پہنچ کر اسے جو حقیقت معلوم ہوئی، اس نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
آخر وہ لڑکی کون تھی؟ وہ اچانک کہاں غائب ہو گئی؟ اور گاڑی کی پچھلی نشست پر آخر ایسا کیا تھا جسے دیکھ کر پولیس والوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا؟
آئیے، خاموشی سے اس پراسرار سفر کا آغاز کرتے ہیں... اور آخر میں اپنی قیمتی رائے ضرور دیجیے گا۔
سن 1995ء کی بات ہے۔ میں اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا، مگر اتنا ضرور بتا سکتا ہوں کہ میرا تعلق کراچی سے تھا۔ اس واقعے سے پہلے میں بھی ایسی پراسرار کہانیوں کو محض افسانہ سمجھتا تھا، لیکن ایک رات میرے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس نے میری سوچ ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
میں ایک نجی ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ ہر جمعے کی شام کراچی سے حیدرآباد اپنے والدین سے ملنے جایا کرتا اور اتوار کی رات واپس لوٹ آتا۔ اُس زمانے میں سپر ہائی وے نئی نئی بنی تھی، اس لیے رات کے وقت وہاں ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی اور کئی کئی میل تک کوئی گاڑی دکھائی نہیں دیتی تھی۔
میرے پاس سفید رنگ کی ایک پرانی کار تھی جس پر مجھے بے حد فخر تھا، کیونکہ وہ میری اپنی محنت کی کمائی سے خریدی ہوئی پہلی گاڑی تھی۔ ایک جمعے کو دفتر میں کام غیر معمولی طور پر بڑھ گیا، جس کی وجہ سے میں رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کراچی سے روانہ ہوا۔
دل تو یہی چاہتا تھا کہ سفر صبح کر لوں، مگر والدہ کی طبیعت کچھ دنوں سے ناساز تھی، اس لیے فیصلہ کیا کہ چاہے دیر ہی کیوں نہ ہو، آج ہی پہنچنا ضروری ہے۔ اُس دور میں نہ موبائل فون تھے اور نہ ہی راستہ بتانے والی جدید سہولتیں، صرف سنسان سڑک، اپنی گاڑی، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا تھا۔
ابتدائی ایک گھنٹے تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔ کبھی کوئی ٹرک گزر جاتا اور کبھی کوئی بس نظر آ جاتی، مگر جوں جوں میں آگے بڑھتا گیا، ویسے ویسے سڑک مزید ویران ہوتی گئی۔
📖 اگلی قسط پڑھیں
مردہ خانے کی نیلی آنکھیں - آخری قسط
اس خوفناک کہانی کا سنسنی خیز اختتام جاننے کے لیے نیچے دیے گئے بٹن پر کلک کریں۔
رات کے تقریباً دو بج رہے تھے جب میں نے ایک چھوٹے سے سڑک کنارے ہوٹل پر گاڑی روک دی۔ وہاں ایک مدھم سا بلب جل رہا تھا، جس کے گرد بے شمار کیڑے منڈلا رہے تھے، جبکہ ایک ضعیف شخص خاموشی سے چائے تیار کر رہا تھا۔ میں گاڑی سے اترا اور اس سے ایک کپ گرم چائے بنانے کی درخواست کی۔اگلا حصہ بھیج دیں، میں اسی انداز، اسی رسم الخط اور اسی معیار میں آگے بڑھاؤں گا۔
چائے تیار ہوتے ہی بزرگ نے خاموشی سے کپ میرے سامنے رکھ دیا، مگر واپس جانے کے بجائے وہ مسلسل میری طرف دیکھتے رہے۔ چند لمحوں بعد انہوں نے آہستہ سے پوچھا، "بیٹا، کہاں جا رہے ہو؟"
میں نے مختصر سا جواب دیا، "حیدرآباد۔"
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا، پھر میری گاڑی پر ایک گہری نظر ڈالی اور دھیمی آواز میں بولے، "اگر آج رات راستے میں کوئی تمہیں رکنے کا اشارہ کرے تو گاڑی مت روکنا۔"
میں مسکرا دیا اور ہلکے پھلکے انداز میں کہا، "آپ ڈاکوؤں کی بات کر رہے ہیں؟"
بزرگ نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا، "کاش معاملہ صرف ڈاکوؤں تک محدود ہوتا۔"
ان کے لہجے میں ایسی سنجیدگی تھی کہ میرے چہرے کی مسکراہٹ خود بخود غائب ہو گئی۔ میں نے مذاق ہی مذاق میں پوچھا، "پھر آخر کون ہوتا ہے؟"
وہ چند لمحے خاموش رہے، پھر جواب دینے کے بجائے چولہے میں ایک خشک لکڑی ڈال دی۔ بھڑکتی ہوئی چنگاریاں ہوا میں بلند ہوئیں اور وہ صرف اتنا بولے، "جسے کسی جگہ چھوڑ دیا جائے... ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ وہیں رہے۔"
میں ان کی بات کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ چائے ختم کی، قیمت ادا کی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
ابھی میں نے انجن اسٹارٹ ہی کیا تھا کہ پیچھے سے انہوں نے دوبارہ آواز دی۔ میں نے شیشہ نیچے کیا تو وہ بولے، "اگر راستے میں کوئی اکیلی لڑکی صرف اتنا کہے کہ اسے حیدرآباد تک چھوڑ دو... تو پیچھے مڑ کر بھی مت دیکھنا۔"
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا اور گاڑی دوبارہ سنسان شاہراہ پر دوڑا دی۔
کافی دیر تک میں انہی عجیب باتوں کے بارے میں سوچتا رہا۔ مجھے یقین تھا کہ بزرگ نے بھی لوگوں سے سنی سنائی کہانیاں اپنے دل میں بسا رکھی ہیں۔ رات ڈھائی بجنے کو تھی، چاند کبھی بادلوں میں چھپ جاتا اور کبھی نکل آتا، جبکہ شاہراہ کے دونوں طرف دور تک صرف جھاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔
اچانک ہیڈ لائٹس کی روشنی میں سفید لباس میں ملبوس ایک نوجوان لڑکی نظر آئی۔ اس کی عمر بمشکل اٹھارہ یا انیس برس ہوگی۔ وہ خاموشی سے سڑک کے کنارے کھڑی میری گاڑی کو دیکھ رہی تھی۔
📚 یہ کہانی پسند آئی؟
اب پڑھیں: کارساز کی دلہن – کراچی کی خوفناک سچی کہانی
ایک ایسی پراسرار کہانی جو کراچی کے مشہور کارساز روڈ سے جڑی خوفناک روایات پر مبنی ہے۔
میں اسے نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا، لیکن چند ہی لمحوں بعد بزرگ کی بات میرے ذہن میں گونجنے لگی۔ اسی کے ساتھ یہ خیال بھی آیا کہ اگر واقعی اسے مدد کی ضرورت ہو تو؟
میں نے گاڑی آہستہ سے روکی، ریورس کی اور اس کے قریب جا کر شیشہ نیچے کیا۔ میں نے نرمی سے پوچھا، "بیٹی، کیا ہوا؟"
اس نے انتہائی مدھم لہجے میں صرف ایک جملہ کہا، "مجھے حیدرآباد جانا ہے۔"
میں نے پوچھا، "تمہارے ساتھ کوئی نہیں؟"
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
میں نے دوبارہ سوال کیا، "گاڑی خراب ہو گئی ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟"
مگر اس نے پھر وہی ایک جملہ دہرایا، "مجھے حیدرآباد جانا ہے۔"
اس کی آواز میں نہ گھبراہٹ تھی، نہ بے بسی، نہ مدد مانگنے کی التجا... ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اسے صرف یہی ایک جملہ یاد ہو۔
میرے دل میں ایک لمحے کے لیے عجیب سا خدشہ پیدا ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے میں نے خود کو سمجھایا کہ شاید وہ کسی شدید صدمے سے گزر رہی ہے۔
میں نے پچھلا دروازہ کھول دیا اور کہا، "آ جاؤ، بیٹھ جاؤ۔"
وہ خاموشی سے اندر آ کر بیٹھ گئی۔ دروازہ بند ہونے کی آواز تو آئی، مگر نہ کپڑوں کی سرسراہٹ سنائی دی اور نہ ہی نشست کے دبنے کا احساس ہوا، جیسے گاڑی میں کوئی وزن ہی نہ آیا ہو۔
میں نے بےاختیار ریئر ویو مرر کی طرف دیکھنا چاہا کہ اسی لمحے اس کی دھیمی آواز سنائی دی، "براہِ کرم... راستے بھر میری طرف مت دیکھیے گا۔"
میرا ہاتھ اسٹیئرنگ پر ساکت رہ گیا۔ میں نے حیرت سے پوچھا، "کیوں؟"
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے صرف اتنا کہا، "یہی شرط ہے۔"
میں نے کچھ نہ کہا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ اس وقت مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں نے صرف ایک مسافر کو لفٹ نہیں دی... بلکہ ایک ایسی شرط قبول کر لی تھی جو میری پوری زندگی کا رخ بدلنے والی تھی۔
میں خود کو یہی تسلی دیتا رہا کہ شاید وہ ذہنی صدمے کا شکار ہے۔ ایسے مسافر کبھی کبھار سنسان راستوں پر مل ہی جاتے ہیں۔ میں نے ریئر ویو مرر کا رخ اوپر کر دیا تاکہ بےاختیار نظر پیچھے نہ چلی جائے۔
گاڑی تقریباً اسی کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سنسان شاہراہ پر دوڑ رہی تھی۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی اور اردگرد ہماری گاڑی کے علاوہ کسی دوسری سواری کا نام و نشان نہیں تھا۔
چند منٹ خاموشی سے گزرے، پھر اچانک مجھے گاڑی کے اندر ایک عجیب سی نمی بھری مٹی کی بو محسوس ہونے لگی۔ وہ خوشبو نہیں، بلکہ ایسی بُو تھی جیسے پہلی بارش کے بعد کسی پرانے قبرستان کی بھیگی ہوئی زمین سے اٹھتی ہے۔
میں نے کھڑکی کا شیشہ کچھ نیچے کیا، مگر حیرت انگیز طور پر وہ بُو کم ہونے کے بجائے پہلے سے بھی زیادہ شدید ہوتی چلی گئی...
گاڑی کے اندر پھیلی ہوئی وہ نم آلود مٹی کی بُو لمحہ بہ لمحہ مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے ہمت کر کے پوچھا، "آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟"
مگر پیچھے سے کوئی جواب نہ آیا۔ صرف ایک مدھم سی آواز سنائی دے رہی تھی، جیسے کوئی گیلی چیز آہستہ آہستہ گاڑی کی نشست سے رگڑ کھا رہی ہو۔
میں نے دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی، "حیدرآباد میں کہاں رہتی ہیں آپ؟"
چند لمحوں بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا، "جہاں مجھے چھوڑا گیا تھا۔"
میں چونک اٹھا۔ "اس کا کیا مطلب ہے؟"
اس بار وہ مکمل خاموش رہی۔ اسی لمحے سڑک کنارے موجود اُس بزرگ کے الفاظ میرے ذہن میں گونجنے لگے... "جسے کسی جگہ چھوڑ دیا جائے، ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ وہیں رہے۔"
اب پہلی مرتبہ میرے دل میں حقیقی خوف نے جگہ بنا لی۔ مجھے یاد آیا کہ چند میل آگے پولیس کی ایک چیک پوسٹ آتی ہے۔ میں نے سوچا وہاں رک کر اس لڑکی کے بارے میں ضرور معلوم کروں گا، شاید یہ کسی گمشدہ شخص کا معاملہ ہو۔
جیسے ہی دور سے روشنی دکھائی دی، پیچھے سے اس کی آواز پہلی بار بدل گئی۔ اب وہ ایک آواز نہیں تھی، بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دو مختلف آوازیں ایک ساتھ بول رہی ہوں۔
وہ بولی، "وہاں مت رکنا..."
میں نے گھبرا کر پوچھا، "کیوں؟"
چند لمحوں بعد جواب آیا، "وہ... مجھے نہیں دیکھ سکتے۔"
میرے ہاتھ پسینے سے بھیگ گئے۔ میں نے پھر پوچھا، "کون نہیں دیکھ سکتا؟"
مگر اس کے بعد صرف خاموشی رہ گئی۔
میں نے پھر بھی گاڑی کی رفتار کم کر دی، لیکن جیسے ہی چیک پوسٹ قریب آئی، عجیب منظر سامنے تھا۔ جہاں چند لمحے پہلے روشنیاں اور عمارت واضح دکھائی دے رہی تھی، اب وہاں مکمل اندھیرا تھا۔
نہ کوئی سپاہی، نہ کوئی سرکاری گاڑی، نہ ہی چیک پوسٹ کا کوئی نشان۔
میں نے دل میں سوچا شاید ڈیوٹی ختم ہو چکی ہو، مگر چند ہی لمحوں بعد سامنے سے آنے والے ایک ٹرک کی تیز روشنی نے پورا علاقہ روشن کر دیا۔
اور میں ساکت رہ گیا...😁
جہاں مجھے چند لمحے پہلے چیک پوسٹ نظر آئی تھی، وہاں حقیقت میں کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ صرف ایک ویران میدان تھا۔
میں نے بے اختیار زور سے بریک لگا دی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بورڈ بھی دیکھا تھا، روشنیاں بھی... پھر وہ سب کہاں غائب ہو گیا؟
اسی دوران پیچھے سے وہ آہستہ سے بولی، "رات کا دوسرا پہر... راستے بدل دیتا ہے۔"
اب میرے لیے خاموش رہنا ممکن نہ تھا۔ میں نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا، "تمہارا نام کیا ہے؟"
کافی دیر بعد جواب آیا، "لوگ مجھے کبھی نام سے نہیں پکارتے تھے... وہ صرف اتنا کہتے تھے... اسے گاڑی میں بٹھا دو۔"
میرے پورے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔ میں نے فوراً بات بدلتے ہوئے پوچھا، "تمہارے گھر والے کہاں ہیں؟"
اس نے نہایت آہستگی سے کہا، "جنہوں نے مجھے چھوڑا تھا... وہی میرے اپنے تھے۔"
اچانک گاڑی کے انجن نے زور کا جھٹکا کھایا۔ رفتار کم ہونے لگی۔ میں نے فوراً فیول گیج دیکھا، آدھا ٹینک بھرا ہوا تھا۔ درجۂ حرارت بھی معمول پر تھا، پھر گاڑی کیوں رک رہی تھی؟
میں نے ایکسیلیٹر دبایا، انجن کی آواز تو بلند ہوئی مگر رفتار میں کوئی اضافہ نہ ہوا۔
اسی لمحے گاڑی کی چھت کے اندر سے ایک خوفناک آواز سنائی دینے لگی، جیسے کوئی اپنے لمبے ناخنوں سے آہستہ آہستہ گول دائرے بنا رہا ہو۔
میرا دل چاہ رہا تھا کہ فوراً پیچھے مڑ کر دیکھوں، مگر اس کی شرط میرے ذہن میں گونج رہی تھی... "میری طرف مت دیکھیے گا۔"
تقریباً چند منٹ بعد اچانک گاڑی دوبارہ معمول کے مطابق چلنے لگی۔
تھوڑی دور جا کر ایک پرانا سنگِ میل دکھائی دیا، جس پر لکھا تھا: حیدرآباد 38 کلومیٹر۔
میں نے سکون کا سانس لیا، مگر صرف دس منٹ بعد ایک اور سنگِ میل آیا... اور اس پر بھی وہی فاصلہ درج تھا۔
میں نے خود کو تسلی دی کہ شاید پہلے غلط پڑھ لیا ہوگا، لیکن کچھ ہی دیر بعد تیسرا سنگِ میل بھی سامنے آ گیا۔
اس پر بھی وہی الفاظ لکھے تھے...
حیدرآباد 38 کلومیٹر۔
اب میرے ہاتھ بری طرح کانپنے لگے۔ ہم مسلسل آگے بڑھ رہے تھے، پھر منزل قریب کیوں نہیں آ رہی تھی؟
میں نے پوری ہمت جمع کی اور آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی۔
ابھی آدھی ہی پڑھی تھی کہ پیچھے سے وہ پہلی بار قدرے بلند آواز میں بولی، "وہ مت پڑھو..."
مگر میں خاموش نہ ہوا، بلکہ پہلے سے زیادہ بلند آواز میں تلاوت جاری رکھی۔
اچانک گاڑی کے اندر پھیلی ہوئی بدبو ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ تمام شیشوں پر اندر کی جانب نمی جم گئی، حالانکہ باہر بارش کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔
پھر میری آنکھوں کے سامنے وہ نمی خودبخود ہلنے لگی...
اور آہستہ آہستہ اس پر تین الفاظ ابھر آئے۔
"بہت دیر ہو گئی۔"
میں نے خوف سے اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔
سامنے سڑک موجود تھی، مگر اب مجھے پورا یقین ہو چکا تھا کہ میری گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی ہوئی ہستی وہ لڑکی نہیں تھی جسے میں نے راستے سے لفٹ دی تھی...
اور عین اسی لمحے پچھلی نشست سے ایک ایسی آواز ابھری، جو کسی ایک انسان کی آواز ہرگز نہیں لگ رہی تھی...
وہ آواز اب کسی ایک انسان کی نہیں رہی تھی۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کئی مختلف آوازیں ایک ساتھ سرگوشی کر رہی ہوں۔ پھر ان سب کے درمیان ایک جملہ نمایاں ہو کر میرے کانوں میں گونجا۔
"صرف ایک بار... پیچھے مڑ کر دیکھ لو۔"
میرے پورے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں نے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے دیکھا تو شاید وہی ہو جائے، جس سے وہ شروع سے مجھے روکتی رہی تھی... یا شاید وہ اسی لمحے کا انتظار کر رہی تھی۔
میں نے نظریں مضبوطی سے سڑک پر جما لیں اور بلند آواز میں آیت الکرسی، چاروں قل اور درودِ شریف پڑھنا شروع کر دیا۔
پہلی مرتبہ اس کے لہجے میں غصہ محسوس ہوا۔
"خاموش ہو جاؤ..."
مگر میں نے تلاوت جاری رکھی۔
اچانک گاڑی کے تمام شیشے زور زور سے بجنے لگے، حالانکہ باہر ہوا کا ایک جھونکا بھی نہیں چل رہا تھا۔ اسٹیئرنگ خود بخود دائیں بائیں ہلنے لگا، جیسے کوئی پوری طاقت سے گاڑی کو سڑک سے نیچے اتارنا چاہتا ہو۔
میں نے پوری قوت سے اسٹیئرنگ سنبھال لیا۔
اسی دوران پچھلے دروازے پر مسلسل دستک کی آواز آنے لگی، جیسے کوئی اندر سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو۔
لیکن وہ تو پہلے ہی گاڑی کے اندر بیٹھی تھی...
پھر دروازہ کون کھٹکھٹا رہا تھا؟
چند لمحوں بعد دور ایک پرانا پٹرول پمپ دکھائی دیا۔ میں نے دل میں سوچا کہ شاید وہاں کوئی موجود ہو۔
مگر جب میں قریب پہنچا تو وہ جگہ مکمل ویران تھی۔ ٹوٹی ہوئی چھت، زنگ آلود مشینیں اور ہر طرف خاموشی...
یوں لگتا تھا جیسے برسوں پہلے وہاں زندگی کا وجود ختم ہو چکا ہو۔
میں نے گاڑی نہیں روکی، مگر جیسے ہی وہاں سے گزرا، ایک مردانہ آواز میرے ذہن میں گونجی۔
"ہرگز مت رکنا... یہ جگہ محفوظ نہیں۔"
یہ آواز نہ گاڑی کے اندر سے آئی تھی اور نہ باہر سے... ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے براہِ راست میرے ذہن میں یہ الفاظ اتار دیے ہوں۔
کچھ دیر بعد سامنے سے ایک پرانی مسافر بس آتی دکھائی دی۔ میں نے ہیڈلائٹس مدھم کیں تو دوسری طرف سے بھی روشنی کا اشارہ ملا۔
مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں اس سنسان شاہراہ پر اکیلا نہیں ہوں۔
جیسے ہی بس برابر سے گزری، میری نظر اس کے ڈرائیور پر پڑی۔
وہ مسلسل میری طرف دیکھتے ہوئے ہونٹ ہلا رہا تھا۔
میں نے صاف پڑھ لیا...
"پیچھے مت دیکھنا۔"
چند ہی لمحوں میں بس نظروں سے اوجھل ہو گئی، مگر میرے دل کی دھڑکن پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی تھی۔
کیا اسے بھی میری گاڑی کی پچھلی نشست پر کوئی نظر آیا تھا؟
تقریباً پندرہ منٹ بعد دور حیدرآباد کی ابتدائی روشنیاں دکھائی دینے لگیں۔ میں نے سکون کا سانس لیا۔
اسی لمحے پہلی بار پچھلی نشست سے سسکی کی آواز سنائی دی۔
وہ آہستہ آہستہ رو رہی تھی۔
پھر اس نے درد بھرے لہجے میں کہا، "مجھے یہاں نہیں جانا..."
میں خاموش رہا۔
چند لمحوں بعد اس نے دوبارہ کہا، "مجھے وہیں واپس چھوڑ دو... جہاں سے لائے تھے۔"
میں نے کوئی جواب نہ دیا۔
اچانک اس کی سسکیاں ایک خوفناک قہقہے میں بدل گئیں۔
ایسا قہقہہ جس میں ایک نہیں، کئی عورتوں کی آوازیں ایک ساتھ شامل تھیں۔
میرے کان سن ہونے لگے۔
آخرکار حیدرآباد کے قریب پولیس ناکہ نظر آیا۔ میں نے پوری رفتار سے گاڑی وہاں روک دی۔
دو پولیس اہلکار فوراً میری طرف بڑھے اور پریشانی سے پوچھا، "کیا ہوا؟ سب خیریت ہے؟"
میں گاڑی سے اترتے ہی گھبرا کر بولا، "پچھلی نشست پر ایک لڑکی بیٹھی ہے... اسے نیچے اتاریے۔"
دونوں اہلکاروں نے فوراً پچھلا دروازہ کھولا۔
مگر اندر کوئی نہیں تھا۔
صرف پچھلی نشست پر گیلی مٹی سے بنے دو ننگے قدموں کے واضح نشانات موجود تھے۔
دونوں اہلکار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
پھر ان میں سے عمر رسیدہ اہلکار نے آہستہ سے پوچھا، "تم اسے کہاں سے ساتھ لائے ہو؟"
میں نے پوری روداد انہیں سنا دی۔
سب کچھ سننے کے بعد وہ کافی دیر خاموش رہے، پھر گہری سانس لے کر بولے، "کئی برسوں سے ایسے واقعات کی اطلاعات ملتی رہی ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ نوّے کی دہائی کے آغاز میں ایک نوجوان لڑکی کو اس کے اپنے عزیز رات کے اندھیرے میں اسی شاہراہ پر تنہا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
اگلی صبح اس کی لاش ملی۔
میں نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا، "کیا اس کا حادثہ ہوا تھا؟"
انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا، "نہیں... پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت شدید خوف کے باعث ہوئی تھی۔"
اس رات کے بعد میں نے کبھی تنہا رات کا سفر نہیں کیا۔
مہینوں تک مجھے ہر ریئر ویو مرر میں یہی محسوس ہوتا رہا کہ کوئی خاموشی سے پچھلی نشست پر بیٹھا ہے۔
لیکن اصل صدمہ مجھے تقریباً ایک سال بعد ملا۔
میں دوبارہ اسی سڑک کنارے ہوٹل پر گیا۔
وہی بزرگ آج بھی وہاں موجود تھے۔
مجھے دیکھتے ہی انہوں نے پہچان لیا۔
میں نے فوراً پوچھا، "آپ کو پہلے سے کیسے معلوم تھا؟"
وہ آہستہ سے بولے، "کیونکہ ایک بار میں بھی اسے اپنی گاڑی میں بٹھا چکا ہوں۔"
میرا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا، "پھر آپ بچ کیسے گئے؟"
بزرگ خاموشی سے کھڑے ہوئے، اپنی شلوار اوپر کی...
گھٹنے کے نیچے ان کی اصل ٹانگ موجود ہی نہیں تھی۔ اس کی جگہ مصنوعی ٹانگ لگی ہوئی تھی۔
انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا،
"ہر مسافر اپنا کرایہ ادا کرتا ہے... اس نے مجھ سے میری ٹانگ لے لی تھی۔"
میری آواز لرز گئی۔
"اور... مجھ سے کیا لیا؟"
وہ چند لمحے مجھے خاموشی سے دیکھتے رہے، پھر صرف اتنا بولے،
"تمہیں ابھی تک معلوم نہیں ہوا۔"
آج اس واقعے کو تیس برس سے زیادہ گزر چکے ہیں۔
لیکن آج بھی بعض اوقات آدھی رات کو اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
میرے گھر والے کہتے ہیں کہ میں نیند میں بار بار ایک ہی جملہ دہراتا ہوں۔
"میں نے پیچھے نہیں دیکھا..."
مگر میرا خوف اس بات کا نہیں کہ میں نے پیچھے دیکھا تھا...
مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ بعض صبحوں میں اپنی گاڑی کی پچھلی نشست پر گیلی مٹی سے بنے دو تازہ قدموں کے نشانات دیکھتا ہوں، حالانکہ وہ گاڑی کئی کئی دنوں سے گیراج سے باہر نکلی ہی نہیں ہوتی۔
اگر کبھی رات کے اندھیرے میں کسی سنسان شاہراہ پر آپ کو کوئی خاموش مسافر صرف اتنا کہے کہ اسے منزل تک چھوڑ دیں...
تو ہمدردی ضرور کیجیے...
مگر گاڑی روکنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لیجیے۔
کیونکہ کچھ مسافر منزل تک پہنچنے کے لیے انتظار نہیں کرتے...
وہ صرف کسی نئے ہمسفر کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
اگر آپ اس مسافر کی جگہ ہوتے تو کیا اس اجنبی کو لفٹ دیتے، یا وہاں سے فوراً چلے جاتے؟
اپنی رائے ضرور کمنٹس میں لکھیے، اور اگر کہانی پسند آئی ہو تو ویڈیو کو لائک اور شیئر کرنا نہ بھولیے۔

